Showing posts with label Muslim. Show all posts
Showing posts with label Muslim. Show all posts

Sunday, June 21, 2009

دنیا میں مسلم آبادی




تحریر:خورشید الزماں عباسی

دنیا بھر میں مسلمانوں کی کل آبادی کتنی اور دنیا کے نقشے پر کتنے مسلمان ممالک موجود ہیں \۔ جبکہ دنیا بھر میں اقلیتی اور اکثر یتی مسلم اکثریت کے اعداد وشمار کی کیا صورتحال ہے ؟عالمی سطح پر جاری دہشت گردی کی جنگ اور عراق، افغانستان جنگوں میں مسلم آبادی کی ان گنت افرادی قوت کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کے باوجود بھی مسلمانوں کی نسل کشی کا کام کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے ۔کیا واقعی ہی مسلمانوں کی آبادی دنیا بھر میں کم ہو رہی ہے؟ یا اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ وہ بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں جن کی معلومات کا ہونا فی الوقت ہر ذی شعور کے علمی اضافہ کا باعث بن سکتا ہے ۔امریکن سی آئی اے کے مطابق موجودہ وقت میں دنیا بھر میں مسلم آبادی 1.66 بلین ہے ۔جبکہ بعض دیگر ذرائع کے مطابق مسلمانوں کی یہ آبادی سال رواں کے آخر تک 1.82 بلین ہو جائے گی ۔دنیا میں لگ بھگ 48 اسلامی ممالک ہیںجبکہ مسلم آبادی بلحاظ فیصد تناسب کے انڈونیشیاء، چین اور انڈیا میں دنیا بھر سے زائد ہے۔

انڈونیشیاءمیں 206 ملین چین میں 28 ملین سے زائد جبکہ انڈیا میں کل آبادی کے 13.4 فیصد مسلمان آباد ہیں ۔بعض ذرائع انڈیا میں مسلم آبادی کو دو کروڑ سے زائد قرار دے رہے ہیں ۔اسی طرح دیگر ممالک میں بنگلہ دیش، پاکستان، مراکو، مصر، افغانستان، عراق، سعودی عرب، ترکی، الجیریا، روس جبکہ امریکہ، لندن اور کینڈا میں مسلمانوں کی آبادی میں قابل ذکر اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ میں اس وقت دس ملین سے مسلمان آباد ہیں۔ موجودہ صدی میں عراق، افغانستان سے مسلم آبادی کا صفایا ایک قابل ذکر مثال ہے۔ دہشت گردی کے چکر میں مسلمانوں کی نسل کشی انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر تی جارہی ہے اس صورتحال میں جہاں غیر مسلم سازشیں کار فرماہیں وہاں خود دہشت گردی کی راہ پر گامزن مسلمانوں کا وہ طبقہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ جو ان گھناﺅنی سازشوں کا شکار ہو کر اسلام جیسے پرامن مذہب کو بدنام کرنے میں دوسروں کا آلہ کار بنتے جارہے ہیں۔

دنیا میں موجودہ دہشت گردی کے آغاز کا سبب اگرچہ گیارہ ستمبر کا واقعہ ہے ۔مگر اس کے حقیقی حقائق پر خود امریکی کانگریس کے بعض ممبران کو بھی اعتراضات ہیں امریکی کانگریس مین DENNIS JKUCINICH کے اس بیان انداز ہ ہوتا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عراق کے پاس کوئی ایٹمی آلات نہیں جن کے بل پروہ امریکہ پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو جبکہ گیارہ ستمبر کے واقع کے حوالہ سے انہوں نے کہا ہے کہ یہ صرف عراق پر حملہ آور ہونے کےلئے کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ نے افغانستان میں جاری جنگ کو جاری رکھنے کےلئے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔ جبکہ اہم ان جنگوں کو مزید جاری نہیں رکھ سکتے ۔ ان کے بقول جنگی بجٹ میں ٹریلین ڈالر کے اضافہ سے ہمارا گھر یلو بجٹ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ۔ انہوں نے ان جنگوں کو جھوٹ پر مبنی اور دنیا بھر میں نفرت پھیلانے پر مبنی قرار دیا۔ جبکہ انہوں نے اپنی فوج کے جانی نقصان اور عراق میں مرنے والوں کو بے گناہ شہری قرار دیا اورافغانستان، پاکستان میں ہلاکتوں کو بھی انہوں نے کہا کہ ہماری حقیقی قوت کا انداز اسی وقت ہوگا۔ جب ہم جنگی امداد کےلئے فنڈنگ کا خاتمہ کرتے ہوئے سچ اور انصاف قائم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہماری حقیقی طاقت کا بڑا امتحان یہ ہے کہ ہم یہ جنگیں ختم کر دیں۔

مسٹرKUCINNICH اور ان کے ساتھی کانگریس مین LYNN WOOSLEY مشترکہ طور پر عراق، افغانستان میں جاری جنگوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ہم منصب کانگریس کے اراکین کو خط لکھ کر عراق ،افغانستان کےلئے جنگی بجٹ کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے موجودہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان جاری جنگوں دستبردار ہوتے ہوئے2010 تک فوج اورجنگی آلات کو عراق ، افغانستان سے واپس لایا جائے ان مذکورہ امریکی کانگریس کے نمائندگان کے ان بیانات میں کتنی صداقت ہے یا ان کے ان بیانات کے درپردہ کیا مقاصد ہیں؟ بظاہر امریکہ کی سابق اورموجودہ انتظامیہ سے وابستہ افراد کےلئے اورامریکی قوم کے لئے ضرور سبق آموز پیغام موجود ہے۔

بہرحال دہشت گردی کی جاری جنگ میں جہاں مسلم کشی ہو رہی ہے وہاں عالمی سطح پر مسلمانوں کی آبادی میں اسی تیز رفتاری سے اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ اس کی کئی مثالیں خود امریکہ کینڈا اور لندن میں عیسائی اور یہودیوں کے حلقہ بگوش اسلام سے عیاں ہو رہی ہیں۔ عراق جنگ میں کئی امریکی فوجی بھی حلقہ بگوش اسلام ہوئے جبکہ لندن میں ایک ڈسٹرکٹ جج کی قبول اسلام کے علاوہ بیشمار اور لا تعداد مثالیں سامنے آرہی ہیں۔

خود امریکہ میں مسلم آبادی10 ملین سے تجاوز کر چکی ہے ۔ مغربی میڈیا امریکہ ، لندن اور کینڈا میں اس تیز رفتار اضافہ کی از خود داستانیں سنا رہا ہے یوں مرنے والوں کی جگہ کئی غیر مسلم اسلام قبول کر کے ان کی جگہ لے رہے ہیں جبکہ 2025 تک یہ مسلم آبادی دنیا کی غالب اکثریت بن جائے گی۔

Tuesday, June 9, 2009

ماضی شاندار، حال بے حال




روئے زمین پر آباد انسانوں میں ہر پانچواں فردمسلمان ہے دنیا کے نقشے پر ایک اہم جغرافیائی بیلٹ مسلمانوں کی ہے، مراکش کے صحرا سے لے کر جاوا تک اہل اسلام کی قطار لگی ہوئی ہے، فار ایسٹ سے ویسٹ انڈیز تک کئی مسلم ریاستیں ہیں۔شرق الہند ہو یا غرب الہند ہر جگہ مسلمانوں کے قدموں کی دھمک ہے۔ تہذیب مسلم کے
کھنڈر بتا رہے کہ عمارت عظیم تھی
یہ عمارت کیسے عظیم بنی تھی اس کا ذکر پچھلے دنوں نارویجن رسالے الستریٹنے وتین سکاپ میں بڑی خوش اسلوبی سے شائع کیا۔ اس رسالے میں دیئے گئے اس تحقیقی مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی علم وحکمت میں کی ہوئی کاوشوں کو اہل مغرب کتنا اہم مقام دیتے ہیں۔، ملاحظہ ہو آج کا مغرب عرب دنیا کو بنیاد پرستی سے منسوب کرتا ہے، لیکن ازمنہ وسطیٰ میں مغرب جب اندھیروں میں ڈوباہوا تھاتو اس وقت عرب علم و حکمت کا مرکز تھا۔ان کے نئے دین اسلام نے ان کو راغب کیا کہ وہ اللہ کی بنائی ہوئی کائنات کو سمجھیں۔
گیارہ سو عیسوی کے دوران ایک عرب طبیب کو عیسائی پادری نے اپنے خیمے میں بلا کر گھڑسوار کا علاج کرنے کو کہا ، جس کی ٹانگ پر ایک پھوڑا تھا ۔ عرب طبیب کے علاج سے جونہی مریض کو بہتری محسوس ہونا شروع ہوئی ، ایک فرانسیسی ڈاکٹر خیمے میں داخل ہوا، اس نے عرب طبیب کو ایک طرف دھکیل کر مریض سے مخاطب ہو کر پوچھا ؟ تمھارے لیے کیا بہترہے، ایک ٹانگ سے زندہ رہنا یا دو کے ساتھ مر نا؟ اور سا تھ ہی ایک بھاری ہتھو ڑے سے اس کی ٹانگ پر و ار کیا لیکن ایک وار سے کام نہ چلا۔دوسرے فیصلہ کن وار سے مریض کی ٹا نگ سے خون کے پھوارے پھوٹ پڑے اور وہ موقع پر ہلاک ہوگیا۔عربی طبیب جھنجلاکر خیمے سے با ہر نکل گیا اور بو لایہ ہے عیسائیوں کا علم اوران کی طبی صلاحتیں۔یہ ایک واقعہ ہی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان پایا جانے والا فرق ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے۔
قرآن سب سے زیادہ زور علم،تحقیق اور کائنات کوجانچنے اورسمجھنے پر دیتاہے۔آج کامغرب عرب اور مسلمان دنیاکو قدامت پسندی اور مذہبی جنونیت سے تعبیر کرتا ہے۔
لیکن جب نویں صدی میں پورا یورپ جہالت کے اندھیروں میں چھپاہواتھا۔اس وقت عرب علم وحکمت، دانش کا مرکزتھا۔یاد رکھیے کہ آج کی دنیا کی تحقیق اورعلم اس وقت کی عربوں کی ہوئی تحقیق پر مبنی ہے۔
پانچویں چھٹی عیسوی میں عیسایوں اورمسلمانوں میں زبردست قسم کی سردجنگ جاری تھی ۔دونوں تہذیبیں ایک دوسرے کو گنوار، جا ہل اور حقیقی دنیا سے دور سمجھتی تھیں۔یورپ میں عرب کے بارے میں یہ مفروضہ تھا کہ وہ وحشی درندے ہیں، جبکہ عرب والے یورپ کے لوگوں کو ظالم انسانوں سے تعبیر کرتے تھے۔دونوں اطراف کے ایک دوسرے پر الزامات کافی حد تک غلط تھے،لیکن مسلمانوں نے جو مغرب کی تصویر کشی کی تھی وہ سچائی کے زیادہ قریب تھی۔
گیارہویں صدی عیسوی میں عرب مسلمان دنیا میں اپنے علم، طاقت، ثقافت کی بنا پر چھائے ہوے تھے۔ اسلام اس دور میں عرب سے لیکر ،شمالی افریقہ اور شمالی افریقہ سے لیکر یورپ تک پھیلاہوا تھا۔ےہ سنہری دور 900عیسوی سے لیکر 1300 تک جاری رہا۔ اس دور میں عرب سویلسیشن انتہائی ترقی یافتہ ، انتہائی ماڈرن اور سائنسی علوم پر مشتمل تھی ۔ یہ عرب ہی تھے جنھوں نے آج کی دنیا کے ہر علم کا پہلا دروازہ کھولا۔
پانچویں، چھٹی عیسوی میں علم صرف چرچ بالخصوص عیسائی پادریوں تک ہی محدود تھا ۔پادری علم کو عام انسان کے لیے شجر ممنوعہ قرار دیتے تھے ، لیکن دوسری طرف عرب مسلمانوں میں علم عام آدمی میں فروغ پارہا تھا ۔ اس وقت مسلمانوں نے طبعیات، ریاضی ، فلکیات اور کیمیا میں نئی راہیں ایجاد کیں۔ جن سے آج سارا مغرب اور پوری دنیا استفادہ کر رہی ہے، لیکن یہ الگ بات ہے کہ مغرب اپنے روایتی تعصّب کے باعث اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ عرب والوں کا علم 900عیسوی میں پوری آب وتاب سے چمکا، اس علم کی وجہ سے مسلمان ایک چھوٹے سے جزیرے لیکر مشرق میں دریائے سندھ اور مغرب میں شمالی اسپین تک جا پہنچے۔
مسلمانوں نے یہ حکومتیں جنگوں سے یا ہتھاروں سے نہیں جیتیں بلکہ ان کے پاس سب سے بڑا ہتھار اسلام میں علم کی اہمیت اور اسلام کی ثقافت کے فروغ میں تھا۔ دوسرے مذاہب کے برعکس اسلام ذات پات سے پاک ، امیر غریب کی تمیز سے مبرا اور انصاف پر مبنی ایک نظام تھا۔اسلام کے اس نظام میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو عزت وحترام دیا جاتاتھا، ان کی بات سنی جاتی تھی ۔ لیکن اس وقت کے عیسائی دوسری سوچ رکھنے والے اور دوسرے مذاہب ماننے والوںکو سزائیں دیتے تھے بلکہ وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو آگ میں ڈال دیتے تھے۔
جب طارق بن زیاد نے 711عیسوی میں اسپین میں قدم رکھا تو وہ بہت حیران ہوا کہ مقامی لوگوں نے کو ئی خاص مزاحمت نہ کی، کیونکہ مقامی لوگ اس وقت عیسائی مذہب ماننے والوں کے ظلم وستم سے تنگ آچکے تھے بلکہ بعض جگہ مسلمان فوج کو بڑی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا۔اسپین کی فتح نے مسلمانوں کی ترقی اورتجارت کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔جس کی وجہ سے عرب معاشرہ میں دینی ودنیوی علوم کا تیزی سے فروغ ہونے لگا۔
مسلمانوں کے دور حکومت میں جنوبی اسپین کا علاقہ قر طبہ دنیا کا سب سے خوبصورت اور مثالی علاقہ تھا، 950 عیسوی میں یہ علاقہ 500000 نفوس پر مشتمل تھا ۔ اس علاقہ میں اس وقت 600 مساجد،ان گنت سرکاری غسل خانے ،اوران گنت کتب خانے (لائبریریاں)تھے، جس میں سب سے بڑی لائبریری خلیفہ کی تھی جہاں پرمختلف موضوعات پر مشتمل 400000 سے زیادہ کتابیں موجود تھیں ۔سارے شہروں کی گلیاں اورسرائیں رات کو روشنیوں سے لیس تھیں جہاں کبھی اندھیرا نہیں ہوتا تھا۔جبکہ دوسری طرف مغرب کے بڑے شہر لندن،پیرس اندھیروں میں ڈوبے ہوتے تھے۔
اس دور میں متمول سوداگروں، شہزادوں اور خلفاءکے اردگردہمیشہ علم وحکمت کی دنیا کے ماہر،مثلا بڑے بڑے فلاسفر اورسائنسدان ہوتے تھے۔ جس خلفیہ کے پاس یا اردگرد سب سے زیادہ علم وفلسفہ کے ماہر ہوتے تھے ،اسی کی معاشرے میں سب سے زیادہ عزت کی جاتی تھی ۔اس لیے آپ تاریخ پڑھیں تو اپ کو معلوم ہوگاکہ اس وقت بغداد علم و حکمت کی دنیا کا مرکز تھا۔جہاں پر سائنسدان ،علماء اور فلاسفر گھنٹوں،دنوں بلکہ مہنیوں مختلف ڈیروں ، مساجداور کتب خانوں میں سائنس، ریاضی ، طبیعات اورفلسفے پر بحث ومباحثے کرتے ، مقالے لکھتے اور تحقیق کرتے رہتے ۔

عربوں کے سنہری دور میں علم، عقل وشعور،ریشنل چیزوں کو دوسرے مذاہب کی طرح گناہ نہیں تصور کیا جاتا تھا،بلکہ اسلام ان چیزوں کو انسانیت کے لیے ایک بہت ضروری ہتھیار اور اوزار سمجھتا ہے، جن ہتھیاروں کو آپ استعمال کر کے کائنات اور اللہ کی قدرت کو صیح طریقے سے جان اور سمجھ سکتے اسلام نے مسلمانوں کوہمیشہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے بہتر سلوک ، ان کی عزت واحترام ، ان کو برداشت کر نے کا حکم دیتا ہے۔عرب کی اس سوچ نے اس دور میں عرب مملکتوں میں بڑے بڑے جیّد علما، فلسفی اور محقّق پیدا کئے۔ فلسفی اور محقّق عیسائیوں میں بھی پائے جاتے تھے جو مسلمانوں کے ساتھ مل کر منطق، فلسفہ، سائنس کو آگے بڑھاتے تھے ۔ حالانکہ اس وقت علم مختلف زبانوں میں پڑھایااور سکھایا جاتا تھا ۔ لیکن دوسری زبان کی کوئی نئی کتاب یا نئی تحقیق شائع ہوتی تو عربی زبان میں ترجمہ کی جاتی تھی کیونکہ اس دور میں دنیا میں عربی علم وحکمت کی زبان تھی۔ جیسا کہ آج کل انگر یزی ہے۔عربی زبان میں ساری تحقیق جمع ہونے کی وجہ سے علمی سوچ ،دانائی اورحکمت عرب کا اثاثہ بن گئی، جس کی وجہ سے عرب مسلمانوں نے علم اور تحقیق میں شاندار کارنامے سرانجام دیئے ،جس کا پھل آج ساری دنیا کھا رہی ہے۔
علم فلکیات سے نمازوں کے اوقات کا تعین ریاضی میںسب سے بڑی ایجاد 800عیسوی میں ہوئی جب مسلمان ریاضی دان خوارزمی نے ہندسوں کے بارے میںایک چھوٹی سی کتاب لکھی، اس نے ریاضی میں انقلاب برپا کر دیا۔اس نے صفر کاہندسہ ایجاد کیاجو کوئی چیزنہ ہونے کے برابر تھا۔ اس صفرکے ہندسے کی وجہ سے عرب مسلمان چیزوں کا حساب کتاب منٹوں میں لگا لیتے تھے جبکہ یورپ والے رومن ہندسوں سے دنوں، مہینوں میں لگاتے تھے۔ فلکیا ت کوسمجھنے میں ریاضی کا بہت بڑا ہاتھ ہے، ریاضی میں مسلمانوں کو اس وقت بہت دلچسپی تھی۔ نمازوں کے اوقات، کعبہ کی سمت کو جانچنے کے لیے ستاروں کا علم ضروری تھا۔ کعبہ کی سمت ڈھونڈتے ڈھونڈتے مسلمانوں نے فلکیات اورستاروںسے بہت زیادہ علم حاصل کیا۔خاص طور پر زمین کا خط استوا، زمین کا قطر عرب مسلمانوں کی کاوشوں کا مرہون منت ہے۔
مسلمانوں نے سب سے زیادہ تحقیق طبیعات میں کی ۔ 1000 عیسوی میں عرب ڈاکٹروں نے ناک اورکان کی ہڈیاں جوڑیں ، آنکھوں کی جھلّی صاف کی اور زخم صاف کیے۔ان کی مسلسل علمی جدوجہد ، کوششوں اورتجربات سے انسانی جسم کے مختلف اجزاء کو سمجھا اور ان کا علاج دریافت کیا۔اسی سنِ عیسوی میں الرازی نے خسرہ کی بیماری کو دریافت کیا اور اس کا علاج بھی دریافت کیا۔1200عیسوی میں جگر کا سسٹم دریافت کیا۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ آج کی ادویات کا سارا علم مسلمانوں کی کی ہوئی تحقیق وعلم پرمبنی ہے۔ اسلام کا ادویات میں سب سے بڑا فلاسفر ابن سینا تھا، جس نے ادویات کا علم مختلف زبانوں میں، مختلف ممالک سے حاصل کیااور اس کو ایک کتا ب میں جمع کیا ۔یہ کتاب اس وقت ادویات میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی اور پوری دنیا کے سکولوں ،اوریونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی تھی، بلکہ آج بھی یہ کتاب پاکستان،ایران اور کئی دوسرے ممالک میں میڈسن کے نصاب میں شامل ہے۔
دوسر ی طرف علم کے ساتھ ساتھ مسلمان اس دور کے جدید دواخانے اور ہسپتال چلانے میں بھی ماہر تھے۔1100عیسوی میں بغدادکا الداؤدی ہسپتال دنیا کا سب سے بڑا ، مشہوراور جدید آلات سے لیس ہسپتال تھا ، جہاں پر ڈاکٹر ، حکیم اور میڈسن کے ماہرسینکڑوں بلکہ ہزاروں میلوں کی مسافت طے کر کے آتے اور میڈسن میں پڑھاتے اور تحقیق کرتے تھے۔اسی طرز کا ایک اور ہسپتال قاہرہ میں تھا، جہاں پر ہر قسم کی بیماری کا علاج کیا جاتا تھا۔ یہ ہسپتال 1000 بستروں پر مشتمل تھا جو کہ آج کے ناروے کے سب سے بڑے رکس ہسپتال سے دوگنا بڑا تھا۔عرب مسلمان اس وقت اسی طرح تحقیق کر تے، وہی سا ئنسی طریقے استعمال کرتے تھے جو آج کل مغرب کی یونیورسٹیوں اور ریسرچ سنٹروں میں رائج ہیں ۔1200 عیسوی میں اسپین میں دوبارہ عیسائی حکومت آنے کے بعد عربوں کا علم، تحقیق اور دانش عیسائیوں میں منتقل ہونا شرو ع ہو گئی ۔
پاپائیت ، مولویانہ سوچ اور جنونی سوچ نے مسلمانوں کی ذہنی آزادی پر مختلف طریقے سے پابندی لگانا شروع کردی۔ قرآن کا پیغام جس نے عربوں کو تحقیق اورڈھونڈنے کا تجسّس دیا،نے ساری دنیا کو علم کے خزانے دیئے لیکن اچانک ایک ابھرتی ہوئی مولویانہ سوچ نے ساری تحقیق کو روک دیا ، جس کا خمیازہ آج تک عرب اور مسلمان بھگت رہے ہیں۔ مثلاً گیارہویں صدی میں مسلمانوں کے مذہبی عالموں نے کہنا شروع کر دیاکہ جو آدمی ریاضی کے حساب سے ستاروں یا فلکیات کے متعلق جاننے لگے گا ، وہ دین اسلام سے خار ج ہو جائے گا، بلکہ حساب یا ریاضی ہے ہی ایمان کے خلاف۔
ناروے کے اخبار میں لکھے گئے اس تاریخی آرٹیکل سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم مسلمان آج دنیا میں تیسرے مقام پرکیوں کھڑے ہیں۔مسلمان اس وقت تک دنیا میں چھائے رہے ، جہاں حکومتیں انصاف پر مبنی ہوتی تھیں ، جہاں وہ اہلیت اورعلم کو سب سے آگے رکھتے تھے۔ لیکن اگر آپ آج کل کے مسلم معاشرے پر نظر دوڑائیں تو سوائے مایوسیوں اور نا انصافیوں کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔مسلم حکومتوں سے لے کر ، سماجی اداروں ، دینی اداروں اور معاشرے میں ہر طرف بے راہ روی اور غلط نظام کا دور دورہ ہے۔ جہاں عام لوگوں کو کچھ نہیں ملتا۔جہاں ہمیشہ صرف ایک مخصوص طبقہ ، اپنی منافقت، جھوٹ ، فوج، کالے قانون اور ڈنڈے کے زور پر وسائل پر قابض ہے۔ عام لوگوں ، عوام کو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ نا اہل قیادت، نااہل مشاورت، نااہل امامت اور تماش بین سیاست نے مسلمان معاشرے ، ملکوں اور اداروں کو تباہی و بربادی کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
کسی دور میں علامہ اقبال نے مسلمانوں سے کہا تھا
سبق پھر پڑھ ، صداقت کا، شجاعت کا ، عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اور آج حالت یہ ہے کہ
سبق پڑھ ، ذاتی مفاد پرستی کا ، لالچ کا، نفاقت کا ، منافقت کا
تو لے گا کا م زبردستی مسلم ملکوں کی ، اداروں کی اما مت کا
800 عیسوی میں خلیفہ مشہورالمنصور نے بغداد کی بنیاد رکھی ۔جہاںپر عرب سائنسی بنیادوں پر مختلف مضامین میں ریسرچ کرتے ۔وہ یونانی علم، فلسفے کے تراجم عربی میں کرتے تھے اور پھر ان کواپنی قوم وعوام میں فروغ دیتے۔ انہی تراجم نے عرب کو علم و حکمت میں شاندار کارکردگی کی بنیاد فراہم کی ۔ یہ سارا علم یونانی سوچ کے عین مطابق تھا ، ان علوم کے ساتھ قرآن کی سمجھ اور اس کی ترقی پسند تشریح نے عالم انسانیت کی بھلائی کے لیے علم و دانش کی نئی راہیں کھول دیں ۔یہ قرآن ہی کہتا ہے کہ انسانو جاؤ، اللہ کی زمین میں فکرو تدّبر کرو، سوچواور ڈھونڈو کہ رب تعالیٰ نے تمھارے لیے کیا کیا اورکون کون سے خزانے کائنات میں چھپا رکھے ہیں۔

Thursday, June 4, 2009

بیت المقدس کی ہیّت تبدیل کرنے کا صہیونی منصوبہ


تحریر: روف عامر پپا بریار

امام غزالی کا فرمان ہے کہ ہم دولت سے ہم نشین تو خرید سکتے ہیں نیند نہیں۔

اسرائیل قبلہ اول کو صہیونیوں کی ملکت ثابت کرنے کے لئے سازشوں و مکرکرنیوں کے کئی جال بن رہا ہے مگر رحیمی خدا کے کارن یہ جال ہمیشہ کھل کر یہودیوں کا کچہ چھٹا طشت ازبام کردیتے ہیں۔اسرائیل نے بیت المقدس کی اسلامی شناخت کے شیش محل کو زمین بوس کرنے کے لئے قبلہ اول کے گرد سڑکیں،نئی عمارتیں،پارک اور تفریحی سیرگاہیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہودیوں کی اٍس نئی واردات کا بھانڈا ایک غیر سرکاری تنظیم ہارنز نے پھوڑا ہے۔اسرائیلی حکومت نے یہ ٹاسک یروشلم اتھارٹی کے سپرد کردیا ہے۔اٍس پراجیکٹ کے اخراجات یروشلم کے بلدیاتی چیرمین اور وزیراعظم برداشت کررہے ہیں۔یہ منصوبہ یہود المروٹ کے دور میں ایجاد کیا۔ستمبر2008 میں المروٹ نے اس منصوبے کی منظوری دی۔منصوبے کی رو سے قدیم شہر کے چاروں اطرافات میں نئی تعمیرات کا جال بچھایا جارہا ہے تاکہ وہاں کثیر تعداد میں موجودہ فلسطینی اور عرب باشندے بے دخل کر دئیے جائیں۔

تل ابیب کے ترجمان نے سازش کے انکشاف پر دلیل دی کہ وہ یروشلم کو اٍسرائیل کا مستقل کیپٹل بنانے کے لئے مضبوط بنیاد رکھ رہے ہیں مگر درون خانہ اٍس سازش کے پس پردہ بیت المقدس کو ہتھیانا مقامات مقدسہ و فلسطینی سرزمین پر اپنے بدمعاشانہ قبضے کو دوام بخشنا ہے۔ایسے زہریلے پراجیکٹ کی رو سے مجوزہ علاقے پر اٍسلامی تہذیب و ثقافت کے صدیوں پرانے اثرات کو مٹا کر یہودی کلچر کو دوام بخشنا ہے ۔

اسرائیل کے ایک مقدس ترین مقام جو ابھی تک متنازعہ اور فلسطنیوں کی ملکیت ہے وہاں ایک ایکڑ زمین پر چوبیس عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔قبلہ اول کے چاروں طرف اسٹیڈیم،پارکس اور دفاتر بنانے کا پروگرام اٍس بودے منصوبے کا حصہ ہے۔مشرقی بیت المقدس میں پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے حکومت کے پاس مطلوبہ جگہ پر کوئی زمین نہیں ہے۔یوں وہاں آباد مسلمانوں عربوں اور فلسطینیوں سے زبردستی زمین خریدی جارہی ہے۔

اسرائیل کے نامور دانشور نے اعتراض کیا ہے کہ نئے منصوبے سے یروشلم پہلے سے زیادہ غیر مستحکم اور خون الود ہوجائے گا مگر تل ابیب نے اٍس رائے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اٍس منصوبے سے تمام مذاہب کے پجاری مستفید ہونے گے کیونکہ اٍسرائیلی قوانین مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے ہر شخص کو وہاں جانے کی اجازت دیتے ہیں مگر سچ تو یہ کہ ہاتھی کے دانت دکھانے والے اور جبکہ کھانے والے دوسرے ہوتے ہیں۔

اسرائیل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف پیشگی اجازت لئے بغیر تعمیر کئے جانے والے گھروں کو مسمار کیا جائے گا۔ المروٹ بھی مسلم تعصب پسند لیڈر ہے مگر وہ اپنے دور میں امن معاہدے کی کچھ نہ کچھ پاسداری کرتا رہا ۔المروٹ کے جانے کے بعد اٍقتدار کے مسند پر جلوہ افروز ہونے والے انتہاپسند نیتن یاہو اٍس پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل چاہتے ہیں تاکہ یروشلم کی ہیت تبدیل کرکے فلسطینیوں کے ملکیتی دعووں کو ریت کیا جائے۔

یاد رہے کہ یروشلم مسلمانوں،فلسطینیوں اور عیسائیوں کے لئے مقدس ہے مگر اٍسرائیلی جادوگر اب اٍسے صرف یہودیوں کے نام کرنے کے لئے بے تاب ہیں۔اسرائیل یروشلم پر اپنا حق جتا کر اٍسے اپنے ابدی کیپٹل کا درجہ دے چکا ہے مگر عالم عرب اور عالمی برادری تل ابیب کا یہ دعوی تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔یہودی حکمرانوں نے پوری دنیا کے یہودیوں کو اٍسرائیل انے کی دعوت دی ہے اور ہجرت کا عمل اب تک جاری ہے ہجرت کرنے والے یہودیوں کو مسلمانوں کے رقبے پر مکانات تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

یروشلم کے مئیر برکاٹ نے نے کہا کہ ہم نے مشرقی بیت المقدس میں35550 مکانات تعمیر کرنے کا ماسٹر پلان مرتب کیا ہے۔برکاٹ نے وعدہ کیا کہ متاثرہ فلسطینیوں کو حکومت متبادل زمین فراہم کرے گی۔یہاں بیشتر فلسطینی1930 سے رہائش پزیر ہیں۔اٍسرائیل نے1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر تسلط قائم کیا تھا۔فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا کیپٹل بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔بیت المقدس میں7لاکھ40 ہزار ابادی کا تیس فیصد فلسطینیوں پر مشتعمل ہے۔برکاٹ ازاد حثیت سے کامیاب ہوئے مگر نیتن یاہو کی طرح برکاٹ کے زہن و قلوب میں فلسطینیوں سے نفرت کا زہر بھرا ہوا ہے۔اپنے اٍنتہاپسندانہ نظریات کی وجہ سے وہ نیتن یاہو کے پانچ پیاروں میں شامل ہیں۔

یواین او کیhuman right ونگ کی رپورٹ کے مطابق ابھی تک1500 فلسطینی گھروں کے انہدام کا فیصلہ زیر التوا ہے۔یواین او کے مطابق اگر یہ گھر مسمار ہوئے تو نوہزار شکستہ دل فلسطینی بے گھر ہوجائیں گے۔برکاٹ کے حواری مشیر اسٹیفن ملر کا فرمانا ہے کہ متاثر ہونے والوں کو فلسطینی علاقوں میں اباد کیا جائے گا ٰ جس سے فلسطینی بستیوں میں مکانات کی کمی پوری ہوجائے گی۔برکاٹ جگالی کرتے ہیں کہ فلسطینیوں کو مکانات تعمیر کرنے کے ہزاروں اجازت نامے جاری کئے گئے مگر دوہزار چھ سے ابتک359 اجازت نامے جاری ہوئے۔فلسطین کی موجودہ حکومت دو ریاستی فارمولے کی مخالف ہے۔

عیسائی دنیا کی روحانی شخصیت پوپ نے اپنے دورہ اسرائیل میں جہاں ایک طرف یہودیوں سے اظہار یکجہتی کیا وہاں دوسری جانب خطے میں قیام امن کے لئے دوریاستی فارمولے کی تائید کرکے فلسطینیوں کی پرزور وکالت کی۔پوپ گنبد خضری کی زیارت و بیت المقدس سے اظہار عقیدت کے لئے آئے تو فلسطین کے مفتی اعظم محمد حسین نے پوپ سے اپیل کی کہ وہ ستم رسیدہ فلسطینیوں پر اٍسرائیل کی جانب سے برسائی جانے والی اگ کی برسات رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔پوپ نے اپنی دعا میں کہا کہ یا اللہ اٍس مقدس سرزمین مشرق وسطی پر اپنی رحمت برسا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایسے آدم خور دوریاستی فارمولے کو اپنانے پر تیار نہیں۔وہ گھمنڈ کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو بذور قوت کچل دیں گے۔وہ غیر مشروط مذاکرات پر تیار ہیں مگر فلسطینیوں کو انکے حقوق مہیا کرنے سے انکاری ہیں۔

اب سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی فتنہ گری سے دوریاستی فارمولے کا کیا حشر ہوگا۔وائٹ ہاوس کے مرد قلندر سے بھی خیر کی کوئی توقع نہیں کیونکہ انکے اٍرد گرد نظر انے والے مصاحبین و مشیر سارے یہود نواز ہیں۔اسرائیل دو ریاستی فارمولے کو گریٹر اسرائیل کی موت تصور کرتا ہے۔گریٹر اسرائیل صرف فلسطین تک محدود نہیں بلکہ اٍس کے نقشے کے مطابق شمالی افریقہ اور مدینہ منورہ اٍسی کا حصہ ہونگے۔عرب دنیا فلسطینی ریاست کے عوض اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے تک تیار ہے۔شاہ عبداللہ کے امن فارمولے کی ساری دنیا اور اٍسرائیل تک نے توصیف کی مگر وہ اٍس کو سینے سے لگانے کے لئے تیار نہیں کیونکہ وہ اسرائیل اور فلسطین سے سارے فلسطینیوں کو دربدر کرنا چاہتا ہے۔

بیت المقدس کی اسلامی شناخت پر صلیبیت کی سیاہی پھیرنا اسرائیل حکومت کا ماٹو ہے۔قبلہ اول کی ازادی کے لئے مسلمانوں کو ہی سربکف ہوکر یہودیوں کے سامنے کھڑا ہونا پڑے گا۔امریکی دوستی کے خبط میں مبتلا مسلم امہ کے رنگیلے بادشاہوں کو اٍمام غزالی کے محولہ بالا قول کی روشنی میں اپنے اتحاد و یگانگت سے بیت المقدس کو اسرائیلی تسلط سے بچانا ہوگا۔وبامہ سے خیر کی توقع کرنا عبث ہے۔مسلم دنیا کے مہاراجو یاد رکھ تم دولت سے ہم نشین خرید لوگے مگر نیند نہیں بعین قبلہ اول کی ازادی بھی امریکی غلامی سے نجات اور جذبہ جہاد سے ممکن ہے۔

Wednesday, June 3, 2009

مسلمانوں کی بڑھتی آبادی عیسائیت کو نگل جائیگی

مسلمانوں کی بڑھتی آبادی عیسائیت کو نگل جائیگی، خصوصی رپورٹ


تحریر : فرّخ صدیقی


دہشتگردی کیخلاف جنگ کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس کی وجوہات کچھ اور ہی نظر آتی ہیں۔ 1990ء میں ہنری کسنجر رپورٹ جس میں آنیوالے دس سالوں میں امریکہ کیلئے سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی تھی۔ جس کے لئے امریکہ نے اسلامی ممالک کی حکومتوں کے پر خلوص تعاون سے خاطر خواہ اقدامات بھی کئے جن میں آبادی روکنے کی لئے تمام مسلمان ممالک میں کنڈوم کی تشہیر، مانع حمل گولیوں کی بھرمار سرورق رہے۔ علماء، ذرائع ابلاغ، صحافیوں، دانشوروں کی ایک فوج مظفر خریدی گئی تاکہ مسلمانوں کو یقین دلایا جا سکے کہ کم بچے پیدا کر کے ہی وہ مغرب کے برابر آسکتے ہیں۔ ان خیالات کو مزید عام کرنے کیلئے کچھ پالتو این جی اوز کا پٹہ بھی کھول دیا گیا جنھوں نے اس پراپیگنڈہ کو زبان زد عام کرنے کیلئے دشت تو دشت، صحرا بھی نہ چھوڑے، اور اپنے تنخواہ دار گھوڑے گھوڑیاں سب پورے پاکستان میں دوڑا دیں۔

آجکل تقریباً ہر ٹی وی چینل چند مخصوص اقسام کی خبروں اور رپورٹوں پر ہی روزانہ کی بنیاد پر زور ڈالتے نظر اتے ہیں۔ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی نہ تو یورپین گولیاں روک سکیں اور نہ ہی امریکی کنڈم، جنھیں پاکستانی پیکنگ میں عوام کو لالی پاپ کی طرح پیش کیا جا رہا ہے۔

اگر ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم آبادی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب سے چرچ، عیسائی، مغرب اور امریکہ بے خبر ہیں تو یہ محض ایک خام خیالی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ادویات و خیالات کی ناکامی کے بعد یورپ اور امریکہ کے پاس اس آبادی کو کنٹرول کرنے کا ایک ہی حل ہے------جنگیں اور صرف جنگیں۔ جن کی آڑ میں بم دھماکے اور دیگر حکمت عملیوں سے آبادی کو اتنا کم کیا جائے کہ آنیوالے پچاس سالوں تک کوئی خطرہ نہ رہے۔

آئیے ایک نظر ان رپورٹوں پر بھی ڈالتے ہیں جو غیر ملکی عیسائی تنظیموں کی تیار کردہ ہیں اور ان پر یورپ اور امریکہ میں بحث جاری ہے۔

فرانس میں عیسائی آبادی کی شرح نمو 1.8، برطانیہ میں عیسائی آبادی کی شرح نمو 1.6، یونان میں عیسائی آبادی کی شرح نمو 1.3، جرمنی میں عیسائی آبادی کی شرح نمو 1.3، اٹلی میں عیسائی آبادی کی شرح نمو1.2 اور سپین میں میں عیسائی آبادی کی شرح نمو1.1 ہے۔ پوری یورپی یونین جس میں ابھی تک 31 ممالک شامل ہیں، میں عیسائی آبادی کی شرح نمو 1.38 ہے۔ ماہرین شماریات کا کہنا ہے کہ کسی بھی ثقافت کو پچیس سال کے بعد بچانا ناممکن ہے اگر ان سالوں میں آبادی کی شرح نمو 2.5 سے کم ہو۔

ان شماریات کی رو سے یورپ کی آبادی کو انتہائی کم ہونا چاہیئے لیکن یورپ میں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے--------کیوں؟

آئیے جانتے ہیں۔

ہجرت----------مسلمانوں کی دوسرے ممالک سے یورپ میں ہجرت۔

فرانس میں ایک خاندان میں اوسطاً 1.8افراد شامل ہیں جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح اوسطاً افراد 8.1 ہے۔ شمالی فرانس جو کبھی چرچوں کی زیادہ تعداد کیوجہ سے مشہور تھا، اب مساجد کی تعداد ان چرچوں سے زیادہ ہے۔ 20 سال تک کی عمر کے 30 فیصد بچے مسلمان ہیں۔ فرانس کے برے شہروں نیس، پیرس اور مارسلے میں یہی شرح 45 فیصد ہے۔



برطانیہ، جہاں پچھلے 30 سالوں میں مسلمانوں کی آبادی 82،000 سے بڑھ کر 25،00،000 ہوگئی ہے۔ برطانیہ میں کم و بیش 1000 مساجد ہیں جن میں سے بیشتر چرچ کو خرید کر بنائی گئی ہیں۔

ہالینڈ، ہرسال جتنے بھی بچے پیدا ہوتے ہین انکی آدھی تعداد مسلمانوں کے بچوں کی ہے۔ یہی رفتار رہی تو انیوالے پندرہ سالوں میں ہالینڈ کی آدھی آبادی مسلمان ہوگی۔

روس، جہاں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 2کروڑ تیس لاکھ ہے۔ اگلے چند سالوں میں اسکی 40فیصد فوج مسلمانوں پر مشتمل ہوگی۔

بیلجیئم میں مسلمان آبادی کا 25فیصد ہیں اور ہرسال پیدا ہونیوالے بچوں میں سے آدھے مسلمان ہیں۔

یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ 2025ء تک یورپ میں ہرسال پیدا ہونیوالے بچوں کا 33فیصد مسلمان بچے ہونگے۔

حال ہی میں جرمنی کی حکومت نے اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سرکاری طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ جرمنی میں عیسائی آبادی کی گرتی شرح کو روکنا اب ممکن نہیں رہا اور جرمنی 2050ء تک ایک مسلم ریاست بن سکتا ہے۔

اسی معاملہ پر ایک بحث و مباحثہ میں لیبیا کے صدر معمرقذافی نے بیان دیا ‘‘آثار نظر آتے ہیں کہ اللہ سبحان و تعالٰی اسلام کو یورپ میں بغیر تلواروں، بندوقوں اور معرکوں کے فتح عطا کریگا، ہمیں دہشتگردوں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں خودکش حملہ اوروں کی مدد درکار ہے، کچھ ہی سالوں میں یورپ میں موجود 5کروڑ مسلمان اسے ایک اسلامی ریاست میں تبدیل کردینگے۔

جرمنی کی حکومت کا کہنا ہے کہ یورپ میں موجود 52ملین مسلمان اگلے بیس سالوں میں دوگنا ہوجائیں گے۔

یورپ سے باہر نکل کر دیکھا جائے تو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال نظر آتی ہے۔ کینیڈا میں عیسائی ابادی کی شرح نمو1.6 اور کسی ثقافت کی بقاء کیلئے اسکا کم از کم 2.11 ہونا ضروری ہے۔ کینیڈا میں بھی اسلام تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ 2001ء سے 2006ء تک کینیڈا کی آبادی میں 1.6ملین کا اضافہ ہوا اس اضافہ میں 1.2ملین آبادی دوسرے ممالک سے ہجرت کرکے آئی۔

امریکہ میں عیسائی آبادی کی شرح نمو1.6ہے اور لاطینی امریکہ کے افراد کی یہاں ایک بڑی تعداد میں ہجرت کیوجہ سے یہ شرح 2.11 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ ایک ثقافت کو بچانے کیلئے آبادی کی کم سے کم شرح نمو ہے۔


عیسائی تنظیموں کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ان کے پوتے پوتیاں انکی ثقافت دیکھ نہیں پائیں گی اور انکی آنکھ ایک اسلامی معاشرہ میں کھلے گی۔

روم میں کیتھولک پوپ نے ابھی حال میں ہی یہ بیان دیا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کیتھولک عیسائیوں سے بڑھ چکی ہے اور اگلے پانچ سے چھے سالوں میں اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہوگا۔

انشاءاللہ

علامہ اقبال نے سچ کہا تھا:

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا


2025ء تک ہر پانچ فرانسیسی افراد میں سے ایک شخص مسلمان ہوگا۔ یہی شرح رہی تو اگلے 39 سال میں فرانس ایک اسلامک ریپبلک ملک بن جائیگا۔
1970ء تک امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ تک تھی جو 2008ء میں 90 لاکھ تک پہنچ گئی۔

ای میل: farrukh36@hotmail.com