Showing posts with label russia. Show all posts
Showing posts with label russia. Show all posts

Friday, September 4, 2009

گریٹ گیم، فتح کس کی؟



تحریر: روف عامر پپا بریار

سنٹرل ایشیا تیل و گیس کے وسیع و عریض خذانوں کے کارن تاریخ ساز خطہ ہے اور یہاں اپنی رسائی و حاکمیت کے پھریرے لہرانے کی تاریخ بھی کافی پرانی ہے۔سلطنت عثمانیہ کے عظیم ترین جنگی جرنیل انور پاشا نے اٹھارہویں صدی میں وسیع تر اسلامی سلطنت کے قیام کے لئے آذربائیجان کے شہر باکو کو زیر کرلیا. یہ وہ عرصہ تھا جب باکو کی معدنی دولت نے استعماری طاقتوں جرمنی برطانیہ اور فرانس کو مستقبل میں سائنسی انقلاب کے پیش نظر ادھر متوجہ کیا تھا۔

انور پاشا نے1918 میں وسطی ایشیا کو فتح کرلیا۔ روس نے آرمینیائی فوج کے ساتھ ملکر انور پاشا سے بدلہ لینے کے لئے اسلامی فوجوں پر حملہ کردیا۔ ترکوں کو برفیلے طوفانوں میں جنگ لڑنے کا تجربہ نہ تھا یوں ترک مسلمان شکست کھا گئے اور انہیں انور پاشا کی جدائی کا صدمہ اٹھانا پڑا جو1922 کو جنگ میں شہید ہوئے۔

ترک فوج کا باکو پر حملہ کرنا اس گریٹ گیم کا نقطہ آغاز تھا جسے جیتنے کے لئے امریکی اور اتحادی آجکل افغانستان پر قابض ہیں۔ گریٹ گیم شیطانی صہیونیت کی وہ چال ہے جس کی رو سے یہودی امریکی فورسز کی معاونت سے سنٹرل ایشیا کے وسائل پر قابض ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

بش دور میں گریٹ گیم کا پہلا راونڈ شروع ہوا اور جب یہ ترکہ اوبامہ کے سپرد ہوا تو اس نے افغان جنگ کا نام بدل کرAF.PK رکھ دیا تاکہ افغانستان میں ہونے والی قتل و غارت کو پاکستان منتقل کیا جائے۔ صہیونی لابی نے اوبامہ کو قائل کیا کہ القاعدہ کی اپر قیادت بشمول اسامہ پاکستان میں روپوش ہے۔ اس نقطہ نظر کو ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلسن کی رپورٹ سے تقویت ملتی ہے۔

پروفیسر لکھتے ہیں کہ افغانستان میں ناٹو فورسز کی پے درپے ہلاکتوں کو روکنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی مدد سے اسکے قبائلی علاقوں میں موجود القاعدہ کو ختم کرنے کی پالیسی اپنانی چاہیے۔

1993 میں پاکستان اور ایران کے درمیان تیل و گیس کی تجارت کا معاہدہ ہوا۔ بعد ازاں ایران نے اس منصوبے کو بھارت تک دراز کرلیا۔ واشنگٹن کی صہیونی لابی کے لئے یہ منصوبہ ipi گیس پائپ لائن ڈراونا خواب بن گیا۔ یہ منصوبہ چونکہ روس کے مفاد میں تھا اسی لئے ماسکو نے اسکی حمایت کی۔NABUCO PIPE LINE وہ منصوبہ ہے جسکے مطابق یورپی یونین بحیرہ قزوین کی گیس و توانائی کے خام مال کو روس کی بجائے دیگر ذرائع سے یورپ پہنچایا جائے۔ یہ روس کے مفاد میں تھا کہ اسے نظر انداز کرنے کی سزا کے طور پر نیبکیو پائپ لائن منصوبے کو تعطل کا نشانہ بنائے۔

یوں ماسکو نے ساری توجہ ipi کی طرف موڑ دی۔ ایشیا ٹائمز نے اگست2009 میں سنٹرل ایشیا میں بچھنے والی پائپ لائنوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کہ وسطی ایشیا میں دہشت گردی کا نقشہ دراصل تیل کی پائپ لائنوں سے نہ بدل دیا جائے۔ روس نے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لئے امریکی و اتحادی فوجیوں کو افغانستان میں الجھانے کا ایسا اہتمام کیا کہ واشنگٹن کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔

امریکہ کی آئل فرم یونی کول کے احباب طالبان کے دور میں وسطی ایشیا کے تیل کو افغانستان سے گزارنے اور پائپ لائن کے حوالے سے مذاکرات کئے تھے۔ طالبان کے انکار کے فوری بعد ہی افغانستان پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

نائن الیون کا ڈرامہ تو دنیا کی ہمدردیاں سمیٹنے کی ایک ابلیسی چال تھی۔ روس نے اس محاز پر امریکہ کو شکست دی تو اوبامہ ٹیم کے ممبران نے کئی دوسرے ذرائع پر غور و خوض شروع کردیا۔ امریکی ایران کو ناک اوٹ کرنے کے لئے ترکمانستان پاکستان بھارت اور افغانستان کے درمیان توانائی و گیس کی ترسیل کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ترکمانستان کی گیس کو افغانستان اور وسطی پاکستان سے گزار کر بھارت تک لایا جائے تاکہ یورپ کا روسی تیل پر انحصار کم کیا جائے۔

اس منصوبے کو کامیاب کرانے کے لئے اوبامہ کےAF PAK منصوبے کو کامیاب کرانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔امریکہ نے ہلمند میں آپریشن خنجر بھی اسی مقصد کے لئے شروع کیا تھا۔ اس طرح روس کو ترکمانستان کے سامنے جھکانے کی خوش فہمی بھی شامل حال تھی مگر ائے بسا ارزو کہ خاک شد کے مصداق امریکہ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

AMBO وہ امریکی منصوبہ ہے جسکے تحت بحیرہ قزوین کے تیل کو آذر بائیجان سے البانیا تک پہنچانا تھا تاکہ روس کا یورپ پر توانائی کا غلبہ ختم کیا جائے۔ امریکہambo کو کامیابی کا سہرا پہنانے کے لئے نوے کی دہائی سے اس پر اربوں خرچ کررہا ہے مگر علاقائی تنازعات اور روسی ریچھ کی دوبارہ انگڑائی نے اسے بھی ناکامی کا کفن اوڑھ دیا۔

btcp بھی صہیونیوں کا تشکیل کردہ منصوبہ ہے جسکے مطابق باکو کے تیل کو ترکی کے راستے اسرائیل کی بندرگاہ ایلات تک پہنچانا تھا مگر ترک باغیوں کی مخالفت اور روس کے ہاتھوں جارجیا کے امریکن نواز حکمرانوں کے سیاسی و عسکری زوال نے بی ٹی سی پی کو ناقابل عمل بنادیا۔

یوں نائن الیون کے فوری بعد صہیونیوں کی بداعمالیوں کے کارن گریٹ گیم کے جس کھیل کا آغاز ہوا تھا وہ بڑی حد تک روس جیت چکا ہے۔ افغانستان کی بساط پر اب امریکہ جنگ ہار چکا ہے۔ روس اور چین ہانپتے ہوئے امریکی ہاتھی کو مزید ہلکان کرکے درگور کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے پالیسی میکرز کو دانشمندی کا مظاہرہ کرکے سارے منظر نامے کا جائزہ لیکر مستقبل کی جاندار پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا ہوگا کہ اگر امریکہ ذلیل و خوار ہوکر کابل سے فرار ہوگیا تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟

Sunday, August 16, 2009

ایران اور روم بالمقابل- - - -سچ تو یہ ہے۔





تحریر: خادم الاسلام و المسلمین، ڈاکٹر عصمت حیات علوی


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم


نبی اکرم ﷺ کے بعثت کے دور میں معلوم دنیا میں دو بڑی تہذیبیں اور طاقتیں تھیں۔ایران اور روم ۔
یہی دونوںطاقتیں صدیوں سے آپس میں ہی ایک دوسرے سے نبرد آزما تھیں۔دونوں ہی اپنے وقت کی سپر پاورز تھیں اور ان کی آپس کی دشمنی بھی بہت پرانی تھی۔اتنی پرانی کہ ان کی دشمنی کی جڑیں رومیوں کی بت پرستی کے دور تک دراز تھیں۔ جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تھے،تب تک رومی تو بت پرستی کو چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر چکے تھے،مگر ایرانی ابھی بھی اپنے صدیوں ہزاروں سال قدیم مذہب زرتشت پر ہی قائم تھے۔اس قدیم مذہب میں سورج،چاند اور دوسرے بہت سارے مظاہر ِقدرت کے علاوہ آگ کی پوجا بھی کی جاتی تھی یوں بت پرست ایرانی عقیدے میں بت پرست کفارِ مکہ سے قریب تر تھے اور رومی عیسائی اگرچہ سو فیصد درست تو نہ تھے مگر چونکہ وہ ایک ایسے مذہب کے پیروکار تھے جو کہ ایک خالق ، تمام سابقہ انبیا کرام ،تمام سابقہ آسمانی کتب، روز قیامت ، حساب کتاب اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے تھے۔ اس لیے وہ مکہ کے اہلِ ایمان سے زیادہ قریب تر تھے،جو کہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لاچکے تھے اور ایک اللہ ، ایک دین روزقیامت اور تمام سابقہ آسمانی کتب کے ساتھ ساتھ تمام سابقہ انبیاءکرام کو بھی مانتے تھے۔یوں مکة المکرمہ میں ایک ایسا ماحول بن چکا تھا کہ بت پرست کفار مکہ خود کو ایرانی مشرکوں کا حلیف سمجھتے تھے جب کہ مسلمین عیسائیوں سے انسیت سی محسوس کرتے تھے،کیونکہ جن انبیاءاکرام اور کتب کو گمراہ رومی عیسائی مانتے تھے، ان سبھی انبیاءکرام اور کتب پر ایمان لانا مسلمین کے لیے بھی لازمی تھا۔

یہ بات تو طے ہے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر نبی اکرم ﷺ تک تمام کے تمام انبیاءکرام دین اسلام ہی لائے تھے۔جس کے بنیادی اصول ہر نبی کے دور میں ایک ہی رہے تھے یعنی کہ ایک واحد ھو لاشریک ،ایک دین ، تمام کے تمام سابقہ انبیا ءاکرام، سابقہ آسمانی کتب، روز قیامت، پھر قیامت کے روزحساب کتاب اور نیکی کے صلے میں جنت اور برائی کے عوض دوزخ ملنے پر ایمان لانا،ہر نبی اور رسول کے امتیوں پر لازم ہوا کرتا تھا۔ بالفاظ دیگر ہر نبی اور رسول کے امتی بنیادی طور پر دین اسلام کے ہی پیرو کار ہوا کرتے تھے اور ان کا نام بھی مسلم ہی ہوا کرتا تھا۔

قرآن کریم میں متعدد آیا ت میں یہ بات وضاحت اور صراحت سے موجود ہے کہ سابقہ انبیا ءکرام پر ایمان لانے والی تمام کی تمام امتیں بنیادی طور پر مسلم ہی تھیں اسی طرح سے عیسیٰ علیہ السلام کے حواری اور انصار بھی مسلم ہی تھے یوں عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار جب تک عیسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی اصل تعلیما ت پر قائم رہے تھے تب تک تو ان کا دین دراصل دین اسلام ہی تھا مگر پھر وہ گمراہ ہو گئے تھے تو انہوں نے بت پرستی اپنا لی تھی اور ساتھ ہی تین خداوں یعنی کہ تثلیث کے قائل بھی ہو گئے تھے، تو دراصل انہوں نے دین اسلام کے اصولوں میں بنیادی تحریف کر دی تھی بلکہ انہوں نے فخر کے طور پر خود کومسلم کہلوانے کی بجائے عیسائی کہلوانا شروع کر دیا تھا تو ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہ رہا تھا نتیجتاً ان کا مذہب عیسائیت بن گیا تھا۔

تب اس دنیا کی راہنمائی کے لیے اللہ علیم و حکیم نے خاتم النبیین ﷺ کو مبعوث فرمایا دیا تھا تاکہ وہ دین اسلام کی تجدید فرمائیں ۔
جب اللہ حکیم و علیم نے نبی آخر الزمان صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تھا تب ابتدا میں ان پر چند افراد ایمان لائے تھے اور ان میں بھی زیادہ لوگ مکة المکرمہ کے نادار غریب اور بے اختیار قسم کے لوگ ہی تھے۔وہ ابتدائی دور مسلمین کے لیے بہت ہی بھاری اور سختی کا دور تھا کیونکہ کفار مکہ کی مادی اور افردی قوت اور طاقت کے سامنے مسلمین کی طاقت نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کی اسی کمزوری کی بنا پر کفارمکہ مسلمین پر آئے دن جسمانی تشدد کرتے تھے اور مادی طور پر نقصان بھی پہنچاتے تھے۔ چونکہ مسلمین مغلوب تھے اس لیے کوئی بھی قابل ذکر طاقت ان کی حلیف یا مدد گار نہ تھی۔انہی دنوں ایک ایساواقعہ رونماءہوا تھا کہ اس واقعے کی آڑ لے کر کفار مکہ نے مسلمین کی ہمتوں کو مزید پست کرنے کی مہم چلائی تھی ۔وہ یوں کہ ایرانی افواج نے ایک فیصلہ کن جنگ کے بعد سن ۳۱۶ء(613AD) میں نہ صرف دمشق اور یروشلم کے علاقے رومی سلطنت سے چھین لئے تھے بلکہ اس سے اگلے برس وہ روم کے صوبے مصر پر بھی قابض ہوگئے تھے۔

ان فتوحات سے ایرانیوں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ رومی دارالحکومت قسطنطنیہ پر بھی قبضہ کرنے کی باتیں کرنے لگے تھے۔

سچ تو یہ ہے کہ دومتحارب اور برابر کی قوتوں کی طویل دشمنی کے دور میں ایسے مرحلے تو آتے ہی رہتے ہیں کہ کبھی ایک فریق غالب آجاتا ہے اور اپنے دشمن کے وسیع علاقوں کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیتا ہے ۔پھر کچھ عرصے کے بعد مغلوب فریق ہمت باندھ کر بڑے عزم سے اٹھتا ہے تو نہ صرف اپنے پرانے کھوئے ہوئے علاقے واپس لے لیتا ہے بلکہ دشمن کے پایہ تخت کو بھی نیست و نابود کر ڈالتا ہے۔اس مرتبہ بظاہر مٹ جانے والا فریق اگر ہمت طاقت اور حکمت رکھتا ہے تو اپنی تباہ شدہ سلطنت کے کھنڈروں میں پل کر طاقت اور قوت کو دوبارہ سے حاصل کرنے کے بعد اپنے پیدائشی دشمن پر ایسا مہلک وار کرتا ہے کہ اس کو مغلوب بنانے والی قوم ایسی راہ فرار حاصل کرتی ہے کہ ماضی کی مغلوب قوم حال کی فاتح قوم بن جاتی ہے ۔


المختصر ! زندہ قوموں کی زندگی میں ایسے بڑے اور چھوٹے معرکے تو بپا ہوتے ہی رہتے ہیں اور بہادر اقوام ایسے معرکوں کو اپنی بقاءکی جدوجہدکے ابواب کا ایک معمول ہی سمجھتی ہیں۔اس لیے یہ بات تو طے ہے کہ ہزاروں سال سے ایک دوسرے سے برسر پیکار رومی اور ایرانی اس طویل عرصے میں سینکڑوں مرتبہ نہ سہی درجنوں مرتبہ تو ایک دوسرے کو ایسی ہی شکستیں دے چکے ہوں گے بلکہ ایسی ہار جیت تو ان کے بہادروں کا روز انہ کا کھیل اور زندہ رہنے کا بہانہ بن گئی ہوگی۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس حقیقت کو مکّہ کے کسی بھی مشرک سردار نے اجاگر نہیں کیا تھا بلکہ الٹا رومی شکست کو ایک ایشو بنا ڈالا تھا تاکہ مسلمین کی ہمتیں پست کی جا سکیں۔ حالانکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس زمانے میں نہ تو کفارمکہ کا ایرانیوں سے کوئی پیکٹ تھا اور نہ ہی مسلمین کا رومیوں سے کوئی معاہدہ تھا۔صرف بات اتنی سی تھی کہ اچھے اور نیک دل عیسائیوں کی طرح سے رومیوں کے بادشاہ نے بھی چند مہاجر مسلمین کو اپنے ہاں پناہ دے دی تھی اور ان مظلوموں کو ظالم کفار مکہ کے حوالے کرنے سے انکار بھی کر دیا تھا۔

کیوں نہ پہلے ہم اس وقت کی سپر پاورز کی جغرافیائی حدوں پر ایک نظر ڈال لیں تاکہ ہماری بات میں زیادہ دلچسپی پیدا ہو جائے !

رومی سلطنت کے تحت کچھ علاقے تو یورپ سے تھے ان یورپی علاقوں کے علاوہ ایشاء میں ان کی سلطنت کی حدود میں جو علاقے شامل تھے ان میں موجودہ دور کا پورا ترکی شام لبنان فلسطین بلکہ افریقہ کے موجودہ ممالک مصر اور سوڈان بھی رومی حکومت کے تحت ہی تھے۔ جبکہ ایرانی حکومت رقبے میں رومی سلطنت سے کہیں زیادہ وسیع تھی اس میں موجودہ بلوچستان ایران افغانستان اور موجودہ رشیئن فیڈریشن کے کچھ مسلم علاقے بھی شامل تھے پھرایران کا بادشاہ عراق پر بھی قابض تھا ۔اس لئے جب بھی دونوں قومیں آپس میں نبرد آزما ہوتی تھیں تو عراق اور شام کے علاقے ہی میدان جنگ بنا کرتے تھے۔ یوں ان کی سرحدیں عراق اور شام کے علاقوں میں اکثر آگے پیچھے ہوتی ہی رہتی تھیں۔

چونکہ جزیرہ العرب ایک وسیع ریگستان تھا اور غیر زرعی علاقہ تھا اس لیے دونوں ہی بڑی سلطنتوں نے جزیرة ا لعرب کے وسیع ریگ زار کو بے کار اور غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کیا ہوا تھا۔دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس علاقے پر نہ تو مشرق کی سپر پاور کا قبضہ تھا اور نہ ہی یہ خطہ مغرب کی سپر پاور کے تحت تھا یوں اس علاقے کے لوگ ہزاروں برس سے کسی بھی طاقت قوت اور تہذیب کے اثر و رسوخ سے نا آشنا ہی تھے اس لیے وہ نہ صرف آزاد منش اور بہادر تھے بلکہ کسی بھی دنیاوی طاقت سے غیر مرعوب بھی تھے یوں جزیرة العرب کے وسیع صحراو¿ں میں ایک ایسی جری اور بے خوف قوم پل رہی تھی جس نے مشرق اور مغرب دونوں کی تقدیر اور تہذیب و تمدن کو یکسربدل دینا تھا۔

اس دور میں ایران کو پارس پرشیہ یا پارشیاء کہا جا تا تھا ۔ چونکہ عربی زبان میں پ کا حرف نہیں ہے ۔اس لیے عرب پارس کو فارس کہا کرتے تھے اور پرشئین لینگویج کو فارسی کہتے تھے یاد رہے کہ ایران اور جزیرة العرب کے درمیان جو کھاڑی یا خلیج ہے اس کا پرانا قدیمی اور اصل نام خلیج فارس ہی ہے۔ جس کو اب عرب قوم پرست شط العرب کہنے پر مصر ہیں۔

اب جب کہ پرشیاءیا فارس نے رومیوں کو پے در پے شکستیں دیں تو کفارمکہ مسلمین کا مذاق اڑانے لگے تھے کہ اگر تمہارا واحد ھو لا شریک مختارکلی ہوتا تو وہ رومیوں کی مدد ضرور کرتا کیونکہ رومی بھی تمہاری طرح سے ہی ایک اللہ کو مانتے ہیں۔ دراصل اس نفسیاتی جنگ کے پس پردہ یہودیوں کا اور خاص طور پر یثرب کے یہودیوں کا سازشی ذہن کام کر رہا تھا کیونکہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ سے نسلی عداوت، بغض اور کینہ رکھتے تھے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ یہودی وہ قوم ہے جو کہ کسی بھی دوسری قوم کی وفادار نہیں ہے یہودی قوم کو جس قوم نے بھی اپنے ہاں پناہ دی ہے یا اپنے سینے سے لگا یا ہے ۔یہودیوں نے نہ صرف اس قوم کی جاسوسی کی ہے بلکہ اس محسن قوم سے غداری بھی کی ہے۔یہ قوم بڑی ہی سازشی ہے۔ جس قوم اور ملت کے ساتھ بھی یہودیوں کے روابط قائم ہوئے ہیں ان یہودیوں نے نہ صرف ان کی عورتوں کو ورغلایا ہے بلکہ اس قوم میں فحاشی اور عریانی بھی پھیلائی ہے۔ ان کی انہی کرتوتوں کی بنا پر ہر قوم نے تنگ آ کر ایک نہ ایک دن قوم یہود کو اپنے علاقے سے نکال باہر کیا ہے۔

اگر کسی کو قرآن کریم پر یقین نہیں آتا تو وہ خود ہی تا ریخ اٹھا کر دیکھ لے کہ یہ قوم کسی کی بھی وفادار نہیں ہے۔ جب رومی بت پرستی کیا کرتے تھے تب اس دور میں یہودی سلطنت روم میں نہ صرف اچھے اچھے عہدوں پر قابض تھے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہودی قوم کے بیشتر افراد عورتوں کا دھندہ اور سودی کاروبار بھی کرتے تھے یوں اس دور میں بھی یہودی اثر و رسوخ والے ا ور دولت مند ہی تھے ۔ اس حقیقت سے تو سبھی آگاہ ہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں مبعوث کئے گئے تھے تب قوم یہود نے ان پر ایمان لانے کی بجائے ان کی بھرپور مخالفت ہی کی تھی۔حالانکہ وہ ان کے اپنے قبیلے کہ تھے یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام یہودی نسل کے ایک فرد تھے ۔ اتنا قریبی تعلق ہونے کے باوجود گمراہ یہودی حق اور سچ کی مخالفت میں اپنی حد سے یوں گذر گئے تھے کہ انہوں نے سچ اور جھوٹ بول کر رومی حکام کے کان عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف بھرے تھے۔

دراصل یہ یہودی نسلاً ہوتے ہی اتنے چرب زبان ہیں کہ یہ ہر با اثر قوم کو کسی نہ کسی طرح سے اپنے شیشے میں اتار ہی لیا کرتے ہیں۔یہ سب یہودیوں کے سازشی ذہن اور چرب زبانی کا نتیجہ ہی تھا کہ فلسطین کے رومی حکام نے یہودیوں کے روز روز کے کہنے میں آ کر عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ قر آن کریم میں اس واقعہ کا ذکر بڑے ہی خوبصورت الفاظ میں کیا ہے کہ کیسے ایک غدار کوعیسیٰ علیہ السلام کے شبہ میں پھانسی دے دی گئی تھی اور عیسیٰ علیہ السلام کو کوئی گزند نہ پہنچی تھی بلکہ اللہ مسبب الاسباب نے ان کو زندہ ہی آسمان پر اٹھا لیا تھا۔

جب اللہ کریم نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا تھا تب جا کر رومیوں پر یہ اصل حقیقت آشکارا ہوئی تھی کہ دراصل وہ اللہ کے ایک سچے نبی ہی تھے اس لیے رفتہ رفتہ سارے رومی عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے۔ پھر کچھ صدیوں کے بعد رومیوں نے بھی باقی اقوام کی طرح سے تنگ آکر یہودیوں کی بری کرتوتوں کے سبب ان کو اپنی سلطلنت سے نکال باہر کیا تھا۔اس دور میں بہت سارے سود خور اور عورتوں کا دھندہ کرنے والے یہودی تو فارس چلے گئے تھے مگرجو یہودی اپنی کتاب تلمود تورہ یا توراة کا زیادہ علم رکھتے تھے وہ جزیرة العرب میں آکر بس گئے تھے تاکہ اس نبی کا شاندار استقبال کریں جس کے آنے کا دور قریب آن پہنچا تھا ،کیونکہ اس نبی کی متعدد بشارتیں یہود کی کتاب میں موجود تھیں ۔

دراصل یہودیوں کو تو یہی امید تھی کہ خاتم النبیین ﷺ بنو اسحاق کی کسی ایک ایسی شاخ میں جنم لیں گے جو کہ بکّہ (مکہ)کے قریبی علاقوں میں مقیم ہو گی۔ کیونکہ ان کی کتب میں یہی مذکور تھا کہ بشارتوں والا نبی بکّہ کے قرب میں پیدا ہوگا۔ مگر قوم یہود پر تو اس وقت بجلی گرپڑی تھی جب ان پر یہ حقیقت کھلی تھی کہ جس نبی کی آمد کے وہ بنو اسحٰق میں منتظر تھے وہ تو بنو اسمٰعیل میں پیدا ہوا ہے۔ اگر قوم یہود سمجھدار اور ایمان والی ہوتی تو وہ فوراً ہی نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آتی۔

مگر وہ تو ایک ضدی ہٹ دھرم اور متعصب قوم ہے۔اسی وقت قوم یہود کی نسلی عصبیت آڑے آئی گئی تھی اور انہوں نے محض اس لیے آپ ﷺ پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ بنو اسحاق سے نہ تھے ۔ یہود تو اتنے بد بخت ہیں کہ تمام کی تمام نشانیاں ملنے کے باوجود آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے تھے بلکہ الٹا آپ ﷺ کی مخالفت میں اس حد تک چلے گئے تھے کہ وہ کفارمکہ کے حلیف بن کر آپ ﷺ کو تنگ کرنے لگے تھے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کچھ یہودی کاہنوں نے جو کہ اپنے مذہبی علوم کے علاوہ علم الاعداد پر بھی دسترس رکھتے تھے یہ حساب لگا لیا تھا کہ ان کی کتاب میں مذکو ر نبی ﷺ بنی اسمعیل یا قریش میں پیدا ہوگا ۔تب کچھ یہودی عورتوں نے یہ سوچا تھا کہ چلو باپ کی طرف سے نہ سہی ماں کی طرف سے تو وہ بشارتوں والا نبی ﷺ بنی اسحٰق سے ہونا چاہئے۔ اس لیے کچھ صاحب حیثیت یہودی عورتوں نے اسی ارادے سے مکة المکرمہ کا سفر بھی کیا تھا کہ وہ عبد اللہ بن عبدالمطلب سے نکاح کر لیں گی اور آنے والے نبی کی ماں کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیں گی مگر جب تک وہ عورتیں مکة المکرمہ پہنچی تھیں ۔ تب تک عبداللہ بن عبدالمطلب کا نکاح آمنہ بی بی سے ہو چکا تھا اور نبی اکرم ﷺ کا نور اپنی والدہ محترمہ کے سپرد گی میں جاچکا تھا۔

کیونکہ اس سے قبل نبی اکرم ﷺ کے والد محترم عبداللہ کے ماتھے پر جو نور نظر آیا کرتا تھا وہ نور معدوم ہو چکا تھا۔ اس کا صاف مطلب تو یہی ہے کہ آسمانی فیصلے نہ تو ٹالے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بدلے جا سکتے ہیں۔
یہودی ربی اور ان کے بااثر افراد اس حقیقت سے واقف تھے کہ مکة المکرمہ کے بنو ہاشم کے ایک سردار عبد المطلب کا پوتا ہی وہ جلیل القدر نبی ہے جس کی بشارتیں ان کی کتب میں دی گئی ہیں۔

اب ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ وہ اپنی کتاب پر ایمان لا کر نبی ﷺ پر ایمان لے آتے یوں ان کو دنیا و عقبیٰ کی بھلائی اور فلاح مل جاتی ۔ مگر ان کو تو نسلی برتری کا گھمنڈ مار گیا ۔ کیونکہ وہ خود کو اس دنیا کی باقی تمام کی تمام نسلوں اور اقوام سے اعلیٰ اور برتر سمجھتے ہیں۔اسی نسلی برتری کے گھمنڈ میں انہوں نے دوسری قوم یا دوسرے قبیلے میں پیدا ہونے والے سچے نبی کو بھی جھٹلانے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔پھر انہوں نے نہ صرف نبی اکرم ﷺ کو جھٹلایا تھا بلکہ عملاً باطل کا ساتھ بھی دیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہودی ربی اور عالم ہی کفار مکہ کو طرح طرح کی پٹیاں پڑھایا کرتے تھے اور وہ جاہل کافر وہی رٹا رٹایا ہوا سبق مکة المکرمہ میں آکر ویسے ہی دہرایا کرتے تھے جیسے کہ ان کے استادوں نے ان کو پڑھایا ہوتا تھا ۔

جب رومیوں کو فارسیوں کے ہاتھوں شکست ہوگئی تھی تب بھی کفار مکہ کویہ پٹی یہودیوں نے ہی پڑھائی تھی کہ دیکھو ایک اللہ کو ماننے والے رومی متعدد خداوں کو ماننے والے فارسیوں سے ہار گئے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔کفار مکہ بھی اندھی دشمنی اور رقابت میں یہ حقیقت تک بھول گئے تھے کہ وہ خود بھی تو نسل در نسل صدیوں اور ہزاروں سال سے ایک اللہ کو مانتے چلے آرہے ہیں۔

یہاں پر ایک نقطہ بہت ہی اہم ہے اور قابل غور بھی ہے اور اسے محض ایک اتفاق نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ یہ ہمارے رب کے بیّن فیصلے ہیں۔سب سے اول یہ کہ نبی کریم ﷺ کی والدہ محترمہ کا گاوں یثرب کے قریب ہی واقع تھا۔ دوسرے جن یہودیوں نے آپ ﷺ کے خلاف کفار مکہ سے گٹھ جوڑ کرلیاتھا اور طرح طرح کے سوالات کرکے آپ ﷺ کو زچ کرنے کی ناکام کوششیں بھی کی تھی ۔وہ یہودی بھی یثرب اور اس کے گردونواح کے رہنے والے ہی تھے اور پھر بعد ازاں یہی شہر آپ ﷺ کا پایہ حکومت بنا تھا اور اس کا نام بدل کر مدینة النبی یعنی کہ نبی ﷺ کا شہر رکھا گیا تھا۔

ایک نقطہ اور بھی غور طلب ہے۔وہ یہ کہ مسلمین کی طرح سے کفار مکہ بھی اس بات کوتسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات کا مالک اللہ ہی ہے اور پھر یہودی تو اہل کتاب ہونے کے ناطے بہت ساری ایسی باتوں پر ایمان رکھتے تھے جن پر مسلمین کا بھی پختہ ایمان تھا۔مگر جب یہ دونوں گروہ مسلمین کی ضد بازی میں عقل کے اندھے ہوئے تھے تو ایسے اندھے ہوئے تھے کہ وہ ان حقائق کو بھی جھٹلانے لگے تھے جن حقائق کو وہ اس سے قبل خود بھی مانتے چلے آ رہے تھے۔ اسی فعل کو سیانے اندھی دشمنی کہتے ہیں اور اندھی دشمنی کی بنیاد اندھی عصبیت ہوتی ہے اور اندھی عصبیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص خاندان قبیلہ یا قوم خود کو نسلی یا عقلی طور پر دوسرے انسانوں سے افضل اور اعلیٰ خیال کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص قبیلہ خاندان یا قوم خود کو باقی مخلوق سے افضل خیال کرنا شروع کردیتی ہے تو جس کو وہ حقیر خیال کرتی ہے اس پر طنز کے تیر بھی چلاتی ہے اور پھر اپنے گھٹیاطنز پر خوش بھی ہوتی ہے۔

بس کچھ ایسی ہی کیفیت یا صورت حال مکة المکرمہ میں اس دور کے کفار مکہ کی ہو چکی تھی۔ جب رومی قوم کو فارس والوں نے شکست دے دی تھی۔ تو ان دنوں کفار مکہ اپنے استادوں یعنی کہ یہودیوں کے کہنے پر ایک ایسی مہم سازی کر رہے تھے جس کو موجودہ دور میں نفسیاتی یا اعصابی جنگ کہتے ہیں اور جسے سائی وار یا میڈیا وار بھی کہا جا سکتا ہے۔

آپ ذرا تصور کی آنکھ سے دیکھیں ! کہ مظلوم اورمسکین مسلمین جن کا سہارا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے سوائے کوئی اور نہیں ہے۔ جب کسی ذاتی کام کے لیے یا رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کرنے کی غرض سے اپنے گھروں سے باہر نکلتے ہیں تب سرداران مکہ انکے حواری اور ابن الوقت لوگ کیسی کیسی گھٹیا اور واہیات بکے جا رہے ہیں؟ اس بکواس کا واحد مقصد تو صرف یہ ہے کہ مسلمین جو کہ مسکین بھی ہیں اور غریب بھی ہیں ۔بے اختیار بھی ہیں اور بے سہارا بھی ہیں ۔ان کو مایوسی، شرمندگی اور ندامت میں مبتلا کر دیا جائے۔

یہودیوں کا یہ شعار کل بھی تھا اور آج بھی ہے کہ وہ ہمیشہ ہی کسی اور کو آگے کرکے اپنی دشمنی نکالتے ہیں ۔ یہودی ہمیشہ ہی دوسروں کے کندھے پر اپنی بندوق رکھواتے ہیں اور اپنے دشمن کا خاتمہ کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ یہودی پروپگنڈا وار کے شروع سے ہی ماہر ہیں جیسے پرانے زمانے میں کہتے ہوتے تھے کہ یہ عادت فلاں کے خون میں شامل ہے اور آج کل میڈیکل سائنس کی ترقی کے باعث یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں کے جین کوڈ میں یہ خصلت موجود ہے یاہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہودی قوم نسل در نسل جھوٹ بولنے کی ماہر ہے اور یہ کہ پروپگنڈا وار اس کی فطرت میں رچا بسا ہے۔

یہ بات بھی دھیان رہے کہ مسلمین پر طنز کے تیر اس حقیقت کے باوجود چلا ئے جارہے تھے کہ نہ تو روم کے عیسائی بادشاہ سے بنی اکرم ﷺ نے کوئی معاہدہ کیا تھا ۔نہ ہی مسلمین نے رومیوں کی مدد کے لیے کوئی افرادی قوت روانہ کی تھی اور نہ ہی مسلمین کے کسی نمائندے نے قسطنطین کے بادشاہ کے حق میں کوئی بیان دیا تھا۔مگر اس حقیقت کے باوجود بھی کفار مکہ جو کہ دراصل یہودیوں کے ایجنٹ بن چکے تھے اور یہودیوں کی پراکسی وار (Proxy War) لڑ رہے تھے ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر جاتے اور گھروں کے اندر آتے، چوپالوں میں اٹھتے بیٹھتے،بازاروں میں کھڑے اور چلتے یہاں تک کہ کعبةاللہ کا طواف کرتے ہوئے بھی۔ ایک ہی فضول بکواس کئے جاتے تھے۔

ایمان والوں کی آزمائش کی ایک خاص حد مقرر ہوا کرتی ہے ۔پھر جب ایمان والے اپنے صبر وتحمل کی بدولت اپنی آزمائش کی اس خاص حد پر پہنچ جاتے ہیں تو اللہ عالم الغیب کی رحمت جوش میں ضرور آیا کرتی ہے اس مرتبہ بھی یہی کچھ ہوا تھا جب مکةالمکرمہ کے ایمان والے صبر کی ایک خاص حد پر پہنچے تھے ۔ تب سورة الروم کی ان آیات کا نزول مبارک ہوا تھا۔

بسم اللّٰہ الرحمٰن الر حیم ا لٓمّٓ غلبت الروم فی ٓ ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون
فی بضع سنین ط للّٰہ الامر من قبل ومن بعد ویو مئذ یفر ح المومنون

اس کاترجمہ یہ ہے ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔الٓمٓ[۱] (اہل ) روم مغلوب ہوگئے [۲] نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے[۳] چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی، اللہ ہی کا امر ہے اور اس روز مومن خوش ہو جائیں گے [۴]

لیجئے ! ان قرآنی آیات کے نزول کے معاً بعد ہی مسلمین مایوسی شرمندگی اور ندامت کے احساس تلے سے نکل آئے تھے۔ چونکہ ان کو اپنے قائد رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس پر مکمل اعتماد اور پختہ یقین تھا اس لیے ان آیات کے نزول کے بعد وہ پورے اعتماد کے ساتھ اور بغیر کسی شر مندگی کے اپنے گھروں سے باہر نکلنے لگے تھے پھر جب ان کو یثرب کی جانب ہجرت کرنے کا حکم ہوا تھا تب بھی مسلمین نے مکمل اعتماد اور پورے یقین کے ساتھ ہجرت کی تھی۔

پھر جس سال کفار مکہ نے مدینة النبی ﷺ پر حملہ کیا تھا اس سال مسلمین کو دوہری خوشی ملی تھی ۔ایک تو یہ کہ مسلمین مومنین نے بدر کے مقام پر کفار مکہ کو ذلت آمیز شکست دی تھی اوردوسری یہ کہ اسی سال رومی فوجوں نے فارس کی افواج پر ایک بہت بڑی فتح حاصل کر لی تھی اور ان سے اپنے وہ تمام علاقے بھی واپس لے لئے تھے۔ جن پر فارس کی فوجوں نے پچھلی جنگوں کے دوران قبضہ کر لیاتھا۔

اب تقریبا ڈیڑھ ہزار سال کے بعد ایرانی اور رومی ایک بار پھر سے ایک دوسرے کے بالمقابل آچکے ہیں اور بظاہر حالات سے تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ جلد ہی یہ پرانے دشمن ایک دوسرے سے نبرد آزما ہونے والے ہیں۔ اس نبرد آزمائی میں جو علاقے میدان جنگ بننے والے ہیں یہ تقریباً وہی علاقے ہیں جو کہ ڈیڑھ ہزار برس قبل بھی انہی دونوں متحارب طاقتوں کے میدان جنگ تھے ۔

اگر بہ نظر عمیق نہ دیکھا جائے تو بظاہر قومیں بھی وہی ہیں جو کہ آج سے ڈیڑھ ہزار برس قبل متحارب قوتیں تھیں۔مگر گہری نظر سے دیکھنے والے یہ حقیقت جانتے ہیں کہ ان کی حقیقی ہیت(فارمیشن) وہ نہیں ہے جو کہ آج سے ڈیڑھ ہزار سال قبل تھی کیونکہ اب کی بار یہودی قوم ایران کی بجائے روم کی پشت پر کھڑی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس مرتبہ رومی قوم کو ایران کے بالمقابل یہودی قوم ہی لائی ہے۔اس کو بالمقابل کہنا بھی زیادتی ہی ہوگاکیونکہ اس مرتبہ رومیوں نے ایران کو نہ صرف خشکی پر گھیر رکھا ہے بلکہ سمندروں میں بھی اپنی افواج کو جمع کر کے انہوں نے ایران کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔

دوسرے اس مرتبہ عیسائی لشکروں نے نہ صرف زیادہ رقبہ گھیرا ہوا ہے بلکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ رومیوں کے حلیفوں میں وہ اقوام بھی شامل ہیں جو کہ آپس میں نہ صرف ایک دوسری قوم کی شدید مخالف ہیں بلکہ عملی طور پر اس وقت بھی اپنے اپنے مقام پر یا اپنے اپنے ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما بھی ہیں۔ زیادہ دور کیا جانا ؟

ہندوستان اور پاکستان کی مثال ہی لے لیں۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ایک طرف تو ہم ایران سے دوستی کا دم بھرتے ہیں تو دوسری طرف ہم ایران کے معاملے میں اندرون خانہ امریکہ کے ساتھ ہیں۔( بلوچستان میں جاری آزاد بلوچستان کی جنگ دراصل اس وسیع اور انوکھی جنگ کا ایک لازمی مرحلہ ہے اگر آزاد بلوچستان معرض وجود میں نہ آ سکا تو امریکہ ایران پر حملے کی جرات کبھی بھی نہیں کر سکے گا ۔)

اگر ہم اٹلس کی مدد سے عیسائی لشکروں کا پھیلاو دیکھیں تو ہماری عقل دنگ رہ جاتی ہے کیونکہ اس میںتو شرق تا غرب اور شمال تا جنوب دنیا کے تمام کے تمام ممالک عیسائیت کا ہی ساتھ دے رہے ہیں جیسے کہ بحرالکاہل میں واقع متعصب عیسائی اقوام از قسم نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے عیسائی افواج سے آرہی ہیں تو بحرالکاہل میں ہی واقع جاپان بھی اس جنگ میں ملوث ہے جو کہ ایک بدھ مت اکثریت کا حامل ملک ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ جنوبی کوریا بھی عیسائیوں کا حلیف بنا ہوا ہے جو کہ کسی بھی مذہب کا پیروکار نہیں ہے۔

ہمیں زیادہ حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خفیہ طور پر کچھ بے دین ممالک بھی امریکہ کا ہی ساتھ دے رہے ہیں۔اس عیسائی رومی لشکر کی سب سے زیادہ حیرت گم کرنے والی بات یہ ہے کہ اس لشکر میں قوم پرست عربوں کے ساتھ ساتھ مذہب کے ماننے والے عرب بھی یہود یوں کے ساتھ ہیں۔

اس فارمیشن میں ایک بنیادی یا ریڈیکل تبدیلی یہ آئی ہے کہ ایران اب آتش پرست نہیں رہا ہے بلکہ اسلام قبول کر چکاہے۔

جی ہاں ! ایرانی اب اسی نبی ﷺ کے پیروکار ہیں ۔جس جلیل القدر نبی ﷺ کی مخالفت میں قوم یہود نے کفار مکہ سے گٹھ جوڑ کیا تھا اور آتش پرست ایرانیوں کی حمایت کی تھی۔ اب جب کہ ایرانی اس عربی النسل نبی ﷺ کے پیرو کار بن چکے ہیں تو اسی نبی اکرم ﷺ کی عداوت میں یہی یہودی رومیوں کی پشت پر جا کر کھڑے ہوچکے ہیں۔

کہنے کو تو یہودی روم کی افواج میں شامل ضرور ہیں۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ اس جنگ میں بہ نفس نفیس حصہ نہیں لیں گے بلکہ ہمیشہ کی طرح سے اور اپنے ماضی کی روایت کے عین مطابق دور دور رہ کر اس جنگ کی آگ کو بڑھکائیں گے اور للکار للکار کر ہر قوم کو اس جنگ کے اندر دھکیلیں گے یوں ہر سابقہ جنگ کی طر ح سے اس مرتبہ بھی میدان جنگ کا ایندھن دوسری اقوام ہی بنیں گی اور یہودی نسل کے لوگوں کی اکثریت جو کہ اشکانزی یا بنیادی طور پر آرین نسل سے ہیں اس جنگ میں بھی بڑے جانی نقصان سے بچی ہی رہے گی۔

اس جنگ میں ہر قوم حصہ لے گی کوئی ظاہراً اور کھلم کھلا اور کوئی خفیہ اور اندرون خانہ ۔ یہ جنگ اتنی اہم ہوگی کہ ہر قابل ذکر طاقت کو اس میں ملوث ہونا ہی پڑے گا۔ کیونکہ یہ جنگ رومی جیتیں یا ایرانی جیتیں۔ اس جنگ کے اختتام پر اس دنیا کے نقشے نے ایک نیا رنگ اور نیا روپ اختیار کرنا ہی ہے یوں ہر ایک بڑی قوت اور طاقت یہ چاہے گی کہ اس دنیا کی قسمت کا فیصلہ وہ ہی کرے ۔اب اللہ علیم و حکیم ہی جانیں کہ کون کھل کر سامنے آئے گا اور کون چھپ چھپا کر اس کھیل میں شریک ہو گا؟ مگر ایک بات تو طے ہے کہ روس یہ چاہے گا کہ یہ جنگ زیادہ سے زیادہ طوالت اختیار کرے اور انجام کار یہ جنگ تین ویٹو پاورز کے لیے ایسی دلدل بن جائے جیسے کبھی روسی ریچھ کے لیے افغانستان بن گیا تھا ۔

اسی لانگ ٹرم پلاننگ کو اپنے ذہن میں رکھ کر روس نے برسوں قبل ہی لاطینی نسل کے جنوبی امریکن ممالک کو نیوٹرل رکھنے کی کوششوں میں مکمل کامیابی حاصل کرلی ہے۔ کیونکہ اوّل تو اس نے اتحادیوں سے اپنی افغانستان والی شکست کا بدلہ لینا ہے۔ دوئم اس نے یورپ میں اپنی برتری ایک مرتبہ پھر سے قائم کرنی ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ روس کو اقتصادی اور مادی ترقی کرنے کے لیے اور پھر اسے ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنے کے لیے ایک کھلی منڈی درکار ہے جہاں پر اس کی گیس اور دیگر مصنوعات کی کھپت بلا روک ٹوک ہوتی ہی رہے ۔

جب سے پیوٹن برسر اقتدار آیا ہے روس کی نظریں ایک بار پھر سے ایسٹ یورپ پر لگی ہوئی ہیں۔

کیا روس اس جنگ میں عملاً حصہ لے گا ؟

نہیں بالکل ہی نہیں ۔کیونکہ دوسری جنگ عظیم میں اور پھر افغان وار میں روسی قوم کی اتنی شدید قسم کی نسل کشی ہوئی ہے کہ روسی نسل باقی نسلوں کی بہ نسبت بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے۔ اس لیے آئندہ سو سال تک روسی کسی بھی جنگ میں عملاً حصہ لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔روسی اس جنگ میں دوغلی پالیسی اختیار کریں گے وہ یوں کہ ایک طرف تو وہ یورپی اقوام کو اپنا تیل اور گیس مہنگے داموں فروخت کر کے اپنی اکانومی مضبوط بنیادوں پر نئے سرے سے استوار کریں گے تو دوسری جانب ایران کو اپنی لیٹسٹ وار ٹیکنالوجی بیچ کر دام بھی اکٹھے کریں گے اور اس کے عملی استعمال کے بعد عملی تجربات کی روشنی میں اپنی اسلحہ ٹیکنالوجی میں بہتری بھی لائیں گے۔

چین بھی اس جنگ میں نیوٹرل رہنے کا ڈرامہ رچائے گا مگر اندرون خانہ اس کی یہی کوشش ہوگی کہ جب اس جنگ کا خاتمہ ہو تو دونوں فریق عملاً تباہ ہوچکے ہوں ۔اگر نہیں تو پھر اتنے کمزور ہوچکے ہوں کہ دونوں مخالف گروہوں کی مجموعی قوت اور طاقت چین کی طاقت سے کم ہی ہو۔دراصل بات یہ ہے کہ اگراس فیصلہ کن جنگ کے اختتام پر رومی یا ایرانی طاقتوں میں سے کوئی ایک فریق بھی طاقتور رہ گیا تو چین کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے۔

جیسے کہ توقع یہ کی جارہی ہے کہ رومی جیت جائیں گے کیونکہ ان کے پاس ظاہری اسباب کی کثرت ہے۔ رومی اگر یہ معرکہ جیت گئے تو وہ اپنی جیت اور برتری کے نشے میں چین کو مذہبی آزادی کا ایجنڈا تسلیم کرنے پر مجبور کردیں گے ۔جب چین میں مذاہب کو تبلیغ کی آزادی میسر آئے گی تب عیسائی تو کھلم کھلا عیسائیت کی تبلیغ کریں گے ہی مگر ساتھ ہی ساتھ اس صورت حال کا فائدہ چین کے علاقے سن کیانگ کے اوگر (یغور) بھی اٹھائیں گے اور اول اول تو وہ اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ لے کر اٹھیں گے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ نیم خودمختاری یا مکمل خودمختاری کا اعلان بھی کرسکتے ہیں ۔ کیا چین معدنی وسائل سے مالا مال اپنے کل رقبے کے ایک تہائی سے دست بردار ہوجائے گا ؟ جس کی آبادی تو کشمیر سے کم ہے ۔ جب کہ رقبہ انڈیا سے بڑا ہے ۔

کچھ مبصرین یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر یہ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو ایران یقیناً یہ جنگ جیت جائے گا ۔ایران کے فاتح ہونے کے لیے وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس طویل جنگ میں ایران اکیلا نہیں رہے گا کیونکہ ساری دنیا میں جہاں کہیں بھی شیعہ آبادی موجود ہے ان میں سے ستر فیصد شیعہ آبادی دل وجان سے ایران کی حامی ہے ۔

یہی مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کچھ اعتدال پسند سنی اور ملی ٹینٹ بھی ایران کے ساتھ ہی ہیں یوں ساٹھ فیصد مسلم آبادی اس جنگ کے دوران ایران کا ساتھ ضرور دے گی اور اس طویل جنگ میں گوریلا کاروائیاں کچھ زیادہ ہی ہوں گی ۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صورت حال کچھ یوں ہے کہ اس وقت اسلامی دنیا کی جتنی بھی گوریلا تنظیمیں عملی طور پر موجود ہیں اور عملاً کام بھی کر رہی ہیں سبھی کی سبھی ایران کی حامی ہیں قطع نظر اس بات کے کہ ان تنظیموں کا تعلق سنیوں سے ہے یا پھر شیعوں سے ہے۔

اگر ہم ان مبصرین کی سنیں تو ہمیں یوں لگتا ہے کہ اس طویل جنگ کے خاتمے پر ایران فتح یاب ہو ہی جائے گا۔

ایران کے فاتح ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ کشمیر میں گوریلا وار ایک نئے عزم سے شروع ہوجائے گی اور چونکہ اس مرتبہ اس گوریلا وار کی حمایت ایران کر رہا ہوگا تو یہ جنگ اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ کشمیرکی آزادی کے بعد ان کے پڑوس میں بیٹھی ہوئی مسلم آبادی اوگر یا یغور بھی ان کی تقلید میں مسلح جدو جہد کا راستہ اپنائے گی ۔یہ صورت حال چین کو تو بالکل ہی منظور نہیں ہو گی۔

پھر اسلام ازم کی تحریک جنگل کی آگ کی طرح سے پھیلتی ہوئی ازبکستان تاجکستان کرغیزستان کے راستے سے ہوتی ہوئی چیچنیا (شیشان) تک چلی جا ئے گی۔

صاف ظاہر ہے کہ روس بھی ایسی جنگ بالکل ہی نہیں چاہے گا کہ جس جنگ کے خاتمے پر اس کے اپنے خاتمے کی شروعات ہو جائے۔ نہ ہی چین کسی ا یسی جنگ کا متمنی ہے ۔جس کے نتیجے میں اس کو اپنے قیمتی خطے کھونے پڑیں ۔بنیادی طور پرتو چین اس وقت پوری دنیا میں امن ہی چاہتا ہے ۔کیونکہ جب تک دنیا میں امن موجود ہے چین اقتصادی اور مادی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہی رہے گا ۔جس دن بھی مشرق وسطیٰ میں ایرانی اور رومی افواج کے درمیان پہلی گولی چلی اسی دن کروڈ آئیل کی سپلائی ڈسٹرب ہوجائے گی اور پھر چین جاپان جنوبی کوریا اور دیگر آرسین ممالک کی اکانومیز دھڑام سے نیچے آ گریں گی ۔ کیونکہ جنگ کے شروع ہوتے ہی کھلونوں کی ڈیمانڈ بند ہوجائے گی اور اسلحہ کی ڈیمانڈ شروع ہوجائے گی۔

اسلحہ کی ڈیمانڈ کے ساتھ ہی امریکن اسلحہ ساز فیکٹریوں کو دن رات کام کرنا پڑے گا ۔جوں جوں جنگ طول پکڑے گی توں توں امریکن فیکٹریاں کھلتی چلی جائیں گی اور امریکن اکانومی کو بوسٹ ملتا جائے گا یہی اکانومی بوسٹ ہر امریکن کو جاب بھی دلوائے گا تب دوران جنگ امریکن صدر اپنی قوم سے خطاب کرکے کہے گا کہ آج ہم نے ہر امریکن کو مستقل اور لائف لانگ جاب دلوانے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔

کیا اوبا ما ایک لمبی جنگ چاہتا ہے ؟

یہ تو پتہ نہیں ہے کہ اوباما کے دل و دماغ میں کیا ہے؟ مگر اس کے کنگ میکرز کو تو ایک طویل اور وسیع جنگ کی تمناءہے ۔ کیونکہ قوم یہود کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تک ایک بڑی جنگ آرمیگاڈو ن (ہر مجرون) بپا نہیں ہوگی مسیح موعود تشریف نہیں لائیں گے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی جنگ جس میں مسلم قوم کی ایک تہائی آبادی شہادت کے رتبے پر فائز ہوگی احادیث ﷺ میں اس جنگ کو ام الحرب بھی کہا گیا ہے۔

قوم یہود اور ان کے حواری ایونجیکل عیسائی اس جنگ کے دل وجان سے متمنی ہیں اور ان کی قلبی خواہش یہی ہے کہ یہ جنگ جلد از جلد شروع ہوجائے۔اسی لیے وہ ہیلری کلنٹن کو سینٹ سے نکال کر سینٹر میں لائے ہیں ۔
کچھ مبصرین ہیلری کو پوشیدہ یہودن کہتے ہیں اور جو تجزیہ نگار اس کو عیسائی ہی سمجھتے ہیں وہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہیلری اوباما سے زیادہ طاقت ور ہے۔
اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ ہیلری کو سینیٹر بنوانے والے یہودی ہی تھے اور اس کو فارن منسٹری میں بھی لانے والے وہی ہیں ویسے یہ بات دل کو لگتی ہے کیونکہ جب ہم یہ تجزیہ کریں کہ نیویارک کی جس سیٹ سے ہیلری سینیٹر بنی تھی اس علاقے میں یہودیوں کا اثرورسوخ سب سے زیادہ ہے تو ہمیں یہ بات ماننے میں کوئی تردد نہیں کرنا چاہئے کہ ہیلری یہودیوں کی نمائندہ ہے۔

یہی یہودی اب ہیلری کو ایسی جگہ پر لے آئے ہیں کہ اوباما چاہے یا نہ چاہے فارن افیئرز یہودیوں کے کنٹرول سے باہر نہیں جائیں گے ۔
یورپ اور امریکہ سے تعلق رکھنے والے مسلم تجزیہ نگاریہ بات ا کثر کہتے ہوتے ہیں کہ جب یہودیوں نے کسی مسلم نیشن کو ذلیل کرنا ہوتاہے تو اس ملک سے متعلق اس اہم سیٹ پر کسی متعصب عورت کو لے آتے ہیں۔اب بظاہر تو ہمارے سامنے ایک عورت ہی ہوتی ہے جو کہ ساری دنیاکے سامنے ہمیں برا بھلا کہتی ہے اور دنیا کے ہر فورم پر سرعام ہماری توہین بھی کرتی ہے۔دیکھنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ پورا ملک اور پورا سرمایہ دارانہ نظام اس عورت کے پیچھے ہے اس لیے کوتاہ نظر لوگ یہی کہتے ہیں کہ دیکھو! صرف ایک عورت نے ایک مسلم کنڑی کو آگے لگایا ہوا ہے۔

آپ خود ہی دیکھ لیں کہ شمالی کوریا ایٹمی دھماکہ بھی کر چکا ہے اور لونگ رینج میزائیل بھی چلا چکا ہے پھراس کا لہجہ بھی سخت ہی ہے مگر چونکہ وہ ایک غیر مسلم ملک ہے اس لیے ہیلری کا خاوند باقاعدہ بہ نفس نفیس خود گیا ہے اور نجانے کیا معاہدہ کرنے کے بعد دو صحافی عورتوں کو رہائی دلوا بھی لایا ہے۔اندرون خانہ کیا ہوا ہوگا ؟

جو تجزیہ نگار امریکن نفسیات سے واقف ہیں ان کو سب اندازہ ہے کہ بات کس طرح طے ہوئی ہوگی اور کیا کیا کچھ لین دین بھی کیا گیا ہوگا؟ کل کلاں کو جب شمالی کوریا اسی ٹیکنالوجی کو دنیا کے سامنے لائے گا تو اپناقصور تسلیم کرنے کی بجائے امریکہ اور یورپ والے سارا الزام ہمارے ڈاکٹر قدیر خان پر لگا دیں گے کہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان نے فروخت کی ہے ۔اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔

بات ہورہی تھی قوم یہود کی جو کہ رومی لشکر کو انسٹی گیٹ(Instigate) کرنے کے معاملے میں تو پیش پیش ہیں مگر وار فرنٹ پر سب سے پیچھے ہیں۔یہ ہمیشہ ہی ایسا ہی کرتے ہیں۔اس قوم کی دور رسالت ﷺ کی سازشوں کا حال پڑھ لیجیے ۔یہ اسی طرح سے دوسری اقوام کو اپنی دشمن قوم کے خلاف بڑھکاتی ہے اور پھر اپنے فریبی ہتھکنڈوں کے ذریعے سے اسے ایسا بےوقوف بھی بناتی ہے کہ وہ احمق قوم اپنی ساری کی ساری صلاحیتیں یہود کی دشمن قوم کے خلاف جنگ کی بھٹی میں جھونک دیتی ہے اور اس جنگ کے نتیجے میں خود تباہ وبرباد بھی ہو جاتی ہے ۔ اس تباہی کے بعدیہ عیار اور مکار قوم اس تباہ شدہ قوم کو چھوڑ چھاڑ کر کسی اور قوم کو تباہ و برباد کرنے کے واسطے کسی دوسری خوشحال قوم کی حلیف بن جاتی ہے۔

اب جب کہ قوم یہود نے اپنی چرب زبانی اور مکر و فریب، عیاری اور چالاکی سے یورپ اور امریکہ کے رومیوں کو ایران کے بالمقابل لا کھڑا کیا ہے اب ا گر رومی کسی مرحلے پر جنگ وجدال سے فرار حاصل کرنا بھی چاہیں گے تو بھی قوم یہود ان کو فرار حاصل نہ کرنے دے گی بلکہ دونوں کا تصادم کروائے بغیر دم نہ لے گی کیونکہ قوم یہود نے اس جنگ کی تیاری عشروںسے کر رکھی ہے اور اس بڑی جنگ کا آغاز ان کی مذہبی خواہش بھی ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادی یہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ سات منٹ سے لے کر سات گھنٹے کے دورانئے میں ختم ہوجائے۔ کیونکہ یہ جنگ جتنی جلدی اور سرعت سے مکمل ہوگی، امریکہ کا اتنا ہی بھلا ہے۔

روسی یہ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ دو تین عشرے جاری رہے تاکہ سرمایہ دار ممالک کا بھرکس نکل جائے۔

ایرانی یہ چاہتے ہیں کہ وہ جنگ کو دس سے پندرہ یوم کے اندراندر ایران کے حق میں فیصلہ کن انداز میں ختم کر لیں۔

یہودی اور ایونجیکل عیسائی یہ چاہتے ہیں کہ اس جنگ کی وسعت میں پوری دنیا آجائے اور پھر اس جنگ کی مدت اتنی دراز ہو کہ یسوع مسیح کی آمد کے بعد وہ دنیا کے مالک بن جائیں۔

ایک سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ یہ جنگ کب شروع ہوگی؟ گہرا تجزیہ کرنے والے کہتے ہیں کہ دس برس سے سو برس کے اندراندر یہ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ کچھ تو اس سے بھی لمبی مدت کا تعین کرتے ہیں۔

کچھ لوگ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا ؟

مادی اور انسانی وسائل پر بھروسہ کرنے والوں کی آراءمختلف بھی ہیں اور بعض صورتوں میں متضاد بھی ہیں۔ مگرایمان والے کہتے ہیں کہ رب کائنات اس جنگ کا فیصلہ قرآن کریم میں فرماچکے ہیں۔اس لیے قرآن مجید پڑھ لیں اور رب ارض و سمٰوٰت کے فیصلے کو خود ہی پڑھ لیں اور پھر وہ سورة الروم پڑھنے کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔

لیجیے ہم ایک مرتبہ پھر سے سورة الروم کا ہی مطالعہ کرتے ہیں

بسم اللّٰہ الرحمٰن الر حیم ا لٓمّٓ غلبت الروم فی ٓ ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون
فی بضع سنین ط للّٰہ الامر من قبل ومن بعد ویو مئذ یفر ح المومنون

کیوں نہ ہم اس کا تر جمہ دوبارہ سے پڑھ لیں !

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ۔ الٓمٓ [۱] (اہل ) روم مغلوب ہوگئے [۲] نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے[۳] چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی، اللّٰہ ہی کا امر ہے اور اس روز مومن خوش ہو جائیں گے [۴]

بظاہر الفاظ سے تو یہی لگتا ہے کہ جب بھی ایرانی اور رومی آپس میں لڑیں گے ۔ فائنل راونڈ رومی ہی جیتیں گے ۔مگر یہ بات یاد رکھیے کہ رومیوں کی فتح مشروط ہے ۔اگر تو رومی اس شرط کے تقاضوں کو پورا کریں گے تو فائنل راونڈ وہی جیتیں گے ورنہ کبھی بھی نہیں۔

تو ایک مرتبہ پھر سے ہم اس کی ایک ایک آیت کا ترجمہ پڑھتے ہیں اور اس شرط کو تلاش کرتے ہیں۔

(اہل ) روم مغلوب ہوگئے [۲]
نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آجائیں گے[۳]
چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی، اللّٰہ ہی کا امر ہے۔ اور اس روز مومن خوش ہو جائیں گے [۴]

جی ہاں ! یہی تو شرط ہے۔ دیکھیں ! میرے حکمت والے رب اللہ علیم و حکیم بڑے ہی نرالے ہیں ۔

بڑے بڑے فیصلوں کا اختیار مومن کے خوش ہونے سے مشروط کرتے ہیں وہی مومن جو دنیا والوں کی نظروں میں حقیر اور چھوٹے ہیں۔اسی کو تو اللہ مختار کل کا امر کہتے ہیں۔
مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا ہم مومن ہیں بھی کہ نہیں ہیں ؟ اگرہم ان چار آیات کو باربار پڑھیں تو لگتا یہی ہے کہ اگر ہم مومن ہونے کی تمام شرائط کو پورا کردیں گے تو اللہ کا امر یقینا ہمیں خوش کردے گا۔

بے شک میرا رب تو سچا ہے ۔


Sunday, June 28, 2009

ناٹو بمقابلہ سسٹو - - - - - فتح کس کی؟





تحریر: روف عامر پپا بریار

امریکہ ناٹو تنظیم کے توسط سے سنٹرل ایشیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے کافی عرصے سے سرگرم عمل ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ روس کسی بھی صورت میں اٍس خطے میں امریکی بالادستی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔عالمی منظر میں حیران کن تبدیلیوں کے باعث یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ ناٹو کی بالادستی کا خواب چکنا چور ہوچکا ہے کیونکہ برفانی ریچھ خم ٹھونک کر ناٹو کے خلاف بے خطر آتش نمرود میں کودنے کا فیصلہ کرچکاہے۔

امریکہ نے جب کسی ملک سے خطرہ محسوس کیا تو امریکی قیادت نے اس پر ایٹمی ہتھیار رکھنے کا الزام تھوپ کر پابندیاں عائد کردیں۔ اس مقصد کے لئے استعماری طاقتوں نے ہمیشہ امریکہ کا ساتھ دیا۔ حال ہی میں امریکہ نے یہی حربہ روس کے خلاف استعمال کیا مگر اسے منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ نے روس کو ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا عندیہ دیا تھا مگر ماسکو نے امریکی پیشکش کو مسترد کردیا۔ ماسکو کے چیف اف ارمی سٹاف سکاروف نے کہا ہے کہ امریکہ ایک طرف جوہری ہتھیاروں میں کمی کا شوشہ چھوڑ رہا ہے مگر دوسری جانب وہ پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں میزائل شیلڈ سسٹم نصب کر رہا ہے۔

امریکہ نے ناٹو اور یواین او کے ذریعے پوری دنیا میں لوٹ مار اور ظلم و جبر کا بازار گرم کررکھا ہے مگر عالمی مبصرین کی رائے ہے کہ حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں جسکا اندازہ روس میں16 جون کو روس کے شہرYAKETRING BURG میں منعقد ہونے والے شنگھائی تنظیم کے کامیاب انعقاد سے کیا جاسکتا ہے۔ شنگھائی تنظیم نے اپنی کانفرنس میں ایسے فیصلے و معاہدے ہوئے جس نے عالمی مبصرین کو چونکا کر رکھ دیا اور انہیں مبصرین و تجزیہ نگاروں نے حتمی رائے قائم کی ہے کہ یہاں ناٹو کا مستقبل تاریک ہوچکا ہے۔

ماسکو میں ایک ہفتہ کے دوران تین ایسے اجلاس ہوئے جنکا براہ راست تعلق امریکہ و ناٹو سے ہے۔ 14 جون کو سسٹو کا اجلاس ہوا جس میں سنٹرل ایشیا کی حفاظت کے لئے جدید کیل کانٹوں سے لیس نئی فورس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ 16 جون کو شنگھائی تنظیم کے اجلاس میں چین نے عالمی معاشی بحران سے نپٹنے اور اسکے مضر اثرات سے وسط ایشیا کو نکالنے کے لئے سات بلین یورو کی امداد کا اعلان کیا۔

17تا19 جون کو برک آرگنائزیشن کی میٹنگ ہوئی جس میں برک کے چاروں ممبر ملکوں انڈیا، چین، روس اور برازیل نے شرکت کی۔ چاروں نے ڈالر کے مقابلے میں نئی عالمی کرنسی کے موضوع پر کئی فیصلے کئے۔ امریکی ماہرین اقتصادیات پیشین گوئی کرتے ہیں کہ برک ممبران2050ء تک دنیا کی طاقتور معاشی قوتیں بن جائیں گی۔ پاکستان اور بھارت نے نہ صرف مبصر کی حثیت سے اجلاس میں شرکت کی بلکہ دونوں ملکوں کے صدور و وزراء اعظم زرداری اور منموہن سنگھ نے اجلاس سے خطاب میں شنگھائی تنظیم کے فیصلوں کو سراہا۔

زرداری نے اپیل کی کہ پاکستان کو شنگھائی تنظیم کی مستقل رکنیت دی جائے۔ مغربی میڈیا نے تجزیہ کیا ہے کہ شنگھائی تنظیم چین کی وہ کاوش ہے جس کے تحت بیچنگ دوست ممالک کی معاونت سے سنٹرل ایشیا سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے اور چین بڑی حد تک اپنی کاوش میں کامیاب ہوچکا ہے۔ یورپ کے معروف اخبار یورو نیوز نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ2001ء میں قائم کی جانے والے شنگھائی آرگنائزیشن خطے میں امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ہے۔

اس تنظیم میں روس، چین، کرغیزستان، قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں جبکہ پاکستان بھارت ایران اور منگولیا کو مبصرین کا درجہ حاصل ہے۔ شنگھائی تنظیم بہت کم وقت میں ناٹو اور یواین او کے متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ امریکی میڈیا چین کے سات بلین یوروز کے امدادی پیکج پر خوب واویلہ کررہا ہے کہ یہ رقم امریکہ و ناٹو کے خلاف استعمال ہوگی۔ اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ تنظیم کے مستقل اور مبصر کی حثیت سے شرکت کرنے والے ملکوں نے ایک ساتھ شرکت کی۔

اجلاس میں عالمی مالیاتی بحران، خطے میں دہشت گردی کے خاتمے، علاقائی سیکیورٹی کو مستحکم کرنے اور وسطی ایشیا کے قدرتی ذخائر سے متعلق کئی نادر فیصلے کئے گئے۔ شنگھائی تنظیم کے اجلاس سے قبل27مارچ میں ماسکو میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جسکا ایجنڈا افغانستان کی خانہ جنگی اور وہاں سے منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام پر مبنی تھا۔ تخریب کاری اور دہشت گردانہ کاروائیوں کو روکنے کے لئے شنگھائی تنظیم کا ایک شعبہrates کے نام سے کام کررہا ہے جسے مزید فعال کرنے کے مسودے پر دستخط کئے گئے۔

ناٹو کو زیر کرنے کے لئے روس نےcolective securty treaty organization نام کی عسکری فوج تشکیل دی ہے۔ ماسکو سے شائع ہونے والے اخبارRUSSIAN DAILY NEWS کی ایک رپورٹ کے مطابق روسی صدر دمتری نے29 مئی کو اخباری نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ عسکری تنظیم سسٹو ناٹو سے بھی زیادہ طاقتور ہوگی جو وسطی ایشیا کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی قسم کی جارحیت و دہشت گردی کا فوری قلع قمع کرے گی۔ سسٹو نے روس کی نگرانی میں پانچ ملکوں قازقستان روس ازبکستان تاجکستان اور کرغیزستان میں فوجی اڈے قائم کرے گی۔ سسٹو اور شنگھائی تنظیم ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون بھی کریں گے۔

سسٹو کے سیکریٹری جنرل نیکولائی نے رشین نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہیں شنگھائی تنظیم کی طرف سے ایک مسودہ موصول ہوا ہے کہ دونوں سسٹو اور شنگھائی تنظیم سنٹرل ایشیا کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ روس اور چین کے درمیان تین ارب ڈالر کے معاہدے ہوئے ہیں۔روس اور چین نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ملک اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کریں گے۔ شنگھائی تنظیم کے فیصلوں، سسٹو نام کی فوج کے قیام، ڈالر کی بجائے نئی عالمی کرنسی کے تصور اور امریکی توسیع پسندانہ عزائم کا مقابلہ کرنے اور وسطی ایشیا کی سیکیورٹی کے لئے روسی سیکیورٹی پلان اور بدلتے ہوئے عالمی حالات و واقعات پر غور کرنے سے یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ خطے سے امریکی چل چلاو اظہر من التمش ہے۔

ناٹو زیادہ دیر جنوبی ایشیا میں ظلم کا بازار گرم نہیں رکھ سکتی۔ وائٹ ہاوس کی بھلائی اس نقطے میں پنہاں ہے کہ وہ جلد سے جلد افغانستان اور جنوبی ایشیا سے نکل جائے ورنہ انجام تو ذلالت کی صورت میں ساون کے اندھے کو بھی نظر آ رہا ہے۔

Tuesday, June 9, 2009

چیچن کمانڈر ابن الخطاب شہید ابن الخطاب



تاریخ بڑے لوگوں کے حالات زندگی کا نام ہے ۔ جو لوگ اپنی اہلیتیوں اور قابلیتیوں کی بنا پر حالات کو فطری انداز سے تبدیل کرکے اپنی پسند کے دھارے میں ڈھالتے ہیں وہ بلاشبہ بڑے لوگ ہوتے ہیں ۔ اگر ہم ایسے ہی لوگوں کا اسلامی تاریخ سے جائزہ لیں تو ان کا تعارف شیخ عبداللہ عزام یوں کرواتے نظر آتے ہیں۔
’’وہ بہت کم افراد ہیں جو اسلام کی مبادیات اٹھانے والے ہیں ۔ اور وہ ان میں سے بھی تھوڑے ہیں جو ان مبادیات کی تبلیغ کیلئے دنیا بھر میں نکلتے ہیں۔پھر ان میں سے بھی وہ بھت کم ہیں جو ان مبادیات کی تائید میں اپنا خون اور اپنی جان تک پیش کر دیتے ہیں ۔اور یہی لوگ جو قلیل میں سے قلیل میں سے قلیل افراد ہیں ان کے راستے سے سواکسی اور راستے سے بزرگی اور شرف حاصل کرنا ممکن نہیں اور یہی واحد راستہ ہے ‘‘۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کریں تو بہت کم اسلام کے ان ابطال کا تذکرہ ہمارے سامنے آئے گا جنہوں نے جہد اسلامی کے ان تمام پہلوؤں کو پورا کیا ہو۔ لیکن ان قلیل ابطال میں سے ایک نام اسلام کے اس بطل جلیل کا آئے گا جسے پوری دنیاامیر ابن الخطاب شہید کے نام سے جانتی ہے ۔
ابن الخطاب 1969میں سعودی عرب کے شمال سرحدی علاقے عرعر میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد سعودی عرب سے تھے جبکہ والدہ ترکی سے تعلق رکھتی تھیں ۔ چنانچہ انہوں نے ایک نسبتاً بہتر دولت مند اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پرورش پائی اور بڑے ہوکر بہادر اور تنو مند نوجوان بنے جنہیں نڈر اور بے خوف سمجھا جاتا تھا۔ وہ سکول میں انتہائی لائق اور ذہین طالبعلم شمار ہوتے تھے اور انہوں نے سیکنڈری سکول امتحان میں 94%نمبر حاصل کئے ۔بعد ازاں انگلش زبان میں ماسٹرز کرنے کے بعد انہوں نے1987میں ایک امریکن انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے لیا اور مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
یہ وقت تھاجب افغانستان پر چڑھائی کرنے والی سوویت یونین کے خلاف جہاد اپنے عروج پر تھا۔ پوری دنیا سے مسلمان نوجوان‘ الشیخ عبداللہ عزام(شہید1989) ٬الشیخ تمیم عدنانی (وفات1988) اور الشیخ اسامہ بن لادن جیسی جہادی شخصیات کی پکار پر لبیک کہنے کیلئے افغانستان کا رخ کر رہے تھے ۔ مجاہدین کے دلیرانہ کارناموں اور بے باک شجاعتوں کے ورطئہ حیرت میں ڈال دینے والے واقعات دنیا بھر کے مسلمانوں کے کانوں تک پہنچ رہے تھے ۔ لہٰذا خطاب کیلئے بھی جب امریکہ میں نئی تعلیمی زندگی کی ابتدا کرنے کا وقت آیا تو انہوں نے امریکہ کی بجائے ؛اپنے بہت سے دوستوں اور رشتہ داروں کی طرح افغان جہاد میں شریک ہونے کا فیصلہ کیا۔ جس دن 1987کے اواخر میں وہ اپنے والدین اور خاندان والوں سے رخصت ہوئے تو اس کے بعد وہ اپنے گھر واپس نہیں آئے۔
ان کے ایک مجاہد ساتھی نے اُس نو عمر‘ خطاب ۔ ۔ ۔ جو اپنے پہلے تربیتی کیمپ جلال آباد پہنچا ۔ ۔ ۔ کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کاحال بیان کرتے ہوئے کہا’’ جلال آباد کے نزدیک یہ تربیتی کیمپ ان مجاہد ساتھیوں سے بھرا ہوا تھا جو کہ تقریباً روزانہ نئے پہنچتے اور ٹریننگ حاصل کرکے چلے جاتے ۔ ہم ان دنوں روسیوں کے خلاف ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے ۔ وہ مجاہد جو اپنی تربیت مکمل کر چکے تھےاپنے اپنے پیک تیار کرنے کے بعد فرنٹ لائن پر پہنچنے کیلئے روانہ ہو رہے تھے ۔ ہم بھی تربیت کے بعد فرنٹ لائن پر پہنچنے کیلئے کیمپ چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے کہ نئے بھائیوں کا ایک گروپ آپہنچا ۔میں نے اس گروپ میں لمبے بالوں اور کشادہ پیشانی والے 16-17سال کی عمر کے ایک نوجوان کا جائزہ لیا۔ اس نوجوان کو جونہی فرنٹ لائن پر جانے والے ہمارے قافلے کا علم ہوا تو یہ نوجوان تربیتی کیمپ کے کمانڈر کے پاس چلا گیا ۔ اور اس سے التجا کرنے لگ گیا کہ اسے بھی فرنٹ لائن پہ جانے والے اس گروپ کے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے ۔ لیکن کمانڈر نے بغیر تربیت کے اسے فرنٹ لائن پر بھیجنے سے یکسر انکار کر دیا ۔ میں اس نوجوان سے بہت متاثر ہوا،اسکے پاس گیا اور اسے تھپتھپا کر حوصلہ دیا ۔ میں نے اس سے اس کا نام دریافت کیا ۔ اس نے جواب دیا ’’ابن الخطاب‘‘۔
خطاب اس کیمپ میں اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد فرنٹ لائن پرچلے گئے۔معسکر میں ان کے اساتذہ میں سے ایک حسن الصریحی تھے [یہ جدہ کے نواحی ایک حراستی کیمپ میں 1996سے زیر حراست ہیں] جواس معسکرکے امیربھی تھے انہوں نے 1987میں جاجی کے محاذ پر افغان اور پاکستانی مجاہدین کے ساتھ شیخ اسامہ کی کمان میں زندگی اور موت کا ایساشاندار معرکہ سر کیاتھاجو آج عسکری تاریخ کا سنہری باب بن چکا ہے ۔ ایسے قابل قدر اساتذہ سے تربیت پانے کے بعد خطاب آئندہ چھے سالوں میں مجاہدین کے منتخب بہادر اور تجربہ کار کمانڈروں کی صف میں شامل ہو چکے تھے جنہوں نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ۔ اور ہر محاذ پر روسی افواج کو ہزیمت سے دوچار کیا ۔ وہ روسی افواج کے خلاف ایمبش اورحملوں سے لے کر قریباً ہر بڑے آپریشن فتح جلال آباد ، فتح خوست اور فتح کابل میں شامل رہے ۔
خطاب میدان جہاد میں بسا اوقات موت کے ہاتھوں بال بال بچے ،کہ ابھی وہ وقت مقررہ نہیں آیا تھا۔ ایک دفعہ ان کے پیٹ میں 12.7mmہیوی مشین گن کی گولی لگ گئی (یاد رہے کہ یہ گن بکتر بند گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور دشمن کی مضبوط مورچہ بندیوںکو کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے) چنانچہ ان کے دوست نے یہ واقعہ بتلاتے ہوئے کہاکہ ’’ ایک آپریشن کے دوران ہم چند ساتھی خط ثانی پر ایک مکان میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ یہ شام کے دھندلکے کا وقت تھا اور خط اول پر لڑائی شدت سے جاری تھی ۔ اسی اثناء میں خطاب کمرے میں داخل ہوا ۔ اس کا چہرہ زرد دکھائی دے رہا تھا ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ نارمل ہونے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ دیوار کے ساتھ چلتا ہوا ہما رے سامنے بیٹھ گیا۔اور خلاف معمول دیرتک خاموش بیٹھا رہا ۔ساتھیوں نے محسوس کیاکہ اس کے ساتھ کوئی گڑ بڑ ہو گئی ہے ۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ کہیں وہ زخمی تو نہیں ہوگیا ۔ ’’نہیں ‘‘ اس نے مختصر سا جواب دیا۔اس نے مزید بتایا کہ ’’ آج صبح خط اول پرلڑائی کے دوران معمولی فائر لگ گیا تھا جو زیادہ خطرناک نہیں ہے‘‘ ۔ بھائیوں نے خطاب سے کہا کہ وہ انہیں زخم دکھائے ۔لیکن خطاب نے زخم دکھانے سے انکار کر دیا۔ جب ایک بھائی کے مزید اصرار پر اس نے اپنا زخم دکھایا تو ہم نے دیکھا کہ فائر لگنے سے جسم پھٹ چکا تھا اور کپڑے خون میںبھیگ رہے تھے ۔ تب ہم نے ایک گاڑی کا انتظام کرکے اسے جلدی سے نزدیکی فیلڈ ہسپتال میں پہنچایا جبکہ وہ مسلسل کہے جارہا تھا کہ فائر معمولی ہے اور زخم زیادہ خطرناک نہیں ہے ‘‘۔
اسی طرح خطاب اس وقت افغانستان میںہی تھے جب ایک مقامی طور پر تیار کردہ ہینڈ گرنیڈ پھینکتے ہوئے ان کے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں اڑ گئیں ۔ گرینڈ ان کے ہاتھ میں ہی پھٹا اوراس نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو اڑا دیا ۔ خطاب اس دھماکے میں بال بال بچ گئے ۔ مجاہدین نے ان کے علاج پر توجہ دینے کیلئے اُنہیں پشاور جانے پر قائل کرنا چاہا مگر وہ مصر رہے کہ زخم پر شہد لگانے سے ہی یہ ٹھیک ہو جائیگا اور اس کیلئے پشاور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ چنانچہ پشاور جانے سے انہوں نے قطعاً انکار کر دیا ۔ اس کے بعد ان کی یہ انگلیاں پٹی میں بندھی رہتیں ۔
چیچن جہاد میں بھی وہ کئی مرتبہ دشمن کے ہاتھوں دھوکے سے شہید ہونے سے بچے ۔ ایک مرتبہ وہ مال غنیمت میں ملنے والی 4ٹن وزنی روسی گاڑی چلا کر لارہے تھے ۔ گاڑی میں روسیوں نے دھوکے سے ٹائم بم نصب کیا ہوا تھا ۔ اچانک راستے میں گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی ۔ گاڑی میں سوار مجاہدین کے اعضاء دور تک جا بکھرے ۔ لیکن خطاب کو اللہ کے فضل سے خراش تک نہ آئی اور وہ بچ گئے ۔
افغانستان سے روسی افواج کے پسپا ہونے کے بعد، جب ان کے حمایتی کمیونسٹ بھی مجاہدین کے ہاتھوں شکست کھا گئے تو خطاب اور ان کے دوستوں نے ایک مرتبہ دوبارہ جہاد کی آواز سنی اور یہ آواز اس مرتبہ تا جکستان سے آئی تھی ۔ اپنے ساتھیوں کے چھوٹے سے گروپ کے ہمراہ انہوں نے تاجکستان کیلئے رخت سفر باندھا ۔ وہ مناسب گولہ و بارود اور اسلحہ کی شدید قلت کے باوجود تاجکستان کے برفانی پہاڑی سلسلوں میں روسیوں کے خلاف مسلسل2 سال تک بر سر پیکار رہے۔جہاد تا جکستان میں دو سال تک حصہ لینے کے بعد وہ 1995کے آغاز میں دوبارہ افغانستان واپس آگئے ۔ روس اس وقت چیچنیا کے خلاف اپنی پہلی جنگ کا آغاز کر چکا تھا ۔چیچنوں کے اسلام سے والہانہ لگاؤ اور دینی وابستگی کی وجہ سے ہر کوئی اس جنگ سے مضطرب نظر آ رہا تھا۔
خطاب نے ایک شام ، سٹلائیٹ ٹیلیویژن پر چیچنیا جنگ کے متعلق خبریں دیکھیں توانہیں اس جنگ کے بارے میں تفصیلاً علم ہوا۔ بعد میں انہوں نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتلایا ،’’ جب میں نے ایک چیچن گروپ کو پیشانیوں پر لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وا لی پٹیاں باندھے اور تکبیر کے نعرے لگاتے جاتے ہوئے دیکھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ چیچنیا میں بھی جہاد جاری ہے، مجھے لازماًوہاں پہنچنا چاہئے ‘‘ ۔ خطاب نے بتایا کہ وہ اس سے قبل چیچنیا کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے تھے ماسوا کہ ان کے پاس امام شامل اور ان کی تحریک کے بارے میں سرسری سی معلومات تھیں ۔
چنانچہ افغا نستان سے خطاب اپنے آٹھ ساتھیوں کے ہمراہ چیچنیا کیلئے روانہ ہوئے اور 1995کے موسم بہار میں چیچنیا پہنچے ۔جہاد چیچنیا میں شرکت کے ابتدائی چار سالوں کے دوران خطاب نے شجاعت و دلیری کے وہ کارنامے سر انجام دئیے کہ ان کے افغانستان اور تاجکستان جہاد کے کار ہائے نمایاں ہیچ معلوم ہونے لگے ۔ روسی حکومت کی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق ان چار سالوں میں چیچنیا میں اس قدر روسی فوجی مارے گئے کہ دس سالہ افغان جنگ میں اتنے روسی فوجی نہیں مارے گئے تھے۔
ابن الخطاب جب چیچنیا پہنچے تو ان کے مزید کچھ ساتھی بھی چیچنیا چلے آئے۔ اور انہوں نے مل کر چیچنوں کی جنگی تربیت اوردینی رہنمائی کیلئے ایک تربیتی کیمپ کی بنیاد رکھی ۔ ان مجاہدین نے چیچنیا میںروس کے خلاف کئی ایک خطرناک ترین کاروائیاں کیں مثلاً آپریشن خرتاشوئی 1995 ،آپریشن شاتوئی 1996، آپریشن یشمردے 1996 اور روس کے اندرکیا جانے والا داغستان آپریشن 1999,1997۔
امیر ابن الخطاب کی ایک انتہائی دلیرانہ کاروائی 16اپریل 1996کو کیا جانے والا آپریشن شاتوئی تھا ۔ اس کاروائی میں انہوں نے صرف 50مجاہدین کے ہمراہ چیچنیا سے روس جانے والے ایک فوجی قافلے پر گھات لگا کرحملہ کیا۔ روسی فوجیوں کا یہ قافلہ50 گاڑیوں ا ور مع سازوسامان کے واپس جا رہا تھا ۔ جو نہی قافلہ گھات میں آیا ، مجاہدین قافلے پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے ہلکے وبھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں روسی فوجی موت کے گھاٹ اتار دئیے ۔ حملہ اس قدر تیز اور شدید تھا کہ کسی روسی فوجی کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا اور سبھی اپنی 50کے قریب گاڑیوں سمیت اڑگئے ۔ ان کی لاشیں دور دور تک بکھری پڑی تھیں ۔ روسی فوجی ترجمان کے مطابق اس حملے میں 223روسی فوجی مارے گئے جن میں 26سینئر آفیسر بھی شامل تھے ۔ اس آپریشن میں صرف 5جانباز شہید ہوئے ۔ مجاہدین نے اس تمام آپریشن کو فلما لیا اور اسے انٹرنیٹ پر چھوٹے چھوٹے ویڈیوز اور تصاویر کی شکل میں محفوظ کر دیا جسے www.azzam.comکے فوٹو لائبریری سیکشن میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس آپریشن کی وجہ سے دو یا تین روسی جنرلوں کو نوکری سے نکالا گیا۔ اور روس کے صدر بورس یلسن کو پارلیمنٹ میں اس حملے کی تفصیلات سنانی پڑیں ۔
اس آپریشن کے کچھ ماہ بعد ہی ان کے گروپ نے ایک مرتبہ پھر روسی آرمی کی ایک چھاؤنی پر حملہ کیا اور چھاؤنی میں موجود گن شپ ہیلی کاپٹروں کو AT-3 sagger wire guidedeاینٹی ٹینک میزائلوں سے نشانہ بنایا ۔ اس کے علاوہ ان کے زیر تربیت جانبازوں نے 1996میں شامل بسایوف کی قیادت میں بھی گروزنی پر کئے گئے ایک مشہور حملے میں حصہ لیا ۔
1996کے موسم خزاں میں روسی فوج کی چیچنیا سے پسپائی کے بعد باضابطہ طور پر انہیں چیچنیا کا قومی ہیرو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا اور ایک تقریب میں جس میں چیچن جہاد کے انتہائی نامور اور تجربہ کار کمانڈر شامل بسایوف اور سلمان رادیوف شہید موجود تھے انہیں ایک میڈل پہنایا گیا اور فوج میں جنرل کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں چیچن جانبازوں کے مرکزی تربیتی کیمپ کا کمانڈر بھی مقرر کیا گیا۔ وہ مجلس شوریٰ میں اشکیریا اور داغستان کے مجاہدین کے نمائندہ تھے جبکہ امیر مجلس شوریٰ شامل بسایوف کے نائب اور انٹرنیشنل اسلامک بریگیڈ کے امیر بھی ۔
27دسمبر 1997کو وہ دوبارہ منظر عام پر آئے جب ان کی کمان میں ایک سو کے قریب چیچن اور غیر ملکی مجاہدین نے روس کے اندر 100کلومیٹر تک پیش قدمی کرتے ہوئے روسی فوج کے 136موٹرائزڈ رائفل بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ۔ اس حملے میں روسی فوج کی تین سو کے قریب گاڑیاں تباہ ہوئیں اور سینکڑوں کی تعداد میں روسی فوجی مارے گئے ۔ جبکہ صرف دو مجاہدین شہید ہوئے جن میں سے ایک خطاب کے جہاد افعانستان کے سینئر کمانڈر ابوبکر عقیدہ تھے ۔
بہت سے چیچن انہیں ان کی شجاعت و بہادری کی وجہ سے اپنے دور کے اپنے دور کے خالد بن ولید سے تشبیہ دیتے تھے ۔ وہ موت پر پختہ یقین رکھتے تھے اور اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے موت اسی وقت آئے گی جو اللہ نے میرے لئے لکھ دیا ہے ۔ کوئی اسے آگے پیچھے نہیں کر سکتا ۔
ابن خطاب میڈیا وار پر نہ صرف یقین رکھتے تھے بلکہ اس پر زور دیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے ،’’ جس طرح یہ ملحد اور دہریہ قسم کے لوگ اپنے میڈیا اور پروپیگنڈے کے ذریعے ہم سے لڑائی کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی اپنے میڈیا اور پروپیگنڈے کے ساتھ ان کا جواب دینا چاہئے جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ جس طرح وہ (کافر) لوگ تم سے لڑائی کرتے ہیں تم بھی اسی طرح ان کے خلاف لڑائی کرو ‘‘۔ ان کا خیال تھا کہ دشمن کے غلط پروپیگنڈے کا جواب صرف الفاظ سے نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ویڈیو کاروائی دشمن کے پروپیگنڈے کا زیادہ مؤثراور بہترین جواب دے سکتی ہے ۔یہی وجہ تھی کہ ان کی کمان میں کئے جانے والے ہر مشن اور کاروائی کو فلمایا گیا اور اسے منظر عام پر لایا گیا تاکہ دشمن کے پروپیگنڈے کا مؤثر توڑ کیا جا سکے ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس افغانستان، تاجکستان اور چیچنیا کی کاروائیوں کی سینکڑوں ویڈیوز ایک لائبریری کی صورت میں محفوظ تھیں ۔ اگست 1997میں ان کی زیر قیادت کئے گئے داغستان آپریشن میں مجاہدین نے بے شمار اور سینکڑوں کی تعداد میں روسی فوجیوں کو واصل جہنم کیا ۔ اس مشن کی پوری کاروائی ایک طویل ویڈیو کی صورت میں ان کے پاس محفوظ تھی ۔ جب روس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس حملے میں اس کے صرف 40فوجی ہلاک ہوئے ہیں تو جواباً چیچن ٹی وی نے اس مشن کی مکمل ویڈیو نشر کردی جس میں سینکڑوں روسی فوجیوں کی لاشوں کو جنگل میں دور دور تک بکھرے دکھا یا گیا تھا ۔ اس ویڈیو کے نشر ہونے سے روس میں کہرام مچ گیا اور پورا روس سوگ میں ڈوب گیا ۔ یہ ویڈیو بھی عزام پبلیکیشنر کی ویب سائٹ کے چیچن جہاد سیکشن میںد یکھی جاسکتی ہے ۔
ایک مرتبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے ایک پیغام میں کہا’’ بنیادی چیز جو تمام مسلمانوں کو جہاد میں شامل ہونے سے روکتی ہے وہ ان کے گھرانے ہیں ۔ ہم سب لوگ جو یہاں آئے ہیں اپنے گھر بار والوں کی اجازت کے بغیر ہی آئے ہیں ۔ اگر ہم ان کی بات مان لیں اور واپس چلے جائیں تو کو ن یہ کام کرے گا اور اسے آگے بڑھائے گا ۔ پچھلے 12سال سے میں نے اپنی والدہ کو نہیں دیکھا ۔ اکثر و بیشتر میں اپنی والدہ کو فون کرتا ہوں اور اب بھی وہ مجھ سے واپس آجانے کو کہتی ہیں ۔لیکن اگر میں واپس چلا جاؤں تو کون اس جدوجہد کو جاری رکھے گا ‘‘۔
وہ انتہائی ذہین ،جرات مند ،زیرک اور مضبوط شخصیت کے مالک تھے اور اپنے زیر کمان مجاہدین میں بہت مقبول تھے ۔ لیکن قطعاً اس طرح بھی نہیں کہ آزادانہ ان سے ہنسی مذاق کیا جاسکے۔ و ہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے مجاہدین سے ملاقات کرتے اور ان کی مشکلات حتیٰ کی ذاتی مسائل تک کے حل میں ان کی مدد کرتے ۔اور اپنی طرف سے انہیں پیسے دیتے تاکہ وہ بازار سے اپنی ضرورت کی اشیاء خرید سکیں ۔ ان کے پاس انتہائی تربیت یافتہ،مستعد اور تجربہ کار کمانڈروں کا گروپ موجود تھا جن میں سے ہر کمانڈر اس قدر باصلاحیت تھا کہ ان کی شہادت کی صورت میں ان کی ذمہ داریاں سنبھال سکے ۔
خطاب کا مشن روس سے اس وقت تک لڑائی کرتے رہنا تھا جب تک وہ قفقاز سے لے کر وسطی ایشیا تک کی ریاستوں کے مسلم خطے کا چپہ چپہ خالی نہ کردے ۔ انہوں نے بارہا اس بات کو دہرایا کہ،’’ ہم روسی فوجیوں کی تربیت اوران کی چالوں کواچھی طرح پہچانتے ہیں۔ ہم ا ن کی کمزوریوں سے بھی بخوبی آگاہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دوسروںکی نسبت ہمیں ان سے لڑنا زیادہ آسان ہے ‘‘۔
ابن الخطاب روسیوں کیلئے موت کا پیغام تھے اور روسی فوج کیلئے ان کا نام خوف کی علامت بن چکا تھا ۔ میدان جہاد میں انہوں نے روسیوں کو ناکوں چنے چبوائے اور ہمیشہ اسے ہزیمت اٹھانے پر مجبور کیا ۔ روسی فوج اور ان کی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں دھوکے سے شہید کروانے کی کئی مرتبہ کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکیں ۔ آخر کار ان کی ایک کوشش رنگ لے آئی اورروس کی ایک خفیہ ایجنسی FSBنے ایک شخص ابراہیم الاؤری ۔ ۔ ۔ جو بک چکا تھا ۔ ۔ ۔ کے ذریعے انہیں جانے والا ایک خط حاصل کیا اور اسے کیمیکل لگا کر اس زرخرید شخص کے ہاتھ دوبارہ روانہ کر دیا ۔ جب الاؤری نے یہ خط انہیں دیا تووہ اپنی مصروفیت کے باعث اسے نہ پڑھ سکے اور رکھ دیا ۔ بعد ازاں جب انہوں نے اسے پڑھنے کیلئے کھولا تو خط پر زہریلا کیمیکل لگنے سے ان کی طبیعت بگڑنے لگی ۔ اور مجاہدین کے پاس ناکافی طبی وسائل اور زہر کا تریاق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت مزیدخراب ہوتی چلی گئی ۔ اور آخر کار ان کا یہ جانباز کمانڈر اسی حالت میں ان کے سامنے موت کی آغوش میں جاپہنچا ۔ ان کی شہادت کے بعد روسی خفیہ ایجنٹوں کے حملے سے بچنے کیلئے سخت حفاظتی حصار میں انہیں چیچنیا کے ایک پہاڑی سلسلے میں دفن کیا گیا اور قبر کے نشانات کو چھپا دیا گیا ۔اور ان کی تدفین کے وقت صرف ان کے قریبی دوست اور مجاہدین کی چند ذمہ دار شخصیات موجود تھیں ۔ اور عام افراد کو بھی قبر کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا ۔ اس طرح وہ نوعمر مجاہد جو کہ سعودی عرب سے صرف سترہ سال کی عمر میں جہاد کیلئے نکلا اور چودہ سال تک ملحدوں ،دہریوں اور مشرکوں کیلئے موت کا کوڑا بن کر برستا رہا ،عبداللہ بن ابی اور ابن علقمی کے ایک وارث ہاتھوں شہادت کے بعد چیچنیا کے ایک ویران پہاڑی سلسلے میں محو راحت ہے ۔
بنا کر دندخوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را
ابن الخطاب نے چیچنیا میں ایک داغستانی خاتون سے شادی کی جس سے اُن کے دو بیٹے ہیں ۔

Thursday, June 4, 2009

روس: مسلمانوں کی بڑھتی آبادی، مغرب خوفزدہ




اگرمسلمانوں نے روس میں اکثریت حاصل کر لی، تو ان کے ہاتھوں میں بہت سے بم آ جائیں گے،محقق پال گوبل
وائس آف امریکاکی ایک رپورٹ کے مطابق روسی فیڈریشن کی آبادی میں ایک بنیادی تبدیلی آ رہی ہے۔ اس کی مجموعی آبادی میں ہر سال کم از کم سات لاکھ کی کمی واقع ہو رہی ہے جب کہ اس کی مسلمان آبادی میں ہر سال چار فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق2050ء تک روس کی آبادی میں ایک تہائی کی کمی آ سکتی ہے۔ بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ روسی آبادی میں شرح پیدائش کی کمی اور مسلمانوں کی آبادی میں تیز رفتار اضافے کے نتیجے میں اِس صدی کے وسط تک روسی فیڈریشن مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔اسٹونیا کی یونیورسٹی آف تارتو کے ایک محقق پال گوبل کہتے ہیں کہ گذشتہ عشرے میں روس کی آبادی میں اہم تبدیلی آئی ہے:�ماسکو میں آج کل پیرس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ماسکو میں ان کی تعداد 25 اور 30 لاکھ کے درمیان ہے۔ ماسکو میں آبادی کا دوسرا سب سے بڑا گروپ آزربائیجانیوں کا ہے جن کی تعداد تقریباً دس لاکھ ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ میں دس سے ساڑھے بارہ لاکھ تک مسلمان رہتے ہیں۔اور تو اور، وہ اب کریلیا، کم چٹکا اور سخالن جیسے مقامات میں بھی موجود ہیں جہاں پہلے ان کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔� اِس رجحان کی ایک وجہ یہ ہے کہ 18 سے 55 برس کے روسی نسل کے لوگوں میں شرحِ اموات بہت زیادہ ہے۔ پال گوبل کہتے ہیں روس میں کثرت شراب نوشی، بیماری اور صنعتی حادثات کی شرح انتہائی زیادہ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ روسی فیڈریشن میں روسی نسل کے لوگوں کی تعداد میں ہر سال دس لاکھ کی کمی آجاتی ہے۔روس میں مسلمان دو جغرافیائی علاقوں میں رہتے ہیں:دریائے وولگا کے طاس کا علاقہ جو روسی فیڈریشن کے وسط میں واقع ہے ، اور شمالی قفقاز کا علاقہ۔ وولگا کے علاقے میں رہنے والے مسلمان صدیوں سے روسی شہری ہیں اور عموماً اعتدال پسند مسلمان ہیں۔ لیکن شمالی قفقاز میں حالات مختلف ہیں۔ خاص طور سے چیچنیا میں ہمیشہ روس کی مزاحمت کی گئی ہے۔ واشنگٹن میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے ڈیوڈ سیٹر کہتے ہیں کہ روسی نسل کے لوگ، سابق سوویت جمہوریتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی کثیر تعداد میں آمد کو بھی پسند نہیں کرتے۔ بہت سے روسی شہروں میں، خاص طور سے سینٹ پیٹرزبرگ، وورنیزاور ماسکو میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔بعض دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، غیر مسلم آبادی پر دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔ میخائل دیلیاگن کارنیگی ماسکو سینٹر میں فیلو ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ روس کے کئی علاقوں سے غیر مسلم آبادی کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے۔اگر حکومت چاہے تو اِس رجحان کو دبا سکتی ہے۔ لیکن جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پیٹر ریڈاوے کہتے ہیں کہ روسی حکومت نے آرتھوڈاکس عیسائیت کے دفاع کے لیے جو قانون بنائے ہیں ان کے ذریعے اس نے مسلمانوں کی سرگرمیوں کو دبانا شروع کر دیا ہے۔ روسی مسلمانوں کی روس سے بیگانگی کا رویہ اب تک شمالی قفقاز کے علاقے تک محدود رہا ہے اور اس کی وجہ چیچنیا کے ساتھ گذشتہ 13 سال کی جنگ ہے۔لیکن اب یہ رویہ روس کے دوسرے مسلمان آبادی والے علاقوں میں بھی پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ روس کی آبادی میں تبدیلی سے مغرب کے لیے دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ محقق پال گوبل کو تشویش ہے کہ مسلمان اکثریت میں تبدیل ہونے کے بعد روس میں سیاسی طور پر اپنے قدم جما سکتے ہیں: �میرے خیال میں یہ بات اہم ہے کہ روسی فیڈریشن کی مسلمان آبادی ہمارے اقدامات کو کِس نظر سے دیکھتی ہے اور اس سے پہلے کہ مسلمان اکثریتی حیثیت حاصل کریں، روسی نسل کے لوگوں کے اقدامات کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ کیا ہے۔لوگوں کو یہ فکر لگی رہتی ہے کہ اگر ایٹمی ہتھیار مسلمان انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ گئے تو کیا ہوگا۔اگرروس میں مسلمانوں نے اکثریت حاصل کر لی، تو ان کے ہاتھوں میں بہت سے بم آ جائیں گے۔ اگر لوگ اِس امکان سے خوفزہ نہیں ہیں، تو انہیں خوفزدہ ہونا چاہیئے۔ ہم آج کل اور اگلے چند عشروں میں اِس کمیونٹی کے ساتھ جو سلوک کریں گے، اسی سے مستقبل میں ہمارے ساتھ اِس کمیونٹی کے رویے کا تعین ہوگا۔�گوبل اور بہت سے دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ مغربی ملکوں کو روس پر زور دینا چاہیئے کہ وہ مسلمانوں کو روسی معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کرے اور اِس امر کو یقینی بنائے کہ ان کے مذہبی اور انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو اس کا نتیجہ روسی فیڈریشن میں عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے۔