Tuesday, June 9, 2009

استعماری قوتیں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کررہی ہیں۔


کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ایک موقر روز نامے میں شائع ہونے والی بدنام زمانہ امریکن سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکن سی آئی اے نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کیلئے کام کرنے والے اپنے خصوصی شعبے پاکستان ویسٹرن ایسٹرن ونگ (PWE)کو پاکستان کی مزید تقسیم کیلئے ازسر نو بحال کردیا ہے اور امریکی کانگریس نے بھاری اکثریت سے اس منصوبے کیلئے ایک کھرب ڈالر کا خفیہ بجٹ بھی منظور کیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ویسٹرن ایسٹرن ونگ (PWE)کو 1969ءمیں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد مشرقی پاکستان کی علیحدگی کیلئے راستہ ہموار کرنا تھا ،بنگلہ دیش بن جانے کے بعد اس ونگ کو پاکستان ڈیسک میں ضم کردیا گیاتھا ،تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق دوبارہ اس ونگ کو فعال اور متحرک کرنے کا مقصد پاکستان میں لسانی، علاقائی اور صوبائی خودمختاری جیسے نازک معاملات کو ہوا دے کر علیحدگی پسند تحریکوں کو منظم کرنااور ان کیلئے ساز گار حالات پیدا کرنا ہے۔

امریکن سی آئی اے کی کوشش ہے کہ پاکستان کو چار صوبائی زون کے علاوہ اسے مزید آٹھ زون یا صوبوں میں تقسیم کرادیا جائے یا پنجاب،سندھ،سرحد،کشمیراور بلوچستان میں شکست و ریخت کے منصوبے بنائے جائیں،رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جس طرح امریکن سی آئی اے 2001ءسے بلوچستان میں سمندری علاقوں پر مشتمل ایک مضبوط ریاست بنانے کیلئے سرگرم عمل ہے ، اسی طرح امریکن سی آئی اے 1995ءسے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کے منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے امریکہ کی خواہش ہے کہ کراچی اور حیدرآباد پر مشتمل دونوں شہروں کو مستقبل میں وہ اپنی بزنس کالونی کے طور پر استعمال کرسکے۔

امریکن سی آئی اے کے اس ناپاک منصوبے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را،اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد بھی شامل ہیں،امریکن خفیہ ادارے سی آئی اے کی اس رپورٹ کے تانے بانے 2006ءمیں امریکن آرمڈ فورسز جرنل کے سابق فوجی افسر اور دفاعی امور کے ماہر رالف پیٹرز کی
” Blood borders:How a better Middle East Would Look “ کے عنوان سے شائع ہونے والی تحریرسے ملتے ہیں جس میں اس نے مشرق وسطیٰ اور پاکستان کی تقسیم کو اس بنیاد پر ناگزیر قراردیا تھا کہ ان کی سرحدیں غیر فطری ہیں، رالف پیٹرز کے منصوبے کے مطابق عراق کی تین حصوں میں تقسیم کے علاوہ سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں اور دیگر عرب ملکوں کی شیعہ آبادی پر مشتمل ایک عرب شیعہ ریاست اور ایک کرد ریاست کے قیام اور مشرق وسطیٰ کے نقشے میں مزید تبدیلیوں کے علاوہ پاکستان کے جغرافیہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

رالف پیٹرز کی اس اسکیم میں ایک آزاد بلوچستان کے قیام کو ناگریز قرار د ینے کے ساتھ صوبہ سرحد کی افغانستان میں اور افغانستان کے شیعہ آبادی والے صوبوں کو ایران میں شمولیت کی تجویر بھی پیش کی گئی ہے۔
امریکی خفیہ یجنسیوں کی رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی Strategic ماہرین روس کے انتشار اور دیوار برلن کے انہدام کے بعد سے ایک ایسی عالمی حکمت عملی کے تانے بانے بننے میں مشغول تھے جس کے زریعے امریکہ 21ویں صدی کی واحد سپر پاور بن سکے اور دنیا میں امریکہ کا مقابلہ کرنے والی کوئی قوت باقی نہ رہے ،امریکہ چاہتا ہے کہ دنیا کے تمام اہم Strategic مقامات پر اس کے فوجی اڈے ہوں ،تیل گیس،اور خام مال کی رسد گاہیں اس کے کنٹرول میں رہیں،اس کی مصنوعات کیلئے عالمی منڈیاں بالخصوص عرب اور تیسری دنیا کے ممالک کی منڈیاں کھلی رہیں ،اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ وسطی ایشیا کی حکومتوں کا سیاسی نقشہ اس طرح ترتیب دیا جائے کہ دونوں خطوں میں امریکی مفادات کے تحفظ کے ساتھ امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کی سلامتی بھی محفوظ رہے اور اسرائیل خطے میں امریکی مفادات کے حصول کیلئے کلیدی کردار ادا کرتا رہے۔

چنانچہ اس مقصد کے حصول کیلئے عراق کی کمر توڑنا،افغانستان میں قدم جمانا ،ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا،پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا ،بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کے زریعے علاقے میں اپنے اثرات بڑھانا، چین پر نظر رکھنے کے ساتھ اسے جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر ہراساں کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ عراق،پاکستان،افغانستان،کو علاقائی،فرقہ وارانہ عصبیتوں کی بنیاد پر ٹکڑے ٹکڑے کرکے کمزور کرنا امریکہ کے وہ کلیدی اہداف ہیں جن پر 1990ءکے عشرے سے کام ہورہا تھا ، ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ Project for the new Americal Century کے مطابق ”ہمارا مقصد ایک ایسا بلیو پرنٹ تیار کرنا ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر امریکہ کی برتری برقرار رکھنا ،کسی دوسری عظیم طاقت کے بطور حریف عروج کو روکنا،اور بین الاقوامی سلامتی کے نظام کو امریکی اصولوں اور مفادات کے مطابق تشکیل دینا ہے“ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں امریکی پالیسی کے مقاصد بالکل واضح ہوکر سامنے آگئے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک عنوان اور نعرے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

امریکہ کا اصل مقصد دنیا میں امریکی بالادستی ،مسلم اور دیگر ممالک میں اپنے مطلب کی حکومتوں کا قیام،تیل اور دوسرے وسائل پر قبضہ اور ان کا اپنے مفاد میں استعمال،دنیا میں احیائے اسلام کی تحریکوں کا راستہ روکنا،اسلامی بنیاد پرستی، اسلامی انتہا پسندی اور اسلامی دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں اسلام کو قوت بنانے سے روکنا اور اپنی سیاسی، معاشی، نظریاتی، عسکری، ثقافتی اور ذہنی غلامی میں جکڑنا ہے، استعماری قوتوں کا یہی وہ ایجنڈا ہے جس کے تحت عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کے خلاف سازشیں گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔

استعماری قوتیں مسلم ممالک کو کم زور کرنے اور امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اورنائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کھل کر اعلانیہ طور پر مسلم ممالک کے خلاف صف آراءہوچکے ہیں، انہوں نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کے نام پر عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں کا آغاز کردیا ہے جس کا اصل ہدف پاکستان اور بالخصوص وہ اسلامی ممالک ہیں جنہیں قدرت نے بے پناہ قدرتی وسائل اور معدنی دولت سے نوازاہے یا جو جغرافیائی محل و قوع کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

یہاں اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ اپنے آغاز کے روز اوّل سے صرف مسلم ممالک کے خلاف لڑی جارہی ہے ،امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نام پر اپنے جنگی جنون میں مبتلا ہوکر محض مفروضات کی بنیاد پر افغانستان اور عراق کو وحشیانہ طریقے سے اپنی بربریت کا نشانہ بناکر تخت و تاراج کردیا،جیتی جاگتی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ لاکھوں چلتے پھرتے زندگی سے بھرپور انسانوں کو موت کی نیند سلادیا اور اب وہ جہاں ایک طرف ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر رہے ہیں اور اسے دھمکیاں دے رہے ہیں وہاں دوسری طرف پاکستان کو جو اسکی نام نہاد عالمی جنگ کا اہم ترین اتحادی بھی ہے کے خلاف زہریلا منفی پروپیگنڈہ بھی جاری ہے۔

من گھڑت ،جعلی اور مفروضات پر مبنی رپورٹس کی بنیاد پر قبائلی علاقوں کو القاعدہ اور طالبان کی پناہ گاہ قرار دے کر وہاں اسامہ بن لادین سمیت القاعدہ کے اہم ترین رہنماوں کی موجودگی کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں، پاکستان پر براہ راست حملے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ،ایک امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے تو یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ11ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان میں القاعدہ کے خلاف امریکہ کی جنگ کے دوران سابق بے غیرت آمر مشرف نے امریکہ کو اس بات کی اجازت دی تھی کہ اگر القاعدہ کے رہنمااسامہ بن لادن پاکستانی قبائلی علاقے میں موجود ہوں تو انہیں ڈرون طیارے کے ذریعے میزائل سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

18فروری کے انتخابات کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ نئی حکومت عوامی منیڈیٹ کا سہارا لے کر مریکہ اور صدر مشرف کے مابین ان تمام خفیہ اور اعلانیہ معاہدوں کا کھوج لگاتی جن کی بنیاد پر امریکی فورسزجب چاہیں قبائلی علاقوں پر حملہ کردیتی ہیں،لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلاسب کچھ وہی ہے،وہی آئین ہے وہی قانون ہے ،پیپلز پارٹی نے سابق صدر پرویز مشرف سے این آر او خرید کر اپنی آزادی کے ساتھ اپنی خودی بھی بیچ ڈالی ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ حکومت مشرف کا محاسبہ کرنے سے گریز کررہی ہے۔

آج پاکستان کا سیاسی منظر نامہ یہ ہے کہ 18فروری کے بھر پورعوامی مینڈیٹ کے باوجود پی سی او کا نفاذ ،کمزور پارلیمنٹ اور امریکی مداخلت کے تمام پتھر جو کے توں وہیں پڑے ہیں،جہاں 3نومبر 2007ءکے آمرانہ اقدام کے بعد ڈالے گئے تھے، قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کی صورت میں جس طرح کل قیامت توٹتی تھی آج بھی وہی حال ہے ،کل تک ہمارے حکمران امریکی حملے کو اپنی کاروائی قرار دیتے تھے جبکہ آج یہ حال ہے کہ موجودہ حکومت کے ان حملوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، یوں لگتا ہے کہ نئی حکومت نے مشرف سے زیادہ امریکہ کی خدمت گاری اور کاسہ لیسی کرکے عوامی خواہشات اور مینڈیٹ کو مٹی میں ملانے کا تہیہ کرلیا ہے، یہ بات درست ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے ہی امریکی مفادات کے تابع رہا ہے اور ہر حکمران نے امریکی خوشنودی کے حصول کیلئے وہ سب کچھ کیا جو امریکہ چاہتا تھا، لیکن نائن الیون کے بعد سے جس طرح پاکستان نے امریکہ کی جانب سے چلائی جانے والی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کا فیصلہ کیا،وہ پوری قوم کیلئے حیران کن تھا۔

مشرف جو اس وقت فوجی سربراہ بھی تھا کے بقول ان کے پاس امریکہ حمایت کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھااور انہوں نے یہ فیصلہ ”سب سے پہلے پاکستان“ کو مدنظر رکھ کر کیا تھا ان کے بقول ان کو اسی فیصلے پر عمل درآمد کرنا تھا جو امریکہ نے انہیں تجویز کیا تھا،ورنہ دوسری صورت میں امریکہ ہمیں تورا بورا میں تبدیل کرسکتا تھا،حالانکہ نائن الیون سے قبل جنرل پرویز مشرف بیرونی دنیا بشمول امریکہ کو یہ باور کرواتے رہے کہ وہ دہشت گردی اور جہاد میں فرق سمجھیں اور دونوں کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے اور اسی طرح وہ طالبان کی حمایت بھی کرتے رہے لیکن نائن الیون کے بعد پاکستان اور جنرل پرویز مشرف کی جانب سے امریکی دباو پر یو ٹرن نے ملک کو ایک نئی صورت حال سے دوچار کردیا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکی جنگ میں پیش پیش پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہوکر رہ گیا۔

آج یہ حال ہے کہ اپنا سب کچھ قربان کردینے کے باوجود پاکستان کو دنیا بھر میں دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اورہمارا حال یہ ہے ہم اب بھی امریکی مفادات کی وہ جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں لڑ رہے ہیں جونہ تو پاکستان کی جنگ ہے اور نہ ہی امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات کی جنگ ہے بلکہ یہ تو صرف امریکہ کے استعماری عزائم کے حصول کی جنگ ہے،اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں آلہ کار بنے رہنا ایک اخلاقی ،سیاسی اور نظریاتی جرم ہے جس سے جلد ازجلد چھٹکارا پاکستان اور عالم اسلام کے مفاد میں ہے۔

پاکستان جو پہلے ہی بد ترین سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہے کیلئے ان حالات میں طاقت کے زریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش ملک و قوم کیلئے سنگین مسائل پیدا کرسکتی ہے اور زرا سی لغزش سے پاکستان کی حاکمیت، آزادی ،سلامتی،استحکام ، تشخص اور وجود کو داو پر لگ سکتی ہے،ماضی میں مشرقی پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کا انجام قوم کو عبرتناک شکست اور 90ہزار جنگی قیدیوں اور ڈھائی لاکھ محصور پاکستانیوں کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے اس سے قبل بھی حکومت بلوچستان میں 1973,1958,1948اور 2005میں فوجی کاروائی کر چکی ہے جس کے نتائج غصہ ،نفرت ،بغاوت اور سوائے اپنے بھائیوں کے قتل کے اور کچھ حاصل نہیں ہوئے۔

حکمت اور داشمندی کا تقاضہ یہ تھا کہ صوبہ سرحد میں بدامنی کے اسباب معلوم کر کے اس کے سدباب کی جانب فوری توجہ دی جاتی، اس وقت صوبہ سرحد میں بدامنی کے دیگر کئی اسباب کے علاوہ سب سے بڑا سبب قبائلی علاقے میں جاری فوجی آپریشن ہے،جس کے خلاف قبائل سمیت صوبے کے عوام میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے،اسی طرح دوسری جانب اتحادی اور امریکی افواج کی جانب سے درجنوں بے گناہ اور معصوم افغانوں کا قتل عام بھی صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں پائی جانے والی بد امنی کی اہم وجہ ہے۔

پاکستان کے سابقہ اور موجودہ حکمران چوں کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ہراول دستے کا کردار ادا کررہے ہیں،جس کی وجہ سے صوبہ سرحد سمیت پورے ملک میں حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف سخت نفرت پائی جاتی ہے،جس کا اظہار سیکورٹی فورسز پر حملوں اور سیکورٹی و فوجی اہلکاروں کے اغوا ءاور قتل کی صورت میں سامنے آرہا ہے،قبائلی علاقوں میں جاری خانہ جنگی کی اس کیفیت نے سانحہ مشرقی پاکستان کی یاد تازہ کردی ہے،اس تباہی و بربادی سے صرف ایک خطہ ہی متاثر نہیں ہورہا بلکہ یہ آگ پھیل کر کسی بھی وقت پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ ہمارے حکمران اور فوجی و عسکری قیادت اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کر ے ،بصورت دیگر طاقت کے اندھا دھند استعمال سے سانحہ مشرقی پاکستان جیسی صورتحال دوبارہ جنم لے سکتی ہے،ان حالات میں محب وطن حلقوں کی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ ”استعماری طاقتیں پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کررہی ہیں اور پاکستان کو ایران سے زیادہ خطرات لاحق ہوسکتے ہیں کہ پاکستان ایک طرف اپنے جغرافیائی محل و قوع کی وجہ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے تو دوسری جانب عالم اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست ہونے کے باعث استعماری طاقتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔

سب سے اہم ترین بات یہ ہے کہ پاکستان نہ صرف واحد مسلم ایٹمی ہے بلکہ اسلامی ممالک میں سب سے بڑی باصلاحیت ،جدید دفاعی ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی سے لیس تربیت یافتہ ،پیشہ ور فوج بھی اس کے پاس ہے اور پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو عالم اسلام کے اتحاد کیلئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں امت مسلمہ کے اتحاد پر صرف کررہا ہے اور یہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے استعماری قوتیں پاکستان کو کسی بھی صورت مستحکم ،توانا،مضبوط ،پر امن اور خوشحال دیکھنا نہیں چاہتیں، اس نازک وقت میں پاکستان کا ہر ادارہ خواہ اس کا تعلق پارلیمنٹ سے ہو یا عدالت سے،فوج سے ہو یا سول نظام سے ،سیاسی جماعتوں سے ہو دینی اداروں سے یا پھر وہ میڈیا تعلق رکھتے ہوں یا عوام سے ہوں سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان کو اس ممکنہ تباہی و بربادی سے بچائیں جس کی آگ میں عالمی ایجنڈے کے تحت اسے جھونکا جارہا ہے۔

No comments:

Post a Comment