Friday, June 12, 2009

جمہوریت اور خلافت




تحریر: ڈاکٹر منیب احمد ساحل


ژال پال سارتر نے اپنے ناول ”لاناوسی یا متلی“ میں نظریہ موجودیت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”انسانی اقدار کی واحد بنیاد کامل آزادی ہے ۔انسان اپنے جذبات اور خیالات کا خود خالق ہے اور خود اپنے رویوں کا ذمہ دار ہے “۔ سارتر کے مطابق انسان کو زندگی گزارنے کےلئے ازخود قوانین بنانے چاہئیں اور ہر گزرتے عہد کےلئے عمران معاہدے کرنے چاہئیں ۔
سارتر کے فلسفے پر کام کرتے ہوئے فرانسیسی فلسفی ”روسو“ نے اپنی کتاب ”سوشل کنٹریکٹ“ میں جمہوریت کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ روسو کے مطابق ہر شخص کو حکومتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حق ہونا چاہئے تا کہ ریاست شہریوں کی تمام ضروریات پوری کر سکے۔ آج دنیا بھر میں جو جمہوریت نافذ ہے اس کے بارنی سارتر اور روسو ہی تھے۔

آج عام مسلمان ممالک بھی اسی جمہوریت کا پرچار کر رہے ہیں اور اسی کے گن گا رہے ہیں اسلام اگر چہ عملی اعتبار سے جمہوریت کا مخالف نہیں ہے کیونکہ اسلام میں آزادی رائے اور شوری کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ مگر جمہوریت کی بنیاد حاکم جمہور کے نظریے پر قائم ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی اکثریت اگر اللہ کے حکم کے خلاف فےصلہ دے دے تو ملک کا قانون بنا کر اس فیصلے کو نافذ کر دیا جائے اس کی واضح مثال ہمیں اہل مغرب کے ہاں ملتی ہے جہاں اپنے دین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے انہوں نے ہم جنس پرستی، شراب اور سود کو حلال کر لیا ہے۔

اس لئے اسلام نظریاتی طور پر جمہوریت کے اقتدار اعلٰی نظریے کا شدید مخالف ہے۔ اسلام کے مطابق حاکمیت اعلٰی جمہور کا نہیں صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اسلام کی نظر میں اللہ کے سوا کسی اور کا اقتدار اعلی تسلیم کرنا شرک ہے اور جہاں عائلی قوانین بنانے کا معاملہ آئے وہاں علماء کی رائے اور مشورے سے فیصلہ کیا جانا چاہئیے۔ جمہوریت میں 9 باکردار و عقلمند افراد کی رائے پر 10بے وقوفوں کی رائے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ 10بے وقوفوں کو عددی برتی حاصل ہوتی ہے۔

جبکہ اسلام میں افراد کو گنا نہیں جاتا بلکہ ان کا کردار تولا جاتا ہے جو جتنا متقی ہو گا اس کی رائے اتنی ہی اہمیت کی حامل ہو گی۔

یہ ابلیسی جمہوریت کا شاخسانہ ہی ہے کہ آج دنیا بھر میں مسلمان ذلیل و خوار ہو رہے ہیں کونکہ وہ جمہوریت کے وطن پرستی کے نعرے میں آ کر وہ اپنی مرکزیت کھو چکے ہیں اور کوئی اس طرف توجہ بھی دینے کو تیار نہیں جس نظام میں آج امت مسلمہ اپنی فلاح ڈھونڈ رہی ہے وہ درحقیقت ببول کی باڑ ہے۔

آج اگر پاکستان میں عوام نان شبینہ کے محتاج ہیں تو اس کی وجہ صرف جمہوریت ہی ہے کیونکہ آج جمہوری نظام کے تحت قائم ہونےوالی پارلیمنٹ جو کہ عوام کی نمائندگی کا دعوی کرتی ہے درحقیقت عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ آج پاکستان کے پارلیمانی انتخابات سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ جس نے جتنی سرمایہ کاری کی تھی وہ اس سے ہزاروں گنا زیادہ کمانے کی فکر میں ہے اور رہے عوام تو عوام کی فکر کسے ہے؟

دہشتگردی کےخلاف جنگ ،امریکی ڈرون حملوں اور خود کش حملہ آوروں کے حملوں کا نشانہ بن کر سےنکڑوں خاک نشینوں کا لہو زرک خاک ہو چکا ہے اس پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے نہ صرف مذمتی بیان جاری کئے بلکہ احتجاجی مظاہرے بھی کئے مگر کسی نے آج تک غریب عوام کےلئے احتجاج نہیں کیا جو بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے سبب بھوک، مفلسی اور تنگ دستی کے جہنم میں دھکیل دیے گئے ہیں، خیر پاکستان کے حالات کا تو کیا ہی کہنا مگر دنیا بھر میں مسلمان آج بری طرح مظالم کا شکار ہیں اور اس کے باوجود بھی دہشتگردی کا لیبل بھی مسلمانوں پر ہی چسپاں ہے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ قدرتی و معدنی وسائل رکھنے والے مسلمان ممالک جن کے پاس ایٹمی قوت بھی ہے ان میں اتحاد اورمرکزی خلافت نہ ہونے کے سبب آج خون مسلم دنیا میں سب سے زیادہ ارزاں ہے، مسلمانوں کو شعور سے بے بہرہ رکھنے مےں بنےادی کردار مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا ہے کہ انہوں نے اےسا نصاب تعلیم تشکیل دیا جس سے اچھے کلرک، اچھے انجینئر، اچھے ڈاکٹر وغیرہ تو پیدا ہو جائیں مگر اچھے و باکردار مسلمان پیدا نہ ہو سکیں اس کے علاوہ دینی مدارس کے علماء کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی مایوس کن ہے، معاشرے میں بس ان کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ مسجد میں نماز پڑھا دیں، کسی کے گھر میں ختم قران کروا دیں ،نکاح کروا دیں، جنازے یا بچے کی پیدائش کے وقت چند رسومات ادا کروا دیں۔

عملی زندگی میں ان کے کردار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ گھروں میں انتظار کرتے ہیں کہ کب مولوی صاحب خطبہ ختم کریں اور وہ کب مسجد میں جا کر نماز ادا کریں اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب لوگوں کو علماءکے وعظ و تقریروں میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، انہی روایتی علماء میں سے بعض نے جدید علوم سے واققیت حاصل کر کے عصر حاضر کے زندہ مسائل کو اپنا ہدف بنایا ہے، عام روایتی علماءکی بہ نسبت ان کا اثر و نفوذ معاشرے میں بہت زیادہ ہے اور ان کی دعوت سننے والے افراد کی بھی کوئی کمی نہیں ۔

اس وقت جو لوگ دین کی خدمت کر رہے ہیں ان کا ہدف جامع وواضح نہےں ہے ،عام علماء اپنے روایتی ورثے کی حفاظت کر رہے ہیں۔ دینی جماعتوں نے اپنا ہدف سیاسی میدان میں تبدیلی تک محدود کرلیا ہے جبکہ تبلیغی جماعتوں کا ہدف لوگوں کو مخصوص دینی اعمال مثلا نوافل، درود و وظائف اور عبادات کی تلقین کرنا رہ گیا ہے ۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل ایمان سب سے پہلے اپنا ہدف متعین کریں، اسلامی تعلیمات کی اساس پر جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سیاسی، معاشی و عمرانی معاہدے تیار کریں کیونکہ یہ حقیقت قابل افسوس ہے کہ مسلمان جمہوریت، کیپٹل ازم اور سیکولر ازم کے مقابلے میں اپنا مقدمہ لڑ ہی نہ سکے، امت مسلمہ کے دانشوروں کو چاہئے کہ وہ قران کریم کی روشنی میں اجتہادی بصیرت پیدا کریں، امید ہے کہ عمل کے میدان میں بھی جیت ہماری ہی ہو گی (انشاءاللہ)۔

1 comment:

  1. there is no doubt that democracy is a total failure, but how we can change the system?

    ReplyDelete