Saturday, June 6, 2009

عراق امریکی بربریت کی لرزہ خیز داستان




تحریر: رؤف عامر پپا بریار

حدیث قدسی ہے آئے مسلمانو تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی پیروکاری کرو۔

امریکی فورسز نے انبیاوں کی دھرتی علم و ہنر کے مسکن اور مسلم امہ کی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب و ثقافت کی اماجگاہ عراق پر اپنے چھ سالہ تسلط میں جہاں ایک طرف انسانیت کے بخیے ادھیڑ دئیے تو دوسری طرف گورے بھیڑیوں نے انسانی شکل کے ماسک پہن کر عراقی سائنس دانوں اور علم و طب کے گواہر مقصود آبگینوں و نگینوں کو چن چن کر ہلاک کردیا تاکہ مستقبل میں عراق دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہوسکے۔

امریکیوں نے ایک طرف عراق کے حسین شہروں کو کھنڈرات میں بدل دیا تو دوسری طرف یونیورسٹوں اور ذہین دماغوں کو بھی صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ ایک یورپی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں انسانیت کے ان خودساختہ مبلغین کی کارکردگی کو عیاں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی فورسز نے عراق پر پہلے مشرکانہ حملے سے لیکر اب تک418 سائنسدانوں کی زندگیوں کو اگ و بارود کے آتش فشاں کے سپرد کردیا۔ صاحبان علم و دانش پر ڈھائی جانے والی ظلمت کا سانحہ کوئی جنگ شروع ہوجانے کے بعد کا واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک مربوط منصوبہ بندی تھی جو عراق پر جنگ مسلط کرنے کی پلاننگ کے دوران تشکیل دی گئی۔

یہ ایک گھناؤنی سازش تھی جسکے تحت امریکہ نے جہاں ایک طرف عراقی تیل کو ہتھیانے کے لئے بغداد کو تختہ مشق بنانا تھا تو وہاں یہ بھی طے کردیا گیا تھا کہ عراقی سائنسدانوں کو بھی ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے ۔امریکہ نے سائنس دانوں کو راندہ درگاہ بنانے کے لئے کئی پتے کھیلے۔ امریکی ایجنٹوں نے ان سائنسدانوں کو پیشکش دی کہ وہ یورپ اور امریکہ کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیں۔ بھاری تنخواہوں اور پر آلائش سہولیات کا پیکج دیا گیا وہ جنکے دماغوں میں حرص و ہوس کے کیڑے کلبلارہے تھے انکے وارے نیارے ہوگئے مگر وہ جو غیرت ایمانی سے لبریز صاحب ضمیر تھے انہوں نے وطن سے غداری کے تمام پیکج ٹھکرا دیے۔ وہ ضمیر کی راہ پر ڈٹ گئے۔

امریکیوں نے ان سرکشوں کے موت کے پروانے جاری کردیے۔ کچھ دیار غیر کی طرف ہجرت کرگئے حالانکہ امریکی ایجنسیوں نے انکے فرار کے تمام راستوں کو مسدود کردیا۔ مختلف شعبوں کے عراقی افلاطون جو سائنس دان بھی ہیں اور پروفیسرز بھی دانشور بھی ہیں اور کیمیادان بھی، کی کافی تعداد ابھی تک گمشدہ ہے کوئی پتہ نہیں کہ انہیں آسمان نگل گیا یا زمین مگر یہ سچائی اب آموختہ ہوچکی ہے کہ گمشدہ سائنسدان امریکی وحشت کے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے اہل قبور بن گئے۔سائنسدانوں کو لقمہ اجل بنانے کے لئے نہایت چالاکی و عیاری سے کام لیا گیا۔

کچھ کو امریکیوں نے خود مروایا اور پھر اس کا الزام مختلف تنظیموں کے سر تھوپ دیا گیا۔ عراق میں نور المالکی سرکار نے کئی مرتبہ شیخی بگھاری تھی کہ حکومت سائنسدانوں کی حفاظت کے لئے فول پروف سیکیورٹی کا بندوبست کررکھا ہے مگر میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکومتی اعلانات محض دھوکہ و سراب ہیں۔

عراقی حکومت نے عیارانہ اپیلیں کیں کہ دیار غیر میں بسنے والے سائنسدان اپنے گھروں کو لوٹ آئیں انہیں نہ صرف سابقہ پوزیشن پر بحال کیا جارہا ہے بلکہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ یوں درجنوں سائنسدان مادر وطن کی عقیدت میں پاگل بنے واپس لوٹ آئے اور یہاں موت انکا مقدر بن گئی۔ اس سازش و مکرکرنی کے صلاح و کار کون ہوسکتے ہیں؟اٍسے سمجھنے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔

موصل یونیورسٹی میں اقتصادیات کے ماہر ڈاکٹر مراد شہاب حکومتی بلاوے پر جلاوطنی ترک کر کے واپس آئے مگر یہاں تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔ ڈاکٹر مراد کو پہلے اغوا کیا گیا اور پھر انکے ساتھ کراچی میں بند بوریوں والی تاریخ دہرائی گئی۔ مالکی حکومت چاہے دل سے سائنسدانوں کو ہلاک کرنے کی حامی ہو یا نہ ہو وہ مجرم ہو یا بے گناہ مگر ایک بات طے ہے کہ عراقی حکومت ان احکامات پر عمل درامد کرنے کی پابند ہے جو تل ابیب اور واشنگٹن کی طرف سے جاری کئے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر مراد کے سفاکانہ قتل سے دو ہفتے پہلے بغداد کے معروف ایٹمی سائنسدان خلیل اسمعیل تکریتی کو گولیوں سے بھون دیا گیا حالانکہ حکومتی ہرکارے انہیں کافی تعظیم کے ساتھ دیار غیر سے واپس لائے تھے۔ عراق کی تحقیقاتی اکیڈمی کے چیرمین ڈاکٹر نورالدین کہتے ہیں کہ عراق امریکی جنگ کے چھ سالوں میں5550 سائنسدانوں اور قابل ماہرین سے ہاتھ دھو چکا ہے۔

ان میں اکثریت ان سائنسدانوں کی شامل ہے جو جنگ کے دوران مشرقی ایشیا اور مشرقی یورپ میں چلے گئے تھے جبکہ پیشتر عراقی مصلوب سائنسدان وہ ہیں جنہیں غیر ملکی ایجنسیوں نے منصوبہ بندی سے قتل کروایا۔ پچھلے سال2008 میں351 سائنسدان ہلاک کردیے گئے۔ عراقی یونیورسٹیوں میں تحقیقاتی شعبوں کے دو سو ماہرین غیر ملکی جارہیت کی استبدادیت و جبروت کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق2003 کے بعد سے پانچ سو سائنسدان موت کی وادیوں میں جابسے۔ سائنسدانوں، نامی گرامی اطبائے کرام، اکادمک افراد اور انجینیرز کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ بم دھماکے اور خود کش حملوں کے اکثر واقعات ان جگہوں پر پیش آئے جہاں سائنس دان اقامت پزیر تھے۔

ان قابل ترین عراقی ماہرین کو پیوند خاک بنانے کے لئے امریکیوں نے مزاحمت کار گروپوں میں موجود اپنے نمک حلال پٹھوؤں اور سیکیورٹی کے نام پر عراقی حکومت کے حصے دار کرائے کے قاتلوں کو استعمال کیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ امریکیوں اور عراقی حکومت کے امریکی دلالوں نے گٹھ جوڑ سے صدام دور کے جرنیلوں بیوروکریٹوں پائلٹوں کو امریکی فوج کے خلاف لڑنے کے جرم میں سزائے موت دی۔

رابرٹ فسک کی رپورٹ کے مطابق عراق میں پندرہ یورپی ملکوں کی ایجنسیاں امریکی سرپرستی میں عراق کے علمی، تہذیبی، سائنسی ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے آج بھی سرگرم ہیں۔ اس کار خیر میں اٍسرائیلی ایجنسیاں فرنٹ لائن قیادت کا کردار ادا کررہی ہیں۔ رابرٹ فسک ہی لکھتے ہیں کہ بش دور میں امریکی وزارت دفاع نے وائٹ ہاوس کو اطلاع بھجوائی کہ عراقی سائنسدانوں کو راستے سے ہٹانے کا دھندہ کامیابی سے جاری ہے۔عراقی ماہرین کو ہلاک کرنے کی سینکڑوں لرزہ خیز داستانیں مغربی پریس میں چھپ چکی ہیں جن پر انسانیت بلک اٹھتی ہے۔

امریکیوں اور اسرائیلیوں کی خواہش ہے کہ عراق کو سائنسی سکالرز سے پاک کردیا جائے۔عراق میں جہاں تعلیمی اداروں کو جلا کر راکھ کردیا گیا وہاں عراقی تہذیب و تمدن کی نشانیوں کو مٹانے کے لئے عجائب گھروں کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ امریکیوں نے اپنے خونخوار قبضے کے دوران عراق کے اسی فیصد تعلیمی اداروں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔

امریکہ عراق پر قبضے کی چھٹی سالگرہ منارہا ہے مگر ان چھ سالوں میں لاکھوں عراقی ہزاروں سائنسدان اور دنیائے عالم کو مبہوت کردینے دیدہ زیب تہذیب پیغمبران کو خون مسلم میں درگور کردیا گیا۔ ظلم و بہیمت کا رقص بسمل آج بھی پوری سفاکیت سے جاری ہے مگر مسلم امہ بے حسی کے سمندر میں غوطے کھارہی ہے۔امریکہ کی غلامی کرنے والے مسلم حکمرانوں کو محولہ بالا حدیث قدسی کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا مسلمانوں کے لئے اطاعت خداوندی لازمی ہے یا طواف وائٹ ہاؤس۔

ہمیں رسول کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ کا پیروکار بننا چاہیے یا امریکی صدر کی پالیسیوں کا نگہبان یہ فیصلہ ہمیں جلد کرنا چاہیے ورنہ ایران و پاکستان کی باری لگنے والی ہے۔

No comments:

Post a Comment