Wednesday, April 21, 2010

ہماری قومی اور سرکاری زبان عربی ہونی چاہیئے - - - - سچ تو یہ ہے





بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ہ


اگر قیام پاکستان کے وقت حکومت پاکستان کے وزیر اور مشیر دانش مند ہوتے تو ڈھاکہ میں قومی زبان کے مسلے پر ہنگامہ نہ ہوتا۔غالباً رائے دینے والوں نے قائداعظم محمد علی جناح کو گمراہ کن اعداد و شمار دیے تھے، تبھی تو بنگلہ اور اردو کا جھگڑا کھڑا ہو گیا تھا ۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ قائداعظم کواصل حقائق سے مکمل طور پر لاعلم ہی رکھا گیا تھا ورنہ وہ جمہور پسند رہنما اکثریت کے جذبات کا ضرور بہ ضرور احترام کرتا اس کی بنیادی وجہِ یہ تھی کہ قائد اعظم کی خاندانی زبان گجراتی تھی اور سپوکن لیگویج انگلش تھی۔

انہوں نے اردو بھی محض اسی خیال کے تحت سیکھنے کی کوشش کی تھی ،کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ برصغیر کے تمام کے تمام مسلم عوام اردو ہی بولتے ہیں۔اگر ان کے ذہن میں ذرا سا بھی شبہ ہوتا تو وہ بنگالی عوام پر کسی ایک طبقے کی یا کسی فرد واحد کی مرضی یا فیصلہ ٹھونسنے کی کبھی بھی کوشش نہ کرتے۔

اگر اس ابتدائی دور میں دوراندیش ،معاملہ فہم ،حقائق پسنداور با اصول وزیر، مشیر ہماری مرکزی حکومت اور قیادت کا حصہ ہوتے تو بنگالی قوم پرست ناراض نہ ہوتے اورپھر دلوں میں نفرت اس قدر نہ بڑھتی کہ بھائی ہی بھائی کا جانی دشمن بن جاتا ،بلکہ ہماری قومی اور سرکاری زبان کا مسلہ بھی ان ہی ایام میں بخوبی حل ہوتا، پھر ہمارے مسائل اور آپس کی رنجشیں اتنی نہ بڑھتیں کہ انجام کار میں بنگلہ دیش بنانے کی نوبت آتی۔

جب ہماری اجتماعی نااہلیوں اور نا سمجھیوں کی بدولت ہمارے بنگالی بولنے والے بھائی ہم سے علیحدہ ہوگئے تھے اور بنگلہ دیش بن گیا تھا، تب باقی ماندہ پاکستان کو تو اردو کی سیادت اور قیادت پر متفق نظر آنا چاہیے تھا۔ کیونکہ بظاہر تو اس خطہ میں اردو کی پذیرائی ایسے ہی کی جاتی تھی جیسے کہ یہ زبان سبھی کو قبول ہے۔

مگر یہاں پر بھی مسلہ کہیں نہ کہیں چھپا ہوا تھا، اس لئے نظروں سے اوجھل تھا ۔وہ تو اس وقت سامنے آیا تھا ،جب سندھی قوم پرستوں نے ممتاز علی بھٹو کی قیادت میں سندھی زبان کو صوبہ سندھ کی سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

میں ذاتی طور پر نہ تو سندھی زبان کی ترویج، ترقی یا اس کے نفاذ کے خلاف ہوں اور نہ ہی اس فعل پر ممتاز علی بھٹو کو وطن کا غدار قرار دیتا ہوں کیونکہ اپنی مادری اور علاقائی زبان کی حفاظت کرنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور یہ حق ہمیں ہمارے متفقہ آئین نے دیا ہے ۔اسی آئین کے تحت دیے گئے حق کے تحت میں یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ ممتاز علی بھٹو کے دوروزارت اعلیٰ کے دوران جتنے انسانوں کا قتل ہوا، جتنی جائد ادیں لوٹی، چھینی اور جلائی گئیں،جتنی لڑکیوں اور عورتوں کو اغواءکیا گیایا ان کی عزتیں لوٹی گئیں یا کوئی اور خلاف قانون بلوے ہوئے تھے ،سب کی غیر جانب دارانہ اور کھلی تحقیقات ہونی چاہئیں اور تمام مجرموں کو سزا بھی دی جانی چاہئے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہونے پائے۔

اسی طرح سے میں اس مطالبہ کی بھی حمایت کرتا ہوں کہ قیام بنگلہ دیش سے قبل ،مشرقی پاکستان میں جتنے بھی بنگالی اور غیر بنگالی ناحق قتل کئے گئے تھے اور جن جن عورتوں کی آبروریزی کی گئی تھی ۔ان سب کو انصاف دینے کے لئے سارے کے سارے حقائق کو سامنے لایا جائے اورمجرموں کو قرار واقعی سزا بھی دی جائے ،خواہ اس کے لئے مرے ہوئے لوگوں کے خلاف مقدمات چلانے کی ضرورت پڑے اور بعد میں ان کی قبروں پر ان کو دی گئی سزاﺅں کے کتبے گاڑے جائیں، تاکہ ہمارے ملک میں انصاف مہیا کرنے کی روایت قائم ہو۔انصاف ہونا چاہئے جلد یا بدیر!کیونکہ دین اسلام ہمیں انصاف اور عدل قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔

چونکہ اسلام میّت کی حرمت کا بھی حکم دیتا ہے اس لئے ان تاریخ کے مجرموں کی قبروں کو قطعاً نہ چھیڑا جائے۔

سچ تو یہ ہے کہ اردو زبان کو قومی زبان قرار دینے کے خلاف مزاحمت اور نفرت آج بھی موجود ہے۔کیونکہ نواب محمد اکبر بگٹی نے اپنی زندگی کے اختتامی سالوں میں اردو کی بجائے پنجابی زبان میں گفتگو کرنے کو ترجیح دی تھی۔ آپ کہیں گے کہ وہ تو غدار تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ ان فوجی جرنیلوں کا غدار وطن کا اپنا ہی ذاتی معیار ہے ۔میں تو ان پر بالکل ہی ٹرسٹ نہیں کرتا ۔ ان ظالموں نے تو فوج اور پاکستان کو اپنے ذاتی، گروہی اور مذہبی مفادات کے لئے اس بری طرح سے استعمال کیا ہے کہ دونوں کی اصلی شکلیں بگڑ کر بھیانک بن گئیں ہیں۔

پاکستان کی موجودہ بگڑی ہوئی امن و امان کی صورت حال اور تباہ شدہ اقتصادیات کے اصل ذمہ دار یہ جرنیل ہی تو ہیں جنہوں نے پاکستان کی نصف عمر ضائع کردی اور قوم کو نصف در نصف کر دیا ہے ۔جب کہ ہم اتنے احمق ہیں کہ اگر کسی جمہوری حکمران نے کوئی سختی کی تو بیلٹ بکس اورالیکشن کے عمل کے ذریعے سے اس کو ہٹانے کی بجائے فوجی جرنل کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔

پھرجب فوجی آتا ہے تو وہ جاتا ہی نہیں ،کیونکہ وہ کونسا ہم عوام کے ذریعے سے آیا تھا ، کہ اب ہم سے پوچھ کر جائے گا۔اب اگر ہم نے ایک برے سیاست دان سے پانچ برس کے بعد جان چھڑا لینی تھی، تواس سے بھی کہیں برے جرنل سے دس برس بعد بھی چھوٹ جائے تو غنیمت ہے۔پھر جنرل جاتے جاتے ملک کو اور بھی تقسیم کر جائے گایا کسی نہ کسی پاکستانی کو غدار کا خطاب دے جائے گا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جنرل ایوب نے پہلے مولانا مودودی جیسے جید عالم اور سیاسی رہنما کو غدار قرار دیا تھا اور پھر شیخ مجیب الرحمٰن کو۔

یہ وہی مجیب الرحمٰن ہے جو کہ قائد اعظمؒ اور محترمہ فاطمہ جناح ؒکے بعد بنگالی عوام کا مقبول لیڈر رہا ہے اور ہمارے ملک کے فوجی حکمران تو مقبول عوامی لیڈروں کو ہمیشہ سے ہی اپنے راستے کا کانٹا سمجھتے رہے ہیں۔

پاکستان اس روئے ارض کا واحد ملک ہے جس میں سب سے زیادہ کلمہ گو انسانوں کو کافر قرار دیا گیا ہے اور سب سے زیادہ مقبول عوامی رہنماﺅں کو غدار وطن کا تمغہ دیا گیا ہے۔ اگر ان فوجی حکمرانوں کے بس میں ہوتا تو وہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ مرحوم صاحب کو بھی غدار قرار دے ہی دیتے۔

اس لئے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ان دونوں الفاظ کے استعمال پر پابندی عائد کر دینی چاہئے۔

اگر کسی شخص کے ’ایمان‘ پر شک و شبہ ہے تو اسلام کے تمام سکول آف تھاٹ کے جید علماءپر مشتمل بورڈ اس متعلقہ شخص کے عقیدے اور سوچ کی مکمل تحقیق کرے اور اس کے ایمان کے متعلق فیصلہ صادر کرے اور اگر کسی شخص کی ’وطنی محبت ‘پر شک ہے تو اس شخص پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہئے۔ پانچ ججز پر مشتمل پینل ہو ۔ جن میں سے ایک بین الاقوامی قانون دان ہو،دوسرا تمام فقہوں کا سکالرہو، باقی کے تین سپریم کورٹ کے مستقل ججز ہوں۔ ( تاکہ حکمران ، عارضی ججوں کو بلیک میل نہ کر سکے۔)

ان با عزت اداروں کے علاوہ کسی بھی شخص یا کسی دوسری اتھارٹی کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ کسی فرد،ادارے، گروہ ،جماعت یا کسی مکتب فکر کو کافر یا غدار قرار دے سکے ۔اگر کوئی شخص یا حکمران ان معتبر اداروں سے بالا ہی بالااپنی من مانی کرے تو اس کے خلاف نقص امن کا مقدمہ بھی چلنا چاہئے اور جس شخص،ادارے ،گروہ جماعت یا مکتب فکر کی بدنامی ہوئی ہے ، اسے ازالہ حیثیت عرفی( ہتک عزت )کا دعویٰ دائر کرنے اور حرجانہ وصول کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہو۔

میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم پاکستانیوں نے اس اہم ایشوکے بارے میں بروقت ،صحیح سمت میں اقدامات نہ اٹھائے تو ایک دن ایسابھی آسکتا ہے کہ لوگ کسی بھی مسلم کوکافر اور کسی بھی محب وطن کو غدار کہتے پھریں گے اور پھر ان لفظوں کی آڑ لے کر اپنی ذاتی دشمنیاں نکالتے پھریں گے۔جس کی وجہِ سے پاکستان میں انارکی کی سی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

اگر ہم نے نوکر شاہی کی بات مان کر قومی زبان کے بارے میں بے لچک رویہ اپنایا تو ایک مرتبہ پھر سے لسانی،نسلی اور گروہی فسادات ہوسکتے ہیں اور اس وقت تو پاکستان میں خانہ جنگی کا یقینی خطرہ یقیناًموجود ہے ۔ سابقہ مشرقی پاکستان اور صوبہ سندھ میں لسانی فسادات اور قتل عام کا عملی مظاہرہ ہم پاکستانی دو مرتبہ تو دیکھ چکے ہیںجن میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اب اس برے عمل کا اعادہ بالکل نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ہم نے مشترکہ قومی زبان کے نازک اور حساس مسلے کو ماضی کی طرح سے افسر شاہی کی عینک سے دیکھا اور پھر سے پرانے اور بے کار ہتھکنڈے آزمائے، تو نفرت کے رکے ہوئے جذبات کا ریلہ اس شدت سے بہہ نکلے گا کہ ایک مرتبہ پھر سے ہمارا دشمن ہماری اندرونی کمزوریوںسے فائدہ اٹھائے گا اورہم دیکھتے ہی رہ جائیں گے ۔ ہمیں ایک اور ڈھاکہ فال سے قبل ہی عقل کے ناخن لینے چاہییں۔ بجائے اس کے کہ ہم دس سال کے بعد ٹیبل پر بیٹھ کر ہتھیار ڈالنے کے کاغذات پر دستخط کر رہے ہوں ۔

افہام وتفہیم کا جذبہ لے کر مسلے کے تمام فر یقوں کو مل کر بیٹھنا چاہئے اور آج ہی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کی بنیاد پر ،کسی ایک متفقہ فیصلہ پر پہنچ جانا چاہیے کیونکہ پہلے ہی بہت ہی زیادہ دیر ہوچکی ہے ۔قوموں کی ترقی کی دوڑ میں ہم روز بہ روز پیچھے ہی رہتے جا رہے ہیں ۔اگر ہم نے جلد ہی کوئی مثبت فیصلہ نہ کیا تو کسی دشمن کو آکر اور بم برسا کر ہمیں پتھر کے دور میں پہنچانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی بلکہ اپنی بدعقلی(میں نے کم عقلی نہیں لکھا)کی بدولت ہم خود ہی پتھروں کے عہد میں پہنچ جائیں گے۔ (اللہ قادر مطلق نہ کرے کہ ایسا برا ہو یا ایسا برا دن بھی ہماری قوم پر آئے ۔آمین !!)


مشترکہ اور متفقہ قومی زبان کونسی ہو نی چاہیے؟ اس پر بہت ساری آراءہو سکتی ہیں ۔میری رائے میں عربی زبان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں ،جن کی بناءپر نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے تمام غیر عرب مسلم ممالک بھی عربی زبان کو اپنی واحد یاپھر دوسری ،تیسری سرکاری زبان کے طور پر اپنا سکتے ہیں۔

یہ میری ذاتی تجویز ہے ۔اس پر سوچا جا سکتا ہے اور بحث بھی کی جا سکتی ہے ۔آخَر ہم نے وفاق پاکستان بچانا ہے جو کہ ہم نے صدیوں کی جدوجہد اورلاکھوں ایمان والوں کی قربانی دے کر حاصل کیا ہے۔اس عظیم نعمت کو چند عشروں میں صرف زبان کے مسلے پر ضد بازی میں گنوانا دانش مندی نہیں ہے۔اگر ہم نے ضدبازی اور اناء کی جھوٹی جنگ میں یہ عظیم خطہ کھو دیا تو ذرا یہ سوچیں کہ آئندہ آنے والی نسلیں ہمیں کن کن برے ناموں سے یاد کیا کرینگی؟

صوبائی سطح پر ہر صوبے کی اسمبلی اپنے صوبے کی زبان کا فیصلہ کرنے کا کلی اختیار رکھتی ہے۔مگر مسلہ یہ ہے کہ پاکستان کے تمام صوبے غیر فطری طور پر بہت بڑے ہیں،کوئی آبادی کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑا ہے ،تو کوئی اتنا رقبہ رکھتا ہے کہ اس میں یورپ کے کئی ملک سما جائیں،پھر ہر صوبے میں ایک سے زیادہ مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔اس طرح سے ہر لسانی گروہ اپنی زبان کا نفاذ چاہے گا جو کہ ہر ایک پاکستانی کا پیدائشی اور بنیادی حق ہے اور کسی ایک اکثریت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسری اقلیت کا حق دبائے۔

اس لئے پاکستان کے تمام صوبوں کو فطری اور انتظامی بنیادوں پر آبادی کے مفاد میں چھوٹا کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ ہمیں اس بارے میں بھی غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے کہ عوام الناس کی بھلائی کس طرح سے کی جا سکتی ہے؟

اورکس طرح سے عوام الناس کو انتظامی محکموں سے متعلق سہولتیں انکے گھر کی دہلیز پر دی جا سکتی ہیں؟ اس وقت تو زیر گفتگو مسلہ مشترکہ قومی زبان کا ہے۔اس میں بھی عوام الناس کی بھلائی ہی پیش نظر رکھی جانی چاہئے۔میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس مسلے کو حل نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ آبادی کے لحاظ سے چھوٹے صوبے پھر سے وہی شکایت کریں گے، کہ پنجاب اپنی واحد اکثریت کی بناءپر ہم پر ایک ایسی زبان ٹھونس رہا ہے ،جو کہ اس کی اپنی زبان نہیں ہے۔

ویسے ان کی شکایت بجا بھی ہے ،کیونکہ پنجاب والے بہت سارے معاملات میں حقیقت پسندانہ سوچ نہیں رکھتے۔جیسے کہ باقی صوبوں کے عوام اور خود پنجاب کے جنوبی ڈویژن اپنی زبان اور ثقافت کے بارے میں خا صے حساس ہیں ، جبکہ وسطی پنجاب کے علاقے کے عوام ان سے مختلف سوچ رکھتے ہیں۔اسی لئے انہوں نے اپنی تہذیب اور زبان کی سرپرستی کرنے کی بجائے دوسروں کی تہذیب اور زبان کوگلے سے لگا لیا ہے۔ اردو کی جذباتی سرپرستی اس سوچ کا نتیجہ ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے ،اس عمل کے نتیجے میںپنجابیوں نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بولی جانے والی اپنی مادر ی زبانوں کو اتنی بے رحمی سے نظر انداز کیا ہوا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت ساری علاقائی زبانیں مر رہی ہیں۔

اگر میں کہوں کہ اب تو اردو زبان بھی مر رہی ہے تو کیا آپ یقین کریں گے ؟

جی ہاں! اردو زبان دنیا کی ان زبانوں میں سے ایک ہے ، جس کے بولنے والے افراد کی تعداد میں بظاہر تو اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ مگر دنیا کی کل آبادی کے مقابلے میں اردو بولنے والوں کی اوسط کم ہو رہی ہے۔اس کی دو وجوہات ہیں۔

پہلی تو یہ ہے کہ اردو بولنے والے پنجابی متوسط طبقے کے لوگوں نے ایلیٹ کلاس کی نقل میں انگلش لیگویج کی سرپرستی شروع کر دی ہے، دوسری یہ ہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں اور صوبوں سے جو پاکستانی بیرون ملک سیٹل ہو رہے ہیں وہ خود تو بے شک اردو پڑھ لکھ سکتے ہیں،مگر ان کی دوسری نسلیں اردو یا اپنی مادری زبانیں بول تو سکتی ہیں ،مگر پڑھ یا لکھ نہیں سکتیں تیسری نسل یاچوتھی نسل ملی جلی زبانیں بولتی ہیں اور اگر وہ تعلیم یافتہ ہیں تو پھر اپنے بڑوں کی زبانوں سے تقریباً نا آشنا ہی ہیں اگر یہی صورت حال جاری رہی تو ایک دن اردو زبان بھی پنجابی کی طرح سے صرف مشاعروں، ڈراموں اورفلموں کی حد تک ہی محدود ہوجائی گی یا پھریار لوگ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کبھی کبھاربھانڈوں سے فرمائش کیا کریں گے کہ پیا جی۔ اردو میں کوئی چٹکلہ ہی سنا دو۔

اس وقت جو زبانیں دنیا میں پھیل رہی ہیں ان میں انگلش تو سر فہرست ہی ہے ،مگر ساتھ ہی ساتھ عربی، سپینیش، فرینچ اور مندرین (چین کی مرکزی سرکاری زبان) بولنے والوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔اگر کسی ملک نے ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہنا ہے ،تو اسے اپنی قومی اور سرکاری زبان کے ساتھ ساتھ ا ن زبانوںمیں سے کسی ایک یا دو زبانوں کو اپنانا ہی پڑے گا۔جیسے کہ چین والے انگلش کو اپنا رہے ہیں ۔جبکہ امریکہ میں انگلش کے ساتھ ساتھ سپینیش زبان بھی استعمال ہوتی ہے۔

پاکستان اگر صرف اردو کو ہی سرکاری زبان قرار دے دے، تو ہمیں بین الاقوامی سطح پر رابطے کے لئے اوپر بیان کی گئی، کسی ایک زبان کو لازمی اپنانا ہی پڑے گا اور اگر ہم اب بھی انگلش کی جگہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کی جنگ بدستور جاری رکھیں گے تو اندرون ملک زبانوں کی موجودہ جنگ بھی بدستورجاری ہی رہے گی اورپھر اردو کے ساتھ ساتھ ہمار ی ما دری، علاقائی ،مقامی اور قبائلی بولیاں بھی معدوم ہوتی چلی جائیں گی۔

ایک آپشن اور بھی ہے ۔وہ یہ کہ ہم صرف انگلش زبان کواپنی سرکاری زبان کے طور پر اپنا نے کا فیصلہ کر لیں ؟

بے شک انگلش موجودہ دور کی سب سے موثر بین الاقوامی زبان ہے، مگر اس کا مزاج،تہذیب اورثقافت ایسی ہے کہ ایک مسلم قوم اسے ایک زبان کے طور پر تو سیکھ سکتی ہے مگر قومی یا سرکاری زبان کے طور پر اپنا نہیں سکتی۔کیو نکہ جو بھی ملک اسے اپنا رہے ہیں۔ وہاں کے لوگ غیر شعوری طور پر انگلش اور امریکن ثقافت بھی اپنائے جا رہے۔

دوسرے ممالک کی تو خیر ہے ان کو کوئی بھی فرق نہیں پڑتا ،کیونکہ ان کو تو مادی ترقی سے مطلب ہے۔مگر ہمیں فرق پڑتا ہے۔کیونکہ ہم مسلم ہیں اور ہمارا دین اسلام ہے۔ اگر ہم لوگ ماضی کی طرح سے انگلش کو بدستوراپنائے رکھیں گے توہماری روایات ،تہذیب،ثقافت اوررسم ورواج تباہ وبرباد ہوتے رہیں گے۔

کیا ہم صرف مادی ترقی کی خا طر اپنی روایات ،تہذیب ،ثقافت اور رسم ورواج کو تباہ وبرباد ہوتے دیکھتے رہیں گے ؟

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم اپنے دین اور اس سے وابستہ اقدار کو خیر آباد کہہ سکتے ہیں؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی کوئی قوم،، کسی دوسری قوم کی زبان کو اپنی مرضی سے اپناتی ہے یاپھرکوئی اجنبی زبان اس پر زبردستی مسلط کر دی جاتی ہے تو وہ قوم اس اجنبی زبان سے وابستہ بہت ساری روایات اور اصطلاحات کوغیر شعوری طور پر اپنا ہی لیا کرتی ہے۔جو کہ اس کے اپنے مزاج اور مذاق سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔جیسے کہ ہندی زبان میں سلام،عید اور طلاق کے خالص اسلامی الفاظ کو ہندو اپنی روز مرّہ کی زبان میں استعمال کرتے ہیں حالانکہ یہ خالص عربی زبان کے الفاظ ہیں، ان کا نہ توہندو تہذیب روایات اور مذہب سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی عربوں کی آمد سے قبل ان الفاظ کا سنسکرت زبان میں کوئی وجودتھا۔

بلکہ اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ الفاظ ہندومذہب کی تعلیمات کی ضد اور الٹ ہیں،مگر پھر بھی کثیر ہندو آبادی اسے استعمال کرنے پر مجبور ہے۔کیونکہ یہ الفاظ ہندی میں فارسی سے آئے ہیں ،جو کہ مسلم حکمرانوں کے دور حکومت میں ہند کی سرکاری زبان تھی۔اب آپ خود ہی سوچیں کہ اگر عربی زبان ہند کی سرکاری زبان ہوتی تو ہندی میں کتنے فیصد سنسکرت باقی رہ جانی تھی؟

اسی ڈر سے تو جواہر لال نہرو نے ہندی کے لئے سنسکرت رسم الخط اپنانے کا فیصلہ کیا تھا کہ رہی سہی ہندی ہی بچا لی جائے ۔ یاد رہے کہ وہ بھارت کا پہلا وزیر اعظم تھا۔

بہت ساری خوبیوں کے علاوہ عر بی زبان میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہماری دینی زبان بھی ہے ۔ہماری مقدس کتاب قرآن مجید اسی زبان میں نازل ہوئی ہے اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی احادیث بھی اسی زبان میں ہیں ۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان میں بولی جانے والی ساری کی ساری زبانیں اور بولیاں عربی زبان سے ہی نکلی ہیں اور صرف عربی ہی ان کی حفاظت کر سکتی ہے اور ان کو پروان بھی چڑھا سکتی ہے۔
تو کیوں نہ ہم عربی کو بطور سرکاری زبان اپنا لیں ؟؟؟

کیونکہ ہمارا بد ترین دشمن عربی زبان سے بری طرح سے گھبراتا ہے ۔سوچیں کہ اگر یہ زبان اس کی سرحد تک آگئی تو ڈر کے مارے اس کا کیا حال ہوگا؟؟؟


خادم الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عصمت حیات علوی 30 جون 2009ء

Friday, April 9, 2010

تیاری اور تحفّظ - - - - - - ابن الملک






سچی کہانیوں کا انوکھا سلسلہ



ایک دوراندیش مسلم مردکی سچی کہانی


جو افراد اور قومیں اپنے دفاع اور حفاظت سے غافل رہتی ہیں ،وہ جلد یا بدیر فنا ہو جاتی ہیں ۔



جملہ حقوق بحق ایکسیس ٹو کئیر پاکستان ۔امریکہ۔ چین۔ محفوظ ہیں۔ اس کہانی کا کوئی بھی حصہ یا کل یا جز نہ تو کسی الیکٹرانی۔ ریڈیائی یا کسی اور ذریعے سے نقل کرنا۔ محفوظ کرنا ۔ اس کہانی کے اصل متن کو بدلنا ۔ ترجمہ کرنا ۔ یا نام مقام تبدیل کرکے شائع کرنا منع ہے۔



بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للّٰہِ رب العالمین

٭بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم٭

تیاری اور تحفّظ

تحقیق و تحریر: ابن المک

چودہ اگست کادن پاکستانی قوم کے لیے تجدیدِعہد اور خوشی ومسرت کا دن ہوتا ہے۔ اس دن ہرسال ، پاکستانی قوم اللہ مالک سے کیا گیا اپنا وہ وعدہ یاد کرتی ہے جو کہ ہمارے اب وجد اور بزرگوں نے اپنے مالک و خالق اللہ رب السمٰوٰت والارض سے کیا تھا۔کہ اگر ہمیں اس زمین میں ایک خطہءارض مل گیا تو ہم اس خطہءارض پر تیرا دیا ہوا نظام یعنی کہ دینِ اسلام نافذ کریں گے۔

جب پاکستان کے نام کے خالق چوہدری محمد علی ؒ نے اس نام کے بارے میں سوچا اور غوروفکر کیا ہوگا توانہوں نے یہی خیال کیا ہو گا کہ جب دوچار نسلوں کے بعد،طویل اوران تھک جدوجہد کے اختتام پر میرے ہم قوم ہندوستان کے مسلم ،برصغیر میں ایک آزادخطہ حاصل کریں گے ۔تو اس وقت تک میں ناجانے کتنی مٹی تلے دفن ہوچکا ہوں گا؟

کچھ ایسا ہی خیال تحریکِ پاکستان چلانے والی نسل کے ذہن میں بھی تھا کہ شائد ہماری آئندہ نسلیں ہی پاکستان کو آزاد ہوتا دیکھ سکیں گی۔

جب کہ مسلم قوم کے دشمن بھی یہی خیال کرتے تھے کہ پاکستان ایک ناممکن العمل خیال ہے اور اس دنیا میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک ہزاروں برس قدیم ملک کسی مذہبی نظریئے کی بنیاد پر دو یا تین حصّوں میں بٹ جائے۔

مگر غیر متوقع طور پراللہ کریم کی رحمت جوش میں آگئی تھی۔ اپنوں کے اندازے غلط ثابت ہو گئے تھے اور دشمنوں کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے تھے۔ایک معجزہ رونماءہو گیا تھا اللہ قادرِمطلق نے انڈین مسلم نیشن کو پاکستان بطورِ انعام دے دیا تھا جو نسل اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک آزاد وطن کے حصول کی جدوجہد کر رہی تھی۔اسی نسل کو ہی یہ موقع دے دیا تھا کہ وہ خود ہی لااِلہ الا للّٰہ کے اصولوں کی بنیاد پراپنے نئے گھر کی تعمیر کرکے اللہ مالک و خالق سے کیا گیا اپنا وعدہ خود ہی نبھائے ۔

پاکستان کی جدوجہد اور حصول کی داستان سرسیّد احمد خانؒ سے شروع ہوتی ہے اور اس طویل اور ان تھک جدو جہد کا اختتام قائدِاعظم محمد علی جناح ؒپر آ کر ہوتا ہے ۔ پاکستان کے قیام کے بعدپاکستان کی جدوجہد کی داستان کا مکمل احاطہ کرنے کے لیے اتنی کتب لکھی جانی چاہیئں تھیں کہ تحریکِ حصول ِ پاکستان پر لکھی گئی کتابوں کو رکھنے کے لئے سینکڑوںایکڑوں رقبے پر پھیلی ہوئی کئی کئی منزلہ لائبریریوں کی لاکھوں الماریاں بھی ان کتابوں کے لیے نا کافی ثابت ہوتیں۔

افسوس کا مقام تویہ ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم اس کے بالکل ہی برعکس کیا ہے ۔ ہم پاکستانیوں نے اپنی جدوجہد کی تاریخ یاد رکھنے اور لکھنے کی بجائے یکسر فراموش کر دی ہے۔

قوموں کی تاریخ میں یہ المیہ بھی ہمارے ساتھ ہی ہو نا تھا۔ سو ہو گیا ! ہم پاکستانیوں نے اپنی
جدوجہدِ آزادی کی تاریخ لکھنے کا حق اد ا ہی نہیں کیا ہے۔اس مجرمانہ غفلت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہماری قوم کی نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آگاہی حاصل ہی نہیں ہے۔ اس قومی المیے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے ،،اتنا ہی کم ہے۔

جنابِ سرسید احمد خانؒ پہلے مسلم لیڈر تھے، جنہوں نے ہمیں یہ شعور دیا تھا کہ ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد ہیں ۔اگر اس حقیقت کو نظر انداز کر کے ہندوستان میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر برطانوی یا مغر بی جمہوریت کو نافذ کیا گیا تو برطانوی یا مغربی جمہوریت کے نفاذ کی صورت میں مسلم قوم اپنے ووٹوں کی عددی کمی کی بناءپر ہمیشہ کے لیے اقتدار سے باہر ہو جائی گی اور ہمیشہ کے لیے محرومیوں کا شکار رہے گی۔

سرسید احمد خانؒ نے فرمایا تھا کہ اس مسلے کا حل یہی ہے کہ ہندوستان میں ہمیں مسلم آبادی کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں نمائندگی اور سرکاری ملازمتیں ملنی چاہیئں ۔اس خیال یا نظریے کو دو قومی نظریہ کہتے ہیں۔ یوں سر سید احمد خانؒ دور جدید کے پہلے مسلم راہنما ءہیں جنہوں نے دو قومی نظریے کی تجدید کی تھی ۔ انہوں نے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ اگر برصغیر(ہندوستان) کے مسلم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو وہ جدید اور انگریزی تعلیم حاصل کریں اور انگلش حکومت کے ساتھ تعاون کرکے ترقی کا کوئی بھی موقع ضائع نہ کریں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر ہمیں سرسیّد احمدخانؒ جیسے بیدار مغز ،دور اندیش ،بے لوث اور مخلص راہنما نہ ملتے ۔ تو انڈیا کے تمام کے تمام مسلم ، آج ( برٹش قوم کے جگہ پر ) ہندو قوم کے غلام ہوتے اور پاکستان کبھی بھی معرضِ وجود میں نہ آتا۔
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرسیّد احمد خان ؒ جیسے عظیم لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور یہ اللّٰہ قادرِ مطلق کی بہت بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ہمیں اس نعمت پر رب کریم کا ہمیشہ شکر ادا کرنا چاہیے۔

ہ الحمدللّٰہ ِ الرب العالمین ہ

پاکستان بنانے کی جدوجہد میں ہر سلیم القلب مسلم نے اپنی اپنی استطاعت اور مکمل اخلاص کے ساتھ کوشش کی تھی۔اسی لیے جب چودہ اگست انیس سو سنتالیس (14۔اگست ۔1947) کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا تو ہر مسلم و مومن خوش تھا کہ ہمیں ہماری منزلِ مراد مل گئی ہے۔ملک معراج الدین کھوکھر کے گھر تو دہری خوشی تھی،کیونکہ اسی صبح بخیر کو تہجد اور فجر کے درمیانی وقت میں ایک بچی پیدا ہوئی تھی جو کہ معراج الدین کی شادی کے دس برس کے بعد بہت سی دعاؤں اور التجاؤں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔

اسلام کے شیدائی اور مجاہد قلب اس شخص نے اپنی بیٹی کا نام مسرتِ تشکیلِ پاکستان رکھا تھا ۔

ملک معراج ا لدین کو قیام پاکستان کے ساتھ ہی پہلی اولاد کی ولادت پر اتنی خوشی اور مسرت ہوئی تھی کہ وہ اپنی بچی کے پیدائش کے اندراج کے لیے متعلقہ دفتر کے کھلنے سے قبل ہی اس دفترکے دروازے پر جا کھڑا ہوا تھا۔اس دفتر کا کلرک بھی ایک مسلم ہی تھا۔ کلرک نے جب نومولود بچی کا نام سنا تھا تو وہ خوشی جوش اور عقیدت کے عالم میں اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور پھر جوش وعقیدت کے عالم میں ملک معراج الدین کھوکھر کو سلیوٹ کیا تھا۔

ان کی بیوی ،اپنے خاوند ملک معراج الدین کا نام بڑی عقیدت اور محبت سے لیا کرتی ہیں۔ بلکہ ان کا نام لیتے ہوئے ان کا لہجہ حلاوت اور شیرینی سے بھر جاتا ہے۔کیونکہ ملک معراج الدین مرحوم نہ صرف ان کے بلکہ اپنے پورے گھرانے کے ہیرو ہیں۔میں بھی ان کو ہیرو ہی مانتا ہوں اس لیے ان کی بہادری کی داستانیں سننے کے لیے ان کے گھر جا یا کرتا تھا اور ان کی بیوی سے ملک صاحب مرحوم کی بہادری کے قصے سنا کرتا تھا۔

اماں جان مجھے اپنے ساتھ ہی اپنی چارپائی پر بٹھا لیا کرتی تھیں ۔ جی ہاں! ملک صاحب مرحوم کی بیوی کو ان کے سبھی بچوں کی طرح سے ،میں بھی اماں جان ہی کہتا ہوں۔

وہ مجھے بتایا کرتی ہیں کہ ریڈکلف ایوارڈ کے تحت جو حد بندی ہوئی تھی ۔اس کے تحت ہمارا ضلع گرداسپور پاکستان میں شامل ہو گیا تھا اور اس دن گرمی کے باوجود ملک صاحب اپنی ذاتی سائیکل پر بیٹھ کر شہر گئے تھے اور ضلعی ہیڈ کوارٹر کی عمارت پر پاکستان کا ہلالی پرچم لہراتا ہوا دیکھ کر آئے تھے اور بہت خوش بھی تھے۔اسی خوشی کے عالم میں انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ کل صبح کو وہ اپنی ڈیوٹی پردوبارہ سے حاضر ہو جائیں گے مگر جب صبح کو ڈیوٹی پر جانے کے چند گھنٹے کے بعد ہی وہ گھر واپس آگئے تھے تو مجھے ان کی اچانک اور غیر متوقع واپسی پر بڑی حیر انگی ہوئی تھی۔

ابھی میں ان کی اچانک اور غیر متوقع واپسی پر حیران ہو ہی رہی تھی کہ انہوں نے گھر کے کسی کونے کھدرے میں چھپائی ہوئی اپنی بندوق اور گن دونوں ہی نکال لی تھی اور ان کو صاف کرنے لگے تھے اور ساتھ ہی سبھی گھر والوں کو بتانے لگے تھے کہ اب اس اسلحہ کے استعمال کا موقعہ آگیا ہے۔میں ان کی بات سن کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہوچکی تھی۔

اپنے اسلحہ کو تیاری کی حالت میں لانے کے بعد ملک صاحب فرمانے لگے تھے ۔دیکھو میں نہ کہتا تھا کہ کافر پر کبھی بھی اعتماد نہ کرنا کیونکہ کافر ہمیشہ ہی ہمیں دھوکے میں رکھتا ہے اور جب ہم اپنے دفاع سے غافل ہو جاتے ہیں تو وہ ہمیں دھوکے میں رکھ کرمارڈالتا ہے۔اسی لیے تو میں نے انگریزوں کا حکم نہیں مانا تھا اور دوسرے مسلمانوں کی طرح سے اپنا اسلحہ حکومت کے پاس جمع نہیں کروایا تھا۔

میں ان کی یہ بات سن کر اور بھی الجھ گئی تھی۔ ملک صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ انگریزوں نے ہندووں کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف گہری سازش چلی ہے انہوں نے مسلم قوم سے کئے گئے معاہدے سے بد عہدی کی ہے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلم اکثریت کا ضلع گرداسپور ہندوستان کو دے دیا ہے ،اسی لیے اس وقت ضلعی ہیڈکورٹر کی عمارت پر پاکستان کے پرچم کی جگہ بھارت کا ترنگا لہرا رہا ہے۔

اماں جان کہنے لگی تھیں ۔ملک صاحب آدھے ولی اللہ تھے۔ ان کے اکثر اندازے درست ہی ہوا کرتے تھے۔جب قیام پاکستان کے وقت کا تعیین ہو گیا تھا۔ تب انگریزوں نے حکم دیا تھا کہ سبھی لوگ اپنا لائسنسی اسلحہ حکومت کے پاس جمع کروا دیں ۔ملک صاحب نے جب ہند حکومت کا یہ اعلان سنا تھا تو ملک صاحب اسی وقت فرمانے لگے تھے ۔ یہ حکم صرف مسلما نوں پر ہی لاگو ہو گا۔

مسلمانوں سے سارا اسلحہ واپس لے لیا جائے گا۔ مگر ہندوؤں اور سکھوں سے اسلحہ کبھی بھی نہیں لیا جائے گا ، تاکہ ہمیں نہتا کرکے مارا جاسکے۔ وہ تو اسی وقت کہنے لگے تھے یہ تو صاف صاف خودکشی ہے کہ ہم اپنا رہا سہا اسلحہ بھی اپنے دشمنوں کے حوالے کر دیں۔ ملک صاحب نے اپنا لائسنسی اسلحہ حکومت کے پاس جمع کروانے کی بجائے اپنی ملازمت پر ہی جانا چھوڑ دیا تھا ۔

کچھ غلامانہ ذہن رکھنے والے مسلمانوں نے نہ صرف خود حکومت سے تعاون کیا تھا بلکہ انہوں نے تو ملک صاحب کو بھی تنبیہ کی تھی کہ حکومتِ ہند اپنے حکم کی خلاف ورزی پر تمہاری نوکری ختم کر سکتی ہے تو ملک صاحب نے انہیں یہ جواب دیا تھا اب جب کہ پاکستان کے قیام کا اعلان ہو چکا ہے ۔اس لئے میں خود کو پاکستان کی سرکار کا نوکر سمجھتا ہوں لہٰذا مجھے حکومتِ ہند کے احکامات کی ذرّہ برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔

پھر کچھ دن کے بعد ملک صاحب کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہوگئے تھے ،مگر ہمارے حال سے وہ کبھی بھی غافل نہ رہے تھے۔یہ بات کہہ کر اماں جان مسکرانے لگی تھیںپھر انہوں نے بڑی ہی محبت بھری نظروں سے اپنی سب سے بڑی بیٹی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے یوں بتایا تھا
ملک صاحب بہت بہادر، دلیر،جری اور طاقت ور تھے اور ان کا قد کاٹھ ؟ یوں سمجھو کہ یہ میری مسرت ان کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔

اماں جان نے اپنی انگلی سے اپنی پہلوٹھی کی بیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا اوریہ کہتے کہتے اماں جان کی آنکھوں میں بے پناہ محبت اور عقیدت بھی اتر آئی تھی۔

اسی کی طرح کا مضبوط بدن ،بس یہی رنگ ،یہی روپ ، یہی ناک ، یہی نقش ، یہی حسن ، یہی کشش ، یہی قد ،یہی کاٹھ اور یہی چال ڈھال ۔اماں جان اپنی بیٹی کو محبت بھری نظروں سے دیکھے جا رہی تھیں اور اپنے شہید خاوند کی چلتی پھرتی تصویر مجھے دکھائے جا رہی تھیں ۔

اپنے شہید خاوند کے جسمانی خدو خال بیان کرنے کے بعد اماں جان اپنے شہید خاوند کی طاقت اور قوت کے متعلق بتانے لگی تھیں ۔وہ کہنے لگیںملک صاحب اتنے طاقت ور تھے کہ دو یا تین مضبوط اور طاقتور آدمیوں پر بھاری ہی پڑتے تھے۔ان کو پہلوانی کا شوق جنون کی حد تک تھا نوجوانی میں وہ اپنے سکول کی ہاکی ٹیم کے بہترین پلیئر تھے ۔ساتھ ہی ساتھ اپنے گاؤں کے جانے پہچانے کبڈی کے کھلاڑی بھی تھے ۔

پورے کا پورا گاؤں ان کی طاقت پر مان کیا کرتا تھا ۔ وہ جتنے طاقت ور تھے اتنے ہی ذہین بھی تھے۔ ساتھ ہی ساتھ خوش باش ،زندہ دل اور خوش اخلاق تھے۔ ملک صاحب کی سبھی خوبیاں میری اس بیٹی میں یکجا ہیں ۔ شائد اس لیے کہ مسرت کی تعلیم وتربیت انہی کی زیر نگرانی ہوئی تھی۔ یہ کہتے ہوئے گویا اماں جان تو اپنی پہلوٹھی کی اولاد مسرتِ تشکیلِ پاکستان پر فدا ہوئے جا رہی تھیں۔

جس وقت اماں جان مجھے یہ سب کچھ بتارہی تھیں تو اس وقت میں اس یہ سوچے جا رہا تھا کہ اگر اماں جان اپنے شہید شوہر کی تصویر سے اتنی شدید قسم کی محبت اور گہری عقیدت رکھتی ہیں تو اصل شخصیت یعنی کہ ملک معراج الدین مرحوم سے کتنی محبت اور عقیدت رکھتی ہوں گی ؟؟؟ اس سوچ کے بعد میرے دل میں یہ سوچ بھی آئی تھی کہ وہ حقیقت میں کیسے ہوں گے؟

پھر اماں جان مجھے اسی دور میں لے گئی تھیں ۔جب ان کے شوہر خوبرو بھی تھے اور طاقتور بھی وہ کہنے لگیں۔ جب ہندوؤں اور سکھوں کو علم ہوا تھا کہ ضلع گورداسپور کو ہندوستان میں شامل کر دیا گیا ہے تو جن سنگھی اور اکالی مسلمانوں پر راتوں میں چھپ چھپا کر حملے کرنے لگے تھے۔

پھر جب مسلمانوں کی طرف سے کوئی جوابی کاروائی نہ ہوئی تھی۔ توکچھ دنوں کے بعد انہوں نے مسلمانوں کے گھروں پر دن دیہاڑے حملے شروع کر دئیے تھے پھر نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ انتظامیہ اور پولیس بھی کھلم کھلا انہی بلوائیوں، قاتلوں اورفسادیوں کا ساتھ دے رہی تھی۔ مسلمان کی بستیوں اور آبادیوں میں شدید قسم کاخوف وہراس پیدا ہو گیا تھا ۔

وہی لوگ جو کل تک ملک صاحب کی تیاریوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کی باتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔ اس ان دیکھے خطرے کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگے تھے جس اندیکھے خطرے کے متعلق ملک صاحب مہینوں قبل ہی ہر وقت فکر مند رہا کرتے تھے۔ پھر لوگ باگ افراتفری کے عالم میں پاکستان کی طرف ہجرت کرنے لگے تھے اس وقت بھی ملک صاحب نے ان کو سمجھایا تھا کہ اگر کوچ کرنا ہی ہے تو منصوبہ بندی کرکے کسی طریقے اور سلیقے سے کوچ کرو۔ مگر کسی نے بھی ان کی نہیں سنی تھی۔

یہ کہتے ہوئے اماں جان نے ٹھنڈی سانس لی تھی۔
ملک صاحب کہا کرتے تھے کہ دیکھو یہ اس نبیﷺ کی امت کا حال ہے جنہوں نے مکة المکرمہ سے ہجرت کامکمل انتظام مہینوں قبل ہی مکمل کررکھا تھا۔ اس بد قسمت امت نے اپنے نبیﷺ کی سنت سے کچھ بھی نہیں سیکھا ہے ۔ ان دنوں ملک صاحب یہی کہتے ہوتے تھے۔ اگر ہم نے اس ہادی برحق ﷺ کی مبارک زندگی کا مطالعہ اس نقطہ نظر سے کیا ہوتا کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے قیامت آنے کے وقت تک کے حالات کے لئے رہنمائی کے اصول و ضوابط ملیں گے تو آج یہ لوگ افرتفری کے عالم میں اس طرح سے خوف زدہ ہو کر بھاگ نہ رہے ہوتے۔

اتنا کہہ کر اماں جان مزید یوں فرمانے لگی تھیں۔بیٹا ! ملک صاحب بہت دور کی سوچا کرتے تھے۔اس لیے وہ ایسے خطرات کے بارے میں بھی اپنی تیاریاں مکمل کرکے رکھا کرتے تھے ،جن خطرات کو عام لوگ باگ واہمے سمجھا کرتے تھے۔ انہوں نے اپنے ذہن میں اس اصول کو جگہ دے رکھی تھی کہ دشمن پر کبھی بھی اعتماد نہ کرو ۔ جب عام مسلمان مطمئن اور خوش تھے۔اس وقت ملک صاحب خوش تو ضرور تھے مگروہ مطمئن بالکل ہی نہ تھے ۔

اسی بے اطمینانی اور فکر مندی کی کیفیت میں انہوں نے نہ تو اپنا اسلحہ حکومت کے پاس جمع کروایا تھا اور نہ ہی سکون سے گھر پر بیٹھے رہے تھے۔بلکہ انہوں نے اپنی حفاظت کی مکمل تیاری کر لی تھی۔صرف میں اور میری والدہ یہ جانتی تھیں کہ ملک صاحب نے ڈیڑھ سینکڑہ ایل جی کے کارتوس جمع کر لئے تھے اور اتنی ہی تھری ناٹ تھری کی گولیاں بھی۔

دراصل ملک صاحب ہر چیز کو اور ہر مسلے کو ایسے زاویے سے دیکھا کرتے تھے ۔ جس زاویئے یا نقطئہ نظر سے عام لوگ باگ نہیں دیکھا کرتے تھے۔اماں جان نے اپنا داہنا ہاتھ بڑے ہی پیار سے میرے لمبے لمبے بالوں میں پھیرتے ہوئے مجھے بتایا تھا۔

عام لوگ تو اس دوران افراتفری کے عالم میں روانہ ہوئے تھے ۔جب کہ ہم لوگ اپنی تیاری مکمل کرنے کے بعداور اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعائیں مانگنے کے بعد،اپنے گاؤں سے باہر نکلے تھے۔جب ہم لوگوں نے اپنے آبائی گاؤں سے کوچ کیا تھا تو ہمارے قافلے میںکل ملا کر ایک سو سنتالیس نفوس تھے۔ سو سے زائد تو جوان عورتیں، لڑکیاں اور بچے تھے، شیر خوار بھی تھے اور نونہال بھی تھے۔

باقی بوڑھے مرد اور عورتیں تھیںاورجوان مر دتو صرف چارہی تھے اور ان چارمیں سے صرف ملک صاحب ہی ہتھیار استعمال کرنا جانتے تھے۔یہ تھی صورت حال ! جب ہم لوگوںنے اپنا گاؤں چھوڑا تھا۔ اماں جان نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا تھا۔

اماں جان کہنے لگیں ۔ ملک صاحب نے گاؤں سے کوچ کرنے سے قبل سبھی سے کہا تھا کہ ہمارے بنیﷺ پر کتاب اور حکمت اتری ہے اور اس کڑے وقت میں حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ تما م عورتیں اپنا پردہ ترک کرکے مردوں کا سا حلیہ اختیار کرلیں اور اس بات کو اچھی طرح سے اپنے ذہنوں میں بٹھا لیں کہ جن گوروں کی مملکت کی حفاظت کی خاطر ان کے جوان بیٹے یا شوہر ہزاروں میل دور گئے ہوئے ہیں ،وہ گورے ہماری مدد کو قطعاً نہیں آئیں گے ،،بلکہ ہم لوگوں نے اپنی حفاظت کا انتظام اور بندوبست خود ہی کرنا ہے۔

اماں جان کہنے لگیں ۔بیٹا تمہیں کیا بتاؤں کہ ان دنوں مسلمانوں کی بستیوں اور آبادیوں میں کیسا خوف وہراس تھا ؟ آج کل کی نسل کواگر بتائیں ، اوّل تو سنتی ہی نہیں ہے اور اگر سنتی بھی ہے تو یقین ہی نہیں کرتی ہے کہ ہم مسلمان اس دور میں کس طرح سے آگ اور خون کے دریا سے گذر کر آئے ہیں ؟

بیٹا کس کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنے ان گھروں کو چھوڑے جہاں پر بچپن اور لڑکپن گذارا ہے ۔ جہاں پر اس کے بڑوں اور بزرگوں کی قبریں ہیں ،شادی بیاہ اور مرگ کی یادیں ہیں۔بچوں کی پیدائش کی خوشیاں ہیں اور ان کو ننھے ننھے قدموں کی چاپیں ہیں ۔ قدم قدم پر یادوں کی نشانیاں ہیں اور ہر در و دیوار سے لپٹی ہوئی، ماضی کی وابستگیاں ہیں۔
بیٹا کس کا دل چاہتا ہے ؟بیٹا کس کا دل چاہتا ہے ؟بیٹا کس کا دل چاہتا ہے ؟ اماں جان بظاہر تو مجھے پوچھ رہی تھیں مگر حقیقت میں وہ خود کلامی کر رہی تھیں ۔

پھر انہوں نے کہا تھا۔بیٹا ہم اپنے گھروں کو کبھی بھی نہ چھوڑتے ۔ اگر ہندو اور سکھ ہمیں امن اور چین سے وہاں پر رہنے دیتے۔مگر وہ تو ہمارے خون کے پیاسے ہو گئے تھے اور ہماری عزتوں کے لٹیرے بن گئے تھے۔حالات تو اس قدر بگڑ گئے تھے کہ پڑوسی ہی پڑوسی کی جان مال اور عزت کا دشمن بن گیا تھا۔ ہم تو اس لحاظ سے خوش نصیب تھے کہ ہمارا سارے کا سارا گاؤں مسلم آبادی تھا۔مگر جہاں پر آبادی ملی جلی تھی وہا ںپر تو پاس پڑوس والے ہندوؤں اور سکھوں نے نہ صرف اپنے مسلمان ہمسایوں کو قتل کیا تھا بلکہ ان کی املاک کو بھی لوٹ لیا تھا اور ساتھ ہی مسلمانوں کی جائداد وں پر قبضہ کر لیا تھا ۔

اماں جان نے بڑی لمبی اور ٹھنڈی سانس لی تھی اور کہا تھا ان ظالموں اور خونی درندوں نے مسلمانوں پر ہر قسم کا ظلم روا رکھا تھا ۔ان بے ایمان کافروں نے برسوں اور نسلوں تک ہمسایہ میں رہنے والے مسلمانوں کا نہ صرف بڑی ہی بے دردی سے قتل عام کیا تھا اور بلکہ ساتھ ہی ان کی عزتوں کو بھی لوٹا تھا اور کئی ایک نے توزندہ انسانوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں بند کرکے آگ کی نذرکر دیا تھا۔

ایسے پر آشوب حالات میں ملک صاحب نے اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اگر حالات کچھ بہتر ہوتے تو ہم لوگ کبھی بھی اپنے آبائی گھروں کو یوں بھرا پرا نہ چھوڑتے اور اپنے آباء و اجداد کی قبروں کو کبھی بھی خیر آباد نہ کہتے۔ یہ کہہ کر اماں جان کہنے لگی تھیں۔بیٹا کس انسان کا دل چاہتا ہے کہ وہ اپنا گھر چھوڑ کر دربدر بھٹکتا پھرے ؟ اور بھیک منگوں کی طرح سے دوسروں کے آگے دستِ سوال بھی دراز کرتا پھرے؟

بتاؤ بیٹا ۔ وہ شخص جو صرف ایک دن قبل ہی خوشحال اور تونگر تھا اور اپنے ہاتھوں سے خیر خیرات کیا کرتا تھا ،اسی شخص کو اگلے روز ہی اپنا خیرات کرنے والا ہا تھ ،خیرات وصول کرنے کے لیے پھیلا نا پڑے تو اس کے دل پر کیا گذرتی ہے ؟ اتنا کہتے کہتے اماں جان کی آنکھوں سے بے اختیار ہو کر آنسو بہہ نکلے تھے ساتھ ہی میری آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے تھے اور ہمارے پاس بیٹھے ہوئے سبھی کی آنکھیں بھی پر نم ہو چکی تھیں۔

کچھ دیر تک تو اماں جان خاموش بیٹھی رہی تھیں ۔جب انہوں نے اپنے جذبات پر قابو پا لیا تھا اور آنسوؤں کو بھی روک لیا تھا تو انہوں نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے کہا تھا ۔

جب روانگی سے قبل ملک صاحب نے کہا تھا کہ ہمارے قافلے کی تمام عورتیں صرف عارضی طور پر اور اس ابتلاءکے خاتمے تک ،اپنا پردہ ترک کرکے مردوں والا حلیہ اختیار کر لیں۔ اگر اس وقت چند بڑے اور بزرگ ملک صاحب کی بات مان لیتے تو سبھی لوگوں نے بحفاظت پاکستان پہنچ جانا تھا مگر ہمارے گاؤں کے کچھ بڑوں اور بزرگوں نے ان کی اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ انگریزی سکولوں کا پڑھا لکھا لڑکا ہماری عورتوں کو بے پردہ کرنا چاہتا ہے۔

اس لیے بہت سارے افراد ہمارے قافلے سے علیحدٰہ ہو گئے تھے پھر راستے میں ہی ان اختلاف کرنے والوںکے سبھی جوان اور بوڑھے مرد مارے گئے تھے اس قافلے کی سبھی جوان عورتوں کو سکھ اٹھا کر لے گئے تھے بوڑھی عورتوں اور بچوں کو سکھوں اور ہندوؤں نے کھیتوں کے اندر پکی ہوئی فصل کی طرح سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ اتناکہہ کر اماں جان زار و قطار رونے لگی تھیں۔

وہ کیوں کر نہ روتیں؟ سبھی مرنے والے ان کے رشتہ دار، عزیزواقارب اور خاندان والے تھے۔ان کے قبیلے والے تھے اور ان کے ہم نسل اور ہم مذہب لوگ تھے۔ان میں سے تو کئی ایک بہت ہی قریبی تعلق والے تھے اور سارے کے سارے دور و نزدیک کے رشتے والے تھے۔ ان کی خالائیں تھیں۔ ان کی سہیلیاں اور ہم جولیاں تھیں۔ان کی تائی اور چچیاں تھیں رشتہ میں ان کی بھتیجیاں اور بھانجیاں تھیں۔ پھوپھیاں اور دادیاں تھیں۔

تائے اور چاچے تھے۔ خالو اور مامے تھے۔ کئی ایک پھوپھا بھی تھے۔چند ایک رشتے میں نانے تھے تو کچھ دادے تھے۔سبھی رشتے تھے ۔سبھی ناتے تھے اور سبھی تعلق تھے ۔اماں جان کے زیادہ تررشتہ دار تو قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کے دوران ہی شہید ہوگئے تھے ۔اس لیے ہر سال چودہ اگست کے دن ،ان سبھی شہیدوں کی یاد ان کے دل میں ایسے ہی تازہ ہو جاتی ہے جیسے یہ کل کی بات ہے ۔اس روز بھی چودہ اگست ہی تھی ۔جب اماں جان یہ قصہ میرے سے بیان کر رہی تھیں۔

اس مرتبہ اماں جان کی خاموشی کچھ زیادہ ہی طویل رہی تھی ۔وہ کافی دیر تک سسکیاں لیتی رہی تھیں۔ہم سبھی اس وقت خاموش اور اداس بیٹھے ہو ئے تھے اور ہمیں اس وقت یوں محسوس ہورہا تھا کہ وہ سبھی پیارے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ہم سے جدا ہوئے ہیں ۔

کافی دیر کے بعد جا کر اماں جان کے آنسو تھمے تھے تو وہ یوں گویا ہوئی تھیںملک صاحب نے اپنے باپ اور دادا کی طرح داڑھی تو نہیں رکھی ہوئی تھی البتہ وہ پنج وقتہ نمازی تھے اور ہر صبح کو تلاوت کرنا ان کا معمول تھا۔بلکہ ان کو قرآن کی بہت سارے سورتیں حفظ تھیں ۔ مغرب کے بعد ملک صاحب ہمیشہ ترجمے والا قرآن پڑھا کرتے تھے چونکہ ان کے پاس ڈھیر ساری دینی کتابیں تھیں اس لئے عشا کے بعد دینی کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے ۔

اس کے علاوہ ان کو حضرت علامہ اقبال صاحب کی تقریباً ساری کی ساری اہم اور مشہور نظمیں زبانی ہی یاد تھیں ،اس لیے رات کوسونے سے پہلے جب وہ اپنے بستر پر آتے تھے تو لیٹنے سے قبل بلند آواز میں ان نظموں میں سے کوئی ایک نظم جھوم جھوم کر گایا کرتے تھے۔ اپنے مرحوم شوہر کا ذکر کرتے کرتے اماں جان کی آواز میں عجیب قسم کی حلاوت سی آگئی تھی۔

اماں جان ایک مرتبہ پھر ہمیں انیس سو سنتالیس کے دور میں واپس لے گئی تھیں۔اب وہ کہہ رہی تھیں ملک صاحب کو دینی مسائل بھی یاد تھے کیونکہ وہ مشہور عالموں کی کتابیں بھی بڑے ہی شوق اور ذوق سے پڑھا کرتے تھے۔ ان کو ہمارے گاؤں کی مسجد کے پیش امام سے کہیں زیادہ آیات، حدیثیں، اصحاب رسل کے قصص اور مسلے مسائل زبانی یاد تھے۔ ان جیسا متقی اور پرہیزگار جوان ہمارے پورے گاؤں میں ایک بھی نہ تھا۔اماں جان نے یہ بات بڑے ہی فخر سے کہی تھی اور پھر کہا تھا۔

ملک صاحب نے کہا تھا کہ اگر ابتلاء اور مصیبت کے دور میں شریعت کے احکامات پر عمل کرنا ممکن نہ ہو تو اس وقت ہمیں حالات کی نوعیت اور نزاکت کے تحت، عقل ودانش سے کا م لینا چاہیے اور اسی کو حکمت کہتے ہیں اور اس وقت حکمت کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ہم اپنے عیار اور مکار دشمن کو دھوکے میں رکھیں۔ اگر ہم اپنے چالاک اور ہوشیار دشمن کو دھوکے میں نہیں رکھیں گے تو ہمارا عیار اور مکار دشمن ہمیں دھوکے اور فریب سے مار ڈالے گا۔

جب ملک صاحب یہ بات کہہ رہے تھے تب میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ تیراشوہر صحیح کہہ رہا ہے۔ اس لیے میں نے اور میری والدہ صاحِبہ نے اپنے گاؤں کی سبھی عورتوں سے کہا تھا کہ وہ ملک صاحب کی بات مان لیں اور اپنے حلیے بدل لیں ۔

ملک صاحب نے بچوں اور کمزوروں کو درمیان میں رکھا تھا اور پھر بچوں اور کمزوروں کے گرد جوان عورتوں کا ایک حلقہ بنایا تھا، جنہوں نے مردانہ کپڑے پہن رکھے تھے اور اپنے لمبے بالوں کو اپنی پگڑیوں کے نیچے چھپا لیا تھا۔ عورتوں کو اونچی آوازمیں بات کرنے کی اجازت نہ تھی۔

مباداء جھاڑیوں یا درختوں کے پیچھے چھپا ہوا دشمن عورتوں کی آوازیں سن لے تو اس پر یہ حقیقت کھل جائے کہ اس قافلے میں جوان عورتیں اور لڑکیاں بھی شامل ہیں جوان عورتوں کے گھیرے کے گرد بوڑھی مگر صحت مند عورتوں کا گھیرا تھا بوڑھی عورتیںبھی مردانہ کپڑے پہن کر مرد بنی ہوئی تھیں۔

ہمارے قافلے کے دائیں اور بائیں اطراف میں بوڑھے مردوں کی ایک ایک قطار تھی جو کہ اپنی اپنی طرف سے ہوشیار تھی، جب کہ ہمارے قافلے کے آگے دو جوان مرد تھے ایسے ہی ہمارے قافلے کے پیچھے بھی دو جوان مرد تھے جب کہ ہمارے قافلے کی قیادت ملک صاحب کر رہے تھے مگر جب وہ کسی خطرے کی بو کو محسوس کرتے تھے تو جدھر سے ان کو خطرہ محسوس ہوتا تھا تو اس وقت وہ ضرورت کے تحت قافلے کے پیچھے ، دائیں یا پھر بائیں بھی چلنا شروع کر دیتے تھے ۔ اپنے مرحوم خاوند کا ذکر کرتے ہوئے اماں جان کا لہجہ فخریہ ہو گیا تھا۔

ہمارے قافلے کے آگے والے اور پیچھے والے مردوں کے ہاتھوں میں نیزے تھے ۔جو کہ ملک صاحب نے گاؤں کے لوہار سے تیار کروا کر مہینوں پہلے ہی اپنے کھیتوں میں چھپا رکھے
تھے۔جب کہ توانامردوں کے ہاتھوں میں برچھے اور لاٹھیاں تھیں جو مرد زیادہ بوڑھے تھے انہوں نے ڈنڈے اور ٹوکے تھام رکھے تھے۔ تاکہ حملے کی صورت میں، کم از کم وہ اپنی جان کی حفاظت تو کرسکیں اور شہید ہونے سے قبل کسی نہ کسی کافر کو جہنم رسید بھی کر سکیں ۔بوڑھی عورتوں نے لکڑی کی بندوقیں اٹھا رکھی تھیں ،جن پر کالے رنگ کا کپڑا لپیٹ کر ان کو اصلی جیسا ہی بنا دیا گیا تھا۔

ہماری شادی کے فوراً بعد ہی ملک صاحب نے مجھے بندوق چلانا سکھائی تھی وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ خدیجہ بیگم ! ہم میں سے ہر مسلم کو ہتھیار بند ہونا چاہیے اور جدید ترین اسلحہ کا استعمال بھی آنا چاہیے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمیں یہ حکم دے رکھا ہے کہ ہم گھوڑے پالیں اور اپنے اسلحہ کو ہر دم تیار ی کی حالت رکھیں۔

اس دن میری بندوق چلانے کی صلاحیت کام آئی تھی۔ میں نے گن سے فائر کرکے دو سکھ مارے ہیں ۔ اماں جان نے بڑے ہی فخر سے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔

ملک صاحب کے ہاتھ میں تھری ناٹ تھری کی رائفل تھی اور میرے پاس بارہ بور کی گن تھی۔

جب دشمن ہماری رینج میں آجاتا تھا ، تب ہم لوگ نشانہ باندھ کر فائر کرتے تھے۔کیونکہ ملک صاحب مجھے اکثر یہی سمجھایا کرتے تھے کہ صرف ایک اناڑی ہی خوا مخواہ اور نشانہ باندھے بغیر فائر کرتا ہے ۔جب کہ اچھا نشانچی اور تجربہ کار شکاری صرف اس وقت فائر کرتا ہے جب شکار اس کی زد میں اور نشانے پر آجاتا ہے ۔اس طرح سے نہ تو کوئی گولی ضائع ہوتی ہے اور نہ ہی شکار بچ کر نکلنے پاتا ہے۔

اس روز قافلہ روانہ ہونے سے قبل ملک صاحب نے ایک مرتبہ پھر سے یاد دھانی کرواتے ہوئے مجھے کہا تھا کہ ان سکھ لٹیروں اور بلوہ پسندوں میں بہت سارے سابقہ فوجی بھی ہیں اگر تم نے نشانہ باندھے بغیر اور دشمن کو اپنی رینج میں لیے بغیر بلا ضرورت فائر کیا تو وہ ہوشیار اور تجربہ کار سابقہ فوجی سمجھ جائیں گے کہ ان کے مقابلے پر اناڑی اور نا تجربہ کار لوگ ہیں۔

اگر ان کو ذرّہ برابر بھی یہ احساس ہو گیا کہ ان کا مقابلہ کسی اناڑی اور نا تجربہ کار دشمن سے ہے تو پھر یوں سمجھ لو کہ وہ ڈٹ جائیں گے اور اس طرح کی صورت حال میں ہمارے بچ نکلنے کے امکانات نہیں رہیں گے ۔اس لیے تم سمجھداری تحمل مزاجی اور صبر سے کام لینا کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر اور تحمل رکھنے والوں کی مدد ضرور بہ ضرور کرتے ہیں۔انشاءاللہ!!! فتح ہماری ہی ہوگی۔

ہمارے قافلے پر پورے سفر کے دوران دو مرتبہ حملہ ہوا تھا۔جب وہ ہماری رینج میں آجاتے تھے تب ہم فائر کرتے تھے۔ ایک تو ملک صاحب کا نشانہ بہت اچھا تھا ۔دوسرے تھری ناٹ تھری کی رینج بہت زیادہ ہوتی ہے اس لیے ملک صاحب نے بہت سوں کو جہنم رسید کیا تھا،

میرا اندازہ ہے کہ انہوں نے گیارہ بارہ دشمنوں کو تو لازم ختم کیا تھا۔بھاگتا ہوا دشمن جب فائر کھا کر لوٹ پوٹ ہوتا تھا تو ملک صاحب کے نعرہء تکبیر کے جواب میں باقی سبھی مردوں کے ساتھ میں بھی جوش کے عالم میں اللہ اکبر کہتی تھی تواس وقت میری آواز سب سے بلند ہوتی تھی ۔

اس سے قبل گاؤں والے اور برادری والے میری موٹی آواز کا بہت ہی مذاق اڑایا کرتے تھے مگر ملک صاحب نے ایک مرتبہ بھی میری موٹی آواز کا مذاق نہ اڑایا تھا بلکہ وہ تومیرا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ خدیجہ بیگم ! اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کوئی بھی شے یا مخلوق بے عبث پیدا نہیں کی ہے ہمارے خالق کی ہرتخلیق کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔ ہجرت کے موقع پر میری موٹی اور مردانہ آواز اور جسم کا مقصد بھی ظاہر ہو ہی گیا تھا جب میں نعرے کا جواب دیتی تھی تو دشمن جتھے دار یہی سمجھتے تھے کہ میں بھی کوئی پہلوان ہوں۔

پھر اماں جان نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئے ہمیں یہ بتایا تھا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ
نہ تو دست بدست لڑائی کی کوئی نوبت آئی تھی اور نہ ہی ہمارے قافلے کا کوئی شخص دشمن کے ہاتھوں سے شہید ہوا تھا۔یہ سب آیت الکرسی کے ورد کا اعجاز ہے کہ ہم سبھی محفوظ و مامون پاکستان کی سرحد کے اندر پہنچ گئے تھے ،البتہ ہمارے قافلے کے ایک بوڑھے اور ضعیف شخص نے بھوک اور پیاس کے ہاتھوں شہادت کو خود ہی اپنے گلے سے لگایا تھا۔

دراصل کوچ سے قبل ملک صاحب نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ بعض اوقات دشمن کنوؤں اور تالابوں میں زہر بھی ملا دیا کرتے ہیں اس لیے ہم راستے میں کسی بھی کنویں اور تالاب کا پانی نہیں پئیں گے ۔صرف چلتا ہوا پانی ہی استعمال کریں گے انہوں نے راستے میں خوراک کے لیے بھنے چنے اور بھنی گندم رکھ لی تھی اور گڑ بھی۔ پینے کے پانی کا خاطر خواہ انتظام نہ ہوسکا تھا کیونکہ صرف دویا
تین فوجیوں کے گھروں سے پانی کی بوتلیں مل سکی تھیں اور صرف ایک مشکیزہ۔

پھر اماں جان مجھے سمجھانے لگی تھیں کہ فوجیوں کو (دورانِ جنگ) پینے کاپانی رکھنے کی خاص قسم کی بوتلیں دی جاتی ہیں اور کینوس کا بنا ہوا مشکیزہ دیا جاتا ہے جو کہ آسانی سے اٹھایا جا سکتا ہے ۔لمبے سفر میں عام مشک بھاری ہونے کی بناءپر لیجائی نہیں جا سکتی اور نہ ہی مٹی کے گھڑے وغیرہ ۔ ہمارے قافلے کے پاس کھانے کا سامان بھی محدود ہی تھا اور پینے کا پانی بھی تھوڑا ہی تھی۔

اس لیے ملک صاحب نے ہر شخص کا راشن مقرر کر دیا تھا۔ہمارے شہید ہونے والے بزرگ پورے سفر کے دوران اپنے حصے کی خوراک اور اپنے حصے کاپانی دودھ پلانے والی عورتوں میں باری باری سے تقسیم کرتے رہے تھے اور ہمیں اپنی قربانی اور نیکی کا پتہ بھی نہیں چلنے دیا تھا۔
انہوں نے پاکستان کی سرحد سے چند میل کے فاصلے پر اپنا دم دیتے ہوئے کہا تھا ۔بیٹو !!!

پاکستان پہنچ کر یہ یاد رکھنا کہ ضلع گرداسپور میں دفن تمہارے ایک بزرگ تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب ان کے بیٹے اور پوتے آکر ان کی قبر پر فاتحہ ادا کرتے ہیں ۔ یہ تم لوگوں پر میرا قرض ہے ۔تم میرا یہ قرض ضرور بہ ضرور ادا کرنا۔اگر تم میرا قرض ادا نہ کر سکے تو میں روز قیامت اپنا حق(قرض) تم لوگوں سے زبردستی وصول کر لوں گا اتنا کہہ کر اماں جان زار و قطار رونے لگی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی کہتی جارہی تھیں کہ دیکھو اللہ سچے نے تو ہمیں پاکستان عطا کردیا ۔

مگر ہم لوگ اتنے بد نصیب ہیں کہ نہ تو ہم نے اپنے سچے رب سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا ہے اور نہ ہی اپنے بزرگوں کو دیئے ہوئے الفاظ کو عملی جامہ پہنایا ہے ۔ جب ہم نے مسلسل وعدہ خلافی کی تھی تو قیام پاکستان کے پچیس سال کے بعد اللہ نے ہم سے آدھا پاکستان چھین لیا تھا۔

آج جبکہ پاکستان کو بنے ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں اور ہماری تیسری نسل بھی آچکی ہے مگر ہم ایسی بد نصیب قوم ہیں کہ اب تک باقی ماندہ پاکستان میں بھی اسلامی نظام کو نافذ نہیں کرسکے ہیں مجھے تویہ خطرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ان وعدہ خلافیوں اور بد عنوانیوں کی پاداش میں کہیں باقی ماندہ پاکستان بھی ہم سے نہ چھین لیں۔اتنا کہہ کر اماں جان اس طرح سے پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں کہ ہم سبھی کو بے اختیار رونا آ گیا تھا۔

اماں جان ہمیں بتانے لگیں (جب پاکستان بنا تھا) ان دنوں گرداسپورشہر سے سیالکوٹ شہر آدھے دن میں پہنچا جا سکتا تھا۔مگر ہمیں گردا سپور سے شکر گڑھ تک پہنچنے میں سات دن لگے تھے۔میں یہ سمجھتی ہوں کہ ہم پھر بھی جلد پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ ہمارے قافلے کے ساتھ عورتیں بچے اور بوڑھے زیادہ تھے۔

جن میں کئی حاملہ عورتیں تھیں اور بہت سے ضعیف مرد تھے ،اوپر سے حبس تھا اور جھلسَانے والی دھوپ تھی۔اس لیے ہم لوگ تیزی سے سفر نہ کر سکتے تھے۔پھر حفا ظتی نقطہ ءنظر سے ہم لوگ نہ تو ہر راستہ اختیار کرسکتے تھے اور نہ ہی ہر مقام پر رک سکتے تھے اور یہ کہ نہ ہی ہر وقت محوِسفر رہ سکتے تھے۔

ان سات دنوں میں ہر فرد کی زبان پر کلمہ شہادت کا ورد تھا یا پھر جن کو آیت الکرسی زبانی یاد تھی وہ اس کا مسلسل ورد کر رہے تھے۔ہم لوگ تیّمم کرتے تھے اور باری باری نماز ادا کرتے تھے ۔ وہ وقت بیداری اور ہوشیاری کا وقت تھا ۔ان سات دنوں میں ہم لوگ ایک لحظے کو بھی غافل نہ ہوئے تھے۔ اگر ایک آدمی آرام کر رہا ہے یا رفع حاجت کر رہا ہے تو دو آدمی اس کی رکھوالی کر رہے ہیں۔

میں نے حیرت اور خوشی کے عالم میں اماں جان سے پوچھا تھا ۔تو اماں جان ایک سو سینتالیس میں سے ایک سو چھیالیس افراد صحیح سلامت پاکستان کی سرحد کے اندر پہنچ گئے تھے؟

ہاں بیٹا ! اور یہ سب کچھ ملک صاحب کی دانشمندی اور حکمتِ عملی کی بدولت ہوا تھا ۔اگر ان کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص ہمارا راہنما ءہوتا تو شائد حالات کچھ اور ہی ہوتے کیونکہ اس ابتلا کے دور میں ہمارے ضلع سے بہت سارے قافلے چلے تھے۔ زیادہ تر تو اپنا راستہ بھٹک گئے تھے اور کہیں کے کہیں جا نکلے تھے اور پھر انجانے میں دشمن کے گھیرے میں آگئے تھے اور ان سینکڑوں ہزاروں لوگوںمیں سے چند ایک فرد ہی زندہ سلامت بچ سکے تھے زیادہ تر قافلے تو ایسے ہی تھے جو کہ کبھی بھی پاکستان نہ پہنچ سکے تھے۔

اکثر بد قسمت قافلوں کے سارے کے سارے افراد شہید کردیئے گئے تھے۔ کچھ ایسے قافلے بھی تھے جن قافلوں کے مر دوں نے بھاگ کر اپنی جانیں تو بچا لی تھےں اور عورتوں کا کیا بنا ؟ وہ خود بھی نہیں جانتے ۔

ہمارے علاقے سے چلنے والے قافلوں میں سے صرف ہمارا قافلہ ایسا تھا جس کے ایک بھی فرد کو کوئی بھی گزند نہ پہنچا تھا اور جس قافلے کی ایک بھی لڑکی نہ چھینی گئی ۔ورنہ بیٹا کیا بتاؤں ! ستر ہزار مسلمان لڑکی ایسی ہے جو کہ سکھوں نے واپس ہی نہیں کی۔ جو بے آبرو کر دی گئیں اورجو شہید کر دی گئیں ، ان کا حساب تو کوئی بھی نہیں جانتا۔یہ دردناک حقیقت بتاتے ہوئے اماں جان نے سرد آہ بھری تھی۔

بیٹا ہم اس لیے نہیں بھٹکے تھے کہ ملک صاحب ٹی اینڈ ٹی میں ملازم تھے ۔ان کو سائیکل چلانے کا بھی بڑا شوق تھا۔ان کو اپنے ضلع کی ہر گذرگاہ،ہر راستے ،ہرپگڈنڈی،ہرکچی اورہر پکی سڑک کا علم تھا۔ان کو اپنے ضلع کے ہر گاؤں، ہرکوٹ اورہر کٹیا کا بھی پتہ تھا۔

وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کس گاؤں کی کل آبادی کتنی ہے؟ اس گاؤں میں سکھوں اور ہندوؤں کے کتنے گھر ہیں اور مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے اور اس گاؤں کی کس گلی یا کس بازار میں مسجد، مندر یا گردوارہ ہے ۔ وہ تواپنے علاقے کے قبرستانوں سے بھی واقف تھے اور ان کو مرگھٹوں اور مڑھیوں کے مقامات کا بھی پتہ تھا۔ وہ نہروں ، کھالوں اور موگوں کا علم بھی رکھتے تھے اوران کو پلوں کا بھی پتہ تھا بلکہ وہ تو یہ بھی جانتے تھے کہ کس نہر یا کھال کو کس مقام سے کسی کی نظروں سے بچ کر اور ڈوبے بغیر پار کیا جاسکتا ہے۔

ریلوے لائن پر کتنے سٹیشن ہیں اور ڈاک بنگلے اور ریسٹ ہاؤس کس کس مقام پر واقع ہیں ۔وہ تو گھاٹیوں ،کھایوں ،اونچائیوں اور نیچائیوں سے بھی بڑی اچھی طرح سے واقف تھے ۔ کنویں تالاب اور کھڑے پانی کے جوہڑ بھی ان کی نظروں سے اوجھل نہ تھے۔ ملک صاحب کو شرارتی اور فریبی ہندوؤں سے اچھی طرح سے آگاہی حاصل تھی اوران کومتعصب سکھوں کی حویلیوں کا حدوداربعہ بھی یاد تھا۔

وہ سڑکوں ،نہروں اور ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ لگے درختوں کی تعداد سے بھی واقف تھے یہاں تک کہ کھالوں نہروں اور دریا کے کنارے اگے سرکنڈوں اور جھاڑیوں کے جھنڈوں سے بھی ان کی آشنائی تھی۔بیٹا ! ان کی نظر سے تو ان کے علاقے کی کوئی بھی چیز اوجھل نہ تھی وہ تو اپنی آنکھیں بند کرکے صرف ہاتھ سے چھو کر اور سونگھ کر یہ بتا سکتے تھے کہ وہ کس دیوار کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں یا اس مقام سے گاؤں کے چوہدری کا مکان کتنی دور ہے؟

اگر ملک صاحب ہمارے قافلے کے قائد نہ ہوتے تو میں اس وقت یہاں پر بیٹھی ہوئی ،تمہیں اپنی داستان نہ سنا رہی ہوتی۔ یا تو قتل ہو کر مٹی بن چکی ہوتی یا پھر کسی سکھ کے بچوں کو جنم دینے کے بعد اسی سکھ کے پوتوں کو پال رہی ہوتی۔یہ بات کہتے کہتے اماں جان کا چہرہ پتھرا سا گیا تھا۔

اماں جان کی والدہ (نانی اماں)جو کہ بہت ہی کم گو ہیں اور زیادہ تر تسبیحات میں مگن رہتی ہیں اس پوری گفتگو میں پہلی مرتبہ گویا ہوئی تھیں۔کہنے لگیں۔جب گاؤں والے معراج پتّر سے اختلاف کرکے ہم سے علیحدٰہ ہونے لگے تھے تو میں نے ایک ایک کی منّت اور ایک ایک سے ترلا کیا تھا کہ معراج پتّر کی بات مان لو ۔

اس لیے نہیں کہ وہ میرا جوائی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ ست پنڈوں میں سب سے سیانا منڈا ہے۔میرے مرحوم شوہر کہا کرتے تھے کہ وہ گھرانہ خوش نصیب ہو گا جس گھرانے کا جوائی معراج الدین بنے گا۔پھر ٹھنڈی سانس بھر کر نانی جان کہنے لگیں ۔افسوس کہ انہوں نے میری ایک نہ مانی تھی ۔سبھی مرد اپنی زندگیاںبے مقصد گنوا بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ جو لڑکیاں اور عورتیں تھیں ان بے چاریوں کا کیا بنا ؟؟

پھر وہ کہنے لگیں ۔مجھے ان کے مرنے کا افسوس نہیں ہے ۔مجھے افسوس تو ان کی بے عقلی پر ہے انہوں نے جانیں بھی گنوائیں اور عزتیں بھی لٹوائیں ۔جو لوگ اور قومیں آنے والے برے اور بھلے وقت کی تیاری نہ کریں ان کے مرنے پر افسوس نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کی کم عقلی پر ماتم کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل استعمال کرنے کے لیے دی ہے نہ کہ کسی کجے( کوزہ) میں ڈال کر رکھنے کو۔ یہ فقرہ کہتے ہوئے نانی جان نہایت غصے کے عالم میں تھیں۔

پھروہ مجھے مخاطب کرکے کہنے لگیں ۔ دیکھ پتّر ! ایک تو میری پنج جوان جہان کڑیاں تھیں ،اوپر سے میں بیوہ ،پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ میرا کلّم کلّا نابالغ منڈا۔پھر بھی میں صحیح سلامت اپنی نقدی اور زیورات سمیت پاکستان پہنچ گئی ۔ اب اگر میں معراج پتّر کی صفت نہ کروں تو کس کی کروں؟؟؟
نانی اماں نے یہ بھی بتایا تھا ۔

پتّر !! جب پاکستان بنا تھا اور لوگ باگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تھے تو بہت سے مہاجر کئی کئی مہینوں تک کیمپوں میں رہے تھے جب کہ اکثر مہاجروں کے برعکس ہم لوگ سیالکوٹ پہنچتے ہی کرایہ کا مکان لے کر رہنے لگے تھے۔ صرف ہمارا گھرانہ ہی نہیں ۔ ہمارے قافلے کے ساتھ جتنے بھی لوگ پاکستان پہنچے تھے کسی ایک مہاجر کوبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہ پڑی تھی۔

سبھی قافلے والوں کوہفتے عشرے میں کوئی نہ کوئی ٹھکانہ میسر آگیا تھا۔شکر الحمدللہ! اور بہت بہت شکریہ پتّر معراج الدین کا، کہ اس کی حکمت اور سیانت ہمارے کام آئی ۔

اللہ نے اسے عقل دی،،، اس نے تیاری کی اس نے تدبیر کی اور اللہ نے تحفظ دیا ۔

یہ کہہ کر نانی اماں جلالی کیفیت میں تسبیح کرنے لگی تھیں۔

الحمد للہ !! الحمد للہ !! الحمد للہ !!۔۔

الحمد للہ !! الحمد للہ !! الحمد للہ !!۔۔ الحمد للہ !! الحمد للہ !! الحمد للہ !! ۔۔

14۔اگست۔2008ء

(اماں جان اور نانی جان کی زبانی یہ سچا واقعہ میں نے چودہ اگست انیس سو ستانوے کو سنا تھا اس وقت اماں جان کی گود میں ان کا ایک سالہ پوتا معراج الدین لیٹا ہواتھا۔اگر اللہ کریم نے توفیق دی تو ملک معراج الدین شہید کی شہادت کا واقعہ بھی تحریر کروں گا:: انشااللہ تعالیٰ)

ابن الملک

Thursday, April 8, 2010

گھاس میں سانپ - - - - - سچ تو یہ ہے۔




بسم اللّٰہ الرحمٰن الحیم ہ


اگر کسی جگہ پر تازہ بہ تازہ گہرے سبز رنگ کی نرم نرم خوشبودار گھاس کٹی ہوئی پڑی ہو اور ایک نہایت ہی زہریلا،نہایت ہی پھرتیلا اور نہایت ہی غصیلہ سانپ جو کہ سخت تیش کے عالم میں بھی ہو، اسی گھاس کے اندر چھپا ہوا ہو اور جس جگہ اور جس مقام پر وہ سانپ موجود ہو، عین اسی جگہ پر ایک گدھا اپنا منہ مارے تو جو حشر اس گدھے کا ہونا ہے، وہی حشر ہمارے ملک کے حکمران طبقے کا ہونے والا ہے ۔

اس وقت ہمارے ملک کے حکمران طبقے کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچی ہے ۔وہ یہ ہے کہ وہ پاکستان سے فرار ہو کر کسی بھی مغربی ملک میں چلے جائیں ۔ اسی لئے انہوں نے برسوں پہلے ہی اپنامال ودولت بیرونِ ملک منتقل کرنا شروع کر دیا تھا اور اسی لئے ہمارے ملک کے حکمران طبقات برسوں سے دونوں ہاتھوں سے ہمارے ملک کو لوٹ رہے تھے ۔

پاکستان کو لوٹنے والے طبقات، جس میں ابتدا میں تو ہمارے سیاست دان اورجرنیل ہی شامل تھے مگر پھر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو لوٹنے والوں میں ہمارے ملک کی افسر شاہی بھی شامل ہو گئی تھی اور لوٹ مار کی اس دوڑ میں سب سے آخِر میں ہمارے ملک کے وہ سرمایہ دار بھی شامل ہو گئے تھے جو کہ خود سیاست دان تھے یا پھر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے کرتا دھرتا تھے۔

آج صورتحال یہاں تک بگڑ چکی ہے کہ اس وقت پاکستان کی لوٹ مار کی دوڑ میں سبھی سیاست دان (حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی)، افواج پاکستان کے سبھی فوجی جرنیل ، سبھی بڑے بڑے سول آفیسرز ، سبھی سیاسی سرمایہ دار اور زمیندار شامل ہو چکے ہیں ۔یوں آج ہر سیکنڈ اور ہر منٹ میں اس قدرکثیر پاکستانی سرمایہ، ہمارے وطن سے فرار ہو رہا ہے کہ کسی دور میں اس سرمائے کا ایک چوتھائی، ایک پورے مالی سال میں بھی فرار نہ ہوتا تھا ۔

دراصل ہمارے پڑوسی ملک افغانستان میں جس تیزی سے بڑی بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور جس قسم کی تبدیلیاں مستقبل قریب میں رونما ہو نے والی ہیں ۔وہ سبھی تبدیلیاں اس قسم کی ہیں کہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں اس خطے میں بہت ساری حکومتیں غیر مستحکم ہو جائیں گی اور بہت ساری حکومتیں اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گی، کیونکہ وہ سبھی حکومتیں غیر قدرتی اور غیرفطری ہیں اور ساتھ ہی بہت سارے غیر فطری نظام بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے۔

ان غیر فطری حکومتوں میں سے ایک حکومت ہمارے ملک کی بھی ہے اور ان غیر فطری نظاموں میں سے ایک غیر فطری نظام ہمارے ملک میں ہم پر مسلط ہے ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو جس خطے میںپاکستان واقع ہے اس خطے کی سبھی کی سبھی حکومتیں غیر فطری ہیں۔ اگر ان ممالک کے عوام افغانستان کے مجاہدین کی طرح سے غیور، بہادر اور با شعور ہوتے تو پاکستان سمیت اس خطے کے بہت سارے غیر فطری نظام بیس بچیس سال قبل انقلاب ایران کے ساتھ ہی رخصت ہو چکے ہوتے اور ان غیر فطری نظاموں کے رخصت ہو نے کے ساتھ ہی ہمارے خطے کی سبھی غیر فطری حکومتیں بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی ہوتیں ۔

افسوس! کہ ایسا نہ ہو سکا ۔ اگر ایسا ہو جاتا تو امریکہ اور اس کے حواری ہمارے خطے میں کبھی بھی قدم نہ رکھ سکتے تھے ۔

اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہندوستان کے مسلم عوام نے پاکستان بنایا ہی اسی لئے تھا کہ برٹش دور کے پرانے فرسودہ، ظالمانہ اور غیر منصفانہ نظام کی جگہ پر ایک عادلانہ ،منصفانہ اور رحمدلانہ نظام قائم کیا جائے جس کی بنیاد اسلام پر ہو ۔ مگر ایسا ہو نہ سکا تھا کیونکہ جب برٹش اس ملک سے گئے تھے، تب وہ پاکستان کو ایک ایسی انتظامیہ اور فوج دے گئے تھے جو کہ اس ملک کی بجائے برٹش قوم کی وفادار تھی، اسی لئے فوجی جرنیلوں نے سول انتظامیہ کے گٹھ جوڑ سے پاکستان کی آزادی کے چند برس کے بعد ہی پاکستان کے اقتدارپر قبضہ جما لیا تھا ۔

اس وقت اگر پاکستان کے عوام شعور سے کام لیتے اور فوج کو ایوانِ اقتدار سے اٹھا کر باہر پھینک دیتے ،تو آج ہمارا ملک اس شکست و ریخت سے دوچار نہ ہوتا، جس شکست و ریخت سے ہمارا ملک اس وقت دو چار ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے مسلم عوام نے ایک وکیل محمد علی جناح ؒکی زیر قیادت بنایا تھا، اس لئے مملکت ِپاکستان کا اقتدار عوام کے ہاتھوں میں ہی رہنا چاہیئے تھا۔

مگر ہماری فوج کے جرنیلوں نے ایسے ایسے چور دروازے تلاش کر لئے تھے اور ساتھ ہی ایسے ایسے ظالمانہ قسم کے حربے اختیار کر لئے تھے کہ اگر پاکستان کی آزادی کے پہلے چند برسوں کو نکال دیا جائے تو ان چند برسوں کو چھوڑ کر باقی کے باسٹھ برسوں میں ہمارے ملک پر کسی نہ کسی بہانے فوجی جرنیل ہی قابض رہے ہیں ۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں امریکہ نے فوجی جرنیلوں کی مدد سے نہ صرف مداخلت کی ہے ،بلکہ پٹھو جرنیلوں کی مدد سے پاکستان پر حکومت بھی کی ہے ۔اس وقت پاکستان پر بظاہر تو سیاست دان ہی حکومت کر رہے ہیں مگر درحقیقت امریکن پٹھو فوجی جر نیل حکومت کر رہے ہیں اور ان جرنیلوں کی مدد سے امریکہ ہمارے ملک پر حکومت کر رہا ہے۔

جب امریکہ کے صہیونیوں نے نائین الیون کا ڈرامہ رچا کر امریکن عوام کے جذبات کو بر انگیختہ کیا تھا تب سن دو ہزار ایک میں تقریباً سبھی امریکن عوام اس بات پر متفق تھے کہ افغانستان پر قابض طالبان کو نیست و نابود کر دیا جائے ۔ اس وقت کچھ امریکن اور غیر امریکن حلقوں نے امریکہ کے عوام کو یہ حقیقت بتانے کی کوشش کی تھی کہ افغانستان پر فوجی مہم جوئی مہنگی بھی ثابت ہو سکتی ہے اور لا حاصل بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

مگر چونکہ اس وقت امریکن عوام غم و غصے کی شدید حالت میں تھے، اس لئے ان معتدل حلقوں کی کسی نے بھی نہیں سنی تھی۔ بلکہ کچھ جذباتی امریکن نے ایسے حقیقت پسند اور معتدل مزاج حلقوں کو غدار بھی کہا تھا جنہوں نے افغانستان اور عراق پر چڑھائی کی مخالفت کی تھی ۔ مگر اب امریکہ میں صورت حال بہت بدل چکی ہے ۔ کیونکہ ہر روز درجنوں کی تعداد میں مردہ اور زخمی امریکن سپاہی ا فغانستان سے امریکہ واپس لوٹ رہے ہیں اس لئے اب امریکہ کے عوام کی اکثریت اس حقیقت کو جان چکی ہے کہ افغانستان میں لڑی جانے والی لڑائی ،امریکن کبھی بھی نہیں جیت سکیں گے ۔

امریکن جرنل اس حقیقت کو اپنے دل سے تو مانتے ہیں، مگر پبلک کے سامنے ماننے سے انکاری ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے عوام کے سامنے یہ قبول کر لیا کہ امریکن افواج افغانستان میں شکست کھا چکی ہیں تو ناراض امریکن عوام سبھی فوجی جرنیلوں کو فوج سے اٹھا کر بحر اوقیانوس میں پھینک دیں گے ۔ اب جبکہ افغانستان اور عراق میں اپنے ہزاروں جوانوں کو قتل کروانے کے بعدامریکن افواج ایک ایسی کمزوری اورتھکن کا شکار ہو چکی ہیں کہ اگر امریکہ اپنی افواج کو افغانستان سے نہیں نکالتا ہے ،تو اس کے اپنے وجود کے ختم ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے ۔

امریکن صدر اور امریکن افواج کے جرنیل کی اکثریت یہ حقیقت اچھی طرح سے جانتی ہے کہ امریکن افواج کو افغانستان سے نکال لینے میں ہی بہتری ہے مگر وہ ایسا کر بھی نہیں سکتے ہیں کیونکہ امریکن صہیونی حلقے ان کو ایسا کرنے نہیں دے رہے ہیں ۔ان صہیونیوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے امریکن عوام کی حمایت کی ضرورت ہے اور امریکن عوام کی حمایت تبھی حاصل ہو سکتی ہے۔

جب امریکن عوام کو یہ بات باور کروا دی جائے کہ سابقہ امریکن صدر جارج ڈبلیو بش نے گیارہ ستمبر کے سانحے کے بعد جس مقصد کے لئے امریکن اور اتحادی افواج افغانستان بھجوائی تھیں وہ تمام مقاصد پورے ہو چکے ہیں اور امریکہ کے سبھی دشمن نیست و نابود کئے جا چکے ہیں اور امریکن جنگ جیت چکے ہیں اور افغانستان میں ایک امریکن نواز(پٹھو) حکومت قائم ہو چکی ہے ۔

اب اس ہاری ہوئی جنگ کو جیتی ہو ئی جنگ کا تاثر دینے کے لئے امریکن افواج نے افغانستان میں مرجاہ کے مقام پر ایک جنگ جیتنے کا ڈرامہ(نورا جنگ) رچایا ہے ۔یہ ہو سکتا ہے اور یہ عین ممکن بھی ہے کہ امریکن حکومت اور جرنل اپنی افواج کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے ایسی ہی دو چار نورا جنگیں مزید لڑیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان مجاہدین گوریلہ جنگ کے ماہر ہیں اور جس قسم کی باقاعدہ اور روائتی جنگ امریکہ نے مرجاہ میں جیتنے کا دعویٰ کیا ہے،اس قسم کی باقاعدہ یا روائتی جنگ افغان مجاہدین لڑتے ہی نہیں ہیں۔

اس لئے امریکہ اگر چاہے گا تو مرجاہ میں لڑی جانے والی نورا جنگ جیسی لاتعداد جنگیں لڑ بھی سکتا ہے اور بلا مقابلہ جیت سکتا ہے مگر امریکن جرنل یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ ایسی جنگیں لا حاصل ہیں کیونکہ ایسی بے حقیقت جنگوں سے امریکن جرنیل اپنی فوج کے بارے میں ،امریکن عوام اور دنیا کے بہت سارے ممالک کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی کھوئی ہوئی عزت تو بحال کر سکتے ہیں، مگر ایک ہاری ہو ئی جنگ کبھی بھی نہیں جیت سکتے ہیں ۔

ایک نکتہ اور ہے جو کہ امریکہ کی حکومت اور افواج کو کمزور کر سکتا ہے اور اس پر بہت کم لوگوں کی نظر ہے وہ نکات امریکہ کے اندر اٹھنے والی رائٹ ونگ ایکسٹریمسٹ یا دائیں بازو کی انتہا پسند عیسائی تنظیمیں ہیں۔ کسی دور میں انہی متعصب تنظیموں نے افغانستان پر چڑھائی کی بھرپور حمایت کی تھی اور اب انہی انتہا پسند عیسائی تنظیموں نے امریکہ میں خالص مسیحی حکومت قائم کرنے کی تیاریاں شروع کی ہوئی ہیں ۔

ان انتہا پسند تنظیموں کا ایک ایجنڈا یہ بھی ہے کہ امریکہ میں جتنے بھی غیر عیسائی آباد ہیں ان سبھی غیر عیسائیوں کو امریکہ سے نکال دیا جائے ۔ایک محَتاط اندازے کے مطابق اس وقت امریکہ میں ایک ہزار کے قریب ایسی تنظیمیں یا گروپ ہیں جن کو معتدل مزاج امریکن ہیٹ گروپ(نفرت کی بنیاد پر گروہ) کہتے ہیں ۔ اگرچہ امریکہ میں انتہا پسند تنظیموں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی امریکہ میں یورپئن اقوام کی آمد ہے ۔

جس وقت یورپ سے امریکہ آنے والے لوگوں میں سے پہلے متعصب پادری نے امریکہ کی سر زمین پر اپنا پہلا قدم رکھا تھا ، نفرت کی بنیاد پر عیسائی انتہا پسند گروہوں کی تشکیل اسی وقت سے ہی شروع ہو گئی تھی ۔

مذہبی انتہا پسند تنظیمیں امریکہ میں کبھی بھی مقبول نہیں رہی ہیں، مگر جب سے صہیونیوں نے امریکن سسٹم کو یر غمال بنایا ہے۔ تب سے ہی امریکہ میں نفرت کی بنیاد پر بننے والے تنظیموں نے مقبولیت حاصل کرنی شروع کی ہے ۔مگر پھر بھی ان کی تعداد ایک خاص حد سے آگے کبھی بھی نہیں بڑھ سکی ہے ۔ جب کبھی امریکہ میں بے روزگاری اور کساد بازاری بڑھی ہے تو امریکہ میں انتہا پسند تنظیموں میں بے روزگاری کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے اور جب امریکہ میں خوشحالی کی لہر آئی ہے تو انتہا پسندی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔

ایک محتَاط اندازے کے مطابق پورے امریکہ میں انتہا پسند تنظیموں کی انتہائی تعداد، انتہائی کساد بازاری اور انتہائی بےروز گاری کے دوران بھی سواسو،ڈیڑھ سو کی حد کو پار نہیں کر سکی ہے ۔ جب امریکن عوام کو روز گار ملنے لگے ہیں اور اقتصادی ترقی ہونے لگی ہے تو انتہا پسند تنظیموں کی تعداد خود بخودکم ہو کر سو سے نیچے چلی گئی ہے۔ امریکن سیکیورٹی امور کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پچھلے سو برسوں کے دوران امریکہ میں انتہاپسند گروہوں کی تعداد عموماً سو کے لگ بھگ رہی ہے مگر پچھلے چند برسوں میں مختلف النوع انتہاپسند وں کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ایک خفیہ امریکن تحقیقاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق ، نائین الیون کے بعد امریکہ میں عیسائی انتہا پسند تنظیموں کی تعداد دوسو سے اوپر چلی گئی تھی اور بش کے دور میں اسی سطح پر قائم رہی تھی ،مگر جب دو ہزار آٹھ میں اوبامہ امریکہ کا صدر منتخب ہوا تھا۔ تو ایک ماہ کے اندر ہی اندر عیسائی انتہا پسند تنظیموں کی تعداد دوگنی ہو گئی تھی اور جب اوبامہ نے امریکہ کے صدر کا حلف اٹھایا تھا، تب تک انتہا پسند تنظیموں کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہو چکی تھی ۔

اسی خفیہ امریکن ادارے نے جو اعداد و شمار اپنے سربراہ کو پچھلے ہفتے بھیجے ہیں ۔اس رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مختلف النوع انتہا پسند تنظیموں کی تعداد ایک ہزار کے عدد کو پار کر چکی ہے ۔ اس وقت امریکہ کی چند ریاستوں کو چھوڑ کر اکثر ریاستوں میں بے روز گاری بھی عام ہے اور مہنگائی کا بھوت بھی ہر گھر میں ناچ رہا ہے۔

ایسے میں غصے اور رنج میں بھرے ہوئے ،بھوکے اور ننگے امریکن عوام انتہا پسند تنظیموں کی حمایت میں ہتھیار اٹھا سکتے ہیں ،یوں امریکہ میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو، امریکن صدر ملک میں امن و امن قائم کرنے کی خاطر عجلت میں امریکن افواج کو وطن لوٹنے کا حکم دیں گے ،اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان افغانستان اور دیگر امریکہ نواز مسلم ممالک کے کٹھ پتلی حکمران طبقات اور اقتدار کے بھوکے جرنیل کیا کریں گے؟


٭ خادم الاسلام و المسلمین ٭ ڈاکٹر عصمت حیات علوی

٭ 08۔اپریل۔2010 ء ٭