Thursday, June 4, 2009

عراق جنگ: کس نے کتنا کمایا



تحریر: فرخ صدیقی

امریکہ عراق جنگ میں دونوں کے نقصان پر نظر ڈالی جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جانی اور مالی ‏نقصان دونوں کا ہی ہو رہا ہے، لیکن جانی نقصان میں امریکہ عراق سے کہیں پیچھے ہے اور مالی ‏نقصان میں شائد کہیں آگے یا دونوں برابر۔ عراق کی جنگ جس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن ‏امریکہ میں کچھ حلقے ایسے ہیں جنھیں اس جنگ میں اربوں ڈالر کا فائدہ ہو رہا ہے، یہ حلقے گنتی کی ‏چند ملٹی نیشل پرائیویٹ فرمیں ہیں۔ جنھوں نے اس جنگ میں حیرت انگیز طور پر کھربوں ڈالر مالیت ‏کے مجموعی ٹھیکے حاصل کیے۔
آئیے ایک نظر ان منافع بخش ٹھیکوں پر ڈالیں جو امریکی کمپنیوں ‏نے حاصل کیے اور ان ٹھیکوں کی مد میں بلین ڈالر ز کی رقوم بانٹیں گئیں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے ‏کہ صدر بش کانگریس سے مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ جنگ جیتنے کیلئے مزید مناسب اقدامات ‏کیے جا سکیں۔

عراق کی جنگ ایک واحد جنگ ہے جس میں جنگی معاملات کو پرائیویٹ کمپنیوں کو ‏سونپ دیا گیا، جس میں فوج کا کھانا، لانڈری، گاڑیوں کی مرمت، کمیونیکیشن کے سامان کی فراہمی اور ‏مرمت، پانی کی سپلائی، کپڑوں کی دھلائی ،ٹرانسپورٹ، اسلحہ کی نقل و حمل ہی نہیں بلکہ جنگی ‏قیدیوں سے تفتیش اور سیکیورٹی جیسے حساس معاملات بھی انھیں پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کر دیے ‏گئے اور یہ ٹھیکے اربوں کھربوں ڈالر میں بغیر آزادانہ بولی کے دیے گئے۔

ہالی برٹن‏‎
ہالی برٹن عراق میں تعمیر نو اور فوجی دستوں کی مدد کے سلسلہ میں ساڑھے ‏اٹھارہ بلین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا ، ہالی برٹن عراق میں فوجی ٹرکوں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت بھی ‏کر رہی ہے۔ اسی طرح‏‎ نے عراق میں انجینئرنگ اور تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ5.3 بلین ڈالر ‏میں لیا۔ تاریخ میں کوئی بھی جنگ اس طرح نجی کمپنیوں کے سر پر نہیں لڑی گئی۔ ڈائن کارپ‎ ‎DynCorp ‎نامی فرم نے عراق میں پولیس کو ٹریننگ دینے کا ٹھیکہ 1.9 بلین ڈالر میں لیا۔ ٹرا نس ا ‏ٹلانٹک ٹریڈرز‎ Transatlantic Traders ‎نے 5میلین ڈالر میں جاسوسی طیاروں کی فراہمی کا ٹھیکہ ‏لیا۔ اس وقت بھی عراق میں بیس ہزار سے زائد نجی فرموں کے فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں جو یا ‏تو پہلے سیکیورٹی گارڈ تھے یا سابقہ امریکی فوجی۔ پرائیویٹ آرمی کی بھرتی اور عراق میں لڑوانے کا ‏ٹھیکہ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نامی فرم نے 21 ملین ڈالر میں لیا۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎عراق ‏میں نجی آرمی بھرتی کرنیوالی سب سے بڑی فرم ہے، جسے حال ہی میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ اس کے کم و بیش تین سو افسران و ملازمین ان ‏کاموں کی دیکھ بھال کیلئے عراق میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس فرم نے زیادہ تر سابقہ ریٹائرڈ ‏امریکی فوجیوں اور اور امریکی خصوصی پولیس کے سابقہ افسران اور سپاہیوں کو عراق میں لڑنے ‏کیلئے بھرتی کیا ہے۔ یہی فرم امریکی سفیر پال بریمر کی حفاظت کا کام بھی سر انجام دے رہی ہے۔ ‏انھیں فوجیوں میں سے کچھ مرنیوالوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انھیں اس فرم نے دو سے چھ ماہ کے ‏معاہدہ پر بھرتی کیا تھا اور اس عرصہ کیلئے وہ انتہائی پرکشش معاوضہ بھی دے رہے تھے ، کچھ ‏عرصہ قبل ا چار فوجیوں کو عراقی مزاحمت کاروں نے فلوجہ میں انکی کار پر حملہ کر کے بھون دیا، ‏جس کے فوری بعد عراقی عوام کے ایک ہجوم نے انکی لاشیں گاڑی سے نکال کر جلا دیں اور کچھ کو ‏ایک پل سے لٹکا دیا، یہ چاروں فوجی بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎فرم میں ملازم تھے اور سفیر پال ‏بریمر کی حفاظت پر متعین تھے۔ ان مرنیوالے فوجیوں کے لواحقین آج بھی امریکی حکومت اوراس فرم ‏کو انکا قاتل سمجھتے ہیں جنھوں نے پر کشش معاوضہ کی لالچ میں بغیر اصل صورتحال اور مقصد ‏بتائے انھیں جنگ میں جھونک دیا۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کے بانی ایرک ماضی میں ریپبلکن پارٹی ‏کو دو ملین ڈالرسے زیادہ کے فنڈز دے چکے ہیں ۔ اور آج بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کو وائٹ ہائوس ‏کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ فوجیوں کے مرنے کے بعد کچھ سینیٹرز نے اس فرم کے خلاف کاروائی کا ‏مطالبہ کر دیا لیکن بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کے وائٹ ہائوس تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ان ‏سینیٹرز کو اس فرم کیخلاف تحقیق و کاروائی کی منظوری نہ مل سکی۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نے ‏حکومت کے حساس اداروں کے با اثر افسران کو باقاعدہ طور پر اپنے گروپ میں لینا شروع کر دیا جن ‏میں کائونٹر ٹیررزم کے کو آرڈینیٹر جناب کوفر بلیک، پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل جوزف شمز،امریکی ‏فوج کے سٹاف سارجنٹ کرس ٹیلر، سابقہ سیکرٹری آف سٹیتٹ کولن پاول، سی آئی کے سابقہ ڈائریکٹر ‏جارج ٹینٹ،حکومتی سیکریٹری ڈونالڈ رمز فیلڈ قابل ذکر ہیں۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کی اس حکمت ‏عملی کے بعد یہ فرم اتنی با اثر ہو گئی کہ اس کیخلاف کوئی بھی تحقیق آج تک بے اثر ہے۔ بلیک واٹر‏‎ ‎

‎ ‎بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نے اس کے علاو ہ بدنام زمانہ عراقی جیل ابو غریب میں قیدیوں سے تفتیش ‏کا ٹھیکہ بھی حاصل کیا اور اس کام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مترجم اور سابقہ پولیس اور جرائم پیشہ ‏افراد کی بھرتی کی۔ اور یہ بھرتیاں بغیر کسی امتحان کے صرف ایک چھوٹے سے انٹرویو کی بنیاد پر ‏کی گئیں، تمام درخواست دہندگان کو موزوں قرار دیکر انھیں تفتیش جیسا حساس کام بھی سونپ دیا گیا۔ ‏انھیں تفتیش کاروں میں سے انتھونی لیگورین کا کہنا ہے کہ انھیں عربی کی تھوڑی بہت سمجھ تھی اور ‏انھیں اس فرم نے چار ماہ کیلئے چالیس ہزار ڈالرکی پیشکش کی جسے وہ رد نہ کر سکے۔

ابو غریب ‏جیل کی سابقہ بریگیڈئر جینس کارپنسکی کا کہنا ہے کہ اپریل 2003ءمیں انھیں بریگیڈئر کے عہدہ پر ‏پروموٹ کر کے عراق بھیج دیا گیا اور انھیں تفتیشی مقاصد کیلئے ان جیل ایکسپرٹ کی مدد کرنا تھی۔ ‏انکے مطابق انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ ان نجی کمپنیوں کے تفتیش کاروں کو کون کنٹرول کر رہا ہے ‏کیونکہ یہ وہاں کسی کے تابع یا کسی کو جوابدہ نہ تھے، کسی فوجی کا کسی بھی غیر مناسب رویہ پر ‏کورٹ مارشل تو ہوتا تھا لیکن ان تفتیش کاروں کے ہاتھوں کسی قیدی کے مرنے پر بھی ان سے کوئی ‏پوچھ گچھ نہ تھی، اور ان کو ملنے والی ہفتہ وار تنخواہ کسی بھی امریکی فوجی کے پورے مہینہ کی ‏تنخواہ کے برابر تھی جب کہ فوجی باہر عراق میں مزاحمت کاروں سے لڑ رہے تھے جبکہ یہ تفتیش کا ‏رگرین ایریا میں موجود اپنی آرام دہ رہائش گاہوںسے ابو غریب جیل میں صرف تفتیش کرنے آتے۔ ‏بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کے ان تفتیش کارو ں نے ابو غریب میں برببریت کی جو مثالیں قائم کیں، ‏امریکی فوجی اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ گردانتے ہیں۔ ان تفتیش کاروں میں بلیک واٹر‏‎ Black ‎Water ‎کے علاوہ دو مزید فرموںٹائی ٹین‎ Titan ‎اور کاکی‎ C.A.C.I‎، کے ملازم بھی اس اسرائیلیت ‏میں ملوث تھے۔‏
‎ ‎کاکی‎ C.A.C.I ‎فارچون رسالہ کے اپریل 2006ءکے ایڈیشن میںدنیا کی ایک ہزار امیر ترین فرموں ‏میں سے 921 نمبر پر تھی اور یہ اس فرم کی چتالیس سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ تھا۔ اس فرم نے عراق ‏میں تفتیش کرنے کی مد میں 6بلین ڈالر کا ٹھیکہ لیا۔ کاکی‎ C.A.C.I ‎نے 2004 ء میں 2.2بلین کا بزنس ‏کیا۔
ٹائی ٹین‎ Titan ‎نامی فرم نے بھی ٹھیکوں کی اس بہتی گنگا میں پوری طرح ہاتھ دھوئے،اس فرم نے ‏بھی بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کی طرح با اثر افراد کو اپنے ڈائریکٹرز میں شامل کیا جن میں جارج ‏بش، سی آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر، ایف بی آئی کے کچھ افسران، امریکی ائر فورس کے سیکرٹری ‏لارنس ڈیلانے، ڈیفنس نیوکلیئر ایجنسی کے مینیجر انتون فریڈرکسن، آرمی کارپس فار انجینیئرز کے ‏آفیسر لیزلی اے روز اور دفاعی سیکرٹری کے مددگار جان ڈریزنڈورف قابل ذکر ہیں۔ کاکی‎ C.A.C.I ‎اور ٹائی ٹین‎ Titan ‎نے قانونی ہتھکنڈوں سے اثرو رسوخ خریدنا شروع کیا اور 2.8ملین ڈالر اپنی ‏لابنگ اور سیاسی حلقوں میں پراپیگنڈہ اور اپنی کاروباری ساکھ بنانے پر خرچ کیے۔ انھیں کمپنیوں کے ‏اہلکار ابو غریب جیل میں ملوث پائے گئے لیکن کاروائی صرف چند امریکی فوجیوں کیخلاف ہوئی اور ‏اس سے آگے نہ بڑھ سکی، اسکے باوجود ان کمپنیوں نے امریکی فوج سے مزید ٹھیکے حاصل کر لیے۔ ‏ٹائی ٹین‎ Titan ‎کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی آمدنی 2004ءسے 2005 ء تک 4.7 بلین ڈالر تک چلی ‏گئی۔
اسی طرح کے بی آر‏‎ K.B.R‎نامی فرم نے عراق میں فوجیوں کے طعام قیام، لانڈری، گاڑیوں کی مرمت ‏، ایندھن کی فراہمی، سامان کی نقل و حمل اور فوجیوں کو محاذ پر اسلحہ کی فراہمی کے ٹھیکے لئے۔ ‏اگر آپ کے بی آر‏‎ K.B.R ‎کو نہیں جانتے تو اسکا مطلب ہے کہ آپ کبھی عراق نہیں گئے، کیونکہ اس ‏فرم کا عراق کے پورے رقبہ پر کسی نہ کسی طرح اثر و رسوخ ہے۔ کے بی آر‏‎ K.B.R ‎کے ٹرک ‏پورے عراق میں فوجیوں کو سپلائی دینے کیلئے سڑکوں پر بھاگتے نظر آتے ہیں۔ان ٹرکوں پر مزاحمت ‏کاروں کے حملوں کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے شائد اسلئے اس فرم نے بطور ٹرک ڈرائیور زیادہ تر ‏پاکستانی، نیپالی اور انڈین شہریت کے لوگوں سے کویت سے بھرتی کیا ہے۔‏‎ ‎



جنگ ہے کہ ختم ہونے کا کچھ پتہ نہیں ، کیا امریکی فوجی عراق میں پھنس چکے ہیںیا امریکی عوام؟ ‏کسی کو کچھ پتہ نہیں۔صدر بش کانگریس سے مزید رقوم کا مطالبہ کر ہے ہیں،ٹھیکوں کی تمام رقوم ‏حکومتی خزانے سے ادا کی جا رہی ہیں،سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی حکومت جو اپنے ہی عوام ‏سے ٹیکس وصول کر کے اپنی بنائی ہوئی فرموں کو اربوں ڈالر کے ناجائز ٹھیکے دے رہی ہو، کیا اس ‏سے عراق میں امن امان قائم کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے!؟
‏‎ ‎‏‎ ‎ ‎نے ٹھیکوں کی مد میں 2001ءمیں 0.77ملین ڈالر، 2002ءمیں 5.1 ملین ڈالر، ‏‏2003ءمیں 21.1 ملین ڈالر، 2004ءمیں42.8 ملین ڈالر اور 2005 ءمیں 221.4 ملین ڈالر کی رقوم ‏حاصل کیں۔ اسکے بعد بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نے نہ صرف امریکی ریاستوں بلکہ بیرون ممالک ‏بھی انتہائی کثیر اثاثہ کی مالیت کے آفس بنائے۔ اس فرم کی شرح نمو 2001ءسے 2005ءتک 600% ‏تک بڑھ گئی۔ اس فرم کا کہنا ہے کہ وہ چند لمحوں کے نوٹس پر لاکھوں کی فوج مہیا کر سکتے ہیں۔ اس ‏فرم نے ان عراقی ٹھیکوں کی رقوم سے مزید اثرو رسوخ خریدا اور کٹرینا طوفان میں عوامی مدد کے ‏ٹھیکوں کی مد میں مزید 73 ڈالر کے ٹھیکے حاصل کیے۔ کٹرینا میں اس فرم نے دو لاکھ ترتالیس ہزار ‏ڈالر فی یوم کی اجرت پر اپنی خدمات پیش کیں۔‎ ‎‏‎ ‎ہالی برٹن نامی فرم سے امریکی فوجیوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ انھیں پینے اور نہانے ‏کیلئے صاف پانی مہیا نہیں کر رہی ہے اور کھانا لینے کیلئے ایک لمبی لائن میں لگنا پڑتا ہے، کھانا ‏مقررہ اوقات کے علاوہ کسی اور وقت میں دستیاب نہیں ہوتا جسکی وجہ سے سب فوجیوں کو اکٹھا کھانا ‏پڑتا ہے اور اتنی تعداد میں اکٹھے کھانا کھاتے ہوئے فوجیوں پر متعدد حملے بھی ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ‏عراقی مزاحمت کا ان فوجیوں کے کھانے کے اوقات کار سے واقف ہیں۔ ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎کے ‏ایک سابقہ ملازم کا کہنا ہے کہ یہ فرم ایک پیپسی یا کوک کی بوتل پنتالیس ڈالر میں مہیا کر رہی ہے، ‏اسی طرح ایک فوجی وردی کی دھلائی کی مد میںسو ڈالر وصول کیے جا رہے ہیں، ہالی برٹن‏‎ ‎HaliBurtonنے اپنے ملازمین کی رہائش کیلئے کویت کے ساحل پر ایک پرتعیش ریزورٹ بنا رکھا ‏ہے جس مکی تعمیر میں سنگ مر مر ، مہاگنی کی لکڑی اور تعمیرات کا دوسرا انتہائی پر تعیش سامان ‏شامل ہے، سوئمنگ پولز کے علاوہ ملازمین واٹر موٹر بوٹس اور سکوٹرز سے بھی لطف اندوز ہوتے ‏ہیں۔ اس سے آپ انکی باقی خوراک کی ٹھیکوں میں دی گئی قیمتوں کا اندازا کر سکتے ہیں۔ ان ٹھیکوں ‏میں دھاندلیوں کے اچھے خاصے انکشافات ہو چکے ہیں۔ لیکن ان فرموں میں با اثر افراد کی شمولیت ‏انکے احتساب میں ہمیشہ آڑے آ جاتی ہے۔ کے بی آر‏‎ K.B.R ‎اور ہالی برٹن‏‎ HaliBurton‎کے ملازمین ‏کویت اور عراق میں جو گاڑیاں چلاتے ہیں سب کی سب فور وہیل ڈرائیو ہیں اور فورڈ برانڈ کی یہ ایک ‏گاڑی چالیس ہزار ڈالر کی مالیت سے زیادہ کی ہے۔ یہ ملازمیں جنھیں کویت میں آفس کی دیکھ بھال سے ‏زیادہ کوئی کام نہیں ، فلی لوڈڈ فور وہیل گاڑیاں گھاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ گاڑیاں لیزنگ پر بھی لی گئی ‏ہیں، اور ایک گاڑی کی تین سالہ لیز کے سات ہزار ڈالر ماہانہ تک ادا کیے جا رہے ہیں۔ جس سے تین ‏سال میں اس گاڑی کی قیمت ڈھائی لاکھ روپے ادا ہو گی، جبکہ اس گاڑی کی اصل قیمت پچاس ہزار ڈالر ‏سے زیادہ نہیں۔ ان کمپنیوں کے ملازمین عراق میں بھی کیڈلک گاڑیوں میں پھرتے نظر آتے ہیں۔ کویت ‏میں کام کرنیوالے ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎کے ایک سابقہ ملازم کا کہنا ہے کہ ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎نے غلطی سے غلط کمپیوٹرز اور گاڑیوں کا آرڈر دے دیا، جسے بعد میں جلا کر انشورنس کلیم کر لیا ‏گیا۔ جلنے والی ایک ایک گاڑی کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے زیادہ کی تھی۔ ایک گاڑی یا ٹرک کے ‏خراب ہ و جانے کی صورت میں بجائے پرزہ جات بدلنے یا مرمت کرنے کے ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎نیا ٹرک خرید کر حکومت امریکہ سے اسکی رقم وصول کر لیتی ہے۔ کچھ ٹرک ڈرائیوروں نے حکومت ‏سے شکایت بھی کی کہ یہ فرم بلا وجہ عراق میں ٹرک چلواتی رہتی ہے اور اسکے فیول کی مد میں ‏لاکھوں کا بل حکومت کو بھجوا دیتی ہے، لیکن اس شکایت کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ، کسی بھی شکایت ‏کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا حتیٰ کہ سینیٹ میں ان شکایات پر مبنی بل بھی حکومتی سینیٹرز کے ووٹوں ‏سے رد کر دیا گیا، کیونکہ دوسرے با اثر حکومتی اہلکاروں کی طرح وائس پریزیڈنٹ ڈک چینی ‎میں حصص ہیں۔‎ HaliBurtonکے بھی ‏ہالی برٹن‏

No comments:

Post a Comment