Thursday, October 29, 2009

شیطان کے پجاری - - - - - کچھ یادیں کچھ باتیں




تحریر: ڈاکٹر عصمت علوی


جب میں امریکہ میں تھا تب میری رہائش ایک سرکاری ہسپتال میں تھی۔ میری ڈیوٹی خواتین کے یورالوجی وارڈ میں تھی جب کہ میرا ایک کلاس فیلو مردوں کے یورالوجی وارڈ میں متعین تھا۔

ایسا ہوتا تو نہیں ہے مگر میرا وہ کلاس فیلو ایک مریض سے بطور خاص میری ملاقات کروانے کے لئے مجھے اپنے وارڈ میں لے کر گیا تھا۔ وہ مریض انواع واقسام کی جنسی بیماریوں میں مبتلا تھا یہاں تک کہ اس کے اعضاء تناسل گل بھی چکے تھے اور اپنی شکل و صورت بھی بدل چکے تھے بلکہ اسے کینسر بھی ہو چکا تھا۔

مگر یہ کوئی خاص بات نہ تھی کیونکہ آئے دن ہما را واسطہ ایسے مریضوں سے پڑتا ہی رہتا ہے۔ بلکہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جو معاشرے جنسی آزادی کے دعوے دار ہیں وہاں پر سوزاک آتشک چلیمیڈیا (کلیمیڈیا ) اور ایڈز وغیرہ کے مریضوں کی کوئی بھی کمی نہیں ہے ۔

خاص بات تو یہ تھی کہ وہ مریض پچھلے کئی برس سے اپنی بیماری کے باعث فرائض زوجیت ادا کرنے کے قابل نہ تھا مگر پھر بھی اس کی ادھیڑ عمر بیوی کی گود میں اس کی اپنی کوکھ سے جنم لینے والا ایک یا ڈیڑھ سال کا بچہ ہمک رہاتھا۔

امریکہ جیسے ملک میں یہ بات بھی کوئی خاص بات نہ تھی کیونکہ وہاں پر کچھ جوڑے مصنوعی تخم ریزی(آرٹیفیشل انسیمی نیشن) کے ذریعے سے اپنی بیویوں کو حاملہ کروا لیتے ہیں یعنی کہ جن مردوں کے سیمن میں سپرم نہیں ہوتے ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ وہ خود تو باپ نہیں بن سکتے مگر اس کا بھی ایک حل مغرب کے آزاد منش معاشرے کے پاس ہے وہ یوں کہ ایسے مرد کسی غیر اور اجنبی مرد کے صحت مند سپرم (جنسی کیڑے) کے ذریعے سے اپنی بیوی کو حاملہ کروالیتے ہیں۔

آج سے بیس برس قبل یہ عمل اتنا زیادہ عام نہ تھا جتنا اب عام ہو چکا ہے کیونکہ مختلف طرح کے کیمیکل، کھادیں، پینٹس، ادویات اور طرح طرح کی ریڈیئشن کی زد میں آنے کے سبب ترقی یافتہ ممالک کے تقریباً بیس فیصد مرد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں اور جیسے جیسے حضرت انسان مزید مادی ترقی کریں گے ویسے ویسے اس تعداد میں مزید اضافے کا قوی امکان ہے۔

کچھ ڈاکٹرز جو کہ مستقبل پر نظر رکھتے ہیں وہ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جب انسان دوسرے سیاروں (پلینیٹس) کو مسخر کر لے گا تو اس وقت وہ مختلف سیاروں کے درمیان ایسے ہی سپیس کرافٹ کا سفر کیا کرے گا جیسے کہ آج کل بہت سارے لوگ ہوائی جہاز کا سفر کیا کرتے ہیں تو اس دور کا انسان بہت ساری مضر صحت شعاعوں کی زد میں رہا کرے گا۔

تب اس دور کے پچاس فیصد مردوں کے سیمن میں سے صحت مند سپرم ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے۔

میل یورالوجی وارڈ کے مریض کی بیوی کا کیس ایسے بھی نہ تھا۔ دراصل وہ اپنے بچے کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بچے کی دادی بھی تھی۔

دراصل اس خاندان کا تعلق ایک گمراہ فرقہ بلکہ یوں کہیے کہ ایک گمراہ مذہب سے تھا جسے شیطان کے پجاری کہتے ہیں اس مذہب والے حصول لذت کے لئے ہر گناہ کو جائز سمجھتے ہیں۔ یعنی کہ جس عمل سے ان کو لذت حاصل ہوتی ہو اس عمل کو اس مذہب کے پیروکار برا نہیں سمجھتے ۔

دراصل ان کا پہلا سبق یا اصول یہی ہے :: شیطان کے کہے پر چلو ::

اس مریض کی بیوی بھی اپنے شوہر کی ہم مذہب اور ہم خیال ہی تھی ۔جب اس کا شوہر بیمار ہو گیا تھا تب اس نے لذت کے حصول کے لئے اپنے نوخیز بیٹے کے ساتھ ہی جنسی تعلقات قائم کر لئے تھے یوں وہ اپنے بیٹے کے بیٹے کی ماں بن گئی تھی۔

اس کے شوہر کو اپنی بیوی کی اس کرتوت پر نہ تو کوئی غصہ تھا اور نہ ہی کوئی رنج تھا بلکہ اس کے برعکس اسے اس بات پر فخر تھا کہ اس کی بیوی نے اس کی دوسری نسل کو خود ہی جنم دے کر شیطان کو خوش کر دیا ہے۔

سبھی لوگ جانتے ہیں کہ کینسر اپنی تیسری سٹیج میں بہت ہی تکلیف دہ ہو جاتا ہے یوں درد اور کرب میں مبتلا مریض کی حالت ہم ڈاکٹروں سے بھی نہیں دیکھی جاتی ۔کچھ برے لوگ اس مرحلے پر توبہ بھی کرلیتے ہیں مگر وہ شخص تو اپنے مذہب کا اتنا پختہ تھا کہ اس نے مرتے دم تک شیطان کی عبادت سے توبہ نہ کی تھی۔

یاد رہے کہ امریکہ میں بہت ساری مشہور ہستیوں کا اس مذہب سے تعلق ہے اور اس مذہب کے پیروکار ہر اخلاقی برائی کا ارتکاب کرتے ہیں چوری نشہ اور زنا تو ان لوگوں کے لئے معمولی کام ہیں وہ تو قتل کرنے اور اپنی محرمات سے زنا کرنے میں بھی دریغ نہیں کرتے۔

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس مریض نے میرے دوست ڈاکٹر کو ترغیب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے خاندان کی محرم عورت (ماں بہن بیٹی) سے صحبت کرنے میں جو لذت ملتی ہے ویسی لذت کسی غیر عورت سے صحبت کرنے میں نہیں ملتی۔

میرا وہ ڈاکٹر دوست ایک پختہ عقیدے کا کیتھولک ہے ۔ اس نے بہت کوشش کی ہے کہ مرنے والے کا خاندان تائب ہو جائے اور دوبارہ سے عیسائیت قبول کرلے مگر ابھی تک اس کی کوشش بار آور نہیں ہو سکی ہے۔

بلکہ پچھلے دنوں اس نے مجھے یہ اطلاع دی تھی کہ پرنس ایرک (بلیک واٹر کا ڈائریکٹر) نے آج سے اکیس برس قبل اپنی دادی کی کوکھ سے جنم لینے والے حرامی لڑکے کو اپنی کمپنی بلیک واٹر یعنی کہ زی کے ہیڈ کوارٹر میں ایک اہم پوسٹ پر رکھ لیا ہے۔

یاد رہے کہ ایرک ڈی پرنس کی تاریخ پیدائش چھ جون انیس سو انہتر بتائی جاتی ہے جس میں تین عدد چھ موجود ہیں بہت سارے پختہ عقیدے کے عیسائی تین چھ کوشیطانی عدد قرار دیتے ہیں۔

بلکہ ایک کیتھولک پاسٹر نے مجھے یہ بھی بتایا ہے کہ حقیقت میں ایرک پرنس چھ جون انیس سو چھیاسٹھ (06.06.66) کوہی پیدا ہوا ہے مگر اس کوصحیح العقیدہ کٹر کیتھولک (آرتھوڈوکس کرسچین) عیسائیوں کے ہاتھوں سے قتل کئے جانے سے بچانے کے لئے اس کے والدین نے تین سال تک ایرک پرنس کی پیدائش کو دنیا والوں کی نظروں سے چھپائے رکھا تھا ۔

اب تو سبھی پاکستانی یہ حقیقت جانتے ہیں کہ بلیک واٹر صرف انہی لوگوں کو ملازمت دیتی ہے جو کہ فطرتاً جرائم پیشہ ہوں۔ قتل و غارت اور زنا ان کا معمول اور مشغلہ ہو بلکہ بلیک واٹر تو چن چن کر ایسے لوگوں کو ملازمت کی آفر کرتی ہے جو کہ متعدد اخلاقی جرائم کا ارتکاب کرچکے ہوں اور جن کا پولیس ریکارڈ قتل اور زنا سے بھرپور ہو ۔

بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بلیک واٹر کے اکثر ملازمین نے اپنی محرمات سے زنا کا ارتکاب ضرور کیا ہوتا ہے۔ یہ بات تو اب روز روشن کی طرح سے عیاں ہو چکی ہے کہ بلیک واٹر کے ملازمین عراق اور افغانستان میں نو عمر بچوں اور بچیوں سے زنا بالجبر کا ارتکاب کرتے ہی رہتے ہیں کیونکہ ایسی خبریں متعدد بار متعدد اخبارات کی زینت بھی بن چکی ہیں ۔

میری ایک اطلاع کے مطابق صرف افغانستان میں پانچ ہزار سے زائد بچے اور بچیاں لاپتہ ہو چکی ہیں جن کی عمریں تین تین برس سے لے کر آٹھ یا نو برس تک تھیں ۔ ان سے بلیک واٹر کے کئی کئی غنڈوں نے مسلسل کئی کئی گھنٹے تک زنا بالجبر کیا گیا تھا پھرمزید پیسہ کمانے کے لئے ان کے ریپ کی ویڈیوز بھی ان غنڈوں نے خود ہی تیار کر لی تھیں اور اس کے بعد ان معصوموں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

مجھے حیرت تو اس بات پر ہے کہ جو واقعات وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے ہوتے ان کی ویڈیوز بھی بن جاتی ہیں اور پھر مسلسل کئی کئی دن تک کئی کئی پاکستانی اور انڈین چینلز پر چلتی بھی رہتی ہیں جیسے سوات میں طالبان نے ایک لڑکی کو کوڑے لگائے تھے یا کسی خفیہ مقام پر ایک انویسٹی گیشن سنٹر میں داڑھی والے پشتون کی پاکستانی فوجیوں نے پٹائی اور دھلائی کی تھی۔

اس مقام پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان جھوٹی ویڈیوز چلانے والے چینلز اور ان خودساختہ واقعات پر کئی کئی کالمز لکھنے والے آزاد خیال صحافیوں کو بلیک واٹر کے غنڈوں کا قتل و غارت اور دیگر جرائم کیوں کر نظر نہیں آتے؟ جن جرائم اور قتل و غارت کا ارتکاب بلیک واٹر کے کارندے آئے دن ہمارے وطن پاکستان کے شہروں میں مسلسل اور کھلے عام کئے جا رہے ہیں ۔

میں اکثر یہ سوچتا ہی رہتا ہوں اور خود سے یہ سوال بھی کرتا رہتا ہوں ۔کیا ڈک چینی(سابقہ نائب امریکن صدر) اور ایرک پرنس کی طرح سے ہمارے ملک میں بھی کچھ طبقے شیطان کے پجاری بن چکے ہیں؟


بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Wednesday, October 28, 2009

حضرت بایزید بسطامیؒ اور پانچ سو راہب



تحریر: ڈاکٹر عبدالقدیرخان

(تصویر میں حضرت بایزید بسطامی ؒ کا مزار شریف ہے)

اللہ تعا لیٰ نے ہمیں نہ صرف مختلف شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ ہمارا کردار بھی ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ اسی طرح ہمارا ذوق ادب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ میں اپنے بارے میں یہ عرض کروں گا کہ مجھے طالب علمی کے زمانہ سے ہی اسلامی تاریخ ، اردو ادب اور مشہور لوگوں کی سوانح حیات پڑھنے کا بہت شوق تھا۔

بہت سی کتابیں میری پسندیدہ ہیں اور آج بھی ان کی ورق گردانی کرکے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ تمام پرانے شعراء کے کلام کا مطالعہ محبوب مشغلہ ہے۔ پسندیدہ کتابوں میں نسیم حجازی کی کتابیں، الفاروق ، روڈ ٹو مکّہ، غبار خاطر، اردو کی آخری کتاب وغیرہ وغیرہ بہت پسند ہیں۔ قرآن، سیرت النبی کے علاوہ ابنِ بطوطہ کا سفر نامہ اور تذکرةُ الاُولیاء مجھے بہت پسند ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لئے تذکرةُالا ُولیاء بہت مفید اور معلوماتی کتاب ہے۔

اس میں چھیانوے اولیاء کرام کے زندگی کے حالات اور ان کے مکاشفات کے بارے میں نہایت دلچسپ واقعات بیان کئے گئے ہیں۔

تذکرةُالا ُولیآء حضرت فریدالدین عطارؒ کی تصنیف کردہ ہے جو خود بھی اولیاء اللہ کا مرتبہ رکھتے تھے۔ اس کو شائع ہوئے تقریباً آٹھ سو سال ہوگئے ہیں۔ حضرت عطارؒ پانچ سو تیرہ ہجری کو نیشاپور کے مضافات میں پیدا ہوئے تھے اور وہیں چھ سو ستائیس کو ایک تاتاری سپاہی کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔

اس کتاب میں حضرت بایزید بسطامی ؒ کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ اپنے وقت کے بہت بڑے ولی اللہ مانے جاتے تھے۔ آپ کے بارے میں حضرت جُنید بغدادی ؒ نے فرمایا تھا کہ حضرت بایزید ؒ کو اولیاء میں وہی رُتبہ حاصل ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو ملائکہ میں۔

تذکرةُالاولیاء میں حضرت بایزید ؒ کے بارے میں بہت سی معلومات ہیں مگر ایک بہت اہم واقعہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ وہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ یہ واقعہ مولانا الحاج کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری نے اپنی تصنیف رُوحانیتِ اسلام (الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور) میں تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔ یہ وہی کپتان سیال ہیں جنہوں نے اسلام آباد اےئر پورٹ پر بوئنگ 747جس کے پہیہ نہیں کھلے تھے بحفاظت اُتار دیا تھا اور کسی مسافر کو خراش تک نہیں آئی تھی۔ میں ان کی اس کتاب سے حضرت بایزید ؒ اور پانچ سو عیسائی پادریوں کے مسلمان ہونے کا واقعہ حرف بحرف پیش کر رہا ہوں۔

حضرت بایزید بسطامی ؒ کے دستِ حق پرست پرپانچ صد (۰۰۵) عیسائیوں کا مشرف بہ اسلام ہونا

حضرت شیخ بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں خلوت سے لذّت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی، اے بایزید دَرِسمعان کی طرف چل اور عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار واقعہ ہوگا۔ تو میں نے اعوذباللہ پڑھا اور کہا کہ پھر اس وسوسہ کو دوبارہ نہیں آنے دوں گا۔

جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتف کی وہی آواز سنی۔ جب بیدار ہوا تو بدن میں لرزہ تھا۔ پھر سوچنے لگا کہ اس بارے میں فرمانبرداری کروں یا نہ تو پھر میرے باطن سے ندا آئی کہ ڈرو مت کہ تم ہمارے نزدیک اولیاء اخیار میں سے ہو اور ابرار کے دفتر میں لکھے ہوئے ہو لیکن راہبوں کا لباس پہن لو اور ہماری رضا کے لئے زنّار باندھ لو۔ آپ پر کوئی گناہ یا انکار نہیں ہوگا۔

حضرت شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس پہنا زنار کو باندھا اور دَیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ ان کی عید کا دن تھا مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے میں بھی راہب کے لباس میں ان کی مجلس میں جا بیٹھا۔ جب بڑا راہب آکر ممبر پر بیٹھا تو سب خاموش ہو گئے۔

بڑے راہب نے جب بولنے کا ارادہ کیا تو اس کا ممبر لرزنے لگا اور کچھ بول نہ سکا گویا اس کا منہ کسی نے لگام سے بند کر رکھا ہے توسب راہب اور علماء کہنے لگے اے مرشد ربّانی کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے۔ ہم آپ کے ارشادات سے ہدایت پاتے ہیں اورآپ کے علم کی اقتدا کرتے ہیں۔ بڑے راہب نے کہا کہ میرے بولنے میں یہ امر مانع ہے کہ تم میں ایک محمّدی شخص آ بیٹھا ہے۔ وہ تمہارے دین کی آزمائش کے لئے آیا ہے لیکن یہ اس کی زیادتی ہے۔

سب نے کہا ہمیں وہ شخص دکھا دو ہم فوراً اس کو قتل کر ڈالیں گے۔ اُس نے کہا بغیر دلیل اور حجت کے اس کو قتل نہ کرو، میں امتحاناً اس سے علم الادیان کے چند مسائل پوچھتا ہوں اگر اس نے سب کے صحیح جواب دیئے تو ہم اس کو چھوڑ دیں گے، ورنہ قتل کردیں گے کیونکہ امتحان مرد کی عزّت ہوتی ہے یا رسوائی یا ذِلّت۔ سب نے کہاآپ جس طرح چاہیں کریں ہم آپ کے خوشہ چیں ہیں۔ تو وہ بڑا راہب ممبر پر کھڑا ہوکر پکارنے لگا۔ اے محمّدی، تجھے محمّد ﷺ کی قسم کھڑا ہو جا کہ سب لوگ تجھے دیکھ سکیں تو بایزید رحمةاللہ علیہ کھڑے ہو گئے۔

اس وقت آپ کی زبان پر رب تعالیٰ کی تقدیس اور تمجید کے کلمات جاری تھے۔ اس بڑے پادری نے کہا اے محمّدی میں تجھ سے چند مسائل پوچھتا ہوں۔ اگر تو نے پوری وضاحت سے ان سب سوالوں کا جواب باصواب دیا تو ہم تیری اتباع کریں گے ورنہ تجھے قتل کردیں گے۔ تو بایزید رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ تو معقول یا منقول جو چیز پوچھنا چاہتا ہے پوچھ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ہمارے درمیان گواہ ہے۔ تو اس پادری نے کہا۔

وہ ایک بتاؤجس کا دوسرا نہ ہو اور وہ دو بتاؤ جن کا تیسرا نہ ہو اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو اور وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو اور وہ سات جن کا آٹھواں نہ ہو اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو اور وہ دس جن کا گیارہواں نہ ہو اور وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو۔

اور وہ قوم بتاؤجو جھوٹی ہو اور بہشت میں جائے اور وہ قوم بتاؤ جو سچّی ہو اور دوزخ میں جائے

اور بتاؤ کہ تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرارگاہ ہے اور الْذارِیاتِ ذروًا کیا ہے اور اَلْحاَمِلَاتِ وِقْراً کیا ہے اور اَلْجَارِیَاتِ یَسْرًا کیا ہے اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا کیا ہے۔

اور وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور سانس لے۔ اور ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رَبُّ العالمین کے ساتھ گفتگو کی اور وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے کر چلی ہو اور وہ پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو اور وہ چار جو نہ باپ کی پشت اور نہ شکم مادر سے پیدا ہوئے ۔

اور پہلا خون جو زمین پر بہایا گیا۔ اور وہ چیز پوچھتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو اور پھراس کو خرید لیا ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر نا پسند فرمایاہو۔ اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی عظمت بیان کی ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر خو د پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے۔

اور وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں اور کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں اور کون سے پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں اور کون سے جانور سب جانوروں سے افضل ہیں اور کون سے مہینے افضل ہیں اور کون سی راتیں افضل ہیں اور طَآمَّہ کیا ہے۔

اور وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتّے ہیں اور ہر پتّے پر پانچ پھُول ہیں دو پھُول دھوپ میں اور تین پھُول سایہ میں ۔ اور وہ چیز بتاؤجس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اُس میں جان ہو اور نہ اُس پر حج فرض ہو۔ اور کتنے نبی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور اُن میں سے رُسول کتنے ہیں اور غیر رسُول کتنے۔

اور وہ چار چیزیں بتاؤ جن کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہواور نقیر کیا ہے اور قطمیر کیا ہے اور فتیل کیاہے اور سبدولبد کیا ہے طَم ّ وَرم ّ کیا ہے۔ اور ہمیں یہ بتاؤ کہ کتّا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے اور گدھا ہینگتے وقت کیا کہتا ہے اور بیل کیا کہتا ہے اور گھوڑا کیا کہتا ہے اور اونٹ کیا کہتا ہے اور مور کیا کہتا ہے اور بلبل کیا کہتا ہے اور مینڈک کیا کہتا ہے جب ناقوس بجتا ہے تو کیا کہتا ہے۔

اور وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی ہو اور نہ انسان ہوں اور نہ جن اور نہ فرشتے ۔ اور یہ بتاؤ کہ جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔

تو حضرت بایزید بسطامی ؒ نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔

آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی جواب دے دوں تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لاؤ گے۔

سب نے کہا ہاں، پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا گواہ ہے۔

یک زمانہ صحبت با اُولیا
بہتر اَز صَد سالہ طاعتِ بے ریا



پھر فرمایا کہ تمہارا سوال کہ ایسا ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو وہ اللہ تعالیٰ واحد قہار ہے

اور وہ دو جن کا تیسرا نہ ہو وہ رات اور دن ہیں لقولہؒ تعالیٰ ( سورة بنی اسرائیل آیت 12)

اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہووہ عرش اور کرسی اور قلم ہیں۔

اور وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو وہ چار بڑی آسمانی کتابیں تورات، انجیل ، زبور اورقرآن مقدس ہیں۔

اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو وہ پانچ فرض نمازیں ہیں۔

اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو وہ چھ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایالقولہ تعالیٰ ( سورہ قاف، آیت 38)

اور وہ سات جن کاٹھواں نہ ہووہ سات آسمان ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ ملک آیت ۳)

اور وہ آٹھ جن کا نواں نہ ہو وہ عرش بریں کو اُٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ حآقّہ، آیت 17)

اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو وہ بنی اسرائیل کے نو فسادی شخص تھے لقولہ تعالیٰ (سورة نمل، آیت ۸۴)

اوروہ د س جن کاگیارواں نہ ہو وہ متمتع پر دس روزے فرض ہیں جب اس کو قربانی کی طاقت نہ ہو لقولہٰ تعالیٰ (سورة بقرہ، آیت ۶۹۱)

اور وہ گیارہ جن کا بارواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں۔ گیارہ ہیں۔ ان کا بارواں بھائی نہیں لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت ۴)

اوروہ بارہ جن کا تیرواں نہ ہووہ مہینوں کی گنتی ہے لقولہ تعالیٰ (سورہ توبہ، آیت ۶۳) ا
ور وہ تیرہ جن کا چودہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کا خواب ہے لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت۴)
اور وہ جھوٹی قوم جو بہشت میں جائی گی وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں کہ اللہ تعالےٰ نے ان کی خطا معاف فرمادی ۔ لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف،آیت ۷۱)

اور وہ سچی قوم جو دوزخ میں جائی گی وہ یہود و نصارےٰ کی قوم ہے لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ، آیت ۳۱۱) تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے دین کو لاشی بتانے میں سچّا ہے لیکن دونوں دوزخ میں جائیں گے

اور تم نے جو سوال کیا ہے تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے تو جواب یہ ہے کہ میرے کان میرے نام کے رہنے کی جگہ ہیں۔

اور اَلزَّارِیَاتِ ذرْواً چار ہوائیں ہیں ۔ مشرقی ، غربی، جنوبی، شمالی۔ اوراَلْحَامِلَاتِ وِقْراً بادل ہیں لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ آیت ۴۶۱ )

اور اَلْجَا رِیَاتِ یُسْراً سمندر میں چلنے والی کشتیاں ہیں اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْراً وہ فرشتے ہیں جوپندرہ شعبان سے دوسرے پندرہ شعبان تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔

اور وہ چودہ جنہوں نے رَب تعالیٰ کے ساتھ گفتگوکی وہ سات آسمان اور سات زمینیں ہیں لقولہ تعالیٰ(سورة حٰم السّجدہ، آیت ۱۱)

اور وہ قبرجو مقبور کو لے کر چلی ہو وہ یونس علیہ السّلام کو نگلنے والی مچھلی ہے۔ اور بغیر روح کے سانس لینے والی چیزصبح ہے لقولہ تعالیٰ

اور وہ پانی جو نہ آسمان سے اترا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو وہ پانی ہے جو گھوڑوں کا پسینہ بلقیس نے آزمائش کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا

اور وہ چار جو کسی باپ کی پشت سے ہیں اور نہ شکم مادر سے وہ اسماعیل علیہ السّلام کی بجائے ذبح ہونے والا دنبہ اورصالح علیہ السلام کی اونٹنی اورآدم علیہ السلام اور حضرت حوّا علیہ السلام ہیں ۔

اور پہلا خون ناحق جو زمین پر بہایا گیا وہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا خون ہے جسے بھائی قابیل نے قتل کیا تھا۔

اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے لقولہ تعالیٰ (سورة توبہ، آیت ۱۱۱)

اوروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے ناپسند فرمایا ہو وہ گدھے کی آواز ہے لقولہ تعالیٰ (سورة لُقمان، آیت 19)

اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر اُسے بُرا کہا ہو وہ عورتوں کا مکرہے لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت 28)

اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے وہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے لقولہ تعالیٰ (سورة طٰہٰ آیت ۷۱)

اور یہ سوال کہ کون سی عورتیں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں وہ اُم البشر حضرت حوّا علیہ السلام اور حضرت خدیجہؓ اور حضرت عائشہؓ اور حضرت آسیہؓ اور حضرت مریم علیہ السلام ہیں ۔

باقی رہا افضل دریا وہ سیحون، جیجون، دجلہ، فرات اور نیل مصر ہیں ۔

اور سب پہاڑوں سے افضل کوہِ طور ہے

اور سب جانوروں سے افضل گھوڑا ہے

اور سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ ، آیت 185)

اور سب راتوں میں افضل رات لیلة القدر ہے لقولہ تعالیٰ (سورة قدر، آیت ۳)

اور تم نے پوچھا ہے کہ طاْمہ کیا ہے وہ قیامت کا دن ہے۔

اور ایسا درخت جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی کے تیس پتّے ہیں اور ہر پتّہ پر پانچ پھول ہیں جن میں سے دو پھول دھوپ میں ہیں اور تین سایہ میں ۔ توہ وہ درخت سال ہے۔ بارہ ٹہنیاں اس کے بارہ ماہ ہیں اور تیس پتّے ہر ماہ کے دن ہیں۔

اور ہر پتّے پر پانچ پھول ہر روز کی پانچ نمازیں ہیں دو نمازیں ظہر اور عصر آفتاب کی روشنی میں پڑھی جاتی ہیں اور باقی تین نمازیں اندھیرے میں۔

اور وہ چیز جو بے جان ہو اور حج اس پر فرض نہ ہو پھر اس نے حج کیا ہو اور بیت اللہ کا طواف کیا ہو وہ نوح علیہ السّلام کی کشتی ہے ۔

تم نے نبیوں کی تعداد پوچھی ہے پھر رسولوں اور غیر رسولوں کی تو کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں اور باقی غیر رسول۔

تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور ذائقہ مختلف ہے حالانکہ جڑ ایک ہے۔ وہ آنکھیں، ناک، منہ، کان ہیں کہ مغزسر ان سب کی جڑ ہے۔

آنکھوں کا پانی نمکین ہے اور منہ کا پانی میٹھا ہے اور ناک کا پانی ترش ہے اور کانوں کا پانی کڑوا ہے ۔

تم نے نقیر (سورة نسا آیت ۴۲۱)،قطمیر ( سورة فاطر آیت ۳۱)، فتیل (بنی اسرائیل آیت ۱۷)۔
سبدولبد، طمّ ورَمّ کے معانی دریافت کیے ہیں۔

کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو نقطہ ہوتا ہے اس کونقیر کہتے ہیں

اور گٹھلی پرجو باریک چھلکا ہوتا ہے اس کو قطمیر کہتے ہیں

اور گٹھلی کے اندر جو سفیدی ہوتیہے اسے فتیل کہتے ہیں۔

سبد و لبد بھیڑ بکری کے بالوں کو کہا جاتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی آفرینش سے پہلے کی مخلوقات کو طمّ ورَمّ کہا جاتا ہے۔

اور گدھا ہینگتے وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے لَعَنَ اللّٰہ ُالْعَشَّار۔

اور کتا بھونکتے وقت کہتا ہے وَیْلُ لِاَھِلِ اْلنَّارِمِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ۔

اور بیل کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ۔

اور گھوڑا کہتا ہے سُبْحَانَ حَافِظِیْ اِذَا اَلتَقَت الْاَبْطَال َوَاشْتَعَلَتِ الرِّجَالُ بِالرِّجَال

اور اونٹ کہتا ہے حَسْبِیَ اللّٰہ ُ وَکَفٰی بِاللٰہِ وَکِیْلاَ

اور مور کہتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسّتَوٰی (سورہ طٰہٰ آیت 15) ۔

اور بلبل کہتا ہے سُبْحَا نَ ا للّٰہ ِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (سورة روم آیت 17)۔

اورمینڈک اپنی تسبیح میں کہتا ہیسُبْحَانَ الْمَعْبُودِ فِیْ البَرَارِیْ وَالْقِفَارِ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ ( سورة نحل آیت ۸۶)

اور ناقوس جب بجتا ہے تو کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ حَقَّا حَقَّا اُنْظُرْ یَاْبنَ اٰدَمَ فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا غَرْبًا وَّشَرْقًا مَّاتَرٰی فِیْھَا اَحَدًایَّبْقٰی۔

اور تم نے وہ قوم پوچھی ہے جن پر وحی آئی حالانکہ وہ نہ انسان ہیں نہ فرشتے اور نہ جن۔ وہ شہد کی مکھیاں ہیں لقولہ تعالیٰ (سورة نحل آیت ۸۶)

تم نے پوچھا ہے کہ جب رات ہو تی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے اور جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے جب دن ہوتا ہے تورات اللہ تعالیٰ کے غا مض علم میں چلی جاتی ہے ۔

اور جب رات ہوتی ہے تو دن اللہ تعالیٰ کے غامض علم میں چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ غامض علم کہ جہاں کسی مقرب نبی یا فرشتہ کی رسائی نہیں۔

پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا کوئی ایسا سوال رہ گیا ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا نہیں ۔ سب سوالوں کے صحیح جواب دیے ہیں تو آپ نے اس بڑے پادری سے فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو۔ وہ یہ ہے کہ آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے۔

تو وہ پادری سر بہ گریباں ہوکر خاموش ہو گیا تو سب پادری اس سے کہنے لگے کہ اس شیخ نے تمہارے اس قدر سوالوں کے جواب دیے لیکن آپ اس کے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے وہ بولا کہ جواب مجھے آتا ہے۔ اگر میں وہ جواب بتاؤں تو تم لوگ میری موافقت نہیں کرو گے۔

سب نے بیک زباں کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں ۔ ہم ہر حالت میں آپ کی موافقت کریں گے۔ تو بڑے پادری نے کہا آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَّمدُ رَّسُولُ اللہ ہے ۔ تو سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور اپنے اپنے زنار وہیں توڑ ڈالے ۔

غیب سے ندا آئی ۔ اے بایزید ہم نے تجھے ایک زنار پہننے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ ان کے پانچ سو زنار تڑواؤں ۔

وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ (نوٹ ۔ قرآنی آیا ت کا حوالہ میں نے شامل کر دیا ہے)

ہر کہ خواہد ہمنشینی باخُدا
اُو نشیند دَر حضورِ اُولیاء



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Wednesday, October 21, 2009

اسرائیلی جرائم کی چارج شیٹ!! - - - - - کار زار



تحریر: انور غازی

”اسرائیل جنگی مجرم ہے۔ غزہ پر حملے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کو ”ہیگ“ میں قائم انسداد جرائم کی عالمی عدالت میں پیش کرنا چاہیے تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔“ یہ الفاظ ”ہیومن رائٹس کونسل“ کے ہیں جو اس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کی توثیق میں کہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ”رچرڈ گولڈ اسٹون“ نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

اس میں اسرائیل کے جرائم سے متعلق چشم کشا انکشافات کیے گئے۔ تمام واقعات، شواہد، معلومات اور عینی شاہدین کے انٹرویوز کی روشنی میں جو نتائج نکالے گئے وہ یہ تھے کہ اسرائیل جنگی جرائم میں پوری طرح ملوث ہے۔ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد 17/ اکتوبر 2009ء کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے رکن ممالک کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اسرائیل، فلسطین، پاکستان، ترکی، بھارت، چین، کیوبا، روس اور نائجیریا سمیت اکثر ممالک نے شرکت کی۔ 25 ملکوں نے گولڈ اسٹون رپورٹ کی توثیق کی۔

امریکا سمیت 6 ریاستوں نے مخالفت کی جبکہ فرانس اور برطانیہ سمیت 11 ممالک غیر حاضر رہے۔ البتہ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر نے اتنا ضرور کہا کہ غزہ جنگ سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ اہم معلومات پر مشتمل ہے۔ اسرائیل وفلسطین دونوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ دیگر کئی یورپی ممالک نے بھی رپورٹ کی حمایت کا خیال ظاہر کیا ہے۔ حماس نے اس رپورٹ کی توثیق کرنے والے ممالک کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ اسرائیل حقائق تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر اُتر آیا ہے اور توثیق کرنے والے ممالک کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

اور تو اور اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ گولڈ اسٹون کے خلاف صہیونیوں نے پروپیگنڈا شروع کردیا ہے کہ انہوں نے جانبداری سے کام لیا ہے۔ افریقہ کے یہودی سڑکوں پر نکل کر اس کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ اس کے خلاف کینیڈا اور امریکا میں بھی سازشیں شروع ہوچکی ہیں۔ حالانکہ گولڈ اسٹون خود اعتدال پسند یہودی ہیں اور ان کی ماں صہیونی تحریک میں شامل تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صہیونی اپنے خلاف سچائی اور حقائق سننے کو بھی ذرا بھر تیار نہیں ہوتے۔

اسرائیلی راہنماؤں نے برطانیہ کو خفیہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اس رپورٹ کی حمایت نہ کرے۔ اگر برطانیہ نے توثیق کی تو پھر برطانوی جنگی جرائم بھی بے نقاب کیے جائیں گے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر کس کی پشت پناہی سے اسرائیلی راہنما برطانیہ جیسی ریاست کو بھی دھمکی آمیز پیغام بھجوارہے ہیں کہ وہ رپورٹ کی توثیق سے باز رہے۔ ادھر ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی پردہ پوشی نہ کرے۔ اسرائیل نے بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔“

حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے جنگی جرائم کرتا چلا آرہا ہے۔ ہم مختصراً صہیونیوں کے جرائم کی چارج شیٹ پیش کرتے ہیں تاکہ یہ بات عیاں ہوجائے کہ جو رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ سو فیصد حقائق پر مبنی ہے۔ اسرائیل اب تک اقوام متحدہ کی 69 قراردادوں کی دھجیاں اُڑاچکا ہے۔ اسرائیل نے جنیوا کے قوانین کو پامال کرتے ہوئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو نشانہ بنایا۔ اسکول اور کالجوں پر میزائل داغے۔ کیمیاوی ہتھیار اور فاسفورس بم استعمال کیے۔ گمنام جگہوں پر شہید ہونے والے فلسطینیوں کے اجسام کی بے حرمتی کی۔ فلسطینی بچوں کو اغوا کرکے ان کے اعضا نکالے۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کیا۔

امدادی کارکنوں پر بمباری کی۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے اہلکار بھی اس ظلم سے نہ بچ سکے۔ مسلّمہ قانون ہے کہ دورانِ جنگ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو امان حاصل ہوگا۔ ہتھیار نہ اُٹھانے والوں پر فائرنگ اور بمباری نہیں کی جائے گی لیکن اسرائیلی درندوں نے بچوں، مریضوں، ضعیفوں حتیٰ کہ ایمبولینسوں اور فلاحی اداروں کے امدادی کارکنوں تک لہو میں نہاگئے۔

دور نہ جائیں! حالیہ غزہ پر صہیونی حملوں میں 1300 فلسطینی شہری، 437 کم عمر بچے، 110 عورتیں اور 123 بوڑھوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ شہری آبادی پر اندھا دھند گولہ باری کرکے سیکڑوں فلسطینیوں کو زخمی کیا گیا۔ جنگ کے دوران بیسیوں بے گناہوں حتیٰ کہ راہگیروں اور امدادی ورکروں کو گرفتار کرکے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا۔

گزشتہ دنوں فلسطینی عوام کو امداد پہنچانے والی ایک امدادی کارکن نے ”رملہ جیل“ سے خط لکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ”میرا نام سنتھیا میکنیے ہے۔ میں رملہ میں اسرائیلی جیل کی ایک کوٹھڑی سے مخاطب ہوں۔ جنگ کے دوران ہم زخمیوں کے لیے ادویات پہنچانے غزہ کی طرف جارہے تھے کہ اسرائیلیوں نے ہماری گاڑی پر فائرنگ کردی۔ پھر ہمیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ہم دنیا کے مہذب لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے؟

ہم غزہ کے زخمیوں تک بنیادی ضروریات کی چیزیں پہنچانا چاہتے تھے لیکن اسرائیلی فوج نے یہ کہتے ہوئے گرفتار کرلیا کہ دہشت گردوں کو طبی امداد کیوں پہنچارہے ہو؟ ان فلسطینیوں کو یونہی تڑپ تڑپ کر مرنا چاہیے۔“ میں نے جرات کرتے ہوئے کہا: ”انسانیت کے ناتے ان کے لیے فرسٹ ایڈ ضروری ہے لیکن اسرائیلی فوج نے میری ایک نہ سنی اور فلسطینی زخمی عوام کو طبی امداد پہنچانے کے جرم میں مجھے 30 جون کو گرفتار کرکے رملہ کے عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا حالانکہ میرا مشن انسانی حقوق، معاشرتی انصاف اور بلارنگ ونسل، قوم ومذہب صرف انسانیت کی خدمت ہے۔

میں سوچتی ہوں جب مجھ جیسی عورت کے ساتھ اسرائیلی فوج نے یہ ظلم کیا ہے تو عام فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وہ کیا کیا انسانیت سوز کام کرتے ہوں گے؟“ آخر میں ”سنتھیا میکینے“ اقوام متحدہ اور امریکی صدر اوباما سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں بے گناہ فلسطینی عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد کو آزاد کروائیں۔“

پس منظر کے طورپر یاد رہے اس وقت اسرائیلی جیلوں اور عقوبت خانوں میں 1500 مرد، 400 کے قریب معصوم بچے اور 210 خواتین انتہائی صعوبتیں اُٹھارہے ہیں۔ فلسطینی ”محکمہٴ اسیران“ کے ترجمان کا کہنا ہے فلسطینی قیدیوں پر نئی نئی تیار کردہ ادویات کے تجربات بھی کیے جارہے ہیں۔ بیشتر تجربات معصوم بچوں پر کیے جاتے ہیں۔ ان ادویات کے استعمال سے ایک ہزار قیدی شدید متاثر ہیں جن میں سے ایک سو پچاس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ عالمی ریڈ کراس کے نمایندوں تک کو اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کو اس پر آواز اُٹھانی چاہیے۔ قارئین! دوران تحریر میرے سامنے ایک تصویر ہے جس میں جیل میں شہید ہونے والے فلسطینی شہری کی تدفین کے موقع پر ان کی بیوی اور معصوم بچے زاروقطار رورہے ہیں۔ ان پھول سے بچوں کے آنسو عالمِ اسلام کے حکمرانوں کو بہت کچھ سوچنے کا پیغام دے رہے ہیں۔
اسرائیل کا ایک جرم یہودی بستیوں کی آباد کاری ہے۔ اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق اسرائیل مزید بستیاں تعمیر نہیں کرسکتا۔

متعدد بار تعمیر روکنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ یہودیوں نے فلسطین کے علاقوں پر غیر قانونی طورپر قبضہ کیا۔ یہودی قیادت کو شروع میں ایسا کرنے سے روکنے کی کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اسرائیل کے حوصلے بلند ہوتے چلے گئے اور وہ فلسطین کے مزید علاقوں پر قابض ہوتا گیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل فلسطین کے ایک بڑے علاقے پر قابض ہوچکا ہے اور اس کی ناجائز توسیع کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

یہودی بستیوں کی تعمیر کا آغاز 1947ء سے ہوا۔ اس کے بعد سے ان میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے حالانکہ قیام امن کے بین الاقوامی منصوبے ”روڈ میپ“ کے تحت اسرائیل نے یہودی بستیوں پر کام روکنے کا پکا وعدہ کیا تھا۔ مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں… یہ سب مقبوضہ علاقہ جات ہیں اور اسرائیل کا حصہ نہیں۔

انصاف تو ملاحظہ کیجیے! اسرائیل نے 85 فیصد پانی اپنے یہودی آباد کاروں کے لیے مخصوص کیا ہے جبکہ باقی 15 فیصد فلسطینی مسلمانوں کے لیے چھوڑا ہوا ہے۔ غربِ اردن اور غزہ میں بنی تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی اصولوں کے تحت غیر قانونی ہیں۔ ایرئیل نامی ایک یہودی بستی میں 18 ہزار صہیونی رہائش پذیر ہیں۔ تازہ خبر کے مطابق ایک نئی یہودی بستی کا نام ”اوباما“ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ اس کا نام ”اوباما ہیلتوب“ رکھا جائے گا۔

دنیا کے وسیع تر مفاد میں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو اپنی ان اداؤں پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہیے کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ کے لیے کیسے ثابت ہوسکتے ہیں؟ اسرائیل کا ایک بڑا جرم غیر قانونی اور ممنوع اسلحے کا بے دریغ استعمال ہے۔ قانون کے مطابق جوہری اور فاسفورس بم استعمال نہیں کرسکتا، مگر غزہ جنگ کے دوران صہیونیوں نے ایسا بارود استعمال کیا کہ بچے موم کی طرح پگھل گئے۔ اس پر ڈاکٹروں کی رپورٹیں شاہد ہیں۔

اسرائیل کا ایک جرم اس کے توسیع پسندانہ عزائم اور مشرقِ وسطیٰ میں بالادستی کا خناس ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی وہ ایران کو دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی شام کو۔ کبھی لبنان کو تو کبھی اردن کو۔ کبھی پاکستان کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کے لیے بھارت سے گٹھ جوڑ کرتا ہے تو کبھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمسائے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرواتا ہے۔ یہی وجہ ہے اسرائیل کے پڑوسی ممالک میں سے کسی کے ساتھ خوشگوار تعلقات نہیں ہیں۔

اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور بڑھتے ہوئے جنگی جرائم کی وجہ سے ترکی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جنگی مشقیں نہیں کرے گا۔ امریکا، اسرائیل اور ان کے دیگر دوست ممالک کو غور کرنا چاہیے کہ ترکی جیسا ملک… جس نے یورپ کا حصہ بننے کے لیے ایک وقت میں عالم اسلام سے رابطہ توڑ لیا تھا… آج امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے غیر منصفانہ رویوں کو محسوس کررہا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے مسلم دنیا کے حکمران اور عوام بھی ان کی خون آشام اور استعماری پالیسیوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔

لہٰذا اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو پالیسی بدلنا ہوگی۔ اگر اسرائیل نے یہی روش رکھی اور اس کے جرائم یونہی بڑھتے رہے تو پھر ایک نہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اس کی حمایت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔


بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Tuesday, October 20, 2009

چائنہ ڈالر کی عزت لوٹنے کے درپے




تحریر: فرخ صدیقی


ڈالر کی عزت بچانے کیلئے امریکی یہودیوں کا نیا کھیل شروع

ڈالر بچانے کی یہ سرد جنگ، امریکہ چین، روس، وینزویلا اور ایران کے درمیان کھیلی جارہی ہے۔

بیجنگ - امریکہ میں صہیونی یہودیوں کے پھیلائے گئے مصنوعی معاشی طوفان کے بعد جہاں چین نے امریکی ڈالر سے جان چھڑانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے وہیں یہودی نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق “گولڈ ڈالر“ جاری کرنے کے چکر میں امریکی عوام کو دوبارہ گمراہ کرتے نظر آتے ہیں۔

بیجنگ کے معاشی نظام کے پیچھے بیٹھے افراد جہاں ایک طرف امریکہ کے قرضوں کی دھڑا دھڑ خریداری کر رہے ہیں وہیں وہ ان قرضے کے معاہدوں کی تجدید میں ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی یوآن سے بدل کر ان قرضوں کو بیچتے بھی نظر آتے ہیں۔

سودی نظام جس کے بانی یہودی ہیں اور اس کام میں انکا کوئی ثانی نہیں، آج چین نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے اور صہیونی فیڈرل ریزرو بینک ڈالر کے اس کھیل میں نئے پتے پھینکنے کے باوجود پریشان ہے۔

چین، روس، وینزویلا اور ایران میں بیٹھے ڈالر مخالف یہ کھلاڑی جو ایکطرف ڈالر کو مٹی میں رولنا چاہتے ہیں وہیں انھوں نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کرنا شروع کردی ہے جو جان بوجھ کر کمی کی جارہی ہے۔

اس کمی سے جہاں امریکی قرضوں کی ادائیگی میں آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں وہیں ان ممالک کی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے اور ایسے اضافہ کا مطلب ہے مزید صنعتیں اور مزید روزگار کے مواقع۔

ڈالر کے گرد گھیرا ڈلتے دیکھ کر اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ڈالر کا وجود خطرے میں ہے تو شائد آپ ٹھیک ہی سوچ ہے ہیں لیکن یہ یاد رکھیے کہ تقریباً ایک صدی تک اس کاغذ کو عالمی کرنسی منوانے والے یہودی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔

یہودیوں کے ذاتی بینک فیڈرل ریزرو بینک جو ڈالر کا موجد بھی ہے نے نئے نام “گولڈ ڈالر“ کے نام سے نئی کرنسی کے اجراء کی تیاریاں کر لی ہیں۔ امریکی عوام کو اب یہ کہہ کر الو بنایا جارہا ہے کہ یہ گولڈ ڈالر سانے کے ان ذخائر کے برابر چھاپے جا رہے ہیں جو فیڈرل ریزرو بینک کے پاس موجود ہیں۔

1862ء سے پہلے امریکی عوام سونے کے سکے ہی استعمال کر رہے تھے، اسوقت بھی انھیں سکوں کو کومت وقت میں موجود یہودیوں نے ضبط کر کے ان کے عوض کاغذ کے ڈالر تھما دیے اور یہی کھیل نئی شکل اور اصولوں کیساتھ دوبارہ کھیلا جائیگا۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ گولڈ ڈالر نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی امریکی عوام کے حلق میں دوبارہ انڈیلی جائیگی۔

ڈالر کے لٹنے کے تناظر میں یہودی یورو کو بھی متبادل کرنسی کے طور پر متعارف کروانا چاہ رہے ہیں تاکہ جو ایسے نہ پھنسے وہ ویسے پھنس جائے۔ کوئی گولڈ ڈالر لے نہ لے لیکن یورو سے بچ کر تو مشکل ہی نکل پائے گا۔

اس مسئلہ کا حل کرنے کیلئے چین ان مغربی ممالک جن کیساتھ اسکی تجارت اور لین دین عروج پر ہے، ایسے معاہدے کر رہا ہے جن کی رو سے وہ ممالک چینی کرنسی ہی میں چین کو اور آپس میں بھی چینی کرنسی ہی میں ادائیگی کرسکیں گے، جو عملی اور کاروباری طور پر ان ممالک کے لئے آسان بھی ہوگا اور منافع بخش بھی۔

اسکی ایک مثال بیلارس، انڈونیشیا اور ملائیشیا ہیں، یہ ممالک چین کیساتھ اور آپس میں ڈالر کو بیچ میں لائے بغیر چینی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور چین کیساتھ بھی۔

امریکی یہودیوں کی پوری کوشش ہے کہ ایسے تجارتی معاہدوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے جس کیلئے وہ سرد جنگ کیساتھ ساتھ چین کیخلاف دیگر دہشتگرد قوتوں کو بھی چین کے حالات خراب کروانے پر کام کر رہے ہیں، یغور میں مسلم کش فسادات اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں قازقستانی یہودی ملوث پائے گئے۔

آنے والے چند ماہ شاید ڈالر کی موت و حیات کا فیصلہ تو نہ کر پائیں لیکن اس بات کی وضاحت ضرور کریں گے کہ آئندہ دہائی کی عالمی کرنسی بننے کا تاج کس ملک کے سر جائیگا۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Thursday, October 15, 2009

جنیوا مذاکرات ٹھنڈی ہوا کا جھونکا یا ڈھکوسلہ




تحریر: روف عامر پپا بریار


کنفیوشس نے کہا تھا بینا وہ ہے جو اپنی گریبان میں جھانکے۔

امریکی و مغربی طاقتیں تہران کے جوہری مسئلے پر منافقانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں کیونکہ ایک طرف اوبامہ و یورپی ممالک اٍس تنازعے کو مذکرات کے زریعے حل کرنے کی اداکاری کرتے ہیں جس کی مثال جنیوا میں مغرب و ایران کے درمیان ہونے والے ڈائیلاگ ہیں مگر دوسری طرف تہران کے جوہری اثاثوں پر اسرائیلی حملے کی منصوبہ بندیوں کی بازگشت امریکی و اسرائیلی اصل حکمت عملی کو الم نشرح کررہی ہیں۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں تہران کے ایٹمی پروگرام کی بساط لپیٹنے کے لئے امریکی و اسرائیلی سازشوں و خفیہ منصوبہ بندیوں کا انکشاف کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکی حکومت نے سی ائی اے کو فائنل ٹاسک دے دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے دبئی میں قائم ہیڈ کوارٹر میں ایرانی ایجنٹوں کی بھرتی کرکے تہران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کاروائیوں کا اغاز تک کردیا گیاہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو فائنل حملے سے صرف اٍس وجہ سے روک رکھا ہے کیونکہ پینٹاگون سمجھتا ہے کہ تل ابیب کے پاس ابھی تک وہ بم و میزائل نہیں ہیں جو ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات کو صد فیصد تباہ کرنے کے قابل نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مغرب اور تہران کے درمیان جوہری تنازعے پر خلیج روز بروز بڑھ رہی ہے۔حالات تصادم کی قسم کھاتے ہیں۔یوں پوری دنیا کی نگاہیں یکم اکتوبر کو جنیوا میں دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے جنیوا مذاکرات پر مرکوز تھیں۔ستمبر میں یواین او کے اجلاس اور بعد میں جی ٹونٹی کانفرنس میں امریکہ سمیت بڑی طاقتوں نے ایران پر دباو بھی ڈالا اور دھمکیاں بھی دیں کہ وہ مغرب کے خدشات کو دور کرے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں ممکنہ فضائی حملے کی جگالی بھی شامل تھی۔

جنیوا میں یکم اکتوبر بروز جمعرات کو منعقد ہونے والے مذاکرات میں یواین او کے پانچ مستقل ارکان امریکہ جرمنی برطانیہ روس اور چین کے نمائندے شامل تھے۔گو کہ اٍس محفل یعنی جنیوا مذاکرات کے نتائج حوصلہ بخش نہیں تھے مگر اٍنہیں ناکام کہنا بھی درست نہیں۔امریکی صدر اوبامہ نے مذاکرات کو اچھی ابتدا قرار دیا۔پچھلی تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ تہران اور امریکہ نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

ایران نے مغرب کا ایک مطالبہ تسلیم کرلیا کہ قم میں قائم دوسرے جوہری پلانٹ کا معائنہ کیا جائے۔اوبامہ نے کہا کہ تہران کو عالمی اعتماد بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔ امریکہ سے زیادہ اسکے حواری فرانس کے وزیر دفاع ہر دی مورون نے تو باقاعدہ ترش لہجے میں دھمکی تک ڈالی کہ اگر تہران نے دسمبر تک جوہری پلانٹ کا معائنہ نہ کروایا تو اس پر پہلے سے زیادہ اقتصادی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ ایرانی صدر نے اپنی تنصیبات کو چالو حالت میں رکھنے کے لئے استعمال ہونے والی یورینیم کسی تیسرے ملک سے کروانے کا اعلان کیا ہے جو پر امن مقاصد کے ایرانی فلسفے کی غماز ہے۔

جنیوا میں ایرانی سفارت کار سعید جلیلی نے ببانگ دہل مذاکرات میں شریک کارواں بڑی طاقتوں کے نمائندگان کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہم کسی صورت میں اپنے جوہری پروگرام کو ترک نہیں کرسکتے۔ ان مذکرات کو طویل رنجشوں کے بعد ٹھنڈی ہوا کا جھونکا کہا جارہا ہے مگر سامراجیت و یہودیت کی تاریخ کو پڑھا جائے تو یہ سچ سامنے آتا ہے کہ مغرب یہودیوں کی خوشنودی کے لئے ایران کے جوہری پلانٹس کو عسکری کاروائی کی غذا بنانے کے لئے کسی وقت بھی فوجی کاروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

امریکہ اور اسکے یورپین خوشہ چین طویل عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی اور جوہری پلانٹس کو تباہ کرنے کے لئے ایک ہی وقت میں کئی جہتوں پر کام کررہے تھے مگر ایران کے صدارتی الیکشن میں احمد نژاد کی کامیابی نے انکے ارادوں کو خاک میں ملا ڈالا۔ انتخابی عمل کے بعد ایران میں ہونے والے دنگے فساد، احتجاجی و پر تشدد تحریک کے پیچھے یہی طاقتیں کارفرما تھیں۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو مذاکرات کی بجائے ایرانی ایٹمی سائنسی تنصیبات کو فوجی حملے سے تباہ کرنے کی سوچ کا پیروکار ہے مگر تہران بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لئے تیار ہے۔

ایرانی قیادت نے واضح کردیا کہ اگر اسرائیل نے حملے کی جسارت کی تو یہ تل ابیب کے لئے سانس لینے کا ٓخری موقع ہے۔ایران کی حالیہ عسکری مشقوں اور شارٹ و لانگ رینج کے میزائل تجربات دراصل مغرب کو یہ پیغام دینے کا ذریعہ تھے کہ وہ جوابی حملے کے لئے تیار ہے۔ایران کے شہاب میزائلوں کی سیریز دو ہزار کلومیٹر تک ہے۔

یوں اسرائیل ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل کے پاس جو میزائل ہیں وہ چودہ سو کلو میٹر تک مار کرسکتے ہیں۔ایران نے کئی ایسی جوہری سائٹس بنالی ہیں جو چودہ سو کلومیٹر کی دوری پر اور زیر زمین ہیں جسکی بھنک تک امریکہ و اسرائیل کے پاس نہیں۔ ایران و اسرائیل کے درمیان حزب اللہ کی ناقابل شکست فصیل موجود ہے جسے پھلانگ کر تہران تک پہنچنا ناممکنات میں شامل ہے۔

حزب اللہ اسرائیل کو سابقہ جنگ میں ذلت امیز شکست دے چکی ہے۔ایران کے جوہری اثاثوں پر تنقید کرنے حملے کی دھمکیاں دینے والے یورپی ممالک دو عملی پالیسی کے ترجمان ہیں۔اسرائیل کے پاس دو سوزائد وار ہیڈز ہیں مگر وہ چونکہ امریکہ کا بغل بچہ ہے اسی لئے یہودیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ مڈل ایسٹ میں جو چاہے کرتا رہے مگر ایران کو تہس نہس کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔دنیا کو تہران کے جوہری بموں سے خوف زدہ کرنے والے خود ہی دوسرے ممالک کی سالمیت پر حملے کرنے اور انسانیت کی تذلیل کرنے کے مجرمان ہیں۔اگر اوبامہ یا سرکوزی دنیا کو جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے بچانے میں مخلص ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے جوہری گوداموں کو ختم کرنا ہوگا۔ایران کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنا ہی انصاف کا دوسرا نام ہے۔

دنیا میں انصاف، مساوات،امن اور سکھ چین کی بانسری بجانے کا غل غپاڑہ کرنے والے امریکہ و مغربی طاقتوں کو کنفیوشس کے محولہ بالا قول کی روشنی میں سب سے پہلے اپنی گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ دنیا کے امن کو ایران کے جوہری اثاثوں سے خطرہ ہے یا امن کے نام پر عراق و افغانستان میں لاکھوں معصوموں کو بے گناہ ہلاک کرنے والے امریکہ اور اتحادیوں کے ہولناک ایٹمی زخائر سے؟ اوبامہ اور ایران مخالفین یورپی ممالک کو اپنے پیارے پیغمبر
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے اس جملے پر لازمی غور کرنا چاہیے۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا تھا..........

پہلا پتھر وہ اٹھائے جس نے خود کبھی گناہ نہ کیا ہو۔

جہاں تک جنیوا مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ ایران کو منانے کرنے کا ڈھکوسلہ ہے نہ کہ ٹھنڈی ہوا جھونکا۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Wednesday, October 14, 2009

یہودیت کی سیاہ کاریاں اور مہذب دنیا کی ڈیوٹی




تحریر: روف عامر پپا بریار
صہیونیوں و یہودیوں نے اپنی مرکرنیوں و شاطریوں سے ایک طرف امریکہ سمیت مغرب کے زرائع ابلاغ، اقتصادیات صنعت و حرفت اور مالیاتی اداروں پر دادا گیری قائم کررکھی ہے تو دوسری طرف روئے ارض پر ہونے والے غیر قانونی کاروبار، انسانی اعضاوں کی تجارت و منشیات کی اسمگلنگ کا مذموم و غیر انسانی دھندے کا کریڈٹ بھی صہیونیوں کو حاصل ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنے اور گلوبل اقتصادی نظام کو چلانے والے ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔امریکہ میں انسانی اعضاوں کی سمگلنگ کے الزام میں دھر لئے جانے والے یہودیوں نے انکشاف کیا کہ اسلحے منشیات اور منی لانڈرنگ کے کاروبار میں امریکہ کے کئی بنک شریک کار ہیں۔ منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کئے جانیوالے کالے دھن کو صہیونیوں کے بنک تحفظ دیتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اور اٍسرائیل نے دوسرے ممالک پر جارہیت کے لئے ہمیشہ کالے دھن کو استعمال کیا۔افغان جنگ میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے امریکہ اور روس کے صہیونیوں نے منشیات سے کمائی جانے والی دولت کو خوب استعمال کیا۔ افغان سوویت جنگ کے زمانے میں سی ائی اے کے سربراہ کیسی نے اپنی سوانح عمری میں تسلیم کیا ہے کہ افغان وار کے بے بہا اخراجات منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کئے گئے۔

طالبان نے اپنے دور میں ڈرگز و پوست کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تو امریکہ کے صہیونی مافیا پر سکتہ طاری ہوگیا۔مغربی تجزیہ نگاروں نے افغانستان پر امریکی حملے کو صہیونی مافیا کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے صہیونی تاجروں نے افغانستان کو دوبارہ پوست کی کاشت کا گڑھ بنانے کے لئے بش انتظامیہ کو کابل پر جنگی شب خون مارنے کے لئے اکسایا۔

کابل میں کرزئی کے سربراہ سلطنت ہونے کے بعد پورے دیس میں پوشت کی کاشت و منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار زوروں پر ہے۔کرزئی کے بھائی کے ساتھ ساتھ افغان پارلیمنٹ کے اسی فیصد ممبران اور وزرا منشیات کے سمگلر ہیں۔منشیات کے تاجر جنگوں میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں یہ ایسا سوال ہے جس پر بحث ہونی چاہیے۔

امریکی ریاست میکسیکو کو مغرب میں منشیات مافیا کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں حالات اٍتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ منشیات مافیا اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان آئے روز مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔میکسیکو کو منشیات کے کاروبار کا ہیڈ کوارٹر کہنا بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہاں کے ڈرگ مافیاز کے تانے بانے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نیٹ ورکس سے جا ملتے ہیں۔میکسیکو کی ریاستی حکومت تو منشیات کے اسمگلروں کو زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہے مگر امریکہ کو اٍس سے کوئی دلچسپی نہیں۔

میکسیکو کے صدر فلپ تو پچھلے تین سالوں سے منشیات کی تجارت کا قلع قمع کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں مگر اسے کامیابی نہ مل سکی۔میکسیکو کی سرحدوں پر خانہ جنگی ہورہی ہے۔میکسیکو میں منشیات کا کاروبار پچھلے چالیس برسوں سے جاری ہے جسکی بنیاد امریکن میڈیا میں گاڈ فادر کے نام سے شہرت پانے والے صہیونی غنڈے میر لین سکائی نے رکھی تھی۔

میکسیکو کے صدر فلپ نے حال ہی میں اوبامہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومتی کیمپ میں موجود ان کالی بھیڑوں کو نکالا جائے جو ڈرگ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں۔فلپ نے وائٹ ہاوس کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی ڈرگز مافیا کے اٍعانت کندگان و بہی خواہ موجود ہیں۔

صدر فلپ نے اوبامہ سے ملاقات کے دوران آہ و فغاں کرتے ہوئے پشین گوئی کی کہ اگر امریکہ نے اپنے قوانین تبدیل نہ کئے تو میکسیکو ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گا اور اٍس جہنم پر ڈرگ مافیاز کے ایجنٹ حکومتی دربان کا کردار نبھائیں گے۔صہیونی ڈرگ مافیاز کی قوت کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں امریکی انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں نے ڈرگ مافیا اور میکسیکو حکومت کے درمیان ڈیل کی کوششیں کیں جو صدر فلپ نے پائے حقارت سے مسترد کردیں۔

صدر فلپ کی داستانٍ غم سے یہ بات اشکار ہوتی ہے کہ منشیات کے بے نکیل اسمگلروں اور وائٹ ہاوس میں براجمان صہیونی سرمایہ کار وں و بینکرز کے درمیان چولی دامن کی رشتہ داری و قربت موجود ہے۔میکسیکو کے ایک فوجی کرنل نوفل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ منشیات مافیا عالمی تنظیم کا روپ دھار گئی ہے جس میں لاکھوں ایجنٹ شامل ہیں جنہیں حکومتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

پاکستان میں میکسیکو کی طرح سوات میں پاک فوج کے ساتھ لڑنے والے انتہاپسندوں کو بھی بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں منشیات فروشی کے نیٹ ورکس پر سی ائی اے و موساد کا اہنی کنٹرول ہے۔ڈرگ مافیاز کی مدد سے ہی ویت نام، عراق و افغان جنگ لڑی گئی۔عراق ایران جنگ میں روس امریکہ اور تل ابیب کے ڈرگ مافیاز نے اہم کردار ادا کیا۔

ڈرگز، منشیات،منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اسلحے کی سمگلنگ کو صرف ایک ہی عنصر تقویت دیتا ہے اور وہ ہے بنکنگ و مالیاتی نظام و انتصرام۔کالے دھن سے کمائی گئی دولت کو صہیونیوں کے بنک و اٍدارے مطلوبہ اہداف تک بااسانی پہنچاتے ہیں۔امریکی فیڈرل ریزرو بنک کے درجنوں سیکنڈلز میڈیا کی زینت بنے جن میں ڈرگ مافیاز بھی شامل تھے۔

یہ ڈرگ مافیاز ہی ہیں جنکے کرتے دھرتے امریکی حکومت گرانے کی طاقت رکھتے ہیں اور اٍن ڈرگ مافیاز کو صہیونیوں نے قابو کررکھا ہے۔سی ائی اے دنیا اور خاص طور پر امریکی قوم کو دھوکہ دینے کے لئے گاہے بگاہے ہالی وڈ کو استعمال کرتی رہتی ہے ۔فلموںمیں باور کروایا جاتا ہے کہ امریکی ریاستوں میں ہونے والی گڑ بڑ میں دوسرے ملکوں کے ڈرگ مافیاز ملوث ہیں۔


1939 سے ہی انڈر ورلڈ کی ڈوریں صہیونیوں کے سپرد ہیں۔نومبر2002 میں امریکی اخبار ابزرور نے اپنی رپورٹ میں صہیونیوں کی ابلیسیت کو عیاں کرکے تہلکہ مچادیا کہ یہودی و صہیونی اقوام میں قابل عزت سمجھے جانے والے تلموزی یہودی ڈرگ مافیاز کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ابزرور نے ہی لکھا تھا کہ صہیونی بنکار ڈرگ مافیاز کی دولت کو اسرائیل منتقل کردیتے ہیں۔

امریکی مصنف سیلے دیتون نے اپنی کتاب BLUE GRASS CONCIPIRACY میں صہیونی ڈرگ مافیاز کی بد اعمالیوں کو اجاگر کیا تو سیلے کو ڈرگ مافیاز کی سفاکیت کا صدمہ سہنا پڑا اور وہ قتل ہوگئے۔امریکی مصنف سالویڈر کی کتابopium lords میں درج ہے کہ تل ابیب ڈرگ مافیا کا ہیڈ کوارٹر ہے اور امریکی صدر کینڈی کو بھی صہیونی ڈرگ مافیا نے ہلاک کروایا۔

یروشلم پوسٹ نے اگست کی اشاعت میں لکھا کہ دنیا میں جتنے بھی ڈرگ مافیاز کے ڈان ہیں وہ عبرانی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور اٍس کرہ ارض پر جتنے ملک ہیں وہاں کے ڈرگ مافیاز کو ایف بی ائی کنٹرول کرتی ہے اور ایف بی ائی کو موساد ہدایات جاری کرتی ہے۔یاد رہے کہ سی ائی اے کے دو سرخیلوں wilium j kasi کو1986 جبکہ edegar hover کو1972ء میں صہیونی ڈرگ مافیا مرواچکا ہے۔

اسرائیل اسلحے سے لیکر منشیات اور انسانی اعضاوں سے لیکر عورتوں کی سمگلنگ کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے۔دنیا بھر میں ہونے والے تمام غیر قانونی بزنس اور جرائم کو اسرائیل میں تحفظ ملتا ہے۔امریکہ کا کوئی صدر صہیونیوں کی معاونت کے بغیر وائٹ ہاوس میں داخل نہیں ہوسکتا اور یہ وہی صہیونی لابی ہے جو ایک طرف ڈرگ مافیا کی دادا گیر ہے تو دوسری طرف یہی لابی انٹرنیشنل اور امریکن اقتصادیات و مالیات کو اپنے بنکوں کے ذریعے اپنے خونخوار جبڑوں میں جکڑے ہوئے ہے۔

دنیا میں اس وقت تک جرائم، جنگوں، دنگوں اور اسلحے کی سمگلنگ کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک صہیونی سرمایہ داروں کا تخلیق کردہ مالیاتی نظام ختم نہیں ہوجاتا۔یہودی دولت کے حصول کے لئے دنیا کا کوئی مکروہ ترین کاروبار کرنے سے نہیں چوکتے۔

صہیونی ڈرگ و مالیاتی مافیاز کو ختم کئے بغیر اللہ کی زمین پر امن قائم نہیں ہوسکتا۔مہذب دنیا جس میں چاہے گورے ہوں یا کالے یورپین ہوں یا ایشیائی وہ فلپ کی شکل میں میکسیکو کا صدر ہو یا ایران کے احمد نژاد کے روپ میں وہ پاکستان کا شہری ہو یا سعودی عرب کا مسلمان۔صہیونیوں کی فتنہ گریوں کو روکنے کے لئے ساروں کو متحد ہونا پڑے گا ورنہ ایک طرف منشیات انسانیت کو سسکا سسکا کر مارتی رہے گی تو دوسری طرف دنیا کے کونے کونے میں خون کے سمندر بہتے رہیں گے۔

کیا یہ ساری دنیا کی بد نصیبی نہیں کہ روئے ارض پر موجود چھ ارب سے زائد انسانوں کو کل ابادی میں س صرف0.2 کا حصہ رکھنے والے یہودیوں و صہیونیوں نے یر غمال بنا رکھا ہے۔

بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Friday, October 9, 2009

امریکی اشراف کی بداعمالیاں





تحریر: روف عامر پپا بریار


یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دور حاظر کی خود ساختہ سپرپاور اب نام کی عالمی طاقت رہ گئی ہے۔غربت و بے روزگاری کی شرح آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔امریکی اشرافیہ کے جنگی جنون نے امریکہ کا معاشی دیوالیہ نکال دیا۔ امریکہ میں ہونے والے حالیہ سروے سے پتہ لگا ہے کہ صرف ترکی اور میکسیکو ہی شرح غربت کے حوالے سے امریکہ سے نیچے ہیں۔حکومت کی عاجلانہ و بچگانہ پالیسیوں کا کمال ہے کہ بنکوں کے پردھانوں کو تو تنخواہوں کے ساتھ بونس دئیے جارہے ہیں مگر عام امریکی فوڈ سٹمپ سکیموں سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔

امریکہ کی مالیاتی طاقت کا ایک رخ تو یہ ہے۔کسی دور میں عام امریکی شہری کے لائف سٹائل اور اطوار زندگی کے معیار پر ساری دنیا رشک کیا کرتی تھی مگر اب سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔امریکی قوم کی برتری کا معیار ہوا میں تحلیل ہوچکا ہے۔امریکہ کے تمام بڑے مالیاتی ادارے دیوالیہ ہوچکے۔لاحاصل جنگوں نے امریکی قوم کی زندگیوں میں صدمے و جھٹکے بھر دیے۔

امریکی معیشت کا ڈھانچہ مصنوعی تنفس پر چل رہا ہے۔امریکی پالیسی سازوں نے اپنے زمین بوس مالیاتی نظام کو نئے سروں پر استوار کرنے کے لئے جو سات سو بلین ڈالر کا جو بیل آوٹ پیکچ دیا تھا وہ ناکامی سے دوچار ہے۔ بیروزگاری کی شرح پچھلے چند ماہ میں نو فیصد تک بڑھ گئی جو امریکی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کرگیا۔امریکہ کی زبوں حالی کا یہ عالم ہےECONOMIC DEVELOPMENT ORGANAIZATION نامی ادارے کے زیر اہتمام دنیا کے تیس ملکوں میں ایک سروے کروایا گیا جس کے مطابق امریکہ میں غربت کی شرح میکسیکو و ترکی سے بلند تھی۔

سیٹل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں امیروں و غریبوں کے درمیان فرق کو یوں بیان کیا کہ امیر ترین امریکیوں کی فہرست میں دس فیصد لوگ سالانہ93000 ڈالر کماتے ہیں یہ شرح تیس ممالک میں سب سے بلند ہے مگر 90 فیصد امریکی صرف5800 ڈالر کماتے ہیں۔امیر طبقہ عام امریکیوں کے مقابلے میں چار سو گنا زیادہ کماتے ہیں۔ امیروں و غریبوں کے درمیان روز افزوں خلیج کیسے کم کی جاسکتی ہے کے متعلق مالیاتی شعبدہ گر کچھ بتانے پر تیار نہیں۔نیویارک ٹائمز نے تین اگست کو اپنے ایک اٍدارئیے میں امریکہ کی معاشی زبوں حالی کا نقشہ کچھ پیش کیا۔

نیویارک کے اٹارنی جنرل اینڈریو موکو نے انکشاف کیا ہے کہ سٹی بنک نے2008 میں5.33 بلین ڈالر بونس کے طور پر ادا کئے حالانکہ اسے27.7 بلین ڈالر کا نقصان ہوا اور اس نے حکومت سے45 بلین ڈالر حاصل کئے۔سٹی گروپ کے738 اور بنک اف امریکہ کے175 ملازمین کو بونس کے طور پر ایک بلین ڈالر کی نذر و نیاز عنایت کی۔امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے تجزئیے میں بتایا گیا ہے کہ2008 میں سٹی بنک نے انرجی ٹریڈنگ یونٹ گروپ کی شکل میں99.9 ملین ڈالر ادا کئے جو اٍس سال100 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔امریکہ کا مالیاتی ڈھانچہ119 سال پرانا ہے مگر حالیہ دیوالیہ پن نے اسکی چولیں تک ہلا دی ہیں۔

امریکہ میں بھوک و افلاس نے حکومتی نااہلیوں کا بھید کھول دیا ہے۔34 ملین امریکی حکومتی فوڈ سٹمپس سکیموں سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔اشیائے خوردنی کے گودام خالی ہورہے ہیں۔امریکی کی بنکنگ اشرافیہ کے اللوں تھللوں نے بنکنگ سسٹم کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں مگر ایسے ہوشربا نقصانات کے باوجود یہی رئیس زادے بونس کی شکل میں معیشت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام کررہے ہیں۔حکومت نے سات سو بلین ڈالر کے بیل اوٹ پیکج کا اعلان کیا ہے مگر یہی رقم امریکی قوم کے خون پسینے سے نچوڑی جارہی ہے۔امریکی اشرافیہ ایک طرف قومی خزانے پر شب خون مار رہی ہے تو دوسری طرف واشنگٹن میں خیمہ بستیوں کے شہر اباد ہورہے ہیں۔خیمہ بستیوں میں اپنی تباہی و حکومتی نااہلیوں و جنگی جنون کے جھٹکوں کے نوحے گانے پر مجبور ہیں۔

لطف تو یہ ہے کہ ایسے بدقسمت شہریوں کے لئے ابھی تک کوئی جگہ مختص نہیں ہوچکی۔گرجا گھروں نے بے سائباں و بے خانماں امریکیوں کو دوماہ کے لئے اپنے احاطوں میں خیمے نصب کرنے کی اجازت دی تھی مگر اب گرجا گھروں کے پنڈت اپنے ہم وطن بھائیوں کے عارضی خمیوں کو اکھاڑنے کے لئے بے تاب ہیں۔واشنگٹن کے راشن ڈپو پر موجود170 امریکیوں نے اس وقت ہنگامہ کھڑا کردیا جب انتظامیہ نے اشیائے خوردنی کے خاتمے کی نوید سنائی۔ٹی وی چینل صاحب ثروت افراد سے اپیلیں کررہے ہیں کہ وہ در بدر ہونے والے ہم وطنوں کی پیٹ پوجا کے لئے راشن مہیا کریں۔کیلی فورنیا میں ریاستی بجٹ کو29 بلین ڈالر کا دھچکا لگا تو انتظامیہ نے عوام و بچوں کی میڈیکل سہولیات ختم کردیں اور یہ سلسلہ عفریت کے روپ میں تمام امریکی ریاستوں کو نگلنے کے قریب ہے۔امریکہ میں بے روزگاروں کی تعداد14 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

ان لوگوں کے پاس نہ تو سرچھپانے کی جگہ ہے اور نہ ہی پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے دو وقت کی روٹی۔بیروزگاروں و غریبوں کے بچے دو دھ و ادویات کے لئے سسک رہے ہیں۔امریکی ابادی کا دس فیصد عیاشی کررہا ہے جبکہ بقیہ نوے فیصد کے لئے سپرپاور دوزخ کا روپ دھار چکی۔افلاطون نے کہا تھا کہ کسی ملک کی سلامتی کا اندازہ وہاں بسنے والے لوگوں کی حالت زار سے لگایا جاسکتا ہے۔پوری دنیا میں دنگے فسادوں کو جلا بخشنے والی سپرپاور کی قومی سلامتی کو افلاطون کے قول کی روشنی میں پرکھا جائے تو یہ سچائی بے نقاب ہوتی ہے کہ عراقیوں و افغانیوں کا خون ناحق بہانے ،سامراجیت کے احیا اور اغیار کی دولت لوٹنے اور تیل کی لالچ میں کابل و بغداد میں انسانیت کو وحشت و بربریت سے شکست دینے والے مجرم امریکہ کی تباہی کا وقت بہت قریب ان پہنچا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ ائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔اوبامہ کو رب العالمین نے موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی ریاست کی سلامتی کے لئے لاحاصل جنگوں میں اربوں ڈالر جھونکنے کی بجائے یہی رقم بھوک و ننگ سے بلکنے والی امریکی قوم کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر امریکہ کو ایک نہ ایک دن قصہ ماضی کے قبرستان میں درگور ہونا پڑے گا۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Thursday, October 8, 2009

احمدی نژاد کی استادی - - - - سچ تو یہ ہے۔




تحریر: خادم الاسلام و المسلمین ڈاکٹرعصمت حیات علوی


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

ہمارے بڑا کہا کرتے تھے کہ استاد استاد ہوتا ہے اور یہ ایک حقیقت بھی ہے اور اس حقیقت کا عملی نظارہ ہم نے اپنی عملی زندگی میں کئی مرتبہ کیا ہے ۔پچھلے دنوں امریکہ کے ایک معروف چینل کی میزبان کیٹی کیورک کو بھی اس بات کا ایسا عملی تجربہ ہوا ہے کہ اسے ساری عمر یہ اصول یاد رہے گا کہ استاد استاد ہی ہوتا ہے اور اگر وہ سیانی ہوئی تو اپنی آئندہ نسلوں کو بھی یہ نصیحت کر جائے گی کہ کسی استاد سے ماتھا نہ لگانا۔

ہوا یوں ہے کہ پچھلے مہینے یعنی کہ ستمبر میں ایک لائیو شو کے دوران کیٹی کیورک کا مہمان ایرانی صدر احمدی نژاد تھا۔جیسا کہ مغربی پریس اور میڈیا کی یہ روایت ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے راہنماوں کی مٹی پلید کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ کیٹی نے بھی یہی کچھ کیا تھا ۔اس نے ندا سلطان کا ذکر چھیڑ دیا۔ ندا سلطان وہی لڑکی ہے جو کہ ایرانی صدر کے دوبارہ منتخب ہونے پر الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر ہونے والے مظاہروں کے دوران ایرانی سیکیورٹی ایجنسی کے ہاتھوں ماری گئی تھی۔

ایرانی صدر نے ایک معقول آدمی کی طرح سے نداسلطان کی موت پر اظہار افسوس کیا تھا اور یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ سیکیورٹی والوں کاطرز عمل غلط تھا اور ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھاپھر احمدی نژاد نے کیٹی کو یہ بھی بتایا تھا اس سانحے میں ملوث سیکیورٹی والوں کی ملازمت ختم کردی گئی ہے اور ان کے خلاف دیگر تادیبی کاروائی بھی ہو رہی ہے ۔

اس مرحلے تک توکیٹی کا پلہ بھاری ہی تھی اور وہ ایک اسلامی مملکت کے صدر کی بے عزتی کرکے دل ہی دل میں خوش بھی ہو رہی تھی ۔ہم بھی یہ جانتے ہیں کہ جناب محمود احمدی نژاد ایک یونی ورسٹی کے پروفیسر رہے ہیں اور یہ بات کیٹی کیورک بھی جانتی تھی کہ احمدی نژاد ایران کی ایک معروف جامعہ کا استاد رہاہے مگر اس کو کسی استاد کے ہاتھ نہیں لگے تھے ۔

اب باری تھی احمدی نژاد کی ۔ انہوں نے اپنے پاس رکھی ہوئی کسی خاتون کی تصویر نکالی تھی اور اس تصویر کو کیٹی کیورک کو دکھانے کے بعد یہ پوچھا تھا کہ کیا آپ جانتی ہیں کہ یہ کس خاتون کی تصویر ہے؟ کیٹی کیورک نے تصویر کو بغور دیکھنے کے بعد اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تھا اور یہی لمحہ تھا جب اس کی شامت آگئی تھی۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کیٹی کیورک کو بتایا تھا اور پھر یہ واضح بھی کیا تھا کہ ان کے ہاتھ میں تھامی ہوئی تصویر شہید ِحجاب ماروا علی الشربینی کی ہے جسے سرعدالت اور پولیس کی موجودگی کے باوجود ایک بھرے مجمعے کے سامنے ایک انتہاءپسند جرمن نے قتل کر دیا تھا مگر مغربی میڈیا نے یہ خبر محض اس لئے دبا دی تھی کہ اس سے مغربی لوگوں کی انتہا پسندی مذہبی جنونیت اور بے حسی منظرعام پر آتی ہے۔

اتنا بتانے کے بعد احمدی نژاد نے جی بھر کر مغربی دنیا اور اس کے میڈیاکو ذلیل کیا تھا ۔ احمدی نژاد کے اس انٹرویو کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ جس خبر کو مغربی میڈیا جتنا چھپانا چاہتا تھا وہ اتنی ہی زیادہ کھل کر سامنے آگئی ہے کیونکہ اکتوبر کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی جس موضوع پر سب سے زیادہ سرچ کی گئی ہے وہ شہیدِ حجاب ماروا علی الشربینی کا موضوع ہی ہے یوں امریکہ اور یورپ کی نوجوان نسل کو یہ علم ہوگیا ہے کہ شہید ِحجاب ماروا علی الشربینی کون تھی ؟

سیانے سچ ہی کہتے ہیں کہ ا ستاد استاد ہی ہوتا ہے اوراستاد سے متھا لگانے والا ہمیشہ ذلیل ہی ہوتا ہے۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Wednesday, October 7, 2009

تیل اور مستقبل کی وحشت ناک جنگیں۔




تحریر: روف عامر پپا بریار

دنیا بھر میں توانائی کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔مثل ہے کہ مستقبل میں عالمی قیادت کا تاج اس ریاست کے سر ہوگا جسکے پاس توانائی و تیل کے زخائر کی مقدار زیادہ ہوگی۔کہا جارہا ہے کہ مستقبل میں خونخوار جنگوں کا حشر توانائی کے میدان میں سجے گا۔توانائی و گیس کی ضرورتوں کو بھانپ کر امریکہ و اتحادی ملکوں نے عراق و افغانستان کے بعد کئی اور وحشیانہ جنگوں کی منصوبہ بندیاں کرلی ہیں۔

کابل کو خون میں ڈبو دینے کا امریکی قدم نہ تو عراقیوں کو صدام کی امریت سے نجات دلوانے میں پنہاں تھا اور نہ ہی عراقی قوم کو جمہوریت کے چمتکار دکھانے کا نتیجہ تھا۔امریکہ نے صہیونیت کے آئل لارڈز اور معاشی ماہرین کی سازش پر عراق کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کے لئے عراق میں آگ و خون کی ہولی کھیلی جبکہ طالبان حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کا مطمع نظر بھی وسطی ایشیا کے تیل تک رسائی کے لئے امریکی منصوبہ ہے جس کی رو سے تیل کو افغانستان کے زمینی راستوں و بحیرہ ہند کے پانیوں سے گزار کر اسرائیل و امریکہ لیجایا جاسکے۔ہر ملک کے معدنی وسائل پر صرف اسکی حق ہے مگر امریکہ نے اپنے بودے قوانین مرتب کررکھے ہیں جسکی آڑ میں متعلقہ ملک کے تیل کو لوٹنے کے لئے ناقابل فہم و بے بنیاد جواز تراش کر اس پر حملہ کردیا جاتا ہے۔امریکی حکومت اپنے اپکو ہر قسم کے اخلاقی و قانونی طریقوں سے مبرا تصور کرتی ہے۔

اسامہ بن لادن کی روپوشی اور صدام حسین کے کیمیائی ہتھیاروں کا شوشہ اٍسی گریٹ گیم کا حصہ ہے جسکی رو سے بڑی طاقتیں تیل و گیس کی دولت سے مالامال علاقوں پر غاصبانہ حملے کرتی ہیں۔اوبامہ کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور افغانستان میں تین سال پہلے ناٹو افواج کی کمانڈ کرنے والے جرنیل جنرل جیمز نے ایک جنگی منصوبہ تخلیق کیا ہے۔

جنرل جیمز جونز نے ہی افغانستان سے ملحق پاکستانی قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں کا آغاز کیا تھا۔جیمز آئل لارڈ ہیں۔وہ معروف تیل کمپنی چیروٍن کے مالک اور INSITITUTE OF 21ST CENTUERY ENERGY کے پردھان منتری ہیں۔جونز کے سامراجی مقاصد برائے توانائی کا اندازہ اسکے اس فلسفے سے عیاں ہے۔جونز کے بقول امریکہ کی سلامتی تحفظ اور معاشی خوشحالی توانائی کے نئے ذخائر تلاش کرنے میں مضمر ہے۔اگر تیل و گیس کے نوزائیدہ علاقوں تک رسائی نہ ہوسکی تو امریکہ کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ کسی بھی قوم کی بقا کے لئے تیل و گیس زندگی کی اہمیت رکھتے ہیں۔

دنیا کی موجودہ حالت اور توانائی کے بڑھتے ہوئے مطالبات نے امریکہ کے توانائی کے مستقبل کو دھندلادیا ہے اور یہ مطالبات امریکہ کی بقا کے لئے چیلنج رکھتے ہیں۔ توانائی کا یہ بحران امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی مسائل کے گرداب میں پھنسائے ہوئے ہے۔اسرائیل نے مڈل ایسٹ میں موجود توانائی کے ذرائع تک پہنچنے کے لئے فوجی جوانوں پر مشتعمل فورس بھی بنارکھی ہے۔امریکن پالیسی سازوں نے مسلمانوں کے تیل کو ہڑپ کرنے کی پالیسی کئی دہائیاں پہلے ہی بنا رکھی تھیں۔

بش کا نائن الیون کے فوری بعد کابل پر حملہ اور اوبامہ کی طرف سے افغان جنگ کو جاری و ساری رکھنے کا عمل اٍنہی پالیسیوں کا ایک حصہ ہے۔مغرب کے اکثر تجزیہ نگار نائن الیون کے سانحے اور پھر اسامہ بن لادن کی تلاش کے لئے کابل پر شب خون مارنے کو تیل و گیس تک رسائی کا ہتھکنڈہ قرار دیتے ہیں۔عالمی مشاہد کاروں کی رپورٹس کے مطابق اٍسرائیل کو توانائی کی فکر روگ کی طرح لگ چکی ہے۔

اسرائیل ایندھن اتھارٹی نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ تل ابیب جنوبی افریقہ، مصر، یوکرائن، جارجیا اور میکسیکو سے حاصل کرتا ہے۔اسرائیلی تیل کا نوے فیصد بحیرہ قذوین کی ابی گزرگاہوں کے راستے اسرائیل تک پہنچتا ہے مگر یہ وہ سمندری راستہ ہے جس پر ماسکو کی اجارہ داری ہے۔روس اور چین کی سرپرستی میں اوپیک کی طرز پر نئی تنظیم کا قیام بھی اسرائیل کو بے سکون کے ہوئے ہے کیونکہ ایسی صورتحال میں اسرائیل کو مستقبل میں تیل کی کمی کا نشانہ بننا ہوگا۔

اسرائیل اور امریکہ نے تیل انڈسٹری سے وابستہ صہیونی ساہوکاروں کی کوششوں سے عراق میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔اسرائیل و امریکی ماہرین نئے جغرافیائی خطوں اور روئے زمین کے ان علاقوں جہاں توانائی کے گوہر نایاب خذینے ہیں سے استفادے کے لئے نئے پلان بنا رکھے ہیں۔اگر دنیا میں تیل کے ریزروائرز پر مشاہدہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر وہ ملک توانائی کے عظیم ذخیرے رکھتے ہیں جنکے حکمران امریکہ کو ناپسند کرتے ہیں۔ایران کی آئل دولت نے اسکے عالمی قد کاٹھ اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

ایران دنیا کے کل تیل کے دس فیصد حصے کا مالک ہے۔ مستقبل میں تیل سے لبریز دوسرے علاقوں عراق وغیرہ پر ایران کے اثرات موجود ہیں۔ بغداد بھی ورلڈ کے ٹوٹل تیل کا دس فیصد رکھتا ہے۔مستقبل قریب میں توانائی کی ڈکیٹی کے لئے عراق و افغانستان اسرائیل و امریکہ کے بڑے ہدف ہونگے مگر دنیا کو فریب دینے کے لئے عراق جنگ کا سیاسی دائرہ کار بدل دیا گیا ہے۔عراق جنگ کو اسرائیل کی بقا اور پھر اسرائیل کی توانائی ضروریات کے نظرئیے سے تبدیل کیا گیا ہے۔بغداد پر چڑھائی سے پہلے جنگی نظریات اسرائیل کی بقا کے لئے ضروری تھے جبکہ بعد میں عراقی جنگ کو اسرائیل کی توانائی ضروریات کے لئے لازم قرار دیا گیا۔

امریکہ نے اسرائیل کو چھوٹ دی ہے کہ وہ عراقی تیل کو اپنی بندرگاہ اور آئل ریفائنری حیفہ تک لیجائے۔ گو کہ عراق میں جمہوری سرکار قائم ہوچکی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ عراق کے چپے چپے اور تیل سے اٹے ہوئے علاقوں میں موجود امریکی فوجی کیمپ تیل کی اسرائیل کو فراہمی کا عمل کنٹرول کریں گے۔چین کی روزافزوں اقتصادی ترقی نے اسرائیل و امریکہ کو پریشان کررکھا ہے۔2030 تک چین دنیا کی کل توانائی کا تیس فیصد حصہ استعمال کرے گا۔اوبامہ کے کاریگر پاکستان و ایران میں چین کے بڑھتے ہوئے سحر کو کم کرنے کے حربے استعمال کررہے ہیں۔عالمی سطح پر چین کی اثراندازی کو ختم کرنا اوبامہ کیمپ کا اہم مقصد ہے۔

چین و ایران کے درمیان توانائی کی خرید و فروخت دفاعی اور نیوکلیر ٹیکنالوجی کے کئی معاہدات موجود ہیں۔چین نے ایران کے خلاف اسرائیل و امریکہ کے کسی مذموم ہتھکنڈے کو ملیامیٹ کرنے کا تہیہ کررکھا ہے۔شاہ عبداللہ نے تخت سعود سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ چین کا کیا تھا۔اسرائیل کی غزہ پر بہیمانہ بمباری نے سعودی عرب کو چین کی طرف دھکیلنے کا کام کیا ہے۔اسرائیل کا غزہ پر حملہ بھی تیل کی وجہ سے کیا گیا۔اسرائیل کی تیل پائپ لائن اشک کیلون سے بذریعہ ایلات کی بندرگاہ تک پہنچتی ہے جو روزانہ تین سو سے چار سو بیرل تیل ایلات تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔

اگر فلسطینیوں نے کبھی اس پائپ لائن پر قبضہ کرلیا تو اسرائیل کا صنعتی کچومر نکل جائے گا۔ یہودی پائپ لائن کی وجہ سے غزہ کو ازاد فلسطینی ریاست کا درجہ دینے سے ہچکچاتے ہیں۔اوبامہ بھی صہیونیوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔صہیونیوں کا ایجنڈہ ہے کہ مڈل ایسٹ عرب خطے کے توانائی کے زخائر لوٹے جائیں۔امریکہ میں توانائی سے بھرے ہوئے دوسرے ملکوں پر قبضے کی پلاننگ کی جارہی ہے۔صہیونی پلان کے مطابق مستقبل کی جنگیں دوستی یا دشمنی کے اصولوں کی بجائے تیل کے گرانقدر اثاثوں کی جمع تفریق کی بنا پر لڑی جارہی ہیں۔

مسلم دنیا میں رب العالمین نے پہاڑوں زمینوں ریگزاروں کو توانائی کی بیش قیمت دولت سے بھردیا ہے۔صہیونی تیل کی ہوس میں کسی بھی مسلمان ملک کو راندہ درگاہ بنا سکتے ہیں کیونکہ سامراجیت میں انسانوں کے خون کے بہتے دریاوں کی بجائے دولت چاہے تیل کی ہو یا گیس کی استعماری ہمیشہ اسی دولت کو فوقیت دیتے ہیں۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Friday, October 2, 2009

میں قرآن میں کہاں ہوں۔





تحریر: اخلاق زمان


بِسۡمِ اللهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ



مشہور محدث اور امام احمد بن حنبل کے شاگرد رشید شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن نصر مروزی بغدادی (202....294ھ) نے اپنی کتاب قیام اللیل میں ایک عبرت انگیز قصہ نقل کیا ہے جس سے اس آیت کے فہم میں مدد ملتی ہے، اور سلف کے فہم قرآن اور تدبر قرآن پر روشنی پڑتی ہے۔

جلیل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قیس ایک دن بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے یہ آیت پڑھی:

لَقَد اَنزَلنَآ اِلَیکُم کِتٰبًا فِیہِ ذِکرُکُم اَفَلاَ تَعقِلُونَ (سورہ الانبیاء۔ ع۔ ١)

ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے، کیا تم نہیں سمجھتے ہو“۔

وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجید تو لانا اس میں، میں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور دیکھوں کہ میں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟ انہوں نے قرآن مجید کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعریف یہ کی گئی تھی:

کَانُوا قَلِیلاً مِّن اللَّیلِ مَا یَھجَعُونَ O وَبِالاَسحَارِھُم یَستَغفِرُونَ O وَفِی اَموَالِھِم حَقّ لِّلسَّائِلِ وَالمَحرُومِ (الذریٰت۔ ع۔ ١)

ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے میں سوتے تھے، اور اوقات سحر میں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال یہ تھا:

تَتَجَافٰی جُنُوبُھُم عَنِ المَضَاجِعِ یَدعُونَ رَبَّھُم خَوفاً وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقنٰھُم یُنفِقُونَ (السجدہ۔ ع۔ ٢)

ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُمید سے پکارتے ہیں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔

کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال یہ تھا:

یَبِیتُونَ لِرَبِّھِم سُجَّدًا وَقِیَاماً (الفرقان۔ ع۔ ٦)

ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں“۔

اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ میں ہے:

اَلَّذِینَ یُنفِقُونَ فِی السَّرَّآئِ وَالضَّرَّآئِ وَالکٰظِمِینَ الغَیظِ وَالعَافِینَ عَنِ النَّاسِ وَاﷲُ یُحِبُّ المُحسِنِینَ (اٰل عمران۔ ع۔ ١٤)

ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں، اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔

اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت یہ تھی:

یُؤثِرُونَ عَلیٰ اَنفُسِھِم وَلَو کَانَ بِھِم خَصَاصَہ ط قف وَمَن یَّوقَ شُحَّ نَفسِہ فَاُولئِکَ ھُمُ المُفلِحُونَ (الحشر۔ ع۔ ١)

ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہیں“۔

اور کچھ لوگوں کی زیارت ہوئی جن کے اخلاق یہ تھے:

وَالَّذِینَ یَجتَنِبُونَ کَبٰئِرَ الاِثمِ وَالفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوا ھُم یَغفِرُونَ (الشوریٰ۔ ع۔ ٤)

ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں“۔

وَالَّذِینَ استَجَابُوا لِرَبِّھِم وَاَقَامُوا الصَّلوٰہَ ص وَاَمرُھُم شُورٰی بَینَھُم ص وَمِمَّا رَزَقنٰھُم یُنفِقُونَ (الشوریٰ۔ ع۔ ٤)

ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں“۔

وہ یہاں پہونچ کر ٹھٹک کر رہ گئے اور کہا اے اللہ میں اپنے حال سے واقف ہوں، میں تو ان لوگوں میں نظر نہیں آتا!

پھر انہوں نے ایک دوسرا راستہ لیا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال یہ تھا:

اِنَّھُم کَانُوا اِذَا قِیلَ لَھُم لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ یَستَکبِرُونَ Oلا وَیَقُولُونَ ئَ اِنَّا لَتَارِکُوا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجنُونٍ (سورہ صافات۔ ع۔ ٢)

ترجمہ) ”ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے سے کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دینے والے ہیں؟

پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت یہ تھی:

وَاِذَا ذُکِرَ اﷲُ وَحدَہُ اشمَاَرَّتُ قُلُوبُ الَّذِینَ لاَ یُؤمِنُونَ بِالاٰخِرَہِ ج وَاِذَا ذُکِرَ الَّذِینَ مِن دُونِہ اِذَا ھُم یَستَبشِرُونَ (الزمر۔ ع۔ ٥)

ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہیں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہیں“۔

کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گیا:

مَا سَلَکَکُم فِی سَقَرَ O قَالُوا لَم نَکَ مِنَ المُصَلِّینَ O وَلَم نَکُ نُطعِمُ المِسکِینَ O وَکُنَّا نَخُوضُ مَعَ الخَآئِضِینَ O وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَومِ الدِّینِ O حَتّٰی اَتٰنَا الیَقِینَ (المدثر۔ ع۔ ٢)

ترجمہ) ”کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتیں بنانے والوں کے ساتھ باتیں بنایا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا“۔

یہاں بھی پہونچ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے دم بخود کھڑے رہے پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا، اے اللہ! ان لوگوں سے تیری پناہ! میں ان لوگوںسے بری ہوں۔

اب وہ قرآن مجید کے ورقوں کوا ُلٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، یہاں تک کہ اس آیت پر جا کر ٹھہرے:

وَاٰخِرُونَ اعتَرَفُوا بِذُنُوبِھِم خَلَطُوا عَمَلاً صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا عَسَی اﷲُ اَن یَّتُوبَ عَلَیھِم ط اِنَّ اﷲُ غَفُور رَّحِیم (التوبہ۔ ع۔ ١٣)

ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہیں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا قریب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔

اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! یہ بے شک میرا حال ہے۔




بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل