Showing posts with label yahood. Show all posts
Showing posts with label yahood. Show all posts

Wednesday, October 21, 2009

اسرائیلی جرائم کی چارج شیٹ!! - - - - - کار زار



تحریر: انور غازی

”اسرائیل جنگی مجرم ہے۔ غزہ پر حملے کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی۔ بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا۔ اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کو ”ہیگ“ میں قائم انسداد جرائم کی عالمی عدالت میں پیش کرنا چاہیے تاکہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔“ یہ الفاظ ”ہیومن رائٹس کونسل“ کے ہیں جو اس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کی توثیق میں کہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ”رچرڈ گولڈ اسٹون“ نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔

اس میں اسرائیل کے جرائم سے متعلق چشم کشا انکشافات کیے گئے۔ تمام واقعات، شواہد، معلومات اور عینی شاہدین کے انٹرویوز کی روشنی میں جو نتائج نکالے گئے وہ یہ تھے کہ اسرائیل جنگی جرائم میں پوری طرح ملوث ہے۔ اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے کے بعد 17/ اکتوبر 2009ء کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے رکن ممالک کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اسرائیل، فلسطین، پاکستان، ترکی، بھارت، چین، کیوبا، روس اور نائجیریا سمیت اکثر ممالک نے شرکت کی۔ 25 ملکوں نے گولڈ اسٹون رپورٹ کی توثیق کی۔

امریکا سمیت 6 ریاستوں نے مخالفت کی جبکہ فرانس اور برطانیہ سمیت 11 ممالک غیر حاضر رہے۔ البتہ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر نے اتنا ضرور کہا کہ غزہ جنگ سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ اہم معلومات پر مشتمل ہے۔ اسرائیل وفلسطین دونوں کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ دیگر کئی یورپی ممالک نے بھی رپورٹ کی حمایت کا خیال ظاہر کیا ہے۔ حماس نے اس رپورٹ کی توثیق کرنے والے ممالک کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ اسرائیل حقائق تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر اُتر آیا ہے اور توثیق کرنے والے ممالک کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

اور تو اور اقوام متحدہ کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ گولڈ اسٹون کے خلاف صہیونیوں نے پروپیگنڈا شروع کردیا ہے کہ انہوں نے جانبداری سے کام لیا ہے۔ افریقہ کے یہودی سڑکوں پر نکل کر اس کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ اس کے خلاف کینیڈا اور امریکا میں بھی سازشیں شروع ہوچکی ہیں۔ حالانکہ گولڈ اسٹون خود اعتدال پسند یہودی ہیں اور ان کی ماں صہیونی تحریک میں شامل تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صہیونی اپنے خلاف سچائی اور حقائق سننے کو بھی ذرا بھر تیار نہیں ہوتے۔

اسرائیلی راہنماؤں نے برطانیہ کو خفیہ پیغام بھجوایا ہے کہ وہ کسی بھی صورت اس رپورٹ کی حمایت نہ کرے۔ اگر برطانیہ نے توثیق کی تو پھر برطانوی جنگی جرائم بھی بے نقاب کیے جائیں گے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر کس کی پشت پناہی سے اسرائیلی راہنما برطانیہ جیسی ریاست کو بھی دھمکی آمیز پیغام بھجوارہے ہیں کہ وہ رپورٹ کی توثیق سے باز رہے۔ ادھر ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے عالمی برادری سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی پردہ پوشی نہ کرے۔ اسرائیل نے بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔“

حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے جنگی جرائم کرتا چلا آرہا ہے۔ ہم مختصراً صہیونیوں کے جرائم کی چارج شیٹ پیش کرتے ہیں تاکہ یہ بات عیاں ہوجائے کہ جو رپورٹ پیش کی گئی ہے وہ سو فیصد حقائق پر مبنی ہے۔ اسرائیل اب تک اقوام متحدہ کی 69 قراردادوں کی دھجیاں اُڑاچکا ہے۔ اسرائیل نے جنیوا کے قوانین کو پامال کرتے ہوئے ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو نشانہ بنایا۔ اسکول اور کالجوں پر میزائل داغے۔ کیمیاوی ہتھیار اور فاسفورس بم استعمال کیے۔ گمنام جگہوں پر شہید ہونے والے فلسطینیوں کے اجسام کی بے حرمتی کی۔ فلسطینی بچوں کو اغوا کرکے ان کے اعضا نکالے۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کیا۔

امدادی کارکنوں پر بمباری کی۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے اہلکار بھی اس ظلم سے نہ بچ سکے۔ مسلّمہ قانون ہے کہ دورانِ جنگ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو امان حاصل ہوگا۔ ہتھیار نہ اُٹھانے والوں پر فائرنگ اور بمباری نہیں کی جائے گی لیکن اسرائیلی درندوں نے بچوں، مریضوں، ضعیفوں حتیٰ کہ ایمبولینسوں اور فلاحی اداروں کے امدادی کارکنوں تک لہو میں نہاگئے۔

دور نہ جائیں! حالیہ غزہ پر صہیونی حملوں میں 1300 فلسطینی شہری، 437 کم عمر بچے، 110 عورتیں اور 123 بوڑھوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ شہری آبادی پر اندھا دھند گولہ باری کرکے سیکڑوں فلسطینیوں کو زخمی کیا گیا۔ جنگ کے دوران بیسیوں بے گناہوں حتیٰ کہ راہگیروں اور امدادی ورکروں کو گرفتار کرکے عقوبت خانوں میں ڈالا گیا۔

گزشتہ دنوں فلسطینی عوام کو امداد پہنچانے والی ایک امدادی کارکن نے ”رملہ جیل“ سے خط لکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں: ”میرا نام سنتھیا میکنیے ہے۔ میں رملہ میں اسرائیلی جیل کی ایک کوٹھڑی سے مخاطب ہوں۔ جنگ کے دوران ہم زخمیوں کے لیے ادویات پہنچانے غزہ کی طرف جارہے تھے کہ اسرائیلیوں نے ہماری گاڑی پر فائرنگ کردی۔ پھر ہمیں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ہم دنیا کے مہذب لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے؟

ہم غزہ کے زخمیوں تک بنیادی ضروریات کی چیزیں پہنچانا چاہتے تھے لیکن اسرائیلی فوج نے یہ کہتے ہوئے گرفتار کرلیا کہ دہشت گردوں کو طبی امداد کیوں پہنچارہے ہو؟ ان فلسطینیوں کو یونہی تڑپ تڑپ کر مرنا چاہیے۔“ میں نے جرات کرتے ہوئے کہا: ”انسانیت کے ناتے ان کے لیے فرسٹ ایڈ ضروری ہے لیکن اسرائیلی فوج نے میری ایک نہ سنی اور فلسطینی زخمی عوام کو طبی امداد پہنچانے کے جرم میں مجھے 30 جون کو گرفتار کرکے رملہ کے عقوبت خانے میں ڈال دیا گیا حالانکہ میرا مشن انسانی حقوق، معاشرتی انصاف اور بلارنگ ونسل، قوم ومذہب صرف انسانیت کی خدمت ہے۔

میں سوچتی ہوں جب مجھ جیسی عورت کے ساتھ اسرائیلی فوج نے یہ ظلم کیا ہے تو عام فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ وہ کیا کیا انسانیت سوز کام کرتے ہوں گے؟“ آخر میں ”سنتھیا میکینے“ اقوام متحدہ اور امریکی صدر اوباما سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں بے گناہ فلسطینی عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور گرفتار کیے گئے ہزاروں افراد کو آزاد کروائیں۔“

پس منظر کے طورپر یاد رہے اس وقت اسرائیلی جیلوں اور عقوبت خانوں میں 1500 مرد، 400 کے قریب معصوم بچے اور 210 خواتین انتہائی صعوبتیں اُٹھارہے ہیں۔ فلسطینی ”محکمہٴ اسیران“ کے ترجمان کا کہنا ہے فلسطینی قیدیوں پر نئی نئی تیار کردہ ادویات کے تجربات بھی کیے جارہے ہیں۔ بیشتر تجربات معصوم بچوں پر کیے جاتے ہیں۔ ان ادویات کے استعمال سے ایک ہزار قیدی شدید متاثر ہیں جن میں سے ایک سو پچاس کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ عالمی ریڈ کراس کے نمایندوں تک کو اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انسانی حقوق کی تمام تنظیموں کو اس پر آواز اُٹھانی چاہیے۔ قارئین! دوران تحریر میرے سامنے ایک تصویر ہے جس میں جیل میں شہید ہونے والے فلسطینی شہری کی تدفین کے موقع پر ان کی بیوی اور معصوم بچے زاروقطار رورہے ہیں۔ ان پھول سے بچوں کے آنسو عالمِ اسلام کے حکمرانوں کو بہت کچھ سوچنے کا پیغام دے رہے ہیں۔
اسرائیل کا ایک جرم یہودی بستیوں کی آباد کاری ہے۔ اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق اسرائیل مزید بستیاں تعمیر نہیں کرسکتا۔

متعدد بار تعمیر روکنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ یہودیوں نے فلسطین کے علاقوں پر غیر قانونی طورپر قبضہ کیا۔ یہودی قیادت کو شروع میں ایسا کرنے سے روکنے کی کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اسرائیل کے حوصلے بلند ہوتے چلے گئے اور وہ فلسطین کے مزید علاقوں پر قابض ہوتا گیا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ اسرائیل فلسطین کے ایک بڑے علاقے پر قابض ہوچکا ہے اور اس کی ناجائز توسیع کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

یہودی بستیوں کی تعمیر کا آغاز 1947ء سے ہوا۔ اس کے بعد سے ان میں مسلسل اضافہ ہی ہورہا ہے حالانکہ قیام امن کے بین الاقوامی منصوبے ”روڈ میپ“ کے تحت اسرائیل نے یہودی بستیوں پر کام روکنے کا پکا وعدہ کیا تھا۔ مشرقی یروشلم، مغربی کنارہ، غزہ، گولان کی پہاڑیاں… یہ سب مقبوضہ علاقہ جات ہیں اور اسرائیل کا حصہ نہیں۔

انصاف تو ملاحظہ کیجیے! اسرائیل نے 85 فیصد پانی اپنے یہودی آباد کاروں کے لیے مخصوص کیا ہے جبکہ باقی 15 فیصد فلسطینی مسلمانوں کے لیے چھوڑا ہوا ہے۔ غربِ اردن اور غزہ میں بنی تمام یہودی بستیاں بین الاقوامی اصولوں کے تحت غیر قانونی ہیں۔ ایرئیل نامی ایک یہودی بستی میں 18 ہزار صہیونی رہائش پذیر ہیں۔ تازہ خبر کے مطابق ایک نئی یہودی بستی کا نام ”اوباما“ سے منسوب کیا جارہا ہے۔ اس کا نام ”اوباما ہیلتوب“ رکھا جائے گا۔

دنیا کے وسیع تر مفاد میں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو اپنی ان اداؤں پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرنا چاہیے کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ کے لیے کیسے ثابت ہوسکتے ہیں؟ اسرائیل کا ایک بڑا جرم غیر قانونی اور ممنوع اسلحے کا بے دریغ استعمال ہے۔ قانون کے مطابق جوہری اور فاسفورس بم استعمال نہیں کرسکتا، مگر غزہ جنگ کے دوران صہیونیوں نے ایسا بارود استعمال کیا کہ بچے موم کی طرح پگھل گئے۔ اس پر ڈاکٹروں کی رپورٹیں شاہد ہیں۔

اسرائیل کا ایک جرم اس کے توسیع پسندانہ عزائم اور مشرقِ وسطیٰ میں بالادستی کا خناس ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی وہ ایران کو دھمکیاں دیتا ہے تو کبھی شام کو۔ کبھی لبنان کو تو کبھی اردن کو۔ کبھی پاکستان کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنے کے لیے بھارت سے گٹھ جوڑ کرتا ہے تو کبھی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمسائے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرواتا ہے۔ یہی وجہ ہے اسرائیل کے پڑوسی ممالک میں سے کسی کے ساتھ خوشگوار تعلقات نہیں ہیں۔

اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور بڑھتے ہوئے جنگی جرائم کی وجہ سے ترکی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ جنگی مشقیں نہیں کرے گا۔ امریکا، اسرائیل اور ان کے دیگر دوست ممالک کو غور کرنا چاہیے کہ ترکی جیسا ملک… جس نے یورپ کا حصہ بننے کے لیے ایک وقت میں عالم اسلام سے رابطہ توڑ لیا تھا… آج امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک کے غیر منصفانہ رویوں کو محسوس کررہا ہے تو اس کا واضح مطلب ہے مسلم دنیا کے حکمران اور عوام بھی ان کی خون آشام اور استعماری پالیسیوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔

لہٰذا اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو پالیسی بدلنا ہوگی۔ اگر اسرائیل نے یہی روش رکھی اور اس کے جرائم یونہی بڑھتے رہے تو پھر ایک نہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ اس کی حمایت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔


بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Tuesday, October 20, 2009

چائنہ ڈالر کی عزت لوٹنے کے درپے




تحریر: فرخ صدیقی


ڈالر کی عزت بچانے کیلئے امریکی یہودیوں کا نیا کھیل شروع

ڈالر بچانے کی یہ سرد جنگ، امریکہ چین، روس، وینزویلا اور ایران کے درمیان کھیلی جارہی ہے۔

بیجنگ - امریکہ میں صہیونی یہودیوں کے پھیلائے گئے مصنوعی معاشی طوفان کے بعد جہاں چین نے امریکی ڈالر سے جان چھڑانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے وہیں یہودی نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق “گولڈ ڈالر“ جاری کرنے کے چکر میں امریکی عوام کو دوبارہ گمراہ کرتے نظر آتے ہیں۔

بیجنگ کے معاشی نظام کے پیچھے بیٹھے افراد جہاں ایک طرف امریکہ کے قرضوں کی دھڑا دھڑ خریداری کر رہے ہیں وہیں وہ ان قرضے کے معاہدوں کی تجدید میں ڈالر کی جگہ اپنی کرنسی یوآن سے بدل کر ان قرضوں کو بیچتے بھی نظر آتے ہیں۔

سودی نظام جس کے بانی یہودی ہیں اور اس کام میں انکا کوئی ثانی نہیں، آج چین نے اس خیال کو غلط ثابت کردیا ہے اور صہیونی فیڈرل ریزرو بینک ڈالر کے اس کھیل میں نئے پتے پھینکنے کے باوجود پریشان ہے۔

چین، روس، وینزویلا اور ایران میں بیٹھے ڈالر مخالف یہ کھلاڑی جو ایکطرف ڈالر کو مٹی میں رولنا چاہتے ہیں وہیں انھوں نے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کرنا شروع کردی ہے جو جان بوجھ کر کمی کی جارہی ہے۔

اس کمی سے جہاں امریکی قرضوں کی ادائیگی میں آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں وہیں ان ممالک کی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے اور ایسے اضافہ کا مطلب ہے مزید صنعتیں اور مزید روزگار کے مواقع۔

ڈالر کے گرد گھیرا ڈلتے دیکھ کر اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ڈالر کا وجود خطرے میں ہے تو شائد آپ ٹھیک ہی سوچ ہے ہیں لیکن یہ یاد رکھیے کہ تقریباً ایک صدی تک اس کاغذ کو عالمی کرنسی منوانے والے یہودی بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے۔

یہودیوں کے ذاتی بینک فیڈرل ریزرو بینک جو ڈالر کا موجد بھی ہے نے نئے نام “گولڈ ڈالر“ کے نام سے نئی کرنسی کے اجراء کی تیاریاں کر لی ہیں۔ امریکی عوام کو اب یہ کہہ کر الو بنایا جارہا ہے کہ یہ گولڈ ڈالر سانے کے ان ذخائر کے برابر چھاپے جا رہے ہیں جو فیڈرل ریزرو بینک کے پاس موجود ہیں۔

1862ء سے پہلے امریکی عوام سونے کے سکے ہی استعمال کر رہے تھے، اسوقت بھی انھیں سکوں کو کومت وقت میں موجود یہودیوں نے ضبط کر کے ان کے عوض کاغذ کے ڈالر تھما دیے اور یہی کھیل نئی شکل اور اصولوں کیساتھ دوبارہ کھیلا جائیگا۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ گولڈ ڈالر نئی بوتل میں پرانی شراب کے مصداق ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی امریکی عوام کے حلق میں دوبارہ انڈیلی جائیگی۔

ڈالر کے لٹنے کے تناظر میں یہودی یورو کو بھی متبادل کرنسی کے طور پر متعارف کروانا چاہ رہے ہیں تاکہ جو ایسے نہ پھنسے وہ ویسے پھنس جائے۔ کوئی گولڈ ڈالر لے نہ لے لیکن یورو سے بچ کر تو مشکل ہی نکل پائے گا۔

اس مسئلہ کا حل کرنے کیلئے چین ان مغربی ممالک جن کیساتھ اسکی تجارت اور لین دین عروج پر ہے، ایسے معاہدے کر رہا ہے جن کی رو سے وہ ممالک چینی کرنسی ہی میں چین کو اور آپس میں بھی چینی کرنسی ہی میں ادائیگی کرسکیں گے، جو عملی اور کاروباری طور پر ان ممالک کے لئے آسان بھی ہوگا اور منافع بخش بھی۔

اسکی ایک مثال بیلارس، انڈونیشیا اور ملائیشیا ہیں، یہ ممالک چین کیساتھ اور آپس میں ڈالر کو بیچ میں لائے بغیر چینی کرنسی میں تجارت کر رہے ہیں اور چین کیساتھ بھی۔

امریکی یہودیوں کی پوری کوشش ہے کہ ایسے تجارتی معاہدوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے جس کیلئے وہ سرد جنگ کیساتھ ساتھ چین کیخلاف دیگر دہشتگرد قوتوں کو بھی چین کے حالات خراب کروانے پر کام کر رہے ہیں، یغور میں مسلم کش فسادات اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں قازقستانی یہودی ملوث پائے گئے۔

آنے والے چند ماہ شاید ڈالر کی موت و حیات کا فیصلہ تو نہ کر پائیں لیکن اس بات کی وضاحت ضرور کریں گے کہ آئندہ دہائی کی عالمی کرنسی بننے کا تاج کس ملک کے سر جائیگا۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Thursday, October 15, 2009

جنیوا مذاکرات ٹھنڈی ہوا کا جھونکا یا ڈھکوسلہ




تحریر: روف عامر پپا بریار


کنفیوشس نے کہا تھا بینا وہ ہے جو اپنی گریبان میں جھانکے۔

امریکی و مغربی طاقتیں تہران کے جوہری مسئلے پر منافقانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں کیونکہ ایک طرف اوبامہ و یورپی ممالک اٍس تنازعے کو مذکرات کے زریعے حل کرنے کی اداکاری کرتے ہیں جس کی مثال جنیوا میں مغرب و ایران کے درمیان ہونے والے ڈائیلاگ ہیں مگر دوسری طرف تہران کے جوہری اثاثوں پر اسرائیلی حملے کی منصوبہ بندیوں کی بازگشت امریکی و اسرائیلی اصل حکمت عملی کو الم نشرح کررہی ہیں۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں تہران کے ایٹمی پروگرام کی بساط لپیٹنے کے لئے امریکی و اسرائیلی سازشوں و خفیہ منصوبہ بندیوں کا انکشاف کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکی حکومت نے سی ائی اے کو فائنل ٹاسک دے دیا ہے۔ اس مقصد کے لئے دبئی میں قائم ہیڈ کوارٹر میں ایرانی ایجنٹوں کی بھرتی کرکے تہران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف کاروائیوں کا اغاز تک کردیا گیاہے۔ امریکہ نے اسرائیل کو فائنل حملے سے صرف اٍس وجہ سے روک رکھا ہے کیونکہ پینٹاگون سمجھتا ہے کہ تل ابیب کے پاس ابھی تک وہ بم و میزائل نہیں ہیں جو ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات کو صد فیصد تباہ کرنے کے قابل نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مغرب اور تہران کے درمیان جوہری تنازعے پر خلیج روز بروز بڑھ رہی ہے۔حالات تصادم کی قسم کھاتے ہیں۔یوں پوری دنیا کی نگاہیں یکم اکتوبر کو جنیوا میں دنیا کی پانچ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والے جنیوا مذاکرات پر مرکوز تھیں۔ستمبر میں یواین او کے اجلاس اور بعد میں جی ٹونٹی کانفرنس میں امریکہ سمیت بڑی طاقتوں نے ایران پر دباو بھی ڈالا اور دھمکیاں بھی دیں کہ وہ مغرب کے خدشات کو دور کرے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں ممکنہ فضائی حملے کی جگالی بھی شامل تھی۔

جنیوا میں یکم اکتوبر بروز جمعرات کو منعقد ہونے والے مذاکرات میں یواین او کے پانچ مستقل ارکان امریکہ جرمنی برطانیہ روس اور چین کے نمائندے شامل تھے۔گو کہ اٍس محفل یعنی جنیوا مذاکرات کے نتائج حوصلہ بخش نہیں تھے مگر اٍنہیں ناکام کہنا بھی درست نہیں۔امریکی صدر اوبامہ نے مذاکرات کو اچھی ابتدا قرار دیا۔پچھلی تین دہائیوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ تہران اور امریکہ نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔

ایران نے مغرب کا ایک مطالبہ تسلیم کرلیا کہ قم میں قائم دوسرے جوہری پلانٹ کا معائنہ کیا جائے۔اوبامہ نے کہا کہ تہران کو عالمی اعتماد بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔ امریکہ سے زیادہ اسکے حواری فرانس کے وزیر دفاع ہر دی مورون نے تو باقاعدہ ترش لہجے میں دھمکی تک ڈالی کہ اگر تہران نے دسمبر تک جوہری پلانٹ کا معائنہ نہ کروایا تو اس پر پہلے سے زیادہ اقتصادی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ ایرانی صدر نے اپنی تنصیبات کو چالو حالت میں رکھنے کے لئے استعمال ہونے والی یورینیم کسی تیسرے ملک سے کروانے کا اعلان کیا ہے جو پر امن مقاصد کے ایرانی فلسفے کی غماز ہے۔

جنیوا میں ایرانی سفارت کار سعید جلیلی نے ببانگ دہل مذاکرات میں شریک کارواں بڑی طاقتوں کے نمائندگان کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا ہم کسی صورت میں اپنے جوہری پروگرام کو ترک نہیں کرسکتے۔ ان مذکرات کو طویل رنجشوں کے بعد ٹھنڈی ہوا کا جھونکا کہا جارہا ہے مگر سامراجیت و یہودیت کی تاریخ کو پڑھا جائے تو یہ سچ سامنے آتا ہے کہ مغرب یہودیوں کی خوشنودی کے لئے ایران کے جوہری پلانٹس کو عسکری کاروائی کی غذا بنانے کے لئے کسی وقت بھی فوجی کاروائی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

امریکہ اور اسکے یورپین خوشہ چین طویل عرصے سے ایران میں حکومت کی تبدیلی اور جوہری پلانٹس کو تباہ کرنے کے لئے ایک ہی وقت میں کئی جہتوں پر کام کررہے تھے مگر ایران کے صدارتی الیکشن میں احمد نژاد کی کامیابی نے انکے ارادوں کو خاک میں ملا ڈالا۔ انتخابی عمل کے بعد ایران میں ہونے والے دنگے فساد، احتجاجی و پر تشدد تحریک کے پیچھے یہی طاقتیں کارفرما تھیں۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جو مذاکرات کی بجائے ایرانی ایٹمی سائنسی تنصیبات کو فوجی حملے سے تباہ کرنے کی سوچ کا پیروکار ہے مگر تہران بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لئے تیار ہے۔

ایرانی قیادت نے واضح کردیا کہ اگر اسرائیل نے حملے کی جسارت کی تو یہ تل ابیب کے لئے سانس لینے کا ٓخری موقع ہے۔ایران کی حالیہ عسکری مشقوں اور شارٹ و لانگ رینج کے میزائل تجربات دراصل مغرب کو یہ پیغام دینے کا ذریعہ تھے کہ وہ جوابی حملے کے لئے تیار ہے۔ایران کے شہاب میزائلوں کی سیریز دو ہزار کلومیٹر تک ہے۔

یوں اسرائیل ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں ہے جبکہ دوسری جانب اسرائیل کے پاس جو میزائل ہیں وہ چودہ سو کلو میٹر تک مار کرسکتے ہیں۔ایران نے کئی ایسی جوہری سائٹس بنالی ہیں جو چودہ سو کلومیٹر کی دوری پر اور زیر زمین ہیں جسکی بھنک تک امریکہ و اسرائیل کے پاس نہیں۔ ایران و اسرائیل کے درمیان حزب اللہ کی ناقابل شکست فصیل موجود ہے جسے پھلانگ کر تہران تک پہنچنا ناممکنات میں شامل ہے۔

حزب اللہ اسرائیل کو سابقہ جنگ میں ذلت امیز شکست دے چکی ہے۔ایران کے جوہری اثاثوں پر تنقید کرنے حملے کی دھمکیاں دینے والے یورپی ممالک دو عملی پالیسی کے ترجمان ہیں۔اسرائیل کے پاس دو سوزائد وار ہیڈز ہیں مگر وہ چونکہ امریکہ کا بغل بچہ ہے اسی لئے یہودیوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے کہ وہ مڈل ایسٹ میں جو چاہے کرتا رہے مگر ایران کو تہس نہس کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔دنیا کو تہران کے جوہری بموں سے خوف زدہ کرنے والے خود ہی دوسرے ممالک کی سالمیت پر حملے کرنے اور انسانیت کی تذلیل کرنے کے مجرمان ہیں۔اگر اوبامہ یا سرکوزی دنیا کو جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاریوں سے بچانے میں مخلص ہیں تو انہیں سب سے پہلے اپنے جوہری گوداموں کو ختم کرنا ہوگا۔ایران کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنا ہی انصاف کا دوسرا نام ہے۔

دنیا میں انصاف، مساوات،امن اور سکھ چین کی بانسری بجانے کا غل غپاڑہ کرنے والے امریکہ و مغربی طاقتوں کو کنفیوشس کے محولہ بالا قول کی روشنی میں سب سے پہلے اپنی گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ دنیا کے امن کو ایران کے جوہری اثاثوں سے خطرہ ہے یا امن کے نام پر عراق و افغانستان میں لاکھوں معصوموں کو بے گناہ ہلاک کرنے والے امریکہ اور اتحادیوں کے ہولناک ایٹمی زخائر سے؟ اوبامہ اور ایران مخالفین یورپی ممالک کو اپنے پیارے پیغمبر
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے اس جملے پر لازمی غور کرنا چاہیے۔

حضرت عیسٰی علیہ السلام نے فرمایا تھا..........

پہلا پتھر وہ اٹھائے جس نے خود کبھی گناہ نہ کیا ہو۔

جہاں تک جنیوا مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ ایران کو منانے کرنے کا ڈھکوسلہ ہے نہ کہ ٹھنڈی ہوا جھونکا۔



بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Wednesday, October 14, 2009

یہودیت کی سیاہ کاریاں اور مہذب دنیا کی ڈیوٹی




تحریر: روف عامر پپا بریار
صہیونیوں و یہودیوں نے اپنی مرکرنیوں و شاطریوں سے ایک طرف امریکہ سمیت مغرب کے زرائع ابلاغ، اقتصادیات صنعت و حرفت اور مالیاتی اداروں پر دادا گیری قائم کررکھی ہے تو دوسری طرف روئے ارض پر ہونے والے غیر قانونی کاروبار، انسانی اعضاوں کی تجارت و منشیات کی اسمگلنگ کا مذموم و غیر انسانی دھندے کا کریڈٹ بھی صہیونیوں کو حاصل ہے۔

حال ہی میں کی جانے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو کنٹرول کرنے اور گلوبل اقتصادی نظام کو چلانے والے ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔امریکہ میں انسانی اعضاوں کی سمگلنگ کے الزام میں دھر لئے جانے والے یہودیوں نے انکشاف کیا کہ اسلحے منشیات اور منی لانڈرنگ کے کاروبار میں امریکہ کے کئی بنک شریک کار ہیں۔ منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کئے جانیوالے کالے دھن کو صہیونیوں کے بنک تحفظ دیتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ اور اٍسرائیل نے دوسرے ممالک پر جارہیت کے لئے ہمیشہ کالے دھن کو استعمال کیا۔افغان جنگ میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے امریکہ اور روس کے صہیونیوں نے منشیات سے کمائی جانے والی دولت کو خوب استعمال کیا۔ افغان سوویت جنگ کے زمانے میں سی ائی اے کے سربراہ کیسی نے اپنی سوانح عمری میں تسلیم کیا ہے کہ افغان وار کے بے بہا اخراجات منشیات کی سمگلنگ سے حاصل کئے گئے۔

طالبان نے اپنے دور میں ڈرگز و پوست کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی تو امریکہ کے صہیونی مافیا پر سکتہ طاری ہوگیا۔مغربی تجزیہ نگاروں نے افغانستان پر امریکی حملے کو صہیونی مافیا کا کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ منشیات کے صہیونی تاجروں نے افغانستان کو دوبارہ پوست کی کاشت کا گڑھ بنانے کے لئے بش انتظامیہ کو کابل پر جنگی شب خون مارنے کے لئے اکسایا۔

کابل میں کرزئی کے سربراہ سلطنت ہونے کے بعد پورے دیس میں پوشت کی کاشت و منشیات کی سمگلنگ کا کاروبار زوروں پر ہے۔کرزئی کے بھائی کے ساتھ ساتھ افغان پارلیمنٹ کے اسی فیصد ممبران اور وزرا منشیات کے سمگلر ہیں۔منشیات کے تاجر جنگوں میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں یہ ایسا سوال ہے جس پر بحث ہونی چاہیے۔

امریکی ریاست میکسیکو کو مغرب میں منشیات مافیا کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں حالات اٍتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ منشیات مافیا اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان آئے روز مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔میکسیکو کو منشیات کے کاروبار کا ہیڈ کوارٹر کہنا بے جا نہ ہوگا کیونکہ یہاں کے ڈرگ مافیاز کے تانے بانے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے نیٹ ورکس سے جا ملتے ہیں۔میکسیکو کی ریاستی حکومت تو منشیات کے اسمگلروں کو زنجیروں میں جکڑنا چاہتی ہے مگر امریکہ کو اٍس سے کوئی دلچسپی نہیں۔

میکسیکو کے صدر فلپ تو پچھلے تین سالوں سے منشیات کی تجارت کا قلع قمع کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کررہے ہیں مگر اسے کامیابی نہ مل سکی۔میکسیکو کی سرحدوں پر خانہ جنگی ہورہی ہے۔میکسیکو میں منشیات کا کاروبار پچھلے چالیس برسوں سے جاری ہے جسکی بنیاد امریکن میڈیا میں گاڈ فادر کے نام سے شہرت پانے والے صہیونی غنڈے میر لین سکائی نے رکھی تھی۔

میکسیکو کے صدر فلپ نے حال ہی میں اوبامہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومتی کیمپ میں موجود ان کالی بھیڑوں کو نکالا جائے جو ڈرگ مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں۔فلپ نے وائٹ ہاوس کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی ڈرگز مافیا کے اٍعانت کندگان و بہی خواہ موجود ہیں۔

صدر فلپ نے اوبامہ سے ملاقات کے دوران آہ و فغاں کرتے ہوئے پشین گوئی کی کہ اگر امریکہ نے اپنے قوانین تبدیل نہ کئے تو میکسیکو ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گا اور اٍس جہنم پر ڈرگ مافیاز کے ایجنٹ حکومتی دربان کا کردار نبھائیں گے۔صہیونی ڈرگ مافیاز کی قوت کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں امریکی انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں نے ڈرگ مافیا اور میکسیکو حکومت کے درمیان ڈیل کی کوششیں کیں جو صدر فلپ نے پائے حقارت سے مسترد کردیں۔

صدر فلپ کی داستانٍ غم سے یہ بات اشکار ہوتی ہے کہ منشیات کے بے نکیل اسمگلروں اور وائٹ ہاوس میں براجمان صہیونی سرمایہ کار وں و بینکرز کے درمیان چولی دامن کی رشتہ داری و قربت موجود ہے۔میکسیکو کے ایک فوجی کرنل نوفل نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ منشیات مافیا عالمی تنظیم کا روپ دھار گئی ہے جس میں لاکھوں ایجنٹ شامل ہیں جنہیں حکومتی اداروں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

پاکستان میں میکسیکو کی طرح سوات میں پاک فوج کے ساتھ لڑنے والے انتہاپسندوں کو بھی بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں منشیات فروشی کے نیٹ ورکس پر سی ائی اے و موساد کا اہنی کنٹرول ہے۔ڈرگ مافیاز کی مدد سے ہی ویت نام، عراق و افغان جنگ لڑی گئی۔عراق ایران جنگ میں روس امریکہ اور تل ابیب کے ڈرگ مافیاز نے اہم کردار ادا کیا۔

ڈرگز، منشیات،منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اسلحے کی سمگلنگ کو صرف ایک ہی عنصر تقویت دیتا ہے اور وہ ہے بنکنگ و مالیاتی نظام و انتصرام۔کالے دھن سے کمائی گئی دولت کو صہیونیوں کے بنک و اٍدارے مطلوبہ اہداف تک بااسانی پہنچاتے ہیں۔امریکی فیڈرل ریزرو بنک کے درجنوں سیکنڈلز میڈیا کی زینت بنے جن میں ڈرگ مافیاز بھی شامل تھے۔

یہ ڈرگ مافیاز ہی ہیں جنکے کرتے دھرتے امریکی حکومت گرانے کی طاقت رکھتے ہیں اور اٍن ڈرگ مافیاز کو صہیونیوں نے قابو کررکھا ہے۔سی ائی اے دنیا اور خاص طور پر امریکی قوم کو دھوکہ دینے کے لئے گاہے بگاہے ہالی وڈ کو استعمال کرتی رہتی ہے ۔فلموںمیں باور کروایا جاتا ہے کہ امریکی ریاستوں میں ہونے والی گڑ بڑ میں دوسرے ملکوں کے ڈرگ مافیاز ملوث ہیں۔


1939 سے ہی انڈر ورلڈ کی ڈوریں صہیونیوں کے سپرد ہیں۔نومبر2002 میں امریکی اخبار ابزرور نے اپنی رپورٹ میں صہیونیوں کی ابلیسیت کو عیاں کرکے تہلکہ مچادیا کہ یہودی و صہیونی اقوام میں قابل عزت سمجھے جانے والے تلموزی یہودی ڈرگ مافیاز کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ابزرور نے ہی لکھا تھا کہ صہیونی بنکار ڈرگ مافیاز کی دولت کو اسرائیل منتقل کردیتے ہیں۔

امریکی مصنف سیلے دیتون نے اپنی کتاب BLUE GRASS CONCIPIRACY میں صہیونی ڈرگ مافیاز کی بد اعمالیوں کو اجاگر کیا تو سیلے کو ڈرگ مافیاز کی سفاکیت کا صدمہ سہنا پڑا اور وہ قتل ہوگئے۔امریکی مصنف سالویڈر کی کتابopium lords میں درج ہے کہ تل ابیب ڈرگ مافیا کا ہیڈ کوارٹر ہے اور امریکی صدر کینڈی کو بھی صہیونی ڈرگ مافیا نے ہلاک کروایا۔

یروشلم پوسٹ نے اگست کی اشاعت میں لکھا کہ دنیا میں جتنے بھی ڈرگ مافیاز کے ڈان ہیں وہ عبرانی زبان پر عبور رکھتے ہیں اور اٍس کرہ ارض پر جتنے ملک ہیں وہاں کے ڈرگ مافیاز کو ایف بی ائی کنٹرول کرتی ہے اور ایف بی ائی کو موساد ہدایات جاری کرتی ہے۔یاد رہے کہ سی ائی اے کے دو سرخیلوں wilium j kasi کو1986 جبکہ edegar hover کو1972ء میں صہیونی ڈرگ مافیا مرواچکا ہے۔

اسرائیل اسلحے سے لیکر منشیات اور انسانی اعضاوں سے لیکر عورتوں کی سمگلنگ کا ہیڈ کوارٹر بن چکا ہے۔دنیا بھر میں ہونے والے تمام غیر قانونی بزنس اور جرائم کو اسرائیل میں تحفظ ملتا ہے۔امریکہ کا کوئی صدر صہیونیوں کی معاونت کے بغیر وائٹ ہاوس میں داخل نہیں ہوسکتا اور یہ وہی صہیونی لابی ہے جو ایک طرف ڈرگ مافیا کی دادا گیر ہے تو دوسری طرف یہی لابی انٹرنیشنل اور امریکن اقتصادیات و مالیات کو اپنے بنکوں کے ذریعے اپنے خونخوار جبڑوں میں جکڑے ہوئے ہے۔

دنیا میں اس وقت تک جرائم، جنگوں، دنگوں اور اسلحے کی سمگلنگ کا خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک صہیونی سرمایہ داروں کا تخلیق کردہ مالیاتی نظام ختم نہیں ہوجاتا۔یہودی دولت کے حصول کے لئے دنیا کا کوئی مکروہ ترین کاروبار کرنے سے نہیں چوکتے۔

صہیونی ڈرگ و مالیاتی مافیاز کو ختم کئے بغیر اللہ کی زمین پر امن قائم نہیں ہوسکتا۔مہذب دنیا جس میں چاہے گورے ہوں یا کالے یورپین ہوں یا ایشیائی وہ فلپ کی شکل میں میکسیکو کا صدر ہو یا ایران کے احمد نژاد کے روپ میں وہ پاکستان کا شہری ہو یا سعودی عرب کا مسلمان۔صہیونیوں کی فتنہ گریوں کو روکنے کے لئے ساروں کو متحد ہونا پڑے گا ورنہ ایک طرف منشیات انسانیت کو سسکا سسکا کر مارتی رہے گی تو دوسری طرف دنیا کے کونے کونے میں خون کے سمندر بہتے رہیں گے۔

کیا یہ ساری دنیا کی بد نصیبی نہیں کہ روئے ارض پر موجود چھ ارب سے زائد انسانوں کو کل ابادی میں س صرف0.2 کا حصہ رکھنے والے یہودیوں و صہیونیوں نے یر غمال بنا رکھا ہے۔

بشکریہ: خبریں انٹرنیشنل

Thursday, June 4, 2009

بیت المقدس کی ہیّت تبدیل کرنے کا صہیونی منصوبہ


تحریر: روف عامر پپا بریار

امام غزالی کا فرمان ہے کہ ہم دولت سے ہم نشین تو خرید سکتے ہیں نیند نہیں۔

اسرائیل قبلہ اول کو صہیونیوں کی ملکت ثابت کرنے کے لئے سازشوں و مکرکرنیوں کے کئی جال بن رہا ہے مگر رحیمی خدا کے کارن یہ جال ہمیشہ کھل کر یہودیوں کا کچہ چھٹا طشت ازبام کردیتے ہیں۔اسرائیل نے بیت المقدس کی اسلامی شناخت کے شیش محل کو زمین بوس کرنے کے لئے قبلہ اول کے گرد سڑکیں،نئی عمارتیں،پارک اور تفریحی سیرگاہیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہودیوں کی اٍس نئی واردات کا بھانڈا ایک غیر سرکاری تنظیم ہارنز نے پھوڑا ہے۔اسرائیلی حکومت نے یہ ٹاسک یروشلم اتھارٹی کے سپرد کردیا ہے۔اٍس پراجیکٹ کے اخراجات یروشلم کے بلدیاتی چیرمین اور وزیراعظم برداشت کررہے ہیں۔یہ منصوبہ یہود المروٹ کے دور میں ایجاد کیا۔ستمبر2008 میں المروٹ نے اس منصوبے کی منظوری دی۔منصوبے کی رو سے قدیم شہر کے چاروں اطرافات میں نئی تعمیرات کا جال بچھایا جارہا ہے تاکہ وہاں کثیر تعداد میں موجودہ فلسطینی اور عرب باشندے بے دخل کر دئیے جائیں۔

تل ابیب کے ترجمان نے سازش کے انکشاف پر دلیل دی کہ وہ یروشلم کو اٍسرائیل کا مستقل کیپٹل بنانے کے لئے مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں مگر درون خانہ اٍس سازش کے پس پردہ بیت المقدس کو ہتھیانا مقامات مقدسہ و فلسطینی سرزمین پر اپنے بدمعاشانہ قبضے کو دوام بخشنا ہے۔ایسے زہریلے پراجیکٹ کی رو سے مجوزہ علاقے پر اٍسلامی تہذیب و ثقافت کے صدیوں پرانے اثرات کو مٹا کر یہودی کلچر کو دوام بخشنا ہے ۔

اسرائیل کے ایک مقدس ترین مقام جو ابھی تک متنازعہ اور فلسطنیوں کی ملکیت ہے وہاں ایک ایکڑ زمین پر چوبیس عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔قبلہ اول کے چاروں طرف اسٹیڈیم،پارکس اور دفاتر بنانے کا پروگرام اٍس بودے منصوبے کا حصہ ہے۔مشرقی بیت المقدس میں پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے حکومت کے پاس مطلوبہ جگہ پر کوئی زمین نہیں ہے۔یوں وہاں آباد مسلمانوں عربوں اور فلسطینیوں سے زبردستی زمین خریدی جارہی ہے۔

اسرائیل کے نامور دانشور نے اعتراض کیا ہے کہ نئے منصوبے سے یروشلم پہلے سے زیادہ غیر مستحکم اور خون الود ہوجائے گا مگر تل ابیب نے اٍس رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اٍس منصوبے سے تمام مذاہب کے پجاری مستفید ہونے گے کیونکہ اٍسرائیلی قوانین مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے ہر شخص کو وہاں جانے کی اجازت دیتے ہیں مگر سچ تو یہ کہ ہاتھی کے دانت دکھانے والے اور جبکہ کھانے والے دوسرے ہوتے ہیں۔

اسرائیل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف پیشگی اجازت لئے بغیر تعمیر کئے جانے والے گھروں کو مسمار کیا جائے گا۔ المروٹ بھی مسلم تعصب پسند لیڈر ہے مگر وہ اپنے دور میں امن معاہدے کی کچھ نہ کچھ پاسداری کرتا رہا ۔المروٹ کے جانے کے بعد اٍقتدار کے مسند پر جلوہ افروز ہونے والے انتہاپسند نیتن یاہو اٍس پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل چاہتے ہیں تاکہ یروشلم کی ہیت تبدیل کرکے فلسطینیوں کے ملکیتی دعووں کو ریت کیا جائے۔

یاد رہے کہ یروشلم مسلمانوں،فلسطینیوں اور عیسائیوں کے لئے مقدس ہے مگر اٍسرائیلی جادوگر اب اٍسے صرف یہودیوں کے نام کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔اسرائیل یروشلم پر اپنا حق جتا کر اٍسے اپنے ابدی کیپٹل کا درجہ دے چکا ہے مگر عالم عرب اور عالمی برادری تل ابیب کا یہ دعوی تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔یہودی حکمرانوں نے پوری دنیا کے یہودیوں کو اٍسرائیل انے کی دعوت دی ہے اور ہجرت کا عمل اب تک جاری ہے ہجرت کرنے والے یہودیوں کو مسلمانوں کے رقبے پر مکانات تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یروشلم کے مئیر برکاٹ نے نے کہا کہ ہم نے مشرقی بیت المقدس میں35550 مکانات تعمیر کرنے کا ماسٹر پلان مرتب کیا ہے۔برکاٹ نے وعدہ کیا کہ متاثرہ فلسطینیوں کو حکومت متبادل زمین فراہم کرے گی۔یہاں بیشتر فلسطینی1930 سے رہائش پزیر ہیں۔اٍسرائیل نے1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر تسلط قائم کیا تھا۔فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا کیپٹل بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔بیت المقدس میں7لاکھ40 ہزار ابادی کا تیس فیصد فلسطینیوں پر مشتعمل ہے۔برکاٹ ازاد حثیت سے کامیاب ہوئے مگر نیتن یاہو کی طرح برکاٹ کے زہن و قلوب میں فلسطینیوں سے نفرت کا زہر بھرا ہوا ہے۔اپنے اٍنتہاپسندانہ نظریات کی وجہ سے وہ نیتن یاہو کے پانچ پیاروں میں شامل ہیں۔

یواین او کیhuman right ونگ کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک1500 فلسطینی گھروں کے انہدام کا فیصلہ زیر التوا ہے۔یواین او کے مطابق اگر یہ گھر مسمار ہوئے تو نوہزار شکستہ دل فلسطینی بے گھر ہوجائیں گے۔برکاٹ کے حواری مشیر اسٹیفن ملر کا فرمانا ہے کہ متاثر ہونے والوں کو فلسطینی علاقوں میں اباد کیا جائے گا ٰ جس سے فلسطینی بستیوں میں مکانات کی کمی پوری ہوجائے گی۔برکاٹ جگالی کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کو مکانات تعمیر کرنے کے ہزاروں اجازت نامے جاری کئے گئے مگر دوہزار چھ سے ابتک359 اجازت نامے جاری ہوئے۔فلسطین کی موجودہ حکومت دو ریاستی فارمولے کی مخالف ہے۔

عیسائی دنیا کی روحانی شخصیت پوپ نے اپنے دورہ اسرائیل میں جہاں ایک طرف یہودیوں سے اظہار یکجہتی کیا وہاں دوسری جانب خطے میں قیام امن کے لئے دوریاستی فارمولے کی تائید کرکے فلسطینیوں کی پرزور وکالت کی۔پوپ گنبد خضری کی زیارت و بیت المقدس سے اظہار عقیدت کے لئے آئے تو فلسطین کے مفتی اعظم محمد حسین نے پوپ سے اپیل کی کہ وہ ستم رسیدہ فلسطینیوں پر اٍسرائیل کی جانب سے برسائی جانے والی اگ کی برسات رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔پوپ نے اپنی دعا میں کہا کہ یا اللہ اٍس مقدس سرزمین مشرق وسطی پر اپنی رحمت برسا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایسے آدم خور دوریاستی فارمولے کو اپنانے پر تیار نہیں۔وہ گھمنڈ کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو بذور قوت کچل دیں گے۔وہ غیر مشروط مذاکرات پر تیار ہیں مگر فلسطینیوں کو انکے حقوق مہیا کرنے سے انکاری ہیں۔

اب سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی فتنہ گری سے دوریاستی فارمولے کا کیا حشر ہوگا۔وائٹ ہاوس کے مرد قلندر سے بھی خیر کی کوئی توقع نہیں کیونکہ انکے اٍرد گرد نظر انے والے مصاحبین و مشیر سارے یہود نواز ہیں۔اسرائیل دو ریاستی فارمولے کو گریٹر اسرائیل کی موت تصور کرتا ہے۔گریٹر اسرائیل صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ اٍس کے نقشے کے مطابق شمالی افریقہ اور مدینہ منورہ اٍسی کا حصہ ہونگے۔عرب دنیا فلسطینی ریاست کے عوض اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے تک تیار ہے۔شاہ عبداللہ کے امن فارمولے کی ساری دنیا اور اٍسرائیل تک نے توصیف کی مگر وہ اٍس کو سینے سے لگانے کے لئے تیار نہیں کیونکہ وہ اسرائیل اور فلسطین سے سارے فلسطینیوں کو دربدر کرنا چاہتا ہے۔

بیت المقدس کی اسلامی شناخت پر صلیبیت کی سیاہی پھیرنا اسرائیل حکومت کا ماٹو ہے۔قبلہ اول کی ازادی کے لئے مسلمانوں کو ہی سربکف ہوکر یہودیوں کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا۔امریکی دوستی کے خبط میں مبتلا مسلم امہ کے رنگیلے بادشاہوں کو اٍمام غزالی کے محولہ بالا قول کی روشنی میں اپنے اتحاد و یگانگت سے بیت المقدس کو اسرائیلی تسلط سے بچانا ہوگا۔وبامہ سے خیر کی توقع کرنا عبث ہے۔مسلم دنیا کے مہاراجو یاد رکھ تم دولت سے ہم نشین خرید لوگے مگر نیند نہیں بعین قبلہ اول کی ازادی بھی امریکی غلامی سے نجات اور جذبہ جہاد سے ممکن ہے۔