Monday, August 17, 2009

میں منشاء اور مسیحیت - - - کچھ یادیں کچھ باتیں




تحریر: ڈاکٹر عصمت حیات علوی


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم


مجھے یہ تو بالکل ہی یاد نہیں ہے کہ منشاءمسیح میرا کلاس فیلو کب بنا تھا ؟ مگر مجھے یہ اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہم دونوں نے میٹرک ایک ساتھ ہی کیا تھا۔پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو چھ سات سال تک نہ دیکھا تھا۔ جب میں نے اپنے والد مرحوم کی چھوڑی ہوئی ڈاکٹری کی دکان شروع کی تھی تو منشاءمسیح ماضی کی یاد یں تازہ کرنے آگیا تھا۔چونکہ وہ ایک کم گو اور شریف لڑکا تھا اس لیے میں نے اخلاق اور عزت سے اس کا استقبال کیا تھا۔وہ ماضی کی طرح سے اب بھی شریف، سیدھا اور ملن سار ہی تھا۔ باوجود لاکھ اصرار کے اس نے میرے سے ایک مرتبہ بھی چائے یا کوئی اور مشروب پینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ البتہ وہ گاہے بہ گاہے میرے پاس ضرور آیا کرتا تھا اور اگر میرے پاس کوئی مریض نہ ہوتا تھا تو کچھ دیر بیٹھ کر باتیں بھی ضرور کیا کرتا تھا۔

پھر ایک دن ہمارے ایک سابقہ مشترکہ کلاس فیلو نے مجھے یہ بتایا تھا کہ منشاءنے بہت عرصہ قبل اسلام قبول کرلیا ہے۔میں اس کی یہ بات سن کر سمجھ گیا تھا کہ شریف النفس منشاءنے اپنے اسلام قبول کرنے کا ذکر اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ مجھے یہ خبر دے کر اسے کیش نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ ایک حرام خور سابقہ کلاس فیلو میرے پاس آیا تھا اور منشاءکی بے شمار برائیاں کرنے کے بعد اور اس کے کردار میں لاکھوں کیڑے نکالنے کے بعد وہ لعنتی مجھے کہنے لگا کہ میں منشاءکو اپنی دکان میں نہ گھسنے دوں کیونکہ وہ اسلام چھوڑ کر دوبارہ سے عیسائی بن گیا ہے ۔اس کا یہ حکم سن کر میرا پارہ چڑھ گیا تھا۔ میں نے اس لعنتی کو اپنی دکان سے یہ کہہ کر اور باقاعدہ دھکے دے کر نکالتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے منشاءکے اخلاق اور کردار سے غرض ہے ۔وہ مسلمان رہے یا پلٹ کر عیسائی ہو جائے تم سے تو لاکھ درجے بہتر ہی ہے کیونکہ تم نے مسلمان کے کردار کو داغ دار اور بدنام کر رکھا ہے کہ گلی محلے کی ایک بھی لڑکی نہیں چھوڑی جس سے تم نے منہ کالا نہ کیا ہو۔ جلد ہی منشاءسے میری ملاقاتوں کا یہ سلسلہ منقطع ہو گیا تھا کیونکہ مجھے اپنا پیدائشی قصبہ پتوکی چھوڑ دینا پڑا تھا۔

آج مجھے منشا سے ملے ہوئے دوعشروں سے زیادہ وقت بیت چکا ہے ۔ کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں اور خود سے ہی یہ سوال بھی کیا کرتا ہوں کہ تمہارے نزدیک کون زیادہ باعزت ہے ؟ باکردار مسیحی کہ ایک زانی مسلمان ۔
جب میں نے پتوکی چھوڑا تھا تو انارکلی لاہور میں میو ہاسپٹل کی مسجد کے قریب ہی ایک چھوٹا سا کلینک بنایا تھا۔ جس گلی میں میرا کلینک تھا اس گلی میں اور نزدیک کی ساری گلیوں میں ریڈی میڈ گارمنٹ کی فیکڑیز ہیں۔ارد گرد بھی زیادہ ورکرز ٹائپ لوگ رہتے ہیں اس لیے میرے پاس زیادہ تر غریب غربا ہی آیا کرتے تھے۔ان گارمنٹ فیکٹریز میں سے کسی ایک فیکٹری میں ایک لڑکا کام کرتا تھا۔وہ کسی گاوں کا رہنے والا تھااور مذہباً عیسائی تھا۔وہ اپنے ساتھی لڑکوں کے کہنے سننے پر مسلمان ہو گیا تھا۔جب تک وہ لاہور رہاتھا تب تک تو وہ باقاعدہ مسجد جاکر نماز بھی پڑھا کرتا تھا اور رمضان المبارک میں روزے بھی رکھا کرتا تھاپھر وہ ایک اچھا کاری گر بن گیا تھا اور اس نے واپس جا کر اپنے گاوں کے نزدیک کے قصبے میں اپنی دکان کر لی تھی۔ جس علاقے کاوہ مکین تھا وہاں پر ذات پات کا بہت زور شور ہے اس لیے کافی عرصے تک اس کی شادی نہ ہو سکی تھی کیونکہ کوئی بھی مسلمان ایک مصلی کو اپنی بیٹی دینے پر آمادہ نہ تھا۔

پھر مجھے اس کے ایک سابقہ ساتھی نے یہ بتایا تھا کہ وہ کراچی سے ایک لڑکی پیسے دے کر لایا تھا مگر ایک دن وہ مسلمان لڑکی اس کا سب کچھ لے کر کراچی فرار ہوگئی تھی ۔پھر وہ لڑکی کے پیچھے کراچی گیا تھا تو لڑکی فروخت کرنے والے دلال نے نہ صرف لڑکے کو زود وکوب کیا تھا بلکہ اس کے پاس جو نقدی اور ایک گھڑی تھی وہ بھی چھین کر بھگادیا تھا۔ جب وہ متعلقہ تھانے گیا تھا تو وہاں پر بھی کسی نے اس کی فریاد نہ سنی تھی۔

میرے علم میں لاتعداد ایسے عیسائی ہیں جنہوں نے اسلام تو قبول کر لیا ہے مگر ہمارے برہمیت زدہ معاشرے نے ان کو اپنے برابر کا رتبہ آج تک نہیں دیا ہے ۔ان نو مسلموں کی حالت زار دیکھ کر میں اپنے قریبی لوگوں سے یہی کہتا ہوتا ہوں کہ جنت تو ان بے چاروں کو اگلے جہاں میں ملے گی اور ضرور ملے گی کیونکہ یہ تو ہمارے سچے رب کا وعدہ ہے مگر کیا ہم پر یہ فرض نہیں ہے کہ ہم اپنے ان نو مسلم بھائیوں کی معاشی اور سماجی حالت کو بہتر بنائیں ؟
میرے نزدیکی جاننے والے یہ بات جانتے ہیں کہ میں چار سال تک امریکہ رہا ہوں اور پھر مزید چار سال تک سکاٹ لینڈ میں بھی رہا ہوں۔ جو لوگ میرے مزاج شناس ہیں وہ تو میرے سے یہ سوال کبھی نہیں کرتے کہ میں نے کتنے مردوں یا عورتوں کو مشرف بہ ا سلام کیا ۔حالانکہ سبھی اس حقیقت تسلیم کرتے ہیں کہ اپنے دوست احباب کے حلقے میں اسلام کے بارے میں میری معلومات اچھی ہیں (الحمد اللہ الرب العالمین) یہ بات درست ہے کہ آج کے دن تک میں نے کسی ایک بھی غیر مسلم کو مسلم بننے کی دعوت نہیں دی ہے باوجود اس بات کے کہ میرے ملنے اور جاننے والے زیادہ یورپئن یا امریکن لوکل ہی ہوا کرتے تھے ۔کیونکہ میں اس مسلے کے سیاسی سماجی اور معاشی عواقب و جوانب سے واقف ہوں اور اس مسلے کی مذہبی گہرائی کو بھی جانتا ہوں۔ یہ اتنا سادہ اور آسان مسلہ نہیں ہے جتنا سادہ اور آسان ہمارے کچھ مذہبی حلقے سمجھتے ہیں۔

میں نے خود اپنی نظروں سے یہ دیکھا ہے کہ ہم میں سے جو پاکستانی مسلمان یورپ یا امریکہ جاتے ہیں ان کا دین کا علم بھی واجبی سا ہی ہوتا ہے ۔وہ اپنے اس تھوڑے سے علم کو بھی ضرورت سے زیادہ سمجھتے ہیں اور جب ان کی علیک سلیک کسی غیر مسلم لڑکی یا عورت سے ہو جاتی ہے تو وہ اسے زبردستی اسلام کی طرف مائل بھی کرتے ہیں تاکہ پاکستان میں موجود ان کے والدین کی ناک نہ کٹے ۔ اکثر ایسے ہی ہوتا ہے کہ وقتی طور پر تو یہ مسلہ یوں حل ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی یا عورت طوعاً و کرہاً کلمہ پڑھ ہی لیتی ہے یوں اس لڑکے کے والدین کی برادری اور محلے داروں میں واہ واہ ہو جاتی ہے بلکہ جو مولانا صاحب اس نکاح کے موقع پر تشریف لاتے ہیں وہ نہ صرف اس لڑکے کو بلکہ اس کے سارے اب و جد کو ایک کافرہ کو مسلمان کرنے کے عوض جنت کا مستحق قرار دے دیتے ہیں۔اگر میں سچی بات لکھوں گا تو گردن زدنی قرار پاوں گا۔

یورپ اور امریکہ میں رہنے والے سبھی لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہاں پر شادیاں زیادہ عرصہ تک نہیں چلتی۔ اس میں بھی تھوڑا قصور ان گوریوں کا ہوتا ہے اور زیادہ قصور ہم پاکستانی مسلمانوں کا ہوتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم میں سے اکثر وہاں جا کر اور پھر شادی کروا کر بھی اپنی بری حرکات نہیں چھوڑتے ۔وہ پاکستان تو نہیں ہے کہ ہم سرے عام نشہ بھی کریں اور رنڈی بازی بھی کریں پھر بھی ہماری عورتیں اپنی شرافت کے دائرے میں ہی رہیں۔ پاکستان میں تو ماحول کی تربیت کے مثبت اثرات اور دیگر معاشرتی عوامل کام کر رہے ہوتے ہیں جن کا ناجائز فائدہ مرد کو یہ ملتا ہے کہ ماڈرن سے ماڈرن عورت بھی کھل کر اپنے مرد کی برابری نہیں کرتی۔ مگر وہ تو یورپ ہے۔ وہاں کا قانون رسم رواج سب کے لیے ایک جیسا ہے ا ور یکساں ہے۔ جب گوری یہ سوچتی ہے کہ میں نے تو اس شخص سے اس لیے شادی کی تھی کہ یہ ایک مسلم ہے اس لیے یہ نہ نشہ کرے گا نہ ہی عورت بازی کرے گا اور نہ ہی جواءکھیلے گا مگر پھر اسکی غلط حرکات دیکھ کر وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس عیسائی ہو جاتی ہے اس کے بعد وہ کورٹ کے ذریعے سے نہ صرف مرد کی جائداد اور اولاد پر قبضہ کر لیتی ہے بلکہ اولاد کی تعلیم وتربیت کے لیے ہزاروں لاکھوں نقد بھی وصول کرتی ہے۔

اس طرح کے لاتعداد کیس ہر سال ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے اس وقت تک جب تک ہم معاملے کی تہہ تک دیکھنے کی عادت کو نہ اپنائیں گے پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس عورت کی اولاد جوا ن ہونے کے بعد کیا بنتی ہے ؟ مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ بھی جانتے ہیں اور مجھے پتہ ہے ۔میں یہ نہیں کہتا کہ سوفیصد کیسز میں ہمارے ملک کے مرد ہی قصور وار ہوتے ہیں ۔دس پندرہ فیصد صورتوں میں مغرب کی عورتیں بھی ہمارے مردوں کو ٹریپ کرتی ہیں۔ مگر ہمیں تو اس پہلو پر زیادہ سمجھداری اور عقل مندی سے کام لینا چاہئے اور اس مسلے کے سارے ہی پہلوو¿ں کو مد نظر رکھنے کے بعد کسی عورت کی جانب بڑھنا چاہئے کیونکہ ہم مسلم ہیں اور ہمیں اپنی اولاد کے مستقبل کا بھی سو چنا ہے بلکہ ہمیں تو ایسے معاملات میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں کا ماحول اور قانون ایسا ہے کہ مرد اور عورت زیادہ عرصہ اکھٹے رہ ہی نہیں سکتے اور جب بھی سپریشن ہوتی ہے تو قانونی شادی کی صورت میں تو اولاد ہو یا نہ ہو مرد کو ہی بھگتنا پڑتا ہے یا پھر غیر قانونی اولاد پیدا کرنے کی صورت میں بھی مرد کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی لیے آج کل کی مغربی سوسائٹی کا مر د نہ تو شادی کرتا ہے اور نہ ہی اولاد پیدا کرنے کا خواہاں ہوتا ہے ۔

جہاں تک یورپ اور امریکہ میں اسلام قبول کرنے کی اصلیت ہے اگر میں اصول کی یہ بات کروں گا تو سبھی برا منا جائیں گے۔ یہ جو آئے دن اردو کے اخبارات اور رسائل میں غیر مسلموں کے قبول اسلام کے اعداد و شمار چھپتے رہتے ہیں یہ سب ہماری خوش فہمیاں ہی ہیں۔ہم ایک ہی واقعہ کو الٹ پلٹ کر باربار شائع کرتے رہتے ہیں اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آپ اس بارے میں تمام اخبارات اور رسائل کی کٹنگ کرکے اس کی ایک ترتیب وار فائل تیار کر لیں حقیقت حال آپ سبھی کے سامنے آجائے گی۔اسی بارے میں انڈیا دہلی سے شائع ہونے والے ایک ماہانہ دینی رسالے ذکریٰ جدید کے دسمبر ۸۰۰۲ءکے شمارے میں صفحہ ۳۵ پر ذہن کی آنکھیں کھولنے والا مضمون قبول اسلام کا روز افزوں رجحان منظر اور پس منظر شائع ہوا ہے اور یہ مضمون ایک با بصیرت مسلم جناب محمد الیاس ندوی رام پوری کی تحریر ہے ۔ اگر کبھی موقع ملے تو یہ مضمون پڑھیے اور پھر سوچئے کہ ہماری مسلم قوم دن کے وقت جاگتے میں بھی خواب کیوں دیکھتی رہتی ہے ؟

میں جن دنوں امریکہ میں تھا ان دنوں میری یونی ورسٹی کی ایک لڑکی کی وساطت سے میری علیک سلیک ایک ایسی لڑکی سے ہو گئی تھی جو کہ ناسا کے فلوریڈا سنٹر میں کام کرتی تھی۔جب میرا اس سے تعارف ہوا تھا تب میرے دل میں چاند پر پہلا انسانی قدم رکھنے والے شخص نیل آرمسٹرانگ سے ملاقات کرنے کی خواہش پیدا ہوئی تھی کیونکہ میں نیل آرمسٹرانگ کے قبول اسلام کی خبر اور پھر اس کے بعد متعدد اردو اخبارات اور رسائل میں ایک تفصیلی مضمون بھی پڑھ چکا تھا۔ یہ محض اتفاق کی بات تھی کہ ان دنوں امریکہ آنے سے قبل بھی میں نے ایسا ہی ایک مضمون پڑھا تھا کہ قاہرہ میں جب نیل آرمسٹرانگ نے اذان کی آواز سنی تھی تو بہرحال مضمون بہت لمبا ہے میرے پڑھنے والے سبھی سمجھ گئے ہوں گے کہ کیامضمون ہے۔

قصہ مختصر ! میرے ذہن میںاس مضمون کے مندرجات تازہ تھے ۔ میں نے بڑے ہی فخر سے اور رعب سے یہ کہا تھا کہ میں نو مسلم نیل آرم سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔جانتے ہیں تین ماہ کے بعد جب مجھ پر یہ حقیقت کھلی تھی کہ یہ ایک جھوٹی خبر ہے اور اس سے وابستہ سارا قصہ بے بنیاد ہے ۔ تب مجھے کتنی شرمندگی ہوئی تھی؟ وہ تو ساری کی ساری لڑکیاں اچھی تھیں کہ انہوں نے دوبارہ سے کبھی بھی یہ ذکر نہ چھیڑا تھا۔ کوئی میرا ہم وطن ہوتا تو
یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور یورپ میں میری زیادہ دوستی اور اٹھنا بیٹھنا لڑکیوں کے درمیان ہی تھا ۔ ایک تو میں زیادہ لمبا چوڑا نہ تھا دوسرے یہ میری عادت میں ہی نہیں ہے کہ میں لڑکیوں کو ہاتھ لگاتا پھروں اور انہیں چھوتا پھروں۔ ویسے بھی امریکن اور یو ر پئن لڑکیاں لمبی چوڑی ہوتی ہیں اور صحت مند بھی اس لیے انکو میرے میں نسوانیت یا فیمی ننیٹی Femininity نظر آتی تھی ۔ یوں وہ لڑکیاں میری موجودگی میں ایزی فیل ہی کرتی تھیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیں لیونارددی کیپریو جسے انگلش میں ہم لیوناڈو ڈی کیپر یو (>Leonardo Dicaprio ٹائٹینک کا ہیرو)کہتے ہیں وہ لڑکیوں جیسا ہے اس کی زیادہ تر دوستی بھی عورتوں کے ساتھ ہی ہے۔

میں اصل بات کی طرف آتا ہوں ۔ یورپ کی ایک لکھاری عورت میری گہری دوست بن گئی تھی ۔ وہ مضامین تو اسلام کے خلاف ہی لکھتی ہے مگر شائع مسلمانوں کے ناموں سے ہوتے ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک ون ٹو ون سٹنگ کے دوران اس نے یہ اعتراف کر لیا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ اسلام ایک درست سوچ اورپازیٹو لائف سٹائل ہے۔ مگر جب تک کسی ایک مسلم مملکت میں یہ عادلانہ نظام نافذ نہیں ہوجاتا ۔مغرب سے یہ توقع کرنا کہ ہم جوق در جوق اسلام لے آئیں گے ۔ناممکن ہی ہے۔ پھر اس نے بات یوں آگے بڑھائی تھی کہ کسی ایک آدھ مسلم شخص کے اچھے کردار کو دیکھ کر اگر ہمارے معاشرے کے چند افراد اسلام قبول کر بھی لیتے ہیں ۔تو ہمیں زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ اتنے ہی عرصے میں ہمار ے معاشرے کے بہتر معاشی و اقتصادی نظام اور عادلانہ نظام کی بدولت تمہاری نوجوان نسل کے بہت سارے افراد عیسائیت قبول کرچکے ہوتے ہ
یں۔ ویسے وہ عیسائیت قبول کریں یا نہ کریں ۔ ایک برابر ہے کیونکہ ہیں تو وہ ہمارے بہتر معاشی نظام کا ایک حصہ ہے۔

یہ کہہ کر وہ رکی نہیں تھی ۔بلکہ اس نے ایک نہایت ہی تلخ حقیقت سے پردہ اٹھایا تھا۔ وہ کہنے لگی ۔ جتنا روپیہ تمہارے عرب بھائی یورپ اور امریکہ میں ہوٹل اور قیمتی جائدادوں پر لگاتے ہیں ۔ اگراتنا ہی پیسہ وہ تعلیمی اداروں پر لگاتے تو میں یہ توقع کر سکتی تھی کہ میرے بچے تو نہ سہی میرے پوتے اسلام قبول کر لیں گے کیونکہ دنیا کی اعلیٰ قیادت ہوٹلوں اور بنکوں میں نہیں اچھے تعلیمی اداروں میں پروان چڑھتی ہے۔

کچھ لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ بات چیت یا گفتگو کرنے کے دوران بار بار ہاتھ لگا کر ہمیں اپنی طرف متوجة الکاملہ کی کیفیت میں مبتلا رکھتے ہیں حالانکہ ہم اس وقت بھی انہی کی بات مکمل انہماک اور مہویت سے سن رہے ہوتے ہیں مگر ان کی یہ عادت تو اتنی پختہ ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ ہر فقرے کے اختتام پر مخاطب کے جسم پر ایک ہی مخصوص مقام پر بار بار ہاتھ لگانے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ میں ایک ایسے ہی صاحب کوجانتا ہوں جن کو یہی بری عادت ہے ۔ایک مرتبہ میں نے گنا تھا صرف ایک منٹ کے قلیل عرصے میں انہوں نے مجھے ساٹھ بار سے زائد مرتبہ ٹچ کیا تھا ۔ دوسروں کا تو مجھے پتہ نہیں ہے البتہ میری تو وہ جگہ دکھنے لگتی ہے جہاں پر ایسے مہربان لوگ دوران گفتگو بار بار ٹچ کرتے رہتے ہیں ۔

یہ قصہ بھی یورپ کا ہی ہے۔ ایک اچھے کھاتے پیتے گھرانے کی لڑکی تھی ۔ جس کو کوئی فکر یا پریشانی نہ تھی
۔ ہنسنا کھانا کھیلنا اور پڑھنا اس کی ذمہ داری میں شامل تھا اور دوستوں کے ساتھ ٹانگوں میں ٹانگیں پھنسا کر بیٹھ کر قہقہے لگانا اور باتیں کرنا اس کی ہابی تھی۔ مجھے اس کی اس عادت سے خاصی الرجی تھی کیونکہ میں تو گھنٹوں میز پر بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا عادی ہوں۔ اس کی دوسری عادت اس سے بھی بری تھی۔ یعنی کہ وہی ! دوران گفتگو باربار اپنے مخاطب کو ایک ہی مقام پر ٹچ کرنے کی ۔ اسے دیکھ کر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجایا کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ دوران گفتگو میری پسلی میں ایک ہی پوانٹ پر ایسے انگلی چبھوتی تھی جیسے کہ اس نے وہ جگہ مارک کر رکھی ہو۔ کیا مجال ہے کہ اس نے کبھی ایک مرتبہ بھی ایک آدھ سنٹی میٹر ادھر ادھر ٹچ کیا ہو ۔وہی ایک مخصوص جگہ اور وہی ایک مخصوص پسلی۔ جب وہ میرے پاس بیٹھ کر میرے ساتھ باتیں کرتی تھی ۔ مجھے تو دکھن ہونے لگتی تھی مگرمیں اسے نہ کھو سکتا تھا اور نہ ہی انائیڈ کر سکتا تھا اس لیے سہتا رہتا تھا کیونکہ اس کی ایک عادت اچھی بھی تھی وہ یہ کہ وہ مجھے اپنی فیمیلی گیتھرنگ میں ضرور مدعو کرتی تھی جہاں پر اہم لوگ بھی مدعو ہوا کرتے تھے اور پھر وہ مجھے ان سب سے متعارف کروانا بھی نہ بھولتی تھی ۔مجھے اس کا یہ فائدہ تھا کہ مجھے یورپ کی ایلیٹ اوررولنگ کلاس کی سوچ عادات اور خصائل کو سٹڈی کرنے کے مواقع ملتے ہی رہتے تھے۔

ایک مرتبہ اس لڑکی نے میرے سے اسلامک لٹریچر کی فرمائش کی تھی۔ پاکستان سے شائع ہونے والا جتنا بھی اسلامک لٹریچر انگلش میں تھا میں نے اسے لا کر دے بھی دیا تھا۔ مجھے یہ علم نہ تھا کہ وہ اس سے قبل دیگر مذاہب کا مطالعہ بھی کر چکی ہے۔

ایک مرتبہ میں نے اس آس پر کہ وہ اسلامک لٹریچر پڑھ چکی ہے اس لیے اب وہ اسلام کی طرف مائل ہو گی یہی پوچھا تھا کہ تم اسلام کب قبول کر رہی ہو ؟پھر میں اس کا جواب سن کر دنگ رہ گیا۔اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ جس طرح سے تم لوگ ادیان کا تقابل کرتے ہو میں بھی اسی طرح کا علم حاصل کر رہی ہوں تاکہ کل کلاں کو عیسائیت کا دفاع کر سکوں ۔

یہ قصہ سنا کر میں اپنے دوستوں سے دو سوالات کیا کرتا ہوں۔پہلا یہ کہ ہماری رولنگ کلاس میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جن کو دین اسلام کا درست علم ہے ؟ دوسرا یہ کہ ہماری ایلیٹ کلاس میں سے کتنے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے ہیں جو کہ عیسائیت یا دوسرے مذاہب کا مطالعہ اس جذبے سے کرتے ہیں کہ کل کلاں کو انہیں ہی دین اسلام کا دفاع کرنا ہے؟

میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ نائین الیون کے بعد یورپ اور امریکہ میں اسلامک لٹریچر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے ۔ مگر محض اس کی ڈیمانڈ کئی گنا ہو جانے پر ہم یہ قیاس کرنے لگیں کہ جو جو مرد یاعورت اسے پڑھ رہا ہے وہ اسلام قبول کر رہا ہے۔ محض ایک خوش فہمی اور خود فریبی ہی ہے۔

بات سے بات نکل آئی ہے ۔ امریکہ کا سابقہ صدر جارج ڈبلیو بش کسی دور میں عیسائیت کا مبلغ رہا ہے اسلامی دنیا کے کتنے لیڈر ایسے ہیں جن کو ڈھنگ سے سورة البقرہ کا ترجمہ ہی یاد ہو ؟عالم ہونا تو ایسے لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی بات ہے۔

میں نے ابھی ابھی اس ہنسوڑ اور لاابالی سی لڑکی کا جو قصہ سنایا ہے ۔وہ یورپ کے طبقہءاعلیٰ کے عیسائیوں کے اس ذہن کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارا مذہب سب سے برتر ہے جبکہ اس کے مقابلے میںہمارا طبقہءاعلیٰ اور رولنگ کلاس اس قسم کے مثبت احساس سے کلی طور پر تہی دامن ہی ہے۔

قصے تو بہت ہیں جن کا ماحاصل یہی ہے کہ جب تک مسلم ورلڈ کے لیڈروں کا کریکٹر اسلامک نہیں ہو جاتا تب تک یہ توقع کرنا کہ سارا یورپ اور پورا امریکہ ہماری معصوم سی تبلیغ پر اسلام قبول کر لیں گے محض ایک سہانا سپنا ہی ہے اگر ایسا ممکن ہوتا تو اللہ علیم و حکیم ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ کو مدینة النبی میں ایک ماڈل سٹیٹ بنانے کا حکم نہ دیتے۔ اسی حکمت کو مد نظر رکھتے ہوئے دین اسلام کے میرے استاد محترم مرحوم و مغفور کہا کرتے تھے کہ جبتک ایک ایسی مضبوط اور مستحکم اسلامی مملکت معرض وجود میں نہیں آ جاتی ۔جس کی بنیاد اسلام کا عادلانہ معاشی اور سماجی نظام نہ ہو یہ دنیا پریکٹیکلی اسلام کو قبول نہیں کرے گی۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد ہمیں پہلا موقع ملا تھا جب ہم اسلام کو اپنے ملک کا نظام بنا سکتے تھے وہ ہم نے اپنی نالائقیوں کی بناءپر کھو دیا پھر د وسرا موقع ہمیں اس وقت ملا تھا جب ریاست سوات میں نظام عدل کا معاہدہ ہوا تھا وہ ہم نے اپنی حماقت اور کم عقلی کی بنیاد پر گنوا دیا ہے۔ دشمنوں کی سازشوں اور پرائیوں کے فریب کے قصے سنا سنا کر ہم خود کو کب تک مطمئن کرتے رہیں گے؟ اور کب تک قومی خود فریبی میں مبتلاء رہیں گے ؟

تاویلات کرنے والی قوم موسیٰ کی طرح سے شائد ہمیں بھی مزید چالیس برس تک فریب کے صحراوں میں بھٹکنا ہے؟
۴۱۔اگست ۔۹۰۰۲ء ہانگ کانگ

No comments:

Post a Comment