Thursday, June 4, 2009

بنی اسرائیل سے ریاست اسرائیل تک


اسوقت دنیا میں جو عیسائی اور یہودیوں کا گٹھ جوڑ ہے، غور کرنے کی بات ہے کہ یہ زیادہ پرانا نہیں ‏ہے۔ پہلی صلیبی جنگوں تک عیسائی اقوام یہودیوں اور مسلمانوں دونوں ہی کی دشمن اور جان کے درپے ‏تھیں۔ نزولِ اسلام کے وقت عیسائی اسلام کے اتنے بڑے دشمن نہ تھے کہ جتنے بڑے دشمن یہودی تھے۔ ‏اور تب بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان کوئی دوستانہ روابط نہ تھے۔ جبکہ آج عالمِ صہیونیت اور ‏عالم انسانیت ہمیں یہ گٹھ جوڑ انتہائی مضبوط نظر آتا ہے۔اگر ان روابط کی گہرائی میں جایا جائے تو یہ ‏گٹھ جوڑ ہمیں آج کی پوری بنی نوع انسانی اور باالخصوص عالم اسلام کے خلاف کھلے ، ڈھکے چھپے ‏اور نپے تلے انداز میں مصروف کار نظر تا ہے۔ صہیونیت کا پہلا منصوبہ پوری دنیا کے مالیاتی نظام ‏پر قبضہ اور پوری دنیا کے انسانوں کو نت نئے طریقوں سے سودی نظام میں جکڑنا ہے، جس کے ‏ذریعے سے سود کا نیا مالیاتی نظام تیسری دنیا کے ممالک اور باالخصو
ص اسلامی ممالک میں پھیلا دیا ‏جائے گا۔

شروع میں ورلڈ بینک اور ئی ایم ایف جیسے اداروں نے ممالک کو قرضہ میں جکڑا لیکن اب ‏مقاصد یہ ہیں کہ ہر انسان اس نئے سودی نظام میں اپنی خواہشوں کی کمزوری سے اس طرح جکڑ دیا ‏جائے کہ اس کے پاس اس سے نکلنے کا کوئی چارہ نہ ہو۔ میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے انسان کو ‏جنسی حیوان اور نفسانی خواہشات کے اس کنارے تک لیجایا جائے جہاں ان خواہشات کے حصول کیلئے ‏وہ کسی بھی طرح اور کیسی ہی شرائط پر رقم کے حصول کیلئے اس نئے نظام میں جکڑ لیے جائیں،این ‏جی اوز اور دیگر یورپ، امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ ادارے آج پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پر حسبِ استطاعت ‏ڈراموں، میوزک اور دیگر مغربی طرز عمل کے ذریعے بے حیائی اور نفسانی خواہشات کا ایک غبار ‏پھیلانے میں مصروف ہیں۔

آج یورپ کی طرح ہم دوسرے ممالک میں بھی سودی نظام کے پھیلاؤکی رفتار کو دیکھ سکتے ہیں ۔ وہ لوگ جو یورپ میں رہائش پذیر ہیں ترقی یافتہ اس معاشرہ میں بندھے ‏ہوئے جانور نما انسانوں کو روزانہ دیکھتے ہیں جو روزانہ ایک ہی وقت پر جوق در جوق بس اور ‏ریلوے سٹیشنوں پر کام سے آتے اور جاتے نظر آتے ہیں، جو تنخواہ لیتے ہیں اس کا آدھے سے زیادہ ‏حصہ گھر گاڑی اور گھریلو لوازمات کی اقساط کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، ہر شخص کو اپنا گھر لینا ‏ہے کیونکہ اٹھارہ سال کے بعد وہ ماں باپ کیساتھ نہیں رہ سکتا یا وہ نہیں رکھتے یا نہ ماں کا پتہ نا باپ ‏کا، گاڑی لینی ہے کیونکہ ضرورت بن چکی ہے، گھر سامان وغیرہ، سب کچھ اسے با آسانی مل جاتا ‏ہے، لیکن ساری عمر وہ انکی اقساط دینے میں گزار دیتا ہے۔ پاکستان میں عام آدمی تک اس نظام کی ‏باآسانی رسائی کریڈٹ کارڈز، آسان اقساط پر گاڑی گھر وغیرہ کیلئے قرضہ وغیرہ اسی نظام کی کڑیاں ‏ہیں، عام لوگوں کو عادت ڈالی جا رہی ہے، چاہے شروع میں ان رقوم کی واپسی مکمل طور پر نہ ہو ‏سکے لیکن نظام متعارف ہو جائیگا، لوگ ایک دفعہ عادی ہو گئے تو انکی آنے والی نسل سے سود سمیت ‏وصولی ہو جائیگی۔ کریڈٹ کارڈز بانٹنے والے ان تمام بینکوں کے پیچھے چند گنتی کے بینک ہیں جو ‏اس سارے جال کو بننے میں مصروف ہیں۔

اس نظام اور اس مقصد کے حصول کیلئے نصرانی قوتیں ‏صہیونیت کے ساتھ مکمل طور پر شریک ہیں۔ لیکن اس سارے نظام کی چابی اہلِ یہود ہی کے ہاتھ میں ‏ہے۔ اسی طرح جیسے کسی گھوڑے کو ٹانگے میں جوت دیا جائے اور اسے اتنا ہی کھانے کو دیا جائے ‏جس سے وہ دوسرے دن بھی ٹانگہ کھینچ سکے اور اصل کمائی ٹانگہ بان روزانہ جیب میں ڈالتا جائے۔ ‏یہ تو ہے یہودی عیسائی گٹھ جو ڑ سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جانیوالا منصوبہ۔ باقی منصوبے خالص ‏یہودیوں کے ہیں ، اس میں سب سے پہلا کام ہے عظیم تر اسرائیل کا قیام، جس کا نقشہ بھی انھوں نے ‏اپنی پارلیمنٹ میں بنا کر لگا رکھا ہے۔ اس میں مصر اور سعودی عرب کا بھی شمالی حصہ ہو گا ، پورا ‏شام، عراق اور لبنان ہوگا۔

دوسرا منصوبہ ہے اس تاریخی عمارت کو گرانا جو ان کے سینے پر ابھی تک مونگ دل رہی ہیں، مسجد ‏اقصیٰ اور قبۃ الصخرٰی اس عمارت کو شہید کرنے کیلئے وہ اب صرف صحیح اور اس مناسب وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب ‏نہ ہی تو کسی اسلامی ملک میں اخلاقی اور مذہبی جذبہ باقی رہے اور نہ ہی جنگی قوت۔ اور اسکے بعد ‏ان کی جگہ اپنا تیسرا گنبد بنانا ہے۔ مسجد اقصیٰ حضرت سلیمان نے حضرت عیسیٰ سے ایک ہزار سال ‏پہلے تعمیر کی تھی۔ تب اسے یہودیوں نے پہلا گنبد یا فرسٹ ٹمپل کہا،پھر اس مسجد کو بابل (موجودہ ‏عراق) کے بادشاہ بخت نصر نے حضرت عیسیٰ کے عہد سے چھ سو برس پہلے شہید کر دیا تھا۔ پھر ‏اسے ڈیڑھ سو سال بعد دوبارہ یہودیوں نے تعمیر کہا اور اسے دوسرا گنبد یا سیکنڈ ٹمپل کہا۔ اسے دوبارہ ‏پھر ایک رومی جرنیل ٹائیٹس نے 70 ء میں گرا کر زمین کے برابر کر دیا اس وقت سے آج تک وہ گنبد ‏زمین بوس ہے۔ اب جبکہ چالیس سال ہوئے فلسطین کی زمین پر قبضہ کیے ہوئے اسرائیل کو، اس چالیس ‏سال میں ابھی تک انکی ہمت نہیں ہو پارہی جبکہ سب کچھ تیار ہے، نقشہ اور میٹریل وغیرہ۔ ابھی تو کچھ بین ‏الاقوامی لحاظ لیکن جلد یا بدیر وہ اسے کریں گے ہر صورت۔ پھر اگلا منصوبہ اس میں حضرتِ داؤدعلیہ السلام ‏کا تخت رکھا جائیگا۔ یہ تخت ایک بڑا پتھر تھا جس پتھر پر بٹھا کر حضرتِ داؤدعلیہ السلام کی تاجپوشی ہوئی یہی وہ پتھر ہے جو حضرتِ ‏داؤد علیہ السلام کا تخت کہلایا۔

اسی تخت پر حضرتِ سلیمان علیہ السلام کی تاجپوشی ہوئی۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ تین ہزار سال پہلے کا کوئی تخت موجود ہوگا؟ لیکن یہ ‏تخت موجود ہے! جب رومی جرنیل ٹائیٹس نے ‏یروشلم فتح کیا تو وہ تباہی پھیلانے کے بعد یہ پتھر اپنے ساتھ آئر لینڈ لے گیا، پھر یہ پتھر یا تخت سکاٹ ‏لینڈ آگیاجہاں سے یہ انگلینڈ آگیا، جہاں تیرہویں صدی عیسوی میں اس پتھر کو ایک تخت نما کرسی کی ‏شکل میں تراش لیا گیا، اس وقت یہ تخت ویسٹ منسٹر ایبے ، برطانیہ کی پارلیمنٹ سے ملحقہ چرچ میں ‏موجود ہے۔ انگریز بادشاہ یا ملکائیں، انکی تاجپوشی اسوقت سے اسی تخت پر ہوتی ہے۔ پھر انھیں انتظار ‏ہے اس مسیحا کا جن کے بارے میں سابقہ انبیاءنے بتایا کہ آئیں گے اور تمھیں دنیا کی مصیبتوں سے ‏نجات دلوائیں گے، وہ مسیحا تو آگئے، حضرت عیسیٰ اور انھیں یہودیوں نے نہ مانا، بلکہ ابھی بھی اسی ‏مسیحا کے انتظار میں ہیں کہ جب وہ آئیں گے تو انھیں اس تخت پر بٹھایا جائیگا۔ انکا یقین یہی ہے کہ ‏جب یہ سب کام (دنیا کی معیشت پر مکمل قبضہ، عظیم اسرائیل، مسجد اقصٰی کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر) ہو جائیں گے تب وہ مسیحا آئیں گے اور یہود پوری دنیا پر حکومت کرینگے۔ اس سب ‏کیلئے ان کے نزدیک مشرقِ وسطیٰ میں ایک بہت بڑی عظیم جنگ کا ہونا باقی ہے جسے آرمیگے ڈان ‏کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس عظیم جنگ کا ذکر ہمیں احادیث ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھی ملتا ہے۔ اور اس جنگ کا ہونا ‏بھی مسلمانوں کے نزدیک قرب قیامت کی ایک بڑی نشانیوں میں سے ہوگا۔

اب اگر ایک نظر عیسائی دنیا کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ یورپ میں اپنے عروج کے بعد دو ‏بڑے فرقوں میں بٹ گئی، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ۔ یورپ کے عیسائی کیتھولک جبکہ امریکہ اور برطانیہ ‏پروٹسٹنٹ ہیں۔ پروٹسٹنٹ اسوقت یہودیوں کی مکمل گرفت میں ہیں اور یہودیوں کے ان تمام منصوبہ جات ‏میں انکے مکمل طور پر ساتھ ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ آخری مسیحا کے طور پر حضرت عیسیٰ ‏کا انتظار کر رہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ تختِ داؤدعلیہ السلام پر وہی بیٹھیں گے۔ آخری جنگ پر تو اہل اسلام کا ‏بھی ایمان ہے جس میں عرب مسلمانوں کا شدید ترین جانی نقصان بھی ہوگا۔ پھر حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ‏ہوگا، انکی فتوحات کے بعد حضرت مسیح کا ظہور ہوگا اور اسلام کا غلبہ ہو گا۔ اسی طرح کیتھولک کا ‏عقیدہ ہے کہ آخری معرکہ میں ایک بڑی صلیبی جنگ ہونی چاہیئے جس میں وہ فلسطین اور شام کا تمام ‏علاقہ فتح کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی، وقت گزارا اور تبلیغ کی، اس علاقہ کو ‏وہ رومن کیتھولک بنانا چاہتے ہیں۔ رومن کیتھولک اپنی اسلام دشمنی میں پروٹسٹنٹ سے بھی بڑھ کر ‏ہونے کی وجہ سے معاذاللہ اسلام کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔

یہودی ہوں یا عیسائی، حق کو پہچان چکے ‏ہیں لیکن حسد ہے کہ انھیں چین نہیں لینے دے رہا، وہ نبوت کو تو اپنی وراثت سمجھتے تھے اور عربوں ‏کو جاہل۔ کیسے چین سے بیٹھیں گے کہ نبوت ان جاہل عربوں میں کہاں سے چلی گئے (معاذاللہ)۔ آج ‏امریکہ ہو یا جرمنی، فرانس ہو یا ہالینڈ سبھی ملکوں میں پچھلے چند سالوں میں اسلام قبول کرنیوالوں کی ‏تعداد حیران کن طور پر بڑھی ہے۔ صرف خلیج کی پہلی جنگ سے اب تک پندرہ ہزار سے زائد امریکی ‏فوجی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ لیکن پوری دنیا کا میڈیا صرف تین سے پانچ لوگوں کے ہاتھ ہیں ہونے ‏کے باعث وہ جھوٹ کو بھی اتنی دفعہ بولتے ہیں کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے۔

آج حالت یہ ہے کہ یورپ نے ہر دفعہ ترکی کو دھتکارا لیکن ترکی پھر بھی یونین میں شمولیت کیلئے ‏مرا جا رہا ہے جبکہ صدر فرانس یاک شیراک واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یورپی یونین ایک ‏کرسچین کلب ہے۔ اللہ نہ کرے کہ ترکی ماضی میں اپنے آپ کو یورپ کے قریب لانے کیلئے جن ‏تبدیلیوں سے گزر چکا ہے اب مذہب پر بھی نظر ثانی نہ شروع کر دے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک نہ ختم ہونیوالی ڈرامہ سیریل ہے۔ جس کے شائد کردار تو بدلتے رہیں گے لیکن کہانی نہیں۔ حالات دن بدن خراب ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا یہ حال ہو چکا ‏ہے کہ امریکا کے خوف سے ہر ماہ سو پچاس مسلمانوں کو جاں بحق کیا جا رہا ہے، کہیں امریکا ناراض ‏نہ ہو جائے۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ ایک ایسا نعرہ ہے جو ہمیں دن بدن اتحاد عالم اسلامی سے ‏دور کر رہا ہے۔ نہ ملک میں امن ہو رہا ہے نہ باہر۔ دشن تو دوست بن ‏نہیں سکے اب اس نعرے کو بنیاد بنا کر دوستوں کو بھی دشمن بنایا جا رہا ہے۔‎ ‎

اب ہم جو میڈیا میں اکثر امریکہ کے بیانات سن چکے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ بنایا جانا چاہیئے ‏اس کی حقیقیت میں جاتے ہیں۔ پنٹاگون نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دیگر ممالک کا نقشہ اپنے تھنک ‏ٹینک کی منظوری کے بعد جاری کر چکا ہے، اور یہ نقشہ کوئی آج کا موجودہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ ‏پچھلے کئی سالوں سے اسی پر کام ہو رہا تھا ۔ عراق ایران جنگ اور اسی دوران عراق امریکہ تعلقات، ‏عراق کی کویت پر چڑھائی ، کوئی بھی چیز صہیونیت اور عیسائیت کے علم و منظوری کے بغیر نہ ‏تھی، کچھ عراق نے خود کر دیے اور کچھ کروا لئے گئے۔ اس نئے نقشہ کے مطابق ترکی سے اسکا ‏مشرقی حصہ لے لیا جائیگا۔ ترک، عراق اور ایران کے کرد اکثریت کے علاقے لیکر اسے کردستان کی ‏شکل دی جائیگی۔ شام کی سرحدیں سکیڑ دی جائیں گی اور اردن کو سعودی عرب کا کچھ حصہ دے دیا ‏جائیگا، سعودی عرب کو مکہ پاک اور مدینہ پاک کے علاقوں تک محدود کر دیا جائیگا۔ سعودی عرب ‏کیلئے پنٹاگون کی یہ فراخدلانہ تجویز ہے کہ وہاں صرف مسلمان مل جل کر حکومت کریں اور کسی ‏دوسرے مذہب کی عملداری نہ ہو۔ اسکے ساتھ ساتھ ایران کے مقابلہ میں ایک عرب شیعہ قوت بنانے کا ‏منصوبہ ہے جسے عراق کا جنوبی حصہ، کویت اور سعودی عرب کا مغربی حصہ دیا جائے گا، یہی وہ ‏علاقے ہیں جہاں شیعہ اکثریت ہے اور تیل بھی بکثرت نکلتا ہے، اس حکومت کے قیام کی وجہ سے سنی اور شیعہ میں تفریق بڑھا دیجائے گی۔

اسی تناظر میں پاکستان کے نئے نقشے پر بھی کام ہورہا ہے۔ جسکی وجہ سے آج پاکستان تقریبا تمام بدنام زمانہ انٹلیجنس ایجنسیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ دیکھیئے زیونسٹ یہودیوں کی سازشوں کے جواب میں ہمارے مسلم حکمران یا وہ تنظیمیں جو اسلام کی حفاظت کی دعویدار ہیں، کیا کر پاتے ہیں۔

اب ان پروٹسٹنٹ لوگوں کے عقیدہ کے مطابق صلیبی جنگوں کو دیکھا جائے ۔ فلاڈلفیا جو کہ امریکہ کی ‏ایک ریاست ہے سے پروٹسٹنٹ کا ایک رسالہ نکلتا ہے، فلاڈلفیا ٹرمپٹ، جس نے اپنے دو سال پہلے کے ‏ایک اجراءمیں سرورق پر لکھا کہ آخری صلیبی جنگ تیار ہے۔ اندر تفصیل میں درج تھا کہ جو لوگ ‏سمجھتے ہیں کہ صلیبی جنگیں ماضی کا ایک قصہ پارینہ بن کر ختم ہو چکی ہیں، غلط ہیں۔ آخری ‏صلیبی جنگ کی تیاریاں جاری ہیں اور یہ سب سے زیادہ خونی جنگ ہو گی۔ یہی رسالہ اپنے ایک ‏جراءمیں پوپ کو شیطان عظیم قرار دیتا ہے۔

قارئین کو یاد رہے کہ یہ پروٹسٹنٹ جو آج امریکہ اور ‏برطانیہ میں آباد ہیں یہ وہی عیسائی ہیں جنھیں کیتھولک عیسائیوں نے یورپ پر پوپ کی حکومت کے ‏بعد مار مار کر بھگا دیا۔ ان کیلئے ضروری تھا کہ یا تو وہ کیتھولک ہو جائیں یا امھیں مار دیا جاتا۔ آج ‏وہی پرٹسٹنٹ امریکہ اور برطانیہ میں برسرِ اقتدار اور آباد ہیں۔ آج یورپ میں یہ یونین اسی پرانی رومن ‏کیتھولک عظیم ریاست کو دوبارہ قائم کرنے کی ایک کڑی ہے۔ صلیبی جنگوں کی تاریخ پر ایک نظر ‏دوڑائی جائے تو یہ پہلے عیسوی ہزار سال کے اواخر کے بعد دوسرے ہزار سال کے پہلی صدی میں ‏شروع ہوئیں1095ء سے 1291ء چار سال کم دو سو برس تک جاری رہیں۔ اسوقت مرکزی اور مغربی ‏یورپ کا پایہ تخت روم تھا اورسربراہ پوپ تھا، اسی لئے یہ رومن کیتھولک کہلائے، جبکہ مشرقی ‏یورپ، بلقان اور روس کا رقبہ یہ دوسرے ایک مشرقی چرچ جس کا سربراہ پوپ کی بجائے بادشاہ ہوتا ‏تھا اور انکا پایہ تخت استنبول یا پرانا قستنطنیہ تھا، اسوقت تک مغربی عیسائیت ابھی دو حصوں میں نہیں ‏بٹی تھی۔ جبکہ اسوقت مشرقی یورپ کی عیسائیت دو حصوں، ایسٹرن یا مشرقی چرچ اور روسی ‏آرتھوڈکس چرچ میں بٹ چکی تھی۔ اسوقت 1094 ءسلجوقی ترک مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں ‏قائم تھیں اور انھوں نے یورپ میں داخلہ کیلئے قستنطنیہ پر حملہ کا منصوبہ بنایا۔قستنطنیہ کے اسوقت ‏کے بادشاہ مائیکل ڈاکس یہ جان چکا تھا کہ وہ دفاعی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس نے تمام یورپ اور ‏عیسائی دنیا سے اپیل کی اور انھیں ترک سلجوقی مسلمانوں کو تباہ کرنے کی درخواست کی کہ کہیں وہ ‏یورپ میں داخل نہ ہو جائیں۔ 1095ء میں پوپ اربن ثانی نے اس کام کا بیڑہ اٹھایا اور فرانس کے ایک ‏شہر کلیر مائونٹ میں ایک نہایت جوشیلی تقریر کی کہ ارض مقدس سے تمام مسلمانوں کو نکال دو اور ‏صلیبی جنگ کیلئے پورا یورپ اٹھ کھڑا ہوا اور سلجوقی مسلمانوں پر قستنطنیہ اور اناطولیہ پر حملہ کر ‏دیا اور مسلمانوں اور یہودیوں کا بلا امتیاز قتلِ عام کیا۔ اس وقت تک یہودی عیسائی گٹھ جوڑ نہ تھا۔ اس ‏کے بعد یہ یورپی افواج میڈیٹرینین کے ساحل پر تمام چھوٹی چھوٹی مسلم حکومتوں کو تہس نہس کیا اور ‏قبضہ کیا، خلافت بنو عباس اس وقت تک انتہائی کمزور ہو چکی تھی اور دفاعی حالت میں نہ تھی۔ اسی ‏طرح یہ افواج 1099ء میں یروشلم میں داخل ہوئیں اور قتل عام کی وہ مثال قائم کی جو آج تک کہیں نہیں ‏ملتی، عیسائی مؤرخین کے مطابق بھی گلیوں میں خون اسطرح بہہ رہا تھا کہ گھوڑے اس میں گھٹنوں ‏تک ڈوبے ہوئے تھے، اس قتل عام میں بھی مسلمان اور یہودی بلا امتیاز قتل ہوئے۔ یہاں اٹھاسی سال تک ‏عیسائی حکومت قائم رہی اور 1187ء میں صلاح الدین ایوبی کے حملہ کے بعد ختم ہوا۔ بعد میں 1228ء سے 1244ء دوبارہ عیسائی اس پر قابض رہے۔ اور آخر میں 1291ء میں مسلمانوں نے عیسائیوں کو ‏بے دخل کر دیا۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جسقدر خونریزی عیسائیوں نے کی شائد ہی ‏اسکی کوئی مثال ملے، مسلمانوں کا قتل عام، یہودیوں کی خونریزی، یورپ کی آپس میں جنگیں، عیسائی ‏فرقوں کی باہمی جنگیں، تلوار کے زور پر عیسائی بنانے اور عیسائیوں کو کیتھولک بنانے اور فرقہ نہ ‏بدلنے پر موت کی سزائیں، ایک لمبی تاریخ ہے اسکی۔ سبھی پروٹسٹنٹ عیسائیوں پر مظالم۔ آپ اس ‏خونریزی کی تاریخ پر عیسائیوں کی اپنی ہی لکھی ہوئی کتاب‎ blood on the cross ‎پڑھ سکتے ہیں۔ ‏جبکہ مسلمانوں کی صرف چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسا کوئی پس منظر نہیں ملتا۔ ‎ ‎جنگ عظیم کے بعد عیسائیوں کی مسلم دشمنی اور صلیبی جنگوں کے پس منظر میں عیسائی ذہنیت کا ‏یوں پتہ چلتا ہے کہ جب دوسری دمشق میں جنرل ایلن داخل ہوا تو وہ خصوصی طور پر سلطان صلاح ‏الدین ایوبی کے مزار پر گیا اور ٹھوکر مار کر کہا‎ saladdin, we are again here ‎تب عیسائیوں ‏کی طرف سے یہودیوں کو تحائف پیش کیے گئے۔ یہ وہی یہودی تھے جنھیں ہمیشہ یورپ میں دوسرے ‏درجے کا شہری گردانا گیا اور ان کی بستیاں بھی شہر سے باہر ہوتی تھیں، شہر کے دروازے ان پر چند ‏گھنٹوں کیلئے کھولے جاتے کہ کھانے پینے کی اشیاءخریدیں اور اسکے بعد انھیں باہر نکال کر دروازے ‏پھر بند کر لیے جاتے۔ آج عالم ہے کہ وہی عیسائی یہودیوں کے تلوے چاٹنے پر مجبور ہیں۔

No comments:

Post a Comment