Monday, July 19, 2010

حضرت علی ہجویری اسلام کا دفاع کرنے غزنی سے لاہور آئے


تحریر: پیر محمد افضل قادری





نام و نسب و مولد:

آپ کا اسم گرامی ''علی'' ہے ابو الحسن آپ کی کنیت ہے اور داتا گنج بخش آپ کا مشہور ترین لقب ہے۔ حتیٰ کہ اکثر لوگ آپ کو آپکے نام ''علی'' کی بجائے آپ کے لقب ''داتا گنج بخش'' سے ہی جانتے ہیں۔ آپ افغانستان کے مشہور شہر غزنی میں400ھ کے لگ بھگ میں پیدا ہوئے۔

شجرہ نسب

آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے: سید ابو الحسن علی ہجویری رحمة اللہ علیہ بن سید عثمان رحمة اللہ علیہ بن سید علی رحمة اللہ علیہ بن سید عبدالرحمن بن سید عبداللہ رحمة اللہ (سید شاہ شجاع) بن سید ابو الحسن علی رحمة اللہ علیہ بن سید حسن اصغر رحمة اللہ علیہ بن حضرسید زید رحمة اللہ علیہ بن سید امام حسن مجتبیٰ بن امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فی الجنہ۔

ولادت

آپ کی ولادت ننھیالی گھر غزنی کے محلہ ہجویر میں ہوئی جس وجہ سے آپ کو ہجویری کہا جاتا ہے۔ آپ کے والد حضرت سید عثمان رحمة اللہ علیہ جید عالم عظیم فقیہ اور بہت بڑے عابد و زاہد تھے۔ آپ کی والدہ بھی بہت عابدہ زاہدہ اور پارسا خاتون تھیں۔ آپ کے ماموں زہد و تقویٰ اور علم وفضل کی وجہ سے ''تاج العلمائ'' کے لقب سے مشہور تھے۔ آج بھی آپ کے ماموں حضرت تاج العلماء کا مزار اقدس غزنی میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

تعلیم و تربیت

آپ کا گھر علم و فضل اور روحانیت کا گہوارہ تھا اور غزنی شہر بھی ان دنوں علوم و معارف کا مرکز تھا یہ سلطان محمود غزنوی کا دور تھا جو علم دوست بادشاہ تھے اور غزنی شہر میں علماء اور مدارس بھی بکثرت تھے بلکہ سلطان محمود غزنوی نے خود بھی غزنی شہر میں ایک عظیم الشان مدرسہ اور ایک عظیم مسجد تعمیر کی تھی۔

چنانچہ آپ کے والدین اور ماموں حضرت تاج العلماء نے آپ کی تعلیم و تربیت پر بہت توجہ دی چار سال کی عمر میں آپ نے قرآن مجید سے تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اپنے والدین سے تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے علاوہ نہ صرف غزنی شہر بلکہ تاشقند، سمر قند، بخارا، فرغانہ، ماوراء النہر، ترکستان، خراسان، توس، نیشا پور، مہنہ، قہستان، مرو، سرخس، فارس، کرمان، بیت المقدس، شام و عراق، آذر بائیجان، طبرستان، خورستان، سوس، ہندوستان اور دیگر متعدد بلاد و ممالک کے سفر کئے اور ممتاز علماء و صوفیاء سے اکتساب علم و فیض کیا۔

تعلیم و تعلم

کشف المحجوب میں فرماتے ہیں میں نے خراسان میں تین سو علماء سے ملاقاتیں کیں۔ آپ نے اپنے کثیر اساتذہ میں سے خصوصی طور پر شیخ ابو العباس احمد اشقانی رحمة اللہ علیہ اور شیخ ابوالقاسم علی گور گانی رحمة اللہ علیہ کا بڑے ادب وعقیدت کے ساتھ تذکرہ کیا ہے۔ آپ نے تمام مروجہ علوم معقول و منقول میں کمال حاصل کیا۔ وعظ و ارشاد، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف کے علاوہ مناظرہ میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔

داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فقہی مسلک

آپ مسائل فقہیہ میں امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمة اللہ علیہ کے مقلد تھے۔ کشف المحجوب میں آپ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کا شمار اجل صوفیا میں بھی کیا ہے۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کو امام الائمہ، شرف فقہاء اور دیگر عظیم الشان القاب سے ملقب کیا ہے اور بڑے ادب سے آپ کا تذکرہ کیا ہے۔

امام اعظم کے متعلق حضرت داتا گنج بخش کا خواب

حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں، میں علی بن عثمان ملک شام میں حضرت پیغمبر صلی علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی قبر پر سورہا تھا خواب میں دیکھا کہ حضرت پیغمبر صلی علیہ وآلہ وسلم باب بنو شیبہ سے (حرم شریف میں) تشریف لائے اور ایک بوڑھے شخص کو آغوش میں لیا ہوا ہے جیسے بچوں کو آغوش میں لیا جاتا ہے۔ تو میں نے دوڑ کر آپ صلی علیہ وآلہ وسلم کی قدم بوسی کی۔ میں حیران تھا کہ یہ بوڑھا شخص کون ہے تو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے اعجازاً میری اس کیفیت اور خیال سے مطلع ہوکر فرمایا یہ تیرا اور تیرے اہل ملک کا امام ابو حنیفہ ہے۔

پھر آپ اس خواب کی تعبیر یوں بیان فرماتے ہیں: ''اس خواب سے مجھے اور میرے اہل شہر کو بڑی امید بندھی مجھ پر ثابت ہوگیا کہ وہ ان افراد میں سے ایک ہیں جو اوصاف طبع سے فانی، احکام شرع سے باقی اور ان سے قائم ہیں۔ حقیقتاً انہیں اوصاف طبع سے نکال کر لے جانے والے پیغمبر صلی علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اگر وہ خود اوصاف طبع رکھتے تو باقی صفت ہوتے۔ باقی صفت، خطا کرنے والا ہوتا ہے یا حق کو پہنچنے والا۔ چونکہ انہیں اوصاف طبع سے نکال کر لے جانے والے پیغمبر صلی علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

لہٰذا وہ فانی صفت اور حضور صلی علیہ وآلہ وسلم کی صفت بقاء سے باقی و قائم ہیں۔ جب پیغمبر صلی علیہ وآلہ وسلم سے خطا نہیں ہوسکتی تو اس شخص سے بھی جو حضور صلی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قائم ہے خطا کا ہونا غیر ممکن ہے اور یہ ایک نکتہ ہے''۔

بیعت طریقت

آپ نے سلوک کی منازل کی تکمیل کے لیے اس دور کے سلسلہ جنیدیہ کے جلیل القدر روحانی پیشواء اور متبحر عالم دین حضرت شیخ ابو الفضل محمد بن حسن جنیدی رحمة اللہ علیہ سے بیعت ارشاد فرمائی۔ جو ملک شام میں دمشق اور بانیار کے درمیان بیت الجن نامی ایک بستی میں رہتے تھے اور جہاں پر اب ان کا مزار ہے۔

حضرت داتا رحمة اللہ علیہ خود حنفی المذہب تھے لیکن طریقت میں آپ نے حنبلی المذہب شیخ ابوالفضل ختلی رحمة اللہ علیہ کی بیعت کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکابر اولیاء امت کے قلوب فقہی اختلافات کے باوجود تعصبات سے پاک تھے۔

سلسلہ طریقت

آپ کا سلسلہ طریقت اس طرح ہے۔ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمة اللہ علیہ، مرید شیخ ابوالفضل محمد بن حسن ختلی کے، وہ مرید شیخ ابوالحسن علی حضرمی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید شیخ ابوبکر شبلی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید شیخ جنید بغدادی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید شیخ سری سقطی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید شیخ معروف کرخی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید شیخ دائود طائی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید حضرت حبیب عجمی رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ کے، وہ مرید باب مدینة العلم سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے اور وہ تربیت یافتہ حبیب خدا سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے۔

حضرت شیخ ابو الفضل ختلی رحمة اللہ علیہ صاحب کشف و کرامات جلیل القدر ولی اللہ، متبحر عالم، عارف اکمل، شریعت مطہرہ کے سخت پابند اور زہد و تقویٰ میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ سالکین کو کم کھانے کم خوابی اور کم بولنے کی تلقین فرماتے تھے۔ آپ نے جبل لکام میں ساٹھ سال طویل چلہ کشی فرمائی اس لمبے عرصے میں ایک ہی لباس میں ملبوس رہے اور اسے پاک وصاف رکھتے اور جب لباس پھٹ جاتا تو پیوند لگا لیتے حتیٰ کہ اصل کپڑے کا نام و نشان ختم ہوگیا تھا۔

حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے پیر و مرشد کے وصال کے وقت آپ کا سر مبارک میری گود میں تھا۔ آپ نے فرمایا: ''بیٹا! میں تمہیں عقیدے کا ایک مسئلہ بتاتا ہوں اگر تم نے اس پر عمل کرلیا تو ہر قسم کے رنج و تکلیف سے بچ جائو گے۔ یاد رکھو کہ ہر جگہ اور ہر حال اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد تیرے لئے مناسب ہے کہ نہ تو اس کے کسی فعل پر انگشت نمائی کرے اور نہ ہی دل میں اس پر معترض ہو اس کے علاوہ آپ نے اور کچھ نہ فرمایا اور جاں بحق تسلیم ہوگئے۔''

یہ 455ھ تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت داتا رحمة اللہ علیہ لاہور قیام کے دوران کچھ عرصہ (تقریبا 2 سال) کے لئے شام اپنے پیرو مرشد کے پاس چلے گئے تھے اور 455ھ میں ان کے وصال کے بعد پھر لاہور واپس آگئے تھے۔

حضرت داتا گنج بخش کی لاہور تشریف آوری

آپ غزنی میں لوگوں کی تعلیم و تربیت اور عبادت و ریاضت میں مشغول تھے کہ خواب میں پیر و مرشد حضرت شیخ ختلی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا: اے فرزند تمہیں لاہور کی قطبیت پر مامور کیا جاتا ہے اٹھو اور لاہور جائو۔ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا میرے پیر بھائی شیخ حسین زنجانی قطبیت لاہور پر مامور ہیں ان کی موجودگی میں اس عاجز کی کیا ضرورت ہے۔ ارشاد ہوا ہم سے حکمت دریافت نہ کرو اور بلاتوقف لاہور روانہ ہوجائو۔

چنانچہ داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ 431ھ میں لاہور تشریف لائے اس وقت لاہور کا نام لہانور تھا۔ یہ سلطان محمود غزنوی کے بیٹے سلطان مسعود غزنوی کا دور تھا۔ پنجاب اگرچہ غزنی حکومت کا جز تھا لیکن لاہور پر اس وقت ہندو مذہب اور ہندو تہذیب چھائی ہوئی تھی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں طویل سفر کے بعد جب لاہور پہنچا تو رات کا وقت تھا اور لاہور کے دروازے بند ہوچکے تھے۔

علی الصبح میں لاہور میں داخل ہوا تو شیخ زنجانی کے جنازہ کا بڑا انبوہ دیکھا اور شیخ زنجانی کی وصیت کے مطابق میں نے نماز جنازہ کی امامت کی۔ یاد رہے کہ بعض تبصرہ نگاروں نے آپ اور شیخ زنجانی رحمة اللہ علیہ کے پیر بھائی ہونے کی نفی کی ہے لیکن یہ درست نہیں کیونکہ ملفوظات خواجہ نظام الدین اولیاء رحمة اللہ علیہ کتاب فوائد الفواد شریف میں ان دونوں بزرگوں کا پیر بھائی ہونا صریحاً مذکور ہے۔

لاہور میں اسلامی تعلیم و تربیت کے پہلے منظم مرکز کا قیام

جہاں آج آپ کا مزار اقدس ہے اس وقت یہ جگہ دریائے راوی کے کنارے پر تھی اس جگہ آپ قیام پذیر ہوئے اور سادہ سی مسجد و مدرسہ پر مشتمل خانقاہ کی بنیاد رکھی اور یہی خانقاہ بعد میں برصغیر کی تمام خانقاہوں، مدارس اسلامیہ اور اسلام کی اشاعت و تعلیم و تربیت کی بنیاد ثابت ہوئی۔

خانہ کعبہ کی زیارت اور رائے راجو کا قبول اسلام

حضرت داتا رحمة اللہ علیہ نے مسجد کا رخ سیدھا مغرب کی بجائے مائل بجنوب رکھا تو لاہور کے علماء معترض ہوئے تو آپ نے تمام علماء لاہور کو کھانے پر دعوت دی نماز کی امامت خود فرمائی اور بعدازاں فرمایا بعض لوگوں کو مسجد کی سمت قبلہ پر کچھ شک ہے۔ میری درخواست ہے کہ ایک ساعت کے لیے آنکھیں بند کرکے مراقبہ کریں چنانچہ آپ نے ایسی توجہ فرمائی کہ تمام نمازیوں کے لیے تمام حجابات اٹھ گئے اور سب نے دیکھا کہ خانہ کعبہ سامنے ہے اور مسجد مبارک بالکل صحیح سمت پر تعمیر کی گئی ہے۔

رائے راجو ایک ہندو اور انتہائی سخت جادوگر تھا اسے جو دودھ کا نذرانہ نہ دیتا اسکے جانور پر ایسا جادو کرتا کہ اس جانور سے دودھ کی بجائے خون نکلتا تھا۔ ایک بوڑھی عورت رائے راجوکے پاس دودھ کا نذرانہ لے جارہی تھی کہ آپ نے اسے آواز دی کہ کچھ دودھ قیمت لے کر مجھے دے دو تو اس بوڑھی عورت نے رائے راجو کے جادو کا عذر کرکے دودھ بیچنے سے انکار کردیا اس پر حضرت داتا رحمة اللہ علیہ نے مسکرا کر فرمایا اگر تم دودھ دے دو تو تمہارے جانوروں کا دودھ بڑھ جائے گا چنانچہ اس خاتون نے بادل نخواستہ دودھ پیش کردیا جب گھر گئی تو اس کی حیرت کی حد نہ رہی کہ جانوروں کا دودھ اس قدر زیادہ ہوگیا کہ تمام برتن دودھ سے بھر گئے تو تھنوں سے دودھ ختم نہیں ہورہا تھا۔

جب یہ خبر پھیلی تو اگلے روز گردونواح کے تمام لوگ دودھ کا نذرانہ لے کر حاضر ہونے لگے تو اس طرح درویشوں اور مسافروںکے لیے لنگر کا سلسلہ شروع ہوا جوکہ آج تک
جاری ہے۔ رائے راجو کا دودھ کا نذرانہ بند ہوا تو اسے بڑا طیش آیا اور وہ حضرت داتا رحمة اللہ علیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے سامنے آیا اور آپ کو مقابلے کے لیے للکارتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس کوئی کمال ہے تو دکھائو۔

آپ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ کا عاجز بندہ ہوں اگر تمہارے پاس کوئی کمال ہو تو دکھائو۔ رائے راجو نے جواب دیا تو لو دیکھو میرا کرشمہ یہ کہا اور جادو کے زور پر ہوا میں اڑنے لگا۔ حضرت داتا رحمة اللہ علیہ مسکرائے اور اپنے جوتے ہوا میں پھینک دیئے اور وہ جوتے رائے راجو کے ساتھ ہوا میں اڑنے لگے۔

حضرت داتا رحمة اللہ علیہ کی یہ کرامت دیکھ کر رائے راجو نے توبہ کرکے اسلام قبول کیا۔ چنانچہ حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ نے اس کی شاندار روحانی تربیت کی اور اسے شیخ ہندی کا خطاب دیا چونکہ داتا صاحب رحمة اللہ علیہ کی اولاد نہیں تھی لہٰذا شیخ ہندی کی اولاد اس وقت سے لے کر آج تک خانقاہ کی خدمت کے فرائض انجام دیتی آرہی ہے۔

مزار اقدس مرکز تجلیات و پناہ گاہ خلق خدا

موت سے روح ختم نہیں ہوتی بلکہ جسم سے آزاد ہونے کی وجہ سے پہلے سے زیادہ طاقتور وفعال ہوجاتی ہے۔ لہذا ولایت جوکہ اللہ تعالیٰ کے قرب و دوستی کا نام ہے وفات سے ختم نہیں ہوتی بلکہ اصحاب روحانیت وفات کے بعد دنیاوی زندگی سے بڑھ کر فیض رسانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت پر ایک معتبر گواہی سلسلہ چشتیہ کے مورث اعلیٰ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی ہے جنہوں نے داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ کے مزار اقدس پر اکتساب فیض کا چلہ مکمل کرنے کے بعد فرمایا:

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا ناقصاں را پیر کامل کاملاں راہ رہنما

جبکہ مفکر اسلام شاعر مشرق علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں:

سید ہجویر مخدوم امم مرقد اوپیر سنجر راحرم
بند ہائے کوہسار آساں کیسخت در زمین ہند تخم سجدہ ریخت
عہد فاروق از جماش تازہ شد حق زحرف او بلند آوازہ شد
پاسبان عزت ام الکتاب از نگاہش خانہ باطل خراب
خاک پنجاب ازدم او زندہ گشت صبح از مہراوتا بندہ گشت
عاشق وہم قاصد طیار عشق از جبینش آشکار اسرار عشق

نیز برصغیر کی مسلمہ علمی فکری و روحانی شخصیت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ نے بھی آپ کے مزار اقدس پر حاضری دی اور اکتساب فیض کیا اور پھر فرمایا: ''مزار اقدس سے انوار وتجلیات کی ایک ایسی بارش برس رہی ہے جس سے تمام بلاد ہند مستفیض ہورہے ہیں۔'' خیال ہے کہ حرمین شریفین کے بعد علماء و صلحاء بادشاہوں و حکمرانوں اور تمام شعبہ زندگی کے عوام و خواص کی سب سے زیادہ شب روز حاضری آپ کے دربار عالیہ پر ہوتی ہے۔

روحانی فیوض و برکات کے ساتھ آپ کا لنگر روز بروز وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔ دنیا کے کسی بادشاہ کے دروازے پر اس قدر مہمان نوازی نہیں جو مہمان نوازی آپ کے مزار اقدس پر شب و روز جاری ہے۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں غریب وسفید پوش لوگ نہ صرف خود لنگر کھاتے ہیں بلکہ اپنے اہل و عیال کے لیے گھر میں بھی لے جاتے ہیں۔

لفظ داتا گنج بخش کی شرعی حیثیت

داتا فارسی زبان میں سخی کو کہتے ہیں اور گنج بخش کا معنی بھی اس کے قریب ہی ہے یعنی خزانہ دینے والا لہٰذا سخی کا لفظ ایک عام آدمی پر اطلاق کرنے میں بھی کوئی شرعی و عقلی قباحت نہیں۔ چہ جائے کہ داتا کالفظ ایک ایسی ہستی پر بولا جائے جس نے ساری زندگی قرآن وسنت کی تعلیمات اور علوم ومعارف کے خزانے مخلوق خدا میں تقسیم کئے اور ان کی قبر انور بھی مرکز انوار وتجلیات وپناہ گاہ خلق خدا ہے۔

قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اسے ایک امیر یا ایک امت کی حیثیت سے اٹھائیگا۔''اس حدیث مبارک کی رو سے اللہ تعالیٰ کی عطاء سے رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم مخلوق میں بڑے داتا ہیں اور آپ کے وسیلہ سے آپکی امت کے علماء بھی داتا ہیں۔

آپ کی تصنیف کشف المحجوب

آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں لیکن '' کشف المحجوب '' کو بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی یہ کتاب فارسی زبان میں تصوف اسلامی پر پہلی اور اپنے موضوع پر سب کتب پر فائق تصنیف ہے۔ یہ کتاب شریعت اور سلوک کے طالب علم کے لیے مرشد کا درجہ رکھتی ہے۔

اسلامی عقائد و اعمال، اخلاق ظاہرہ و باطنہ اور علم تصوف کی تشریح اور اکابرین اسلام وبزرگان دین کے تعارف اور گمراہ، بے علم ولاعلم صوفیوں کی نشاندہی اور ان سے احتراز کرنے کی تلقین پر مشتمل ایک شاہکار تصنیف ہے۔ اس گمراہی و فرقہ پرستی کے دور میں راہ حق کے طالبین کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے اور اس مبارک کتاب کو نصابوں میں شامل کرنا چاہئے۔

تصویرِ ہانگ کانگ - - - - پچھلے اتوار تم کہاں تھے؟



بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم


اتوارچھ جون کی بات ہے کہ میں نے حال احوال دریافت کرنے کی غرض سے اپنے ایک جاننے والے کے گھر پر فون کیا جس کا تعلق چینی نسل سے ہے ۔ مگر وہ اپنے گھر پر نہ ملا ۔ چند دن ٹھہر کر میں نے اسے دوبارہ فون لگایا تھا اور دریافت کیا تھا پچھلے اتوار تم کہاں تھے ؟ اس نے مجھے بتایا تھا کہ پچھلے اتوار کو وہ اس احتجاجی جلوس میں شرکت کرنے کے لئے گیا ہوا تھا ، جو غزہ کے لئے امداد لے کر جانے والے پر امن فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے جارحانہ اور خون ریز حملے کے خلاف نکالا گیا تھا۔

اس کا یہ جواب سن کر میرے دل میں یہ تجسس پیدا ہوا تھا کہ اس احتجاجی جلوس میں میرے جاننے والے چینی نسل کے کتنے لوگوں نے شرکت کی ہے؟ بہترتو یہی ہے کہ پہلے میں اپنے قارئین کو ہانگ کانگ کی آبادی اور اس کی تقسیم سے متعارف کروا دوں تاکہ میرے معزز قارئین کو ساری بات کے سیاق و سباق کا علم ہو جائے۔

ہانگ کا نگ کی آبادی اسی لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔ ہانگ کانگ کے نوے فیصد باشندے چینی نسل کے ہیں جبکہ دس فیصد باقی آبادی ملی جلی ہے۔ اس دس فیصد غیر چینی آبادی میں امریکہ اوریورپ کے سفید فام بھی شامل ہیں اورافریقہ و ایشیا کے رنگدار بھی شامل ہیں۔ رنگدار نسل کے لوگوں میں آپ کو ہانگ کانگ سے جغرافیائی قربت رکھنے والے ممالک فلپائن، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ ، ویت نام، کمبوڈیا اور لاؤس کے لوگ زیادہ ملیں گے جن کے آباؤاجداد اچھے روزگار کی تلاش میں کشتیوں پر بیٹھ کر ہانگ کانگ آتے رہے تھے۔

یا پھران کے بعد تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر وہ لوگ ملیں گے جن کے بڑوں کو انتظامی اوردفاعی امور چلانے کے لئے انگریز برِصغیر سے خودلائے تھے۔ انگریز وں کے دور میں انتظامی امور کی نگرانی، انگریز خود کرتے تھے، جبکہ انڈین نسل کے لوگ ہر شعبے میں ان کے مدد گار ہوا کرتے تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ہانگ کانگ کے سبھی سرکاری اور غیر سرکاری شعبوںمیں انگریزوں کے بعد انڈین نسل کے لوگ زیادہ ہوا کرتے تھے، جن میں ہندو، مسلم ،سکھ ،عیسائی ، پارسی اور باقی دیگر مذاہب کے ماننے والے شامل تھے ۔

اس وقت ہانگ کانگ میں انڈین نسل کے باشندوں کی تعداد تقریباً چالیس ہزار بتائی جاتی ہے، جن میں سے پندرہ ہزار سکھ ہیں اور پندرہ ہزار ہی ہندو ہیں جب کہ انڈین مسلم کی تعداد پانچ ہزار کے قریب ہے ،باقی کے پانچ ہزار انڈین لوگ مختلف مذاہب کے پیروکار ہیں ۔ ہانگ کانگ میں مسلم عقیدے کے لوگوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔

جن میں سے چالیس ہزار مسلم چینی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور پچیس ہزار مسلمانوں کا تعلق پاکستان سے ہے ۔ جب کہ باقی کے پنتیس ہزار مسلم عقیدے کے حامل لوگوں کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے یوں پاکستانی نسل کے مسلم اپنی تعداد کے لحاظ سے ہانگ کانگ میں مقیم مسلم عقیدے کے لوگوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔

ہانگ کانگ میں عیسائیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ،دوسرے نمبر پر چینی مذہب تھاؤ ازم(تاؤازم) کے ماننے والے بتائے جاتے ہیں جب کہ ہانگ کانگ میں تیسرے نمبر پر بے دین لوگوں آتے ہیں ۔ بدھ مت کے ماننے والے چوتھے نمبر پر ہیں۔ دین اسلام کے ماننے والے اپنی تعداد کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آتے ہیں۔ ہندوؤں سکھوں پارسیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد مسلمانوں سے کم ہی ہے۔ ہانگ کانگ میں بہت سارے ایسے مذاہب کے ماننے والے بھی پائے جاتے ہیں جن کی تعداد چند سو سے لے کر چند درجن نفوس بتائی جاتی ہے۔

یوں آپ کو ہانگ کانگ میں ہر عقیدے اورہر نسل کے لوگ مل جائیں گے۔

ہانگ کانگ میںمیرے جاننے والوں میں ہر نسل اور ہر مذہب کے لوگ شامل ہیں ۔چونکہ ہانگ کانگ میںچائینیز نسل کے لوگ زیادہ ہیں اسی لئے ایک ہزار کے لگ بھگ چائینیز ایسے ہیں جن کے ساتھ میں مستقل رابطے میں رہتا ہوں۔ ان ایک ہزار میں سے ایک سو چائینیز سے میرے قریبی اور ذاتی تعلقات ہیں ،جن سے میں خاصا بے تکلف ہوں اور ان سے ہر سنجیدہ موضوع پر کھل کر گفتگو بھی کر لیا کرتا ہوں۔

دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ ہانگ کانگ میں جن پاکستانی نسل کے لوگوں سے میرے ذاتی اور قریبی تعلقات ہیں ان کی تعداد تیس بھی نہیں بنتی ہے۔ جن چائینیز سے میرے قریبی اور ذاتی تعلقات ہیں، ان میں ہر مذہب اورہر عقیدے کے ماننے والے شامل ہیں اور ان چائینیز کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے، یوں ان سبھی سے کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے کے بعدچائینیز نسل کی ایک متوازن رائے میرے سامنے آجاتی ہے۔

جب مجھے یہ جستجو ہوئی تھی کہ میرے جاننے والے کتنے چائینیز نے اس احتجاجی ریلی میں حصہ لیا تھا جو کہ ترکی کے پرامن امدادی فلوٹیلا پراسرائیل کے خون ریز اور جارحانہ حملے کے خلاف نکالا گیا تھا تو میں نے اگلے دو ہفتوں کے دوران اپنے سبھی جاننے والے چائینیز کو فون کیا تھا یا پھر کچھ سے بالمشافہ ملاقات کی تھی ۔

حوصلہ افزا بات تو یہ نکلی تھی کہ میرے قریبی جاننے والے چائینیز میں سے پانچ افراد اس احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے تھے ۔ میرے معزز قارئین یہ امراپنے ذہن میں رکھیں کہ ایک تو ہانگ کانگ میں ہر شخص کی زندگی بے حد مصروف ہے دوسرے یہاں پر لوگ ہر مسلے کو مادیت میں تول کر دیکھتے ہیں ۔ان پانچ چائینیز میں سے دو کرسچین تھے ،ایک تھاؤازم کا ماننے والا تھا، ایک بے دین تھا اورایک بدھ مت کا ماننے والا تھا جنہوں نے اسرائیل کی مذمت اور فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کے لئے پرامن ریلی میں حصہ لیا تھا ۔

اس امن ریلی میں شرکت کرنے والوں کی تعدا د ایک محتَاط اندازے کے مطابق گیارہ سو اور تیرہ سو کے درمیان بتائی جاتی ہے ۔ہانگ کانگ میں چھ جون کو جو امن ریلی اسرائیل کے جارحانہ اور خون ریز حملے کے خلاف اور پرامن فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے لئے نکالی گئی تھی۔

اس میں ایمنیسٹی انٹر نیشنل، چائینیز مسلم کلچرل اینڈ فریٹرنل ایسوسی ایشن،ہانگ کانگ یونی سن،حضرت سلطان باہو سوسائٹی، ہانگ کانگ چائینیز اسلامک فیڈریشن، ہانگ کانگ اسلامک یوتھ ایسوسی ایشن، ہانگ کانگ مسلم وومن ایسوسی ایشن،انڈین مسلم ایسوسی ایشن، این جی اوز آف اسلامک ورلڈ، ایشین سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ، پاکستانی سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ہانگ کانگ، اسلامک ویلفیئر یونین ہانگ کانگ اور یونائٹڈمسلم ایسوسی ایشن آف ہانگ کانگ کی جانب سے اس احتجاجی ریلی میں شرکت کرنے کی درخواست کی گئی تھی اور مذکورہ سبھی تنظیموں کے نمائندوں نے اس احتجاجی ریلی میں شرکت بھی کی تھی ۔

اس احتجاجی ریلی میں پاکستان،انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، ماریشش، آسٹریلیا ، جاپان، تھائی وان ،چین ،ہانگ کانگ ، فلپین، انڈونیشیاءملائیشیاء،تھائی لینڈ ، ویت نام، کمبوڈیا ، لاؤس اور دوسرے بہت سارے ممالک کے مسلم عقیدے کے لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم عقیدے کے لوگوں نے بھی شرکت کی تھی یوں احتجاجی ریلی میں ہر نسل اور ہر عقیدے کے لوگ موجود تھے ۔

یہ احتجاجی ریلی ہانگ کانگ کی حکومت اور انتظامیہ سے باقائدہ اجازت لے کر نکالی گئی تھی ۔یہ احتجاجی ریلی ہانگ کانگ کے سب سے مشہور وکٹوریہ پارک سے روانہ ہوئی تھی اور ہانگ کانگ کے سب سے مصروف اور مشہور علاقے ایڈمیرلٹی میں واقع اسرائیلی کونسلیٹ تک آئی تھی، جہاں پر اس احتجاجی ریلی کے قائدین نے اسرائیلی کونسلیٹ کے نمائندوں کو ایک احتجاجی عرضداشت بھی پیش کی تھی ۔

اس احتجاجی ریلی کی خبر سی این این نے نشر کی تھی ،سی این این کی ویب سائٹ پر اس احتجاجی ریلی کی خبر اور تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں ،جہاں تک لوکل میڈیا کا تعلق ہے وہ صیہونیوں کے ہاتھوں میں ہے ،لہٰذا ہانگ کانگ کے کسی بھی انگلش اخبار نے اس احتجاجی ریلی کی خبر نہیں چھاپی تھی اور نہ ہی کسی انگلش چینل نے اس ریلی کی خبر کو نشر کیا تھا،کیونکہ ان کے مالکان کے مفادات یہودیوں کے ساتھ وابستہ ہیں ۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہاں سے شائع ہونے والے دو ہفتہ وار اردو ضمیمہ نما اخبار وںجنگ اور پاک ٹائمز نے صہیونیوں کی تقلید میں اس احتجاجی ریلی کے بارے میں ایک سطر کی خبر بھی شائع نہ کی تھی ۔

میں ان ضمیموں کے مالکان سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ پچھلے اتوار تم کہاں تھے؟

”کیونکہ وہ لوگ تو صرف انہی لوگوں سے کلام کرتے ہیں، جن سے ان کے مادی اور مالی مفادات وابستہ ہوتے ہیں ۔ “

٭ ڈاکٹر عصمت حیات علوی ٭06۔جولائی۔2010ء٭

صلاح الدین ایوبی - - - تاریخِ اسلام کا ایک درخشاں ستارہ





سلطان صلاح الدین ایوبی سلطنت کے بانی تھے۔ وہ نہ صرف تاریخ اسلام بلکہ تاریخ عالم کے مشہور ترین فاتحین و حکمرانوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ 1138ء میں موجودہ عراق کے شہر تکریت میں پیدا ہوئے۔ ان کی زیر قیادت ایوبی سلطنت نے مصر، شام، یمن، عراق، حجاز اور دیار باکر پر حکومت کی۔ صلاح الدین ایوبی کو بہادری، فیاضی، حسن خلق، سخاوت اور بردباری کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی بھی عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ صلاح الدین کو فاتح بیت المقدس کہا جاتا ہے جنہوں نے 1187ء میں یورپ کی متحدہ افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس ان سے آزاد کروا لیا تھا۔
ابتدائی دور

سلطان صلاح الدین نسلاً کرد تھے اور 1138ء میں کردستان کے اس حصے میں پیدا ہوۓ جو اب عراق میں شامل ہے ۔ شروع میں وہ سلطان نور الدین زنگی کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ھ میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ھ میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ نور الدین زنگی کے انتقال کے بعد چونکہ اس کی کوئی لائق اولاد نہیں تھی اس لئے صلاح الدین حکمرانی پر فائز ہوۓ۔
کارنامے

صلاح الدین اپنے کارناموں میں نور الدین پر بھی بازی لے گئے۔ ان میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔

مصر کے بعد صلاح الدین نے 1182ء تک شام، موصل، حلب وغیرہ فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔ اس دوران صلیبی سردار رینالڈ کے ساتھ چار سالہ معاہدہ صلح ہو چکا تھا جس کی رو سے دونوں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن یہ معاہدہ محض کاغذی اور رسمی تھا۔ صلیبی بدستور اپنی اشتعال انگیزیوں میں مصروف تھے اور مسلمانوں کے قافلوں کو برابر لوٹ رہے تھے۔
جنگ حطین

1186ء میں عیسائیوں‌کے ایک ایسے ہی حملے میں رینالڈ نے یہ جسارت کی کہ بہت سے دیگر عیسائی امرا کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے ان کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے اور فوراً رینالڈ کا تعاقب کرتے ہوئے حطین میں اسے جالیا۔ سلطان نے یہیں دشمن کے لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ ڈلوایا جس سے زمین پر آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ اس آتشیں ماحول میں 1187ء کو حطین کے مقام پر تاریخ کی خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا ۔ اس جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار عیسائی ہلاک ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ رینالڈ گرفتار ہوا اور سلطان نے اپنے ہاتھ سے اس کا سر قلم کیا۔ اس جنگ کے بعد اسلامی افواج عیسائی علاقوں پر چھا گئیں۔
فتح بیت المقدس

حطین کی فتح کے بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا ایک ہفتہ تک خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دیے اور رحم کی درخواست کی۔ بیت المقدس پورے 91 سال بعد دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور تمام فلسطین سے مسیحی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ بیت المقدس کی فتح صلاح الدین ایوبی کا عظیم الشان کارنامہ تھا۔ انہوں نے مسجد اقصٰی میں داخل ہوکر نور الدین کا تیار کردہ منبر اپنے ہاتھ سے مسجد میں رکھا۔ اس طرح نور الدین کی خواہش ان کے ہاتھوں پوری ہوئی۔

صلاح الدین نے بیت المقدس میں داخل ہوکر وہ مظالم نہیں کئے جو اس شہر پر قبضے کے وقت عیسائی افواج نے کئے تھے ۔ صلاح الدین ایک مثالی فاتح کی حیثیت سے بیت المقدس میں داخل ہوا۔ اس نے زر فدیہ لے کر ہر عیسائی کو امان دے دی اور جو غریب فدیہ نہیں ادا کر سکے ان کے فدیے کی رقم صلاح الدین اور اس کے بھائی ملک عادل نے خود ادا کی۔

بیت المقدس پر قبضہ کے ساتھ یروشلم کی وہ مسیحی حکومت بھی ختم ہوگئی جو فلسطین میں 1099ء سے قائم تھی۔ اس کے بعد جلد ہی سارا فلسطین مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔

بیت المقدس پر تقریباً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ تاآنکہ 1948ء میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کرلیا ۔
تیسری صلیبی جنگ

جب بیت المقدس پر قبضے کی خبر یورپ پہنچی تو سارے یورپ میں کہرام مچ گیا۔ ہر طرف لڑائی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس اور انگلستان سے فوجوں پر فوجیں فلسطین روانہ ہونے لگیں۔ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ جو اپنی بہادری کی وجہ سے شیر دل مشہور تھا اور فرانس کا بادشاہ فلپ آگسٹس اپنی اپنی فوجیں لے کر فلسطین پہنچے ۔ یورپ کی اس متحدہ فوج کی تعداد 6 لاکھ تھی جرمنی کا بادشاہ فریڈرک باربروسا بھی اس مہم میں ان کے ساتھ تھا۔

عیسائی دنیا نے اس قدر لاتعداد فوج ابھی تک فراہم نہ کی تھی۔ یہ عظیم الشان لشکر یورپ سے روانہ ہوا اور عکہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کر لیا اگرچہ سلطان صلاح الدین نے تن تنہا عکہ کی حفاظت کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے لیکن صلیبیوں کو یورپ سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ ایک معرکے میں دس ہزار عیسائی قتل ہوئے مگر صلیبیوں نے محاصرہ جاری رکھا لیکن چونکہ کسی اور اسلامی ملک نے سلطان کی طرف دست تعاون نہ بڑھایا اس لیے صلیبی ناکہ بندی کی وجہ سے اہل شہر اور سلطان کا تعلق ٹوٹ گیا اور سلطان باوجود پوری کوشش کے مسلمانوں کو کمک نہ پہنچا سکا۔ تنگ آکر اہل شہر نے امان کے وعدہ پر شہر کو عیسائیوں کے حوالہ کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ فریقین کے درمیان معاہدہ طے ہوا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے دو لاکھ اشرفیاں بطور تاوان جنگ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور صلیب اعظم اور 500 عیسائی قیدیوں کی واپسی کی شرائط طے کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی ۔ وہ تمام مال اسباب لے کر شہر سے نکل جائیں لیکن رچرڈ نے بدعہدی کی اور محصورین کو قتل کر دیا۔

عکہ کے بعد صلیبیوں نے فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کیا۔ عسقلان پہنچنے تک عیسائیوں کا سلطان کے ساتھ گیارہ بارہ بار مقابلہ ہوا سب سے اہم معرکہ ارسوف کا تھا۔ سلطان نے جواں مردی اور بہادری کی درخشندہ مثالیں پیش کیں لیکن چونکہ کسی بھی مسلمان حکومت بالخصوص خلیفہ بغداد کی طرف سے کوئی مدد نہ پہنچی۔ لہذا سلطان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ واپسی پر سلطان نے عسقلان کا شہر خود ہی تباہ کر دیا۔ اور جب صلیبی وہاں پہنچے تو انہیں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اس دوران سلطان نے بیت المقدس کی حفاظت کی تیاریاں مکمل کیں کیونکہ اب صلیبیوں کا نشانہ بیت المقدس تھا۔ سلطان نے اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ اس قدر عظیم لاؤ لشکر کا بڑی جرات اور حوصلہ سے مقابلہ کیا۔ جب فتح کی کوئی امید باقی نہ رہی تو صلیبیوں نے صلح کی درخواست کی۔ فریقین میں معاہدہ صلح ہوا۔ جس کی رو سے تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔

اس صلیبی جنگ میں سوائے عکہ شہر کے عیسائیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا اور وہ ناکام واپس ہوئے۔ رچرڈ شیر دل ، سلطان کی فیاضی اور بہادری سے بہت متاثر ہوا جرمنی کا بادشاہ بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مرگیا اور تقریباً چھ لاکھ عیسائی ان جنگوں میں‌کام آئے۔

معاہدہ کے شرائط مندرجہ ذیل تھیں:

1. بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے پاس رہے گا۔
2. ارسوف، حیفہ، یافہ اور عکہ کے شہر صلیبیوں کے قبضہ میں چلے گئے۔
3. عسقلان آزاد علاقہ تسلیم کیا گیا۔
4. زائرین کو آمدورفت کی اجازت دی گئی۔
5. صلیب اعظم بدستور مسلمانوں کے قبضہ میں رہی ۔

تیسری صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین نے ثابت کردیا کہ وہ دنیا کا سب سے طاقتور ترین حکمران ہے ۔
سیرت

صلاح الدین بڑا بہادر اور فیاض تھا۔ لڑائیوں میں اس نے عیسائیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا کہ عیسائی آج بھی اس کی عزت کرتے ہیں۔

اس کو جہاد کا اتنا شوق تھا کہ ایک مرتبہ اس کے نچلے دھڑ میں پھوڑے ہوگئے ان کی وجہ سے وہ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتا تھا لیکن اس حالت میں بھی جہاد کی سرگرمی میں فرق نہ آیا۔ صبح سے ظہر تک اور عصر سے مغرب تک برابر گھوڑے کی پیٹھ پر رہتا۔ اس کو خود تعجب ہوتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ جب تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہتا ہوں ساری تکلیف جاتی رہتی ہے اور اس سے اترنے پر پھر تکلیف شروع ہوجاتی ہے ۔

مسیحیوں سے صلح ہو جانے کے بعد صلاح الدین نے عیسائیوں کو بیت المقدس کی زیارت کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے پر یورپ کے زائرین جو برسوں سے انتظار کر رہے تھے اس کثرت سے ٹوٹ پڑے کہ شاہ رچرڈ کے لئے انتظام قائم رکھنا مشکل ہوگیا اور اس نے سلطان سے کہا کہ وہ اس کی تحریر اور اجازت نامے کے بغیر کسی کو بیت المقدس میں داخل نہ ہونے دے ۔ سلطان نے جواب دیا ”زائرین بڑی بڑی مسافتیں طے کرکے زیارت کے شوق میں آتے ہیں ان کو روکنا مناسب نہیں“۔ سلطان نے نہ صرف یہ کہ ان زائرین کو ہر قسم کی آزادی دی بلکہ اپنی جانب سے لاکھوں زائرین کی مدارات، راحت، آسائش اور دعوت کا انتظام کیا۔

صلاح الدین کا غیر مسلموں سے سلوک عین اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا اور یہ اس کا ثبوت ہے کہ اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے حقوق بھی اسی طرح محفوظ ہوئے ہیں جس طرح مسلمانوں کے ۔

نور الدین کی طرح صلاح الدین کی زندگی بھی بڑی سادہ تھی۔ ریشمی کپڑے کبھی استعمال نہیں کئے اور رہنے کے لئے محل کی جگہ معمولی سا مکان ہوتا تھا۔
رفاہ عامہ کے کام

قاہرہ پر قبضے کے بعد جب اس نے فاطمی حکمرانوں کے محلات کا جائزہ لیا تو وہاں بے شمار جواہرات اور سونے چاندی کے برتن جمع تھے ۔ صلاح الدین نے یہ ساری چیزیں اپنے قبضے میں لانے کے بجائے بیت المال میں داخل کرادیں۔ محلات کو عام استعمال میں لایا گیا اور ایک محل میں عظیم الشان خانقاہ قائم کی گئی۔

فاطمیوں کے زمانے میں مدرسے قائم نہیں کئے گئے شام میں تو نور الدین کے زمانے میں مدرسے اور شفاخانے قائم ہوئے لیکن مصر اب تک محروم تھا۔ صلاح الدین نے یہاں کثرت سے مدرسے اور شفاخانے قائم کئے ۔ ان مدارس میں طلبا کے قیام و طعام کا انتظام بھی سرکار کی طرف سے ہوتا تھا۔

قاہرہ میں صلاح الدین کے قائم کردہ شفاخانے کے بارے میں ایک سیاح ابن جبیر لکھتا ہے کہ یہ شفاخانہ ایک محل کی طرح معلوم ہوتا ہے جس میں دواؤں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس نے عورتوں کے شفاخانے اور پاگل خانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ صلاح الدین سلطنت غوریہ کے حکمران شہاب الدین غوری اور مراکشی حکمران یعقوب المنصور کا ہم عصر تھا اور بلاشبہ یہ تینوں حکمران اپنے وقت میں دنیا کے عظیم ترین حکمرانوں میں سے تھے ۔
انتقال

589ھ میں صلاح الدین انتقال کر گیا۔ اسے شام کے موجودہ دارالحکومت دمشق کی مشہور زمانہ اموی مسجد کے نواح میں سپرد خاک کیا گیا۔ صلاح الدین نے کل 20 سال حکومت کی۔ مورخ ابن خلکان کے مطابق ”اس کی موت کا دن اتنا تکلیف دہ تھا کہ ایسا تکلیف دہ دن اسلام اور مسلمانوں پر خلفائے راشدین کی موت کے بعد کبھی نہیں آیا“ ۔

موجودہ دور کے ایک انگریز مورخ لین پول نے بھی سلطان کی بڑی تعریف کی ہے اور لکھتا ہے کہ ”اس کے ہم عصر بادشاہوں اور اس میں ایک عجیب فرق تھا۔ بادشاہوں نے اپنے جاہ و جلال کے سبب عزت پائی اور اس نے عوام سے محبت اور ان کے معاملات میں دلچسپی لے کر ہردلعزیزی کی دولت کمائی“۔

صلاح الدین ایوبی کی قائم کردہ حکومت اس کے والد نجم الدین ایوب کے نامی پر ”ایوبی“ کہلاتی تھی۔

صلاح الدین اگرچہ ایک دانشمند اور قابل حکمران تھا لیکن وہ خود کو رواجی تصور سے آزاد نہ کرسکا۔ خلافت کے حقیقی تصور کو اب مسلمان معاشرہ اس حد تک بھلا چکا تھا کہ نور الدین اور صلاح الدین جیسے حکمران بھی ملوکیت کے انداز میں سوچتے تھے ۔ جانشینی کے معاملے میں صلاح الدین نے وہی غلطی کی جو سب سے پہلے ہارون الرشید نے کی تھی اور سلجوقیوں کے بعد سے تمام حکمران کرتے چلے آرہے تھے ۔ اس نے زمانے کے غلط رواج کے تحت اپنی سلطنت تین لڑکوں میں تقسیم کردی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ طاقتور سلطنت تقسیم ہوکر کمزور پڑگئی۔ پھر بھی ایوبی خاندان کے ان چند لائق حکمرانوں جن میں صلاح الدین کا بھائی ملک عادل اور اس کا لڑکا ملک کامل قابل ذکر ہیں، مصر، شام، حجاز اور یمن کو تقریباً 60 سال تک بڑی حد تک متحد رکھا۔ 648ھ میں ایوبی خاندان کی حکومت ختم ہوگئی اور ان کی جگہ ترک غلاموں کی حکومت قائم ہوئی جو مملوک کہلاتی تھی۔

دنیا پر قبضہ جمانے کا نیا امریکی منصوبہ!!



انور غازی



امریکی صدر اوباما نے 75 ممالک میں امریکی افواج اور کمانڈرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی اسپیشل فورسز کو پیشگی حملوں کا اختیار بھی مل چکا ہے۔ فورسز کا ایک مقصد انتہا پسندوں اور امریکا کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کو نشانہ بنانا بھی ہے۔ امریکی صدر نے ان کے اخراجات کے لیے مالی سال 2011ء کے بجٹ میں 5.7 فیصد اضافے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ قارئین! اس خبر پر تبصرے وتجزیے سے قبل پس منظر وپیش منظر کے طور پر یاد رہے امریکی افواج ایک عرصے سے مختلف ممالک میں پہلے سے ہی ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ امریکا کی حاضر سروس افواج کی تعداد 1379551 ہے۔ ان میں سے 369000 فوجی دنیا کے تقریباً 149 ممالک میں ہیں۔

جرمنی، جاپان، جنوبی کوریا، پرتگال، انگلینڈ، نیدر لینڈ، بحرین، کیوبا، آئس لینڈ، اسپین، عمان، بحرین، تائیوان اور بھارت میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ ترکی، عراق، افغانستان، کویت، مصر میں تو باقاعدہ امریکی اڈے اور چھاؤنیاں ہیں۔ باقی چھوڑیں صرف خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کو دیکھ لیں۔ متحدہ عرب امارات، کویت، دبئی، عراق، افغانستان، صومالیہ، بحرین، اُردن، لبنان، قطر، سعودی عرب، ترکی اور پاکستان میں امریکی فوجی تمام سازوسامان کے ساتھ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ترکی میں اس وقت 17 سو کے قریب فوجی موجود ہیں۔ اُردن میں 2 ہزار ہیں۔ سعودی عرب 2ہزار۔ کویت ایک لاکھ 15 ہزار فوجی، قطر میں 3500، متحدہ عرب امارات میں 400 ہزار اور عمان میں امریکا کے تین فضائی اڈے موجود ہیں۔

ان ممالک میں امریکی افواج کی تعیناتی کے کئی مقاصد ہیں۔ چند یہ ہیں: صہیونی ریاست ”اسرائیل“ کا استحکام۔ مسجد اقصیٰ کو گرا کر اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔ عرب مسلم ممالک پر بتدریج کنٹرول۔ سرکش ممالک کو رام کرنا۔ خلیج کی بے پناہ دولت پر قبضہ جمانا۔ اسلام اور مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا۔ ہر ایسی تحریک کو چلانا جو اسلام کے خلاف ہو۔ مسلم دنیا خصوصاً عرب ممالک کو باہم لڑائیوں میں مصروف رکھنا تاکہ نشاة ثانیہ کے کام کو روکا جاسکے۔ اسی مقصد کے لیے جزیرة العرب کے دل میں ”اسرائیل“ نامی خنجر پیوست کیا گیا۔ جب مغربی ممالک کے مشترکہ بھیانک منصوبوں اور اسلام کے خلاف گھناؤنی سازشوں کے ذریعے 1948ء کو فلسطین میں صہیونی ریاست قائم کی گئی تو دنیا بھر سے یہودیوں کو لالاکر آباد کیا گیا۔ ابتدائی طورپر سوویت یونین سے 21391، پولینڈ سے 156011، جرمنی سے 11522، برطانیہ سے 14006، فرانس سے 26295، ایران سے 32304، عراق سے 124647، عرب ممالک سے 252642، مصر سے 37867، بلغاریہ سے 48642، ہنگری سے 24255 اور یمن سے 50359 لائے گئے۔ اس کے بعد سے اسرائیل کے شدت پسند حکمران اور اس کے پشت پناہ ممالک ”گریٹر اسرائیل“ کی طرف بتدریج بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل کے جھنڈے میں جو دو نیلی پٹیاں دکھائی دیتی ہیں ان سے مراد دریا دجلہ وفرات ہے۔ یعنی ان دو دریاؤں کے مابین اسرائیل کی حدود ہوں گی۔

امریکا اور اسرائیل کے صہیونی ”عظیم تر اسرائیل“ کا اعلان کرنے کے بعد اس کے نقشے میں رنگ بھرنے میں مصروف ہیں۔ اسلحے اور بارود کے انبار لگادیے گئے ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور دیگر قوتیں اسرائیل کی پشت پناہی کررہی ہیں۔ غزہ کے محصورین کے لیے امداد لے جانے والے ”فریڈم فلوٹیلا“ اور ”ریچل کوری“ بحری بیڑوں پر وحشیانہ بمباری ایسے ممالک کی شہ پر کی گئی ہے۔ اس پر پوری دنیا میں شدید احتجاج کے باوجود امریکا کا نائب صدر بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے: ”یہ اسرائیل کا حق تھا۔“ اسرائیل اور امریکا کی یہ جرات اس لیے ہے کہ مسلم ممالک کمزور ہیں۔ خلیج کے چھ ممالک سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، امارات، عمان کا فوجی بجٹ اسرائیل سے دوگنا ہے، مگر جنگی آلات ہتھیار اور دفاعی سازوسامان اسرائیل کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتا۔ حالانکہ اللہ نے ہم مسلمانوں کو اسلحہ کی تیاری کا واضح حکم دیا ہے، لیکن ہمارے حکمرانوں کو رنگ رلیوں سے ہی فرصت نہیں ہے۔ ان کے آپس کے فروعی اختلافات ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں۔

خیر آمدم بر سر مطلب! جس طرح جزیرة العرب کے 12 ممالک کی سرزمین پر سامراجی عزائم رکھنے والی افواج اور ان کی چھاؤنیاں موجود ہیں اسی طرح اسلامی سمندروں میں بھی سامراجی طاقتوں کے فوجی مراکز بڑی تعداد میں قائم ہیں۔ کویت کی بندرگاہ، سعودیہ کی دمام بندرگاہ، بحرین کی جفیر بندرگاہ، عمان کی خصب بندرگاہ، مسقط کی بندرگاہ، جبوتی کی باب المندب، جدہ کی بندرگاہ، مصر کی بنیاس بندرگاہ، ایلات بندرگاہ، اسکندریہ بندرگاہ، اس کے علاوہ خلیج عربی، خلیج عمان، بحرہند، خلیج عدن، بحیرہٴ احمر، خلیج عقبہ، نہرسوئز، بحر متوسط میں بھی امریکی بیڑے دندناتے پھرتے ہیں۔ ان سمندروں، درّوں اور بحیروں میں 95 کے قریب امریکا کے دیوہیکل بحری جہاز ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ ان پانیوں میں تین طیارہ بردار بحری بیڑے ہیں۔ ان 3 بیڑوں پر 252 طیارے مستعد کھڑے رہتے ہیں۔

خلیج میں امریکا کے دو طیارے بردار بحری جہاز ”انڈی پینڈنٹ“ اور ”جان سی اسٹیٹس“ ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اسی قسم کے جہاز کے ذریعے امریکا عراق، افغانستان اور دیگر ممالک پر حملہ آور ہوا تھا۔ اس بیڑے پر سامان حرب سے لیس 105 جنگی جہاز، پانچ ہزار کمانڈوز تعینات رہے۔ اس طرح ”انٹرپرائزز“ جارج واشنگٹن وغیرہ بھی یہی کام کرتے ہیں۔ دنیا کے چار اہم ترین سمندری درّے جن کو آبی گزرگاہوں کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔ قدرت کی فیاضی یہ چاروں مسلم دنیا کی حدود میں واقع ہیں۔ باب المندب، درہ ہرمز، درّہ جبل الطارق اور نہرسوئز چاروں مسلم ممالک میں واقع ہیں، مگر ان پر تسلط طاغوتی قوتوں کا ہے۔ 1973ء میں نہرسوئز پر قبضے کے لیے مصر اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوئی تھی، لیکن آج کل اس پر عملاً امریکا کا تسلط ہے۔ میرے سامنے جو تصویر رکھی ہے، اس میں امریکا کا ایک طیارہ بردار جہاز نہر سوئز سے بڑی رعونت سے فراٹے بھرتے ہوئے گزر رہا ہے۔

عرب اخبارات ”الشرق الاوسط“، ”الحیاة“، ”الرائے“، ”قضایا دولیہ“ جیسے اخبارات اور ”ردادی“، ”الجزیرة“ اور ”جولة الصحافة“ جیسی بیسیوں ویب سائٹس کے مطابق امریکا ان کے ذریعے مسلم دنیا خصوصاً عرب ممالک پر تسلط جمائے رکھنا چاہتا ہے۔ جو مسلمان ملک امریکی کیمپ سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اسے طاقت کے ذریعے کچل دیا جاتا ہے۔ آپ تحقیق کرکے دیکھ لیں 58 مسلم ممالک پر امریکا کا کسی نہ کسی طرح قبضہ ہے۔ اکثر مسلم ممالک میں اس کے علانیہ اور خفیہ فوجی اڈے قائم ہیں۔ بعض میں بڑے بڑے قونصل خانے اور ایمبیسی کے نام پر اڈے ہیں۔ بعض ممالک کے حکمرانوں کو خریدا ہوا ہے اور کوئی ازخود کاسہ لیس ہے۔

تاریخ گواہ ہے امریکی جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں ان کے قدم ایسے جم جاتے ہیں کہ پھر نکلنے کا نام نہیں لیتے۔ کچھ عرصے قبل جاپان کے وزیر اعظم ”یوکیو ہاتو یاما“ نے کہا تھا: ”اوکی ناوا“ میں متنازع امریکی فوجی اڈے کو بندکرنا ممکن نہیں ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے جاپان کو اس کی سلامتی کی ضمانت دی ہے۔ اس کے بدلے میں جاپان خود اپنی لڑاکا فوج نہیں رکھ سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے امریکی فوجی اڈوں کی مالی اعانت بھی کرنا ہوگی۔ اوکی ناوا کے فوجی اڈووں میں کوئی 20 ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجی مقیم ہیں۔ جاپان میں مجموعی طور پر کوئی 47 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اب جو 75 ممالک میں امریکی افواج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کا واضح مطلب ہے امریکا پوری دنیا پر تسلط حاصل کرنا چاہتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے جب اوباما صدر بنے تھے تو انہوں نے اعلان کیا تھا میں سابق صدر بش کے برعکس سفارت کاری کے ذریعے پوری دنیا کے تمام مسائل حل کروں گا۔ میں پوری دنیا کو بدلنے کا عزم کیے ہوئے ہوں۔ میں جنگ سے نفرت کرتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے مسلم دنیا کا دورہ کیا۔

جامعہ ازہر قاہرہ میں مسلم دنیا کے ساتھ ازسرنو تعلقات کا اعلان کیا۔ بش کی چند پالیسیوں سے یوٹرن بھی لیا۔ اسی وجہ سے اکتوبر 2009ء میں انہیں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا۔ مسٹر اوباما نے دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کی تخفیف کا بیڑا بھی اُٹھایا اور اس کے لیے کانفرنسوں پر کانفرنسیں کرڈالیں لیکن نتیجہ تاحال صفر ہے۔ عراق وافغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا دبے لفظوں اعلان کے بعد بھی گھمسان کی جنگ ہورہی ہے۔ یہ کھلا تضاد نہیں تو کیا ہے ابھی ایک ہفتہ قبل ہی اوباما نے نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا تھا: ”ہم بش کے نیو ورلڈ کو نہیں فالو نہیں کریں گے۔ ہم نے دنیا کے امن کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے۔“ ساتھ ہی انہوں نے 6 جون 2010ء کو خاموشی سے پچھتر ممالک میں خصوصی افواج کی تعیناتی کی منظوری بھی دے دی۔ یقینا اوباما کے اس فیصلے نے پوری دنیا کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کمانڈوز اور اسپیشل فورسز کے اختیارات میں بھی بے پناہ اضافہ کردیا۔ یہاں تک کہ پیشگی حملے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ دنیا پر امریکی قبضہ جمانے کا منصوبہ نہیں تو کیا ہے؟ یہ ”دنیا کے امن کا ٹھیکہ دار“ بننا نہیں تو کیا ہے؟

قارئین! کچھ عرصے بعد جب کبھی یہ پچھتر ممالک امریکا سے اپنے اڈے خالی کرنے کا مطالبہ کریں گے تو امریکا کی طرف سے اسی طرح کا جواب ہوگا جس طرح جاپان نے امریکا سے احتجاج کیا کہ جاپان میں امریکی اڈے خالی کردیے جائیں لیکن امریکا نے یہ کہہ کر جاپان کو خاموش کرادیا دوسری جنگ میں ہمارا جتنا خرچہ ہوا ہے اسے پورا کردیا جائے۔ بصورت دیگر یہ اڈے خالی نہیں کیے جائیں گے۔