Sunday, June 28, 2009

ناٹو بمقابلہ سسٹو - - - - - فتح کس کی؟





تحریر: روف عامر پپا بریار

امریکہ ناٹو تنظیم کے توسط سے سنٹرل ایشیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے کافی عرصے سے سرگرم عمل ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ روس کسی بھی صورت میں اٍس خطے میں امریکی بالادستی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔عالمی منظر میں حیران کن تبدیلیوں کے باعث یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ ناٹو کی بالادستی کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے کیونکہ برفانی ریچھ خم ٹھونک کر ناٹو کے خلاف بے خطر آتش نمرود میں کودنے کا فیصلہ کرچکاہے۔

امریکہ نے جب کسی ملک سے خطرہ محسوس کیا تو امریکی قیادت نے اس پر ایٹمی ہتھیار رکھنے کا الزام تھوپ کر پابندیاں عائد کردیں۔ اس مقصد کے لئے استعماری طاقتوں نے ہمیشہ امریکہ کا ساتھ دیا۔ حال ہی میں امریکہ نے یہی حربہ روس کے خلاف استعمال کیا مگر اسے منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ نے روس کو ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا عندیہ دیا تھا مگر ماسکو نے امریکی پیشکش کو مسترد کردیا۔ ماسکو کے چیف اف ارمی سٹاف سکاروف نے کہا ہے کہ امریکہ ایک طرف جوہری ہتھیاروں میں کمی کا شوشہ چھوڑ رہا ہے مگر دوسری جانب وہ پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں میزائل شیلڈ سسٹم نصب کر رہا ہے۔

امریکہ نے ناٹو اور یواین او کے ذریعے پوری دنیا میں لوٹ مار اور ظلم و جبر کا بازار گرم کررکھا ہے مگر عالمی مبصرین کی رائے ہے کہ حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں جسکا اندازہ روس میں16 جون کو روس کے شہرYAKETRING BURG میں منعقد ہونے والے شنگھائی تنظیم کے کامیاب انعقاد سے کیا جاسکتا ہے۔ شنگھائی تنظیم نے اپنی کانفرنس میں ایسے فیصلے و معاہدے ہوئے جس نے عالمی مبصرین کو چونکا کر رکھ دیا اور انہیں مبصرین و تجزیہ نگاروں نے حتمی رائے قائم کی ہے کہ یہاں ناٹو کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے۔

ماسکو میں ایک ہفتہ کے دوران تین ایسے اجلاس ہوئے جنکا براہ راست تعلق امریکہ و ناٹو سے ہے۔ 14 جون کو سسٹو کا اجلاس ہوا جس میں سنٹرل ایشیا کی حفاظت کے لئے جدید کیل کانٹوں سے لیس نئی فورس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ 16 جون کو شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں چین نے عالمی معاشی بحران سے نپٹنے اور اسکے مضر اثرات سے وسط ایشیا کو نکالنے کے لئے سات بلین یورو کی امداد کا اعلان کیا۔

17تا19 جون کو برک آرگنائزیشن کی میٹنگ ہوئی جس میں برک کے چاروں ممبر ملکوں انڈیا، چین، روس اور برازیل نے شرکت کی۔ چاروں نے ڈالر کے مقابلے میں نئی عالمی کرنسی کے موضوع پر کئی فیصلے کئے۔ امریکی ماہرین اقتصادیات پیشین گوئی کرتے ہیں کہ برک ممبران2050ء تک دنیا کی طاقتور معاشی قوتیں بن جائیں گی۔ پاکستان اور بھارت نے نہ صرف مبصر کی حثیت سے اجلاس میں شرکت کی بلکہ دونوں ملکوں کے صدور و وزراء اعظم زرداری اور منموہن سنگھ نے اجلاس سے خطاب میں شنگھائی تنظیم کے فیصلوں کو سراہا۔

زرداری نے اپیل کی کہ پاکستان کو شنگھائی تنظیم کی مستقل رکنیت دی جائے۔ مغربی میڈیا نے تجزیہ کیا ہے کہ شنگھائی تنظیم چین کی وہ کاوش ہے جس کے تحت بیچنگ دوست ممالک کی معاونت سے سنٹرل ایشیا سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور چین بڑی حد تک اپنی کاوش میں کامیاب ہوچکا ہے۔ یورپ کے معروف اخبار یورو نیوز نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ2001ء میں قائم کی جانے والے شنگھائی آرگنائزیشن خطے میں امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔

اس تنظیم میں روس، چین، کرغیزستان، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں جبکہ پاکستان بھارت ایران اور منگولیا کو مبصرین کا درجہ حاصل ہے۔ شنگھائی تنظیم بہت کم وقت میں ناٹو اور یواین او کے متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ امریکی میڈیا چین کے سات بلین یوروز کے امدادی پیکج پر خوب واویلہ کررہا ہے کہ یہ رقم امریکہ و ناٹو کے خلاف استعمال ہوگی۔ اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ تنظیم کے مستقل اور مبصر کی حثیت سے شرکت کرنے والے ملکوں نے ایک ساتھ شرکت کی۔

اجلاس میں عالمی مالیاتی بحران، خطے میں دہشت گردی کے خاتمے، علاقائی سیکیورٹی کو مستحکم کرنے اور وسطی ایشیا کے قدرتی ذخائر سے متعلق کئی نادر فیصلے کئے گئے۔ شنگھائی تنظیم کے اجلاس سے قبل27مارچ میں ماسکو میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جسکا ایجنڈا افغانستان کی خانہ جنگی اور وہاں سے منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام پر مبنی تھا۔ تخریب کاری اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو روکنے کے لئے شنگھائی تنظیم کا ایک شعبہrates کے نام سے کام کررہا ہے جسے مزید فعال کرنے کے مسودے پر دستخط کئے گئے۔

ناٹو کو زیر کرنے کے لئے روس نےcolective securty treaty organization نام کی عسکری فوج تشکیل دی ہے۔ ماسکو سے شائع ہونے والے اخبارRUSSIAN DAILY NEWS کی ایک رپورٹ کے مطابق روسی صدر دمتری نے29 مئی کو اخباری نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ عسکری تنظیم سسٹو ناٹو سے بھی زیادہ طاقتور ہوگی جو وسطی ایشیا کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی قسم کی جارحیت و دہشت گردی کا فوری قلع قمع کرے گی۔ سسٹو نے روس کی نگرانی میں پانچ ملکوں قازقستان روس ازبکستان تاجکستان اور کرغیزستان میں فوجی اڈے قائم کرے گی۔ سسٹو اور شنگھائی تنظیم ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون بھی کریں گے۔

سسٹو کے سیکریٹری جنرل نیکولائی نے رشین نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہیں شنگھائی تنظیم کی طرف سے ایک مسودہ موصول ہوا ہے کہ دونوں سسٹو اور شنگھائی تنظیم سنٹرل ایشیا کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ روس اور چین کے درمیان تین ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں۔روس اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ملک اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کریں گے۔ شنگھائی تنظیم کے فیصلوں، سسٹو نام کی فوج کے قیام، ڈالر کی بجائے نئی عالمی کرنسی کے تصور اور امریکی توسیع پسندانہ عزائم کا مقابلہ کرنے اور وسطی ایشیا کی سیکیورٹی کے لئے روسی سیکیورٹی پلان اور بدلتے ہوئے عالمی حالات و واقعات پر غور کرنے سے یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ خطے سے امریکی چل چلاو اظہر من التمش ہے۔

ناٹو زیادہ دیر جنوبی ایشیا میں ظلم کا بازار گرم نہیں رکھ سکتی۔ وائٹ ہاوس کی بھلائی اس نقطے میں پنہاں ہے کہ وہ جلد سے جلد افغانستان اور جنوبی ایشیا سے نکل جائے ورنہ انجام تو ذلالت کی صورت میں ساون کے اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment