Showing posts with label iraq. Show all posts
Showing posts with label iraq. Show all posts

Saturday, June 6, 2009

عراق امریکی بربریت کی لرزہ خیز داستان




تحریر: رؤف عامر پپا بریار

حدیث قدسی ہے آئے مسلمانو تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی پیروکاری کرو۔

امریکی فورسز نے انبیاوں کی دھرتی علم و ہنر کے مسکن اور مسلم امہ کی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب و ثقافت کی اماجگاہ عراق پر اپنے چھ سالہ تسلط میں جہاں ایک طرف انسانیت کے بخیے ادھیڑ دئیے تو دوسری طرف گورے بھیڑیوں نے انسانی شکل کے ماسک پہن کر عراقی سائنس دانوں اور علم و طب کے گواہر مقصود آبگینوں و نگینوں کو چن چن کر ہلاک کردیا تاکہ مستقبل میں عراق دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہوسکے۔

امریکیوں نے ایک طرف عراق کے حسین شہروں کو کھنڈرات میں بدل دیا تو دوسری طرف یونیورسٹوں اور ذہین دماغوں کو بھی صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ ایک یورپی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں انسانیت کے ان خودساختہ مبلغین کی کارکردگی کو عیاں کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی فورسز نے عراق پر پہلے مشرکانہ حملے سے لیکر اب تک418 سائنسدانوں کی زندگیوں کو اگ و بارود کے آتش فشاں کے سپرد کردیا۔ صاحبان علم و دانش پر ڈھائی جانے والی ظلمت کا سانحہ کوئی جنگ شروع ہوجانے کے بعد کا واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک مربوط منصوبہ بندی تھی جو عراق پر جنگ مسلط کرنے کی پلاننگ کے دوران تشکیل دی گئی۔

یہ ایک گھناؤنی سازش تھی جسکے تحت امریکہ نے جہاں ایک طرف عراقی تیل کو ہتھیانے کے لئے بغداد کو تختہ مشق بنانا تھا تو وہاں یہ بھی طے کردیا گیا تھا کہ عراقی سائنسدانوں کو بھی ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے ۔امریکہ نے سائنس دانوں کو راندہ درگاہ بنانے کے لئے کئی پتے کھیلے۔ امریکی ایجنٹوں نے ان سائنسدانوں کو پیشکش دی کہ وہ یورپ اور امریکہ کے لئے اپنی خدمات سرانجام دیں۔ بھاری تنخواہوں اور پر آلائش سہولیات کا پیکج دیا گیا وہ جنکے دماغوں میں حرص و ہوس کے کیڑے کلبلارہے تھے انکے وارے نیارے ہوگئے مگر وہ جو غیرت ایمانی سے لبریز صاحب ضمیر تھے انہوں نے وطن سے غداری کے تمام پیکج ٹھکرا دیے۔ وہ ضمیر کی راہ پر ڈٹ گئے۔

امریکیوں نے ان سرکشوں کے موت کے پروانے جاری کردیے۔ کچھ دیار غیر کی طرف ہجرت کرگئے حالانکہ امریکی ایجنسیوں نے انکے فرار کے تمام راستوں کو مسدود کردیا۔ مختلف شعبوں کے عراقی افلاطون جو سائنس دان بھی ہیں اور پروفیسرز بھی دانشور بھی ہیں اور کیمیادان بھی، کی کافی تعداد ابھی تک گمشدہ ہے کوئی پتہ نہیں کہ انہیں آسمان نگل گیا یا زمین مگر یہ سچائی اب آموختہ ہوچکی ہے کہ گمشدہ سائنسدان امریکی وحشت کے قبرستان میں ہمیشہ کے لئے اہل قبور بن گئے۔سائنسدانوں کو لقمہ اجل بنانے کے لئے نہایت چالاکی و عیاری سے کام لیا گیا۔

کچھ کو امریکیوں نے خود مروایا اور پھر اس کا الزام مختلف تنظیموں کے سر تھوپ دیا گیا۔ عراق میں نور المالکی سرکار نے کئی مرتبہ شیخی بگھاری تھی کہ حکومت سائنسدانوں کی حفاظت کے لئے فول پروف سیکیورٹی کا بندوبست کررکھا ہے مگر میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حکومتی اعلانات محض دھوکہ و سراب ہیں۔

عراقی حکومت نے عیارانہ اپیلیں کیں کہ دیار غیر میں بسنے والے سائنسدان اپنے گھروں کو لوٹ آئیں انہیں نہ صرف سابقہ پوزیشن پر بحال کیا جارہا ہے بلکہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ یوں درجنوں سائنسدان مادر وطن کی عقیدت میں پاگل بنے واپس لوٹ آئے اور یہاں موت انکا مقدر بن گئی۔ اس سازش و مکرکرنی کے صلاح و کار کون ہوسکتے ہیں؟اٍسے سمجھنے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔

موصل یونیورسٹی میں اقتصادیات کے ماہر ڈاکٹر مراد شہاب حکومتی بلاوے پر جلاوطنی ترک کر کے واپس آئے مگر یہاں تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔ ڈاکٹر مراد کو پہلے اغوا کیا گیا اور پھر انکے ساتھ کراچی میں بند بوریوں والی تاریخ دہرائی گئی۔ مالکی حکومت چاہے دل سے سائنسدانوں کو ہلاک کرنے کی حامی ہو یا نہ ہو وہ مجرم ہو یا بے گناہ مگر ایک بات طے ہے کہ عراقی حکومت ان احکامات پر عمل درامد کرنے کی پابند ہے جو تل ابیب اور واشنگٹن کی طرف سے جاری کئے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر مراد کے سفاکانہ قتل سے دو ہفتے پہلے بغداد کے معروف ایٹمی سائنسدان خلیل اسمعیل تکریتی کو گولیوں سے بھون دیا گیا حالانکہ حکومتی ہرکارے انہیں کافی تعظیم کے ساتھ دیار غیر سے واپس لائے تھے۔ عراق کی تحقیقاتی اکیڈمی کے چیرمین ڈاکٹر نورالدین کہتے ہیں کہ عراق امریکی جنگ کے چھ سالوں میں5550 سائنسدانوں اور قابل ماہرین سے ہاتھ دھو چکا ہے۔

ان میں اکثریت ان سائنسدانوں کی شامل ہے جو جنگ کے دوران مشرقی ایشیا اور مشرقی یورپ میں چلے گئے تھے جبکہ پیشتر عراقی مصلوب سائنسدان وہ ہیں جنہیں غیر ملکی ایجنسیوں نے منصوبہ بندی سے قتل کروایا۔ پچھلے سال2008 میں351 سائنسدان ہلاک کردیے گئے۔ عراقی یونیورسٹیوں میں تحقیقاتی شعبوں کے دو سو ماہرین غیر ملکی جارہیت کی استبدادیت و جبروت کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق2003 کے بعد سے پانچ سو سائنسدان موت کی وادیوں میں جابسے۔ سائنسدانوں، نامی گرامی اطبائے کرام، اکادمک افراد اور انجینیرز کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ بم دھماکے اور خود کش حملوں کے اکثر واقعات ان جگہوں پر پیش آئے جہاں سائنس دان اقامت پزیر تھے۔

ان قابل ترین عراقی ماہرین کو پیوند خاک بنانے کے لئے امریکیوں نے مزاحمت کار گروپوں میں موجود اپنے نمک حلال پٹھوؤں اور سیکیورٹی کے نام پر عراقی حکومت کے حصے دار کرائے کے قاتلوں کو استعمال کیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ امریکیوں اور عراقی حکومت کے امریکی دلالوں نے گٹھ جوڑ سے صدام دور کے جرنیلوں بیوروکریٹوں پائلٹوں کو امریکی فوج کے خلاف لڑنے کے جرم میں سزائے موت دی۔

رابرٹ فسک کی رپورٹ کے مطابق عراق میں پندرہ یورپی ملکوں کی ایجنسیاں امریکی سرپرستی میں عراق کے علمی، تہذیبی، سائنسی ورثے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے آج بھی سرگرم ہیں۔ اس کار خیر میں اٍسرائیلی ایجنسیاں فرنٹ لائن قیادت کا کردار ادا کررہی ہیں۔ رابرٹ فسک ہی لکھتے ہیں کہ بش دور میں امریکی وزارت دفاع نے وائٹ ہاوس کو اطلاع بھجوائی کہ عراقی سائنسدانوں کو راستے سے ہٹانے کا دھندہ کامیابی سے جاری ہے۔عراقی ماہرین کو ہلاک کرنے کی سینکڑوں لرزہ خیز داستانیں مغربی پریس میں چھپ چکی ہیں جن پر انسانیت بلک اٹھتی ہے۔

امریکیوں اور اسرائیلیوں کی خواہش ہے کہ عراق کو سائنسی سکالرز سے پاک کردیا جائے۔عراق میں جہاں تعلیمی اداروں کو جلا کر راکھ کردیا گیا وہاں عراقی تہذیب و تمدن کی نشانیوں کو مٹانے کے لئے عجائب گھروں کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ امریکیوں نے اپنے خونخوار قبضے کے دوران عراق کے اسی فیصد تعلیمی اداروں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔

امریکہ عراق پر قبضے کی چھٹی سالگرہ منارہا ہے مگر ان چھ سالوں میں لاکھوں عراقی ہزاروں سائنسدان اور دنیائے عالم کو مبہوت کردینے دیدہ زیب تہذیب پیغمبران کو خون مسلم میں درگور کردیا گیا۔ ظلم و بہیمت کا رقص بسمل آج بھی پوری سفاکیت سے جاری ہے مگر مسلم امہ بے حسی کے سمندر میں غوطے کھارہی ہے۔امریکہ کی غلامی کرنے والے مسلم حکمرانوں کو محولہ بالا حدیث قدسی کی روشنی میں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا مسلمانوں کے لئے اطاعت خداوندی لازمی ہے یا طواف وائٹ ہاؤس۔

ہمیں رسول کریم ﷺ کی اسوہ حسنہ کا پیروکار بننا چاہیے یا امریکی صدر کی پالیسیوں کا نگہبان یہ فیصلہ ہمیں جلد کرنا چاہیے ورنہ ایران و پاکستان کی باری لگنے والی ہے۔

Thursday, June 4, 2009

مشعل راہ: صدام حسین کی موت.....مسلمانوں کیلئے لمحہ فکریہ


تحریر: محمد فیصل

لندن، رات چار بجکر پچیس منٹ پر میرے موبائیل فون کی گھنٹی بجی۔ قاہرہ سے موصول ہونیوالی اس کال میں مجھے بتایا گیا کہ اب سے چند منٹ قبل عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ خبر میرے لئے کسی حیرانی کا باعث نہیں تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ موت تو بحرحال صدام حسین کا مقدر تھی لیک امریکہ بہادر صدام حسین کو راستے سے ہٹانے کیلئے کسی خاص موقع کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک ایسا موقع جس سے اسکے چند دیگر اہداف بھی مکمل ہو سکیں۔ بڑی طاقتوں اور انکے خفیہ اداروں کا ہمیشہ سے یہ طرّہ امتہاز رہا ہے کہ وہ ایک تیر سے کئی شکار کرتے ہیں۔ تاکہ اگر ایک ہدف پورا نہ ہو تو دوسرا ہو سکے۔ایسا ہی کچھ کام بش انتظامیہ نے بھی کیا۔ جیسا کہ میں کئی بین الاقوامی فورموں میں واضح کر چکا ہوں کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ یا عراق پر حملہ مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کرنے اور انھیں کمزور کرنے کی عالمی سازش ہے۔

کیونکہ صدام حسین کا القاعدہ نامی تنظیم کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا اور نہ ہی وہاں سے ایٹمی ہتھیار یا کیمیکل ہتھیار بنانے کا کوئی پلانٹ ملا، جس کا خود امریکہ کو اعتراف کرنا پڑا۔امریکی حکّام نے جب یہ محسوس کر لیا کہ عراقی صدر صدام حسین امریکی اطاعت میں ایک مقررہ حد سے بڑھنے کیلئے تیار نہیں (ایسی اطاعت جس سے عراقی وسائل امریکی قبضہ میں آ جائیں) تو انھوں نے عراقی صدر کے پر کاٹنے شروع کر دیے۔ جس کے نتیجہ میں عراق پر سیاسی اور عالمی دباؤ کی مد میں اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں گئیں۔ اسوقت امریکہ کا خیال تھا کہ اس دباؤ کے آگے صدام حسین گھٹنے ٹیک دیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا کیونکہ صدام حسین ماضی میں امریکہ کے قریبی آلہ کار رہ چکے تھے اور جس طریقہ سے انھوں نے 1979ء میں امریکہ کیلئے خدمات انجام دی تھیں، امریکی طریقہ واردات کو بخوبی سمجھنے لگے تھے۔ لہٰذا انھوں نے امریکہ کے آگےگھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ یہی وہ وقت تھا جب امریکہ نے طاقت کے ذریعے عراق پر جنگ مسّلط کر کے مسلمانوں کے وسائل پر عملی طاقت کے مظاہرہ کے ذریعے قبضہ کا فیصلہ کیا۔ اس حوالہ سے صدام پرنہ صرف القاعدہ سے براہ راست تعلق اور دہشت گردی کے دیگر الزامات لگائے گئے بلکہ خطرناک بیالوجیکل ہتھیاروں کی تیّاری اور کثیر تعداد میں موجودگی کا بھی ڈھونگ رچایا گیا۔

اس حوالہ سے عالمی برادری کے سامنے شواہد بھی لائے گئے جن میں ہتھیاروں کی نقل و حمل کے ثبوت بھی پیش کیے گئے اور یہ تمام کام اسلئے کیے گئے کہ عراق پر امریکی حملہ کی راہ ہموار ہو سکے۔ کیونکہ امریکہ کا خیال تھا کہ عراق پر گرفت کے بعد وہ وہاں اپنا مرکز بنانے میں کامیاب ہوجائیگا جس سے دو فوائد ہونگے۔ پہلا یہ کہ عراقی تیل کی دولت خود بخود امریکہ کے قبضہ میں آ جائیگی اور دوسرا مشرقِ وسطٰی میں بحالی جمہوریت کے بہانے امریکی اثر و رسوخ بڑھایا جائیگا۔ لیکن یہ بش انتظامیہ کی سب سے بڑی نااہلی تھی کہ اس نے افغانستان پر بغیر کسی نتیجہ سے پہلے ہی اور عراق کی جغرافیائی صورتحال کو سمجھے بغیر ہی عراق پر چڑھائی کردی عراق میں موجود صدام مخالف وہ قوتیں جو امریکہ کو اپنی حمایت کا یقین دلایا کرتی تھیں، صدام حکومت کے خاتمے کے بعد ہی اپنی آزادی کیلئے دوسری طاقتوں کی جانب جھک گئیں اور وہ عراق جو ایک مملکت نظر آتا تھا اب تین حصّوں میں بٹتا نظر آرہا ہے۔ تقسیم کے لحاظ سے یہ کیفیت تو امریکہ کیلئے بہترین تھی لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ کوئی فریق بھی عراق میں امریکہ کو ?اپّر ہینڈ(Upper Hand)? دینے پر راضی نہ ہوا۔ گزشتہ سال اس حوالے سے میری کرد، سنّی اور چند شیعہ رہنماؤں سے گفتگو ہوئی۔ باوجود باہمی اختلاف وہ سب ایک بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ امریکہ کو یہاں سے رخصت ہونا ہوگا۔

یہ ایک ایسا مسئلہ بن گیا تو امریکہ کیلئے شدید تکلیف دِہ تھا۔ اس سے بچنے کیلئے امریکہ نے کیا حکمت عملی اختیار کی میں اس بحث میں پڑے بغیر واپس صدام حسین کی طرف آؤں گا کہ امریکہ صرف صدام حکومت کا خاتمہ نہیں چاہتا تھا وگرنہ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جو عراق سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں مگر وہاں کی حکومتیں امریکی اشارے کی منتظر اور محتاج ہیں۔ جس وقت صدام کے بیٹوں کو مارا گیا، اسی وقت صدام حسین کو بھی مارنا آسان تھا تاہم اسطرح ان قوتوں کے ایک زیادہ عزائم کی تکمیل نہ ہوتی جو مسلمانوں کو اس دنیا کی کمزور اور اطاعت گزار قوم بنانا چاہتے ہیں۔ عراق، افغانستان اور لبنان میں ہونیوالے حالیہ جانی و مالی نقصانات نے ایک بات مسلم دشمن قوتوں پر واضح کردی کہ مسلمانوں سے براہِ راست مخاصمت بہتر نہیں لہٰذا ایک بار پھر استعماری قوتوں نے ?لڑاؤ اور حکومت کرو? کے آزمودہ نخسہ سے کام لیا۔ ایک مخصوص عرصہ تک صدام حسین کو نمائشی مقدمہ میں الجھاکر عراق میں فرقہ وارانہ تشدد اور نفرت کو ہوا دی گئی اور جب یہ نفرت حد سے بڑھ گئی اور مسلماناِ عراق تین واضح فرقوں میں بٹ گئے تو اسے عراق سے نکال کر پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلانے کا منصوبہ بنایا گیا کیونکہ یہ ہوا ہی ایک طریقہ کار تھا جس کے ذریعے پورے عالمِ اسلام کو دو حصوں یعنی سنّی اور شیعہ میں تقسیم کر دیا جائے لہٰذا ایک مذموم مقاصدکے تحت صدام حسین کو ایسے شرمناک طریقہ سے پھانسی دی گئی جس نے نہ صرف عراق کے سنّی مسلمانوں کو مشتعل کیا بلکہ دیگر ممالک کے سنّی افراد نے بھی اس پر شدید احتجاج کیا۔

اس دوران ایرانی قیادت نے ایک سیاسی غلطی یہ کردی کہ صدام حسین کی پھانسی پر سیاسی ردّ عمل دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا، جس نے ایران کو سنّی عرب اور عجم دونوں سے دور کردیا۔ اسی وقت کا امریکہ کو انتظار تھاکہ ایران کو کسی طرح تنہا کردیا جائے تاکہ اس کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کا موقعہ مل سکے۔ صدام حسین تو بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گئے لیکن اپنے سفرِآخرت کے کچھ ایسے اثرات چھوڑ گئے ہیں جس سے مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ جنوب ایشیا بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کی پھانسی کیلئے جس دن کا انتخاب کیا گیا وہ بھی مسلمانوں کیلئے سب سے بڑے تہوار کا دن تھا اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سو ارب سے زائد مسلمانوں کیلئے واضح پیغام تھا کہ تمھارے مقدّس ایّام یا خوشیاں ہمارے فیصلوں کے آگے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ یہ نوشتہ دیوار ہے عالم اسلام کیلئے۔
مسلمانوں کے درمیان فروعی بنیادوں پر جو فضاء تیار کی گئی ہے اس سے عراق کے تقسیم ہونے کی ابتداء اور ایشیاء میں تقسیم کی راہ ہموار ہونے لگی ہے۔ امریکہ کی خواہش ہے کہ عراق کے بعد پاکستان اور افغآنستان کے ٹکڑے کیے جائیں جس کے بارے میں میں نے 1997ء میں ہی بتا دیا تھا۔

گریٹر بلوچستان کا قیام اسی تقسیم کا حصہ ہے جو کہ ایران پر حملہ کے بعد عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ جس کے تحت ایران اور پاکستان کے چند علاقوں پر ایک آزاد بلوچ اکثریت ریاست بنائی جاسکتی ہے۔ اس سے امریکہ کی نہ صرف وسطِ ایشیا کی ان ریاستوں تک رسائی با آسانی ہوسکتی ہے جہاں گیس کے ذخائر ہیں بلکہ ایران پاکستان اور افغانستان سمیت پورے آبنائے ہرمز پر گرفت ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں مسلم دنیا پر یہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر تمام فروعی اختلافات کو بھلا کر متفق ہو جائیں اور اس طرح کی حکمتِ عملی اختیار کریں کہ ایران کی سلامتی کو پاکستان کی بقاء اور پاکستان کی بقاء کو عرب کی سلامتی تصور کیا جائے۔ اس حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنانے کیلئے روس اور چین سے مدد لی جاسکتی ہے۔ ورنہ آئندہ چند سالوں میں ہونیوالی جغرافیائی تبدیلیوں سے مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ (واللہِ العالم باالصّواب)‌

بشکریہ: یو،این،این ۔انڈیا


عراق جنگ: کس نے کتنا کمایا



تحریر: فرخ صدیقی

امریکہ عراق جنگ میں دونوں کے نقصان پر نظر ڈالی جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ جانی اور مالی ‏نقصان دونوں کا ہی ہو رہا ہے، لیکن جانی نقصان میں امریکہ عراق سے کہیں پیچھے ہے اور مالی ‏نقصان میں شائد کہیں آگے یا دونوں برابر۔ عراق کی جنگ جس کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن ‏امریکہ میں کچھ حلقے ایسے ہیں جنھیں اس جنگ میں اربوں ڈالر کا فائدہ ہو رہا ہے، یہ حلقے گنتی کی ‏چند ملٹی نیشل پرائیویٹ فرمیں ہیں۔ جنھوں نے اس جنگ میں حیرت انگیز طور پر کھربوں ڈالر مالیت ‏کے مجموعی ٹھیکے حاصل کیے۔
آئیے ایک نظر ان منافع بخش ٹھیکوں پر ڈالیں جو امریکی کمپنیوں ‏نے حاصل کیے اور ان ٹھیکوں کی مد میں بلین ڈالر ز کی رقوم بانٹیں گئیں۔ موجودہ صورت حال یہ ہے ‏کہ صدر بش کانگریس سے مزید رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ جنگ جیتنے کیلئے مزید مناسب اقدامات ‏کیے جا سکیں۔

عراق کی جنگ ایک واحد جنگ ہے جس میں جنگی معاملات کو پرائیویٹ کمپنیوں کو ‏سونپ دیا گیا، جس میں فوج کا کھانا، لانڈری، گاڑیوں کی مرمت، کمیونیکیشن کے سامان کی فراہمی اور ‏مرمت، پانی کی سپلائی، کپڑوں کی دھلائی ،ٹرانسپورٹ، اسلحہ کی نقل و حمل ہی نہیں بلکہ جنگی ‏قیدیوں سے تفتیش اور سیکیورٹی جیسے حساس معاملات بھی انھیں پرائیویٹ کمپنیوں کے سپرد کر دیے ‏گئے اور یہ ٹھیکے اربوں کھربوں ڈالر میں بغیر آزادانہ بولی کے دیے گئے۔

ہالی برٹن‏‎
ہالی برٹن عراق میں تعمیر نو اور فوجی دستوں کی مدد کے سلسلہ میں ساڑھے ‏اٹھارہ بلین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا ، ہالی برٹن عراق میں فوجی ٹرکوں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت بھی ‏کر رہی ہے۔ اسی طرح‏‎ نے عراق میں انجینئرنگ اور تعمیراتی کاموں کا ٹھیکہ5.3 بلین ڈالر ‏میں لیا۔ تاریخ میں کوئی بھی جنگ اس طرح نجی کمپنیوں کے سر پر نہیں لڑی گئی۔ ڈائن کارپ‎ ‎DynCorp ‎نامی فرم نے عراق میں پولیس کو ٹریننگ دینے کا ٹھیکہ 1.9 بلین ڈالر میں لیا۔ ٹرا نس ا ‏ٹلانٹک ٹریڈرز‎ Transatlantic Traders ‎نے 5میلین ڈالر میں جاسوسی طیاروں کی فراہمی کا ٹھیکہ ‏لیا۔ اس وقت بھی عراق میں بیس ہزار سے زائد نجی فرموں کے فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں جو یا ‏تو پہلے سیکیورٹی گارڈ تھے یا سابقہ امریکی فوجی۔ پرائیویٹ آرمی کی بھرتی اور عراق میں لڑوانے کا ‏ٹھیکہ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نامی فرم نے 21 ملین ڈالر میں لیا۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎عراق ‏میں نجی آرمی بھرتی کرنیوالی سب سے بڑی فرم ہے، جسے حال ہی میں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ اس کے کم و بیش تین سو افسران و ملازمین ان ‏کاموں کی دیکھ بھال کیلئے عراق میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس فرم نے زیادہ تر سابقہ ریٹائرڈ ‏امریکی فوجیوں اور اور امریکی خصوصی پولیس کے سابقہ افسران اور سپاہیوں کو عراق میں لڑنے ‏کیلئے بھرتی کیا ہے۔ یہی فرم امریکی سفیر پال بریمر کی حفاظت کا کام بھی سر انجام دے رہی ہے۔ ‏انھیں فوجیوں میں سے کچھ مرنیوالوں کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ انھیں اس فرم نے دو سے چھ ماہ کے ‏معاہدہ پر بھرتی کیا تھا اور اس عرصہ کیلئے وہ انتہائی پرکشش معاوضہ بھی دے رہے تھے ، کچھ ‏عرصہ قبل ا چار فوجیوں کو عراقی مزاحمت کاروں نے فلوجہ میں انکی کار پر حملہ کر کے بھون دیا، ‏جس کے فوری بعد عراقی عوام کے ایک ہجوم نے انکی لاشیں گاڑی سے نکال کر جلا دیں اور کچھ کو ‏ایک پل سے لٹکا دیا، یہ چاروں فوجی بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎فرم میں ملازم تھے اور سفیر پال ‏بریمر کی حفاظت پر متعین تھے۔ ان مرنیوالے فوجیوں کے لواحقین آج بھی امریکی حکومت اوراس فرم ‏کو انکا قاتل سمجھتے ہیں جنھوں نے پر کشش معاوضہ کی لالچ میں بغیر اصل صورتحال اور مقصد ‏بتائے انھیں جنگ میں جھونک دیا۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کے بانی ایرک ماضی میں ریپبلکن پارٹی ‏کو دو ملین ڈالرسے زیادہ کے فنڈز دے چکے ہیں ۔ اور آج بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کو وائٹ ہائوس ‏کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ فوجیوں کے مرنے کے بعد کچھ سینیٹرز نے اس فرم کے خلاف کاروائی کا ‏مطالبہ کر دیا لیکن بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کے وائٹ ہائوس تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ان ‏سینیٹرز کو اس فرم کیخلاف تحقیق و کاروائی کی منظوری نہ مل سکی۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نے ‏حکومت کے حساس اداروں کے با اثر افسران کو باقاعدہ طور پر اپنے گروپ میں لینا شروع کر دیا جن ‏میں کائونٹر ٹیررزم کے کو آرڈینیٹر جناب کوفر بلیک، پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل جوزف شمز،امریکی ‏فوج کے سٹاف سارجنٹ کرس ٹیلر، سابقہ سیکرٹری آف سٹیتٹ کولن پاول، سی آئی کے سابقہ ڈائریکٹر ‏جارج ٹینٹ،حکومتی سیکریٹری ڈونالڈ رمز فیلڈ قابل ذکر ہیں۔ بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کی اس حکمت ‏عملی کے بعد یہ فرم اتنی با اثر ہو گئی کہ اس کیخلاف کوئی بھی تحقیق آج تک بے اثر ہے۔ بلیک واٹر‏‎ ‎

‎ ‎بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نے اس کے علاو ہ بدنام زمانہ عراقی جیل ابو غریب میں قیدیوں سے تفتیش ‏کا ٹھیکہ بھی حاصل کیا اور اس کام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر مترجم اور سابقہ پولیس اور جرائم پیشہ ‏افراد کی بھرتی کی۔ اور یہ بھرتیاں بغیر کسی امتحان کے صرف ایک چھوٹے سے انٹرویو کی بنیاد پر ‏کی گئیں، تمام درخواست دہندگان کو موزوں قرار دیکر انھیں تفتیش جیسا حساس کام بھی سونپ دیا گیا۔ ‏انھیں تفتیش کاروں میں سے انتھونی لیگورین کا کہنا ہے کہ انھیں عربی کی تھوڑی بہت سمجھ تھی اور ‏انھیں اس فرم نے چار ماہ کیلئے چالیس ہزار ڈالرکی پیشکش کی جسے وہ رد نہ کر سکے۔

ابو غریب ‏جیل کی سابقہ بریگیڈئر جینس کارپنسکی کا کہنا ہے کہ اپریل 2003ءمیں انھیں بریگیڈئر کے عہدہ پر ‏پروموٹ کر کے عراق بھیج دیا گیا اور انھیں تفتیشی مقاصد کیلئے ان جیل ایکسپرٹ کی مدد کرنا تھی۔ ‏انکے مطابق انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ ان نجی کمپنیوں کے تفتیش کاروں کو کون کنٹرول کر رہا ہے ‏کیونکہ یہ وہاں کسی کے تابع یا کسی کو جوابدہ نہ تھے، کسی فوجی کا کسی بھی غیر مناسب رویہ پر ‏کورٹ مارشل تو ہوتا تھا لیکن ان تفتیش کاروں کے ہاتھوں کسی قیدی کے مرنے پر بھی ان سے کوئی ‏پوچھ گچھ نہ تھی، اور ان کو ملنے والی ہفتہ وار تنخواہ کسی بھی امریکی فوجی کے پورے مہینہ کی ‏تنخواہ کے برابر تھی جب کہ فوجی باہر عراق میں مزاحمت کاروں سے لڑ رہے تھے جبکہ یہ تفتیش کا ‏رگرین ایریا میں موجود اپنی آرام دہ رہائش گاہوںسے ابو غریب جیل میں صرف تفتیش کرنے آتے۔ ‏بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کے ان تفتیش کارو ں نے ابو غریب میں برببریت کی جو مثالیں قائم کیں، ‏امریکی فوجی اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ گردانتے ہیں۔ ان تفتیش کاروں میں بلیک واٹر‏‎ Black ‎Water ‎کے علاوہ دو مزید فرموںٹائی ٹین‎ Titan ‎اور کاکی‎ C.A.C.I‎، کے ملازم بھی اس اسرائیلیت ‏میں ملوث تھے۔‏
‎ ‎کاکی‎ C.A.C.I ‎فارچون رسالہ کے اپریل 2006ءکے ایڈیشن میںدنیا کی ایک ہزار امیر ترین فرموں ‏میں سے 921 نمبر پر تھی اور یہ اس فرم کی چتالیس سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ تھا۔ اس فرم نے عراق ‏میں تفتیش کرنے کی مد میں 6بلین ڈالر کا ٹھیکہ لیا۔ کاکی‎ C.A.C.I ‎نے 2004 ء میں 2.2بلین کا بزنس ‏کیا۔
ٹائی ٹین‎ Titan ‎نامی فرم نے بھی ٹھیکوں کی اس بہتی گنگا میں پوری طرح ہاتھ دھوئے،اس فرم نے ‏بھی بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎کی طرح با اثر افراد کو اپنے ڈائریکٹرز میں شامل کیا جن میں جارج ‏بش، سی آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر، ایف بی آئی کے کچھ افسران، امریکی ائر فورس کے سیکرٹری ‏لارنس ڈیلانے، ڈیفنس نیوکلیئر ایجنسی کے مینیجر انتون فریڈرکسن، آرمی کارپس فار انجینیئرز کے ‏آفیسر لیزلی اے روز اور دفاعی سیکرٹری کے مددگار جان ڈریزنڈورف قابل ذکر ہیں۔ کاکی‎ C.A.C.I ‎اور ٹائی ٹین‎ Titan ‎نے قانونی ہتھکنڈوں سے اثرو رسوخ خریدنا شروع کیا اور 2.8ملین ڈالر اپنی ‏لابنگ اور سیاسی حلقوں میں پراپیگنڈہ اور اپنی کاروباری ساکھ بنانے پر خرچ کیے۔ انھیں کمپنیوں کے ‏اہلکار ابو غریب جیل میں ملوث پائے گئے لیکن کاروائی صرف چند امریکی فوجیوں کیخلاف ہوئی اور ‏اس سے آگے نہ بڑھ سکی، اسکے باوجود ان کمپنیوں نے امریکی فوج سے مزید ٹھیکے حاصل کر لیے۔ ‏ٹائی ٹین‎ Titan ‎کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی آمدنی 2004ءسے 2005 ء تک 4.7 بلین ڈالر تک چلی ‏گئی۔
اسی طرح کے بی آر‏‎ K.B.R‎نامی فرم نے عراق میں فوجیوں کے طعام قیام، لانڈری، گاڑیوں کی مرمت ‏، ایندھن کی فراہمی، سامان کی نقل و حمل اور فوجیوں کو محاذ پر اسلحہ کی فراہمی کے ٹھیکے لئے۔ ‏اگر آپ کے بی آر‏‎ K.B.R ‎کو نہیں جانتے تو اسکا مطلب ہے کہ آپ کبھی عراق نہیں گئے، کیونکہ اس ‏فرم کا عراق کے پورے رقبہ پر کسی نہ کسی طرح اثر و رسوخ ہے۔ کے بی آر‏‎ K.B.R ‎کے ٹرک ‏پورے عراق میں فوجیوں کو سپلائی دینے کیلئے سڑکوں پر بھاگتے نظر آتے ہیں۔ان ٹرکوں پر مزاحمت ‏کاروں کے حملوں کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے شائد اسلئے اس فرم نے بطور ٹرک ڈرائیور زیادہ تر ‏پاکستانی، نیپالی اور انڈین شہریت کے لوگوں سے کویت سے بھرتی کیا ہے۔‏‎ ‎



جنگ ہے کہ ختم ہونے کا کچھ پتہ نہیں ، کیا امریکی فوجی عراق میں پھنس چکے ہیںیا امریکی عوام؟ ‏کسی کو کچھ پتہ نہیں۔صدر بش کانگریس سے مزید رقوم کا مطالبہ کر ہے ہیں،ٹھیکوں کی تمام رقوم ‏حکومتی خزانے سے ادا کی جا رہی ہیں،سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ایسی حکومت جو اپنے ہی عوام ‏سے ٹیکس وصول کر کے اپنی بنائی ہوئی فرموں کو اربوں ڈالر کے ناجائز ٹھیکے دے رہی ہو، کیا اس ‏سے عراق میں امن امان قائم کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے!؟
‏‎ ‎‏‎ ‎ ‎نے ٹھیکوں کی مد میں 2001ءمیں 0.77ملین ڈالر، 2002ءمیں 5.1 ملین ڈالر، ‏‏2003ءمیں 21.1 ملین ڈالر، 2004ءمیں42.8 ملین ڈالر اور 2005 ءمیں 221.4 ملین ڈالر کی رقوم ‏حاصل کیں۔ اسکے بعد بلیک واٹر‏‎ Black Water ‎نے نہ صرف امریکی ریاستوں بلکہ بیرون ممالک ‏بھی انتہائی کثیر اثاثہ کی مالیت کے آفس بنائے۔ اس فرم کی شرح نمو 2001ءسے 2005ءتک 600% ‏تک بڑھ گئی۔ اس فرم کا کہنا ہے کہ وہ چند لمحوں کے نوٹس پر لاکھوں کی فوج مہیا کر سکتے ہیں۔ اس ‏فرم نے ان عراقی ٹھیکوں کی رقوم سے مزید اثرو رسوخ خریدا اور کٹرینا طوفان میں عوامی مدد کے ‏ٹھیکوں کی مد میں مزید 73 ڈالر کے ٹھیکے حاصل کیے۔ کٹرینا میں اس فرم نے دو لاکھ ترتالیس ہزار ‏ڈالر فی یوم کی اجرت پر اپنی خدمات پیش کیں۔‎ ‎‏‎ ‎ہالی برٹن نامی فرم سے امریکی فوجیوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ انھیں پینے اور نہانے ‏کیلئے صاف پانی مہیا نہیں کر رہی ہے اور کھانا لینے کیلئے ایک لمبی لائن میں لگنا پڑتا ہے، کھانا ‏مقررہ اوقات کے علاوہ کسی اور وقت میں دستیاب نہیں ہوتا جسکی وجہ سے سب فوجیوں کو اکٹھا کھانا ‏پڑتا ہے اور اتنی تعداد میں اکٹھے کھانا کھاتے ہوئے فوجیوں پر متعدد حملے بھی ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ‏عراقی مزاحمت کا ان فوجیوں کے کھانے کے اوقات کار سے واقف ہیں۔ ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎کے ‏ایک سابقہ ملازم کا کہنا ہے کہ یہ فرم ایک پیپسی یا کوک کی بوتل پنتالیس ڈالر میں مہیا کر رہی ہے، ‏اسی طرح ایک فوجی وردی کی دھلائی کی مد میںسو ڈالر وصول کیے جا رہے ہیں، ہالی برٹن‏‎ ‎HaliBurtonنے اپنے ملازمین کی رہائش کیلئے کویت کے ساحل پر ایک پرتعیش ریزورٹ بنا رکھا ‏ہے جس مکی تعمیر میں سنگ مر مر ، مہاگنی کی لکڑی اور تعمیرات کا دوسرا انتہائی پر تعیش سامان ‏شامل ہے، سوئمنگ پولز کے علاوہ ملازمین واٹر موٹر بوٹس اور سکوٹرز سے بھی لطف اندوز ہوتے ‏ہیں۔ اس سے آپ انکی باقی خوراک کی ٹھیکوں میں دی گئی قیمتوں کا اندازا کر سکتے ہیں۔ ان ٹھیکوں ‏میں دھاندلیوں کے اچھے خاصے انکشافات ہو چکے ہیں۔ لیکن ان فرموں میں با اثر افراد کی شمولیت ‏انکے احتساب میں ہمیشہ آڑے آ جاتی ہے۔ کے بی آر‏‎ K.B.R ‎اور ہالی برٹن‏‎ HaliBurton‎کے ملازمین ‏کویت اور عراق میں جو گاڑیاں چلاتے ہیں سب کی سب فور وہیل ڈرائیو ہیں اور فورڈ برانڈ کی یہ ایک ‏گاڑی چالیس ہزار ڈالر کی مالیت سے زیادہ کی ہے۔ یہ ملازمیں جنھیں کویت میں آفس کی دیکھ بھال سے ‏زیادہ کوئی کام نہیں ، فلی لوڈڈ فور وہیل گاڑیاں گھاتے نظر آتے ہیں۔ کچھ گاڑیاں لیزنگ پر بھی لی گئی ‏ہیں، اور ایک گاڑی کی تین سالہ لیز کے سات ہزار ڈالر ماہانہ تک ادا کیے جا رہے ہیں۔ جس سے تین ‏سال میں اس گاڑی کی قیمت ڈھائی لاکھ روپے ادا ہو گی، جبکہ اس گاڑی کی اصل قیمت پچاس ہزار ڈالر ‏سے زیادہ نہیں۔ ان کمپنیوں کے ملازمین عراق میں بھی کیڈلک گاڑیوں میں پھرتے نظر آتے ہیں۔ کویت ‏میں کام کرنیوالے ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎کے ایک سابقہ ملازم کا کہنا ہے کہ ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎نے غلطی سے غلط کمپیوٹرز اور گاڑیوں کا آرڈر دے دیا، جسے بعد میں جلا کر انشورنس کلیم کر لیا ‏گیا۔ جلنے والی ایک ایک گاڑی کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے زیادہ کی تھی۔ ایک گاڑی یا ٹرک کے ‏خراب ہ و جانے کی صورت میں بجائے پرزہ جات بدلنے یا مرمت کرنے کے ہالی برٹن‏‎ HaliBurton ‎نیا ٹرک خرید کر حکومت امریکہ سے اسکی رقم وصول کر لیتی ہے۔ کچھ ٹرک ڈرائیوروں نے حکومت ‏سے شکایت بھی کی کہ یہ فرم بلا وجہ عراق میں ٹرک چلواتی رہتی ہے اور اسکے فیول کی مد میں ‏لاکھوں کا بل حکومت کو بھجوا دیتی ہے، لیکن اس شکایت کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ، کسی بھی شکایت ‏کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا حتیٰ کہ سینیٹ میں ان شکایات پر مبنی بل بھی حکومتی سینیٹرز کے ووٹوں ‏سے رد کر دیا گیا، کیونکہ دوسرے با اثر حکومتی اہلکاروں کی طرح وائس پریزیڈنٹ ڈک چینی ‎میں حصص ہیں۔‎ HaliBurtonکے بھی ‏ہالی برٹن‏

عراق سے واپسی، کل سے بہتر آج!


تحریر: ٹیڈ کارپٹ، ترجمہ: فرخ صدیقی

عراق میں امریکہ کو ٹانگ پھنسائے اس سے بھی زیادہ عرصہ ہو گیا جتنا اسے دوسری جنگ عظیم میں ہوا تھا۔ 1941ء سے 1945ء کے چار سال کے عرصہ میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو منظم کیا اور دنیا کی دو طاقتور افواج کو شکست دی۔ لیکن آج اتنے ہی عرصہ میں ایک چھوٹا سا ملک بغیر فوج کے امریکہ کو نہ ختم ہونے والے عرصہ کیلئےلوہے کےچنے چبوا رہا ہے۔

وہ ممالک جن کی شہہ پر امریکہ نے عراق پر شب خون مارا یا جن کی مدد سے عراق پر حملہ کیا گیا اب عراق کو ایک دلدل قرار دیتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم جس طرح بھی گزری لیکن ہمیں آج حقیقت کا سامنا کرنا ہو گا اور اس قسم کے بیانات کہ جب عراقی فوج اپنے دفاع کے قابل ہو جائیگی ہم تب وہاں سے نکلیں گے، ایک پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ اب جب کہ ہم امریکی بحیثیت ایک قوم کے داؤ پر لگے ہیں تو ہر چیز کو حقیقت کی نظروں سے نقصان اور منافع کے ترازو میں تولنا ہوگا۔ عراق کی جنگ کا امریکہ کی سلامتی سے دور کا بھی لینا دینا نہیں۔ یہ جنگ ہم پر مسلّط نہیں تھی بلکہ ایک جان بوجھ کر کی گئی اور یہ ایک انتہائی غلط فیصلہ تھا۔ کتنی دیر تک ہم امریکی عراق پر مغلوب ہونے کیلئے اپنا خون پسینہ ایک کرینگے؟ اس وقت کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں جب عراق پر ہمارا مکمل غلبہ ہو گا۔

عراقی جنگ پر صرف ہونیوالے بے انتہا خرچ سے معیشت لڑکھڑا رہی ہے۔ اب تک ہم اس جنگ پر $340 بلین خرچ کر چکے ہیں اور آثار بتاتے ہیں کہ ہمیں مزید سات بلین ڈالر ہر ماہ خرچ کرنا ہونگے۔ جانوں کا ضیاع اس خرچ ہونیوالی رقم سےکہیں زیادہ تباہ کن ہے۔ 2900 سے زائد امریکی فوجی اس جنگ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قتلِ عام میں اسکے ڈیڑھ لاکھ سے زائد شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ صورتِ حال کسی کروٹ بھی صحیح ہوتی نظر نہیں آتی۔

دوسری جنگ عظیم میں چار سال میں حالات مکمل طور پر امریکہ کے قابو میں رہے اور بتدریج جرمنی اور اس کے اتحادی کو بھی شکست دی جاتی رہ تا آنکہ چار سال میں جنگ جیت لی گئی۔ جبکہ عراق کو دیکھیے تو آج حفاظتی انتظامات اس سے بھی بد تر ہیں جب موسم بہار 2003ء میں امریکی فوج نے عراق پر قبضہ کیا۔ صرف سنّی حلقہ کی امریکی فوج کیخلاف مزاحمت کو ہی لیا جائے تو انکی مزاحمت حالات کو بتدریج بگاڑ رہی ہے اور سنّی شیعہ لڑائی ایک علیٰحدہ مسئلہ بن چکا ہے جس نے ملک میں ایسی خانہ جنگی کی صورتحال بنادی ہے جسکا صرف اب اعلان ہونا باقی ہے۔ امریکی شہری بش اور اسکے جنگجومنتظمین سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ کون سا وقت ہو گا جب امریکی حکومت یہ مان لے گی کہ جنگی خرچ اور حالات قابو سے باہر ہوگئے ہیں؟ کب تک فوج کو عراق میں رکھا جائیگا؟ دوسال؟ پانچ سال؟ دس سال؟ ٹیکس کی مدّ میں لئے گئے اور کتنے ڈالر وہ اس جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں؟ مزید $ 100 بلین؟ $ 300 بلین؟ $1ٹریلین؟ اور ان سب سے زیادہ ہولناک بات کہ مزید کتنی جانیں دی جانی چاہیئں؟ ایک ہزار فوجی مزید؟ پانچ ہزار مزید؟ یا دس ہزار؟

اس جنگ کو ترتیب دینے والی انتظامیہ اب ہر جگہ اور ہر موقع پر ان نا چاہے جانیوالے سوالوں کے جوابات دینے سے گریزاں ہے۔ شاید حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ڈھیٹ بن کر بیان بازی سے وہ یہ جنگ جیت لے گی۔حال ہی میں صدر بش نے مختصراً اس بات کا دوبارہ دعوٰی کیا کہ امریکہ عراق میں جنگ ضرور جیتے گا۔ یہ صرف خام خیالیاں اور وہ خطرناک دھوکہ ہے جو غیر ارادی یا ارادتاً امریکی حکومت اپنی عوام کودیے جا رہی ہے۔ جیت کی کوئی ضمانت موجود نہیں چاہے امریکہ کتنی ہے کوششیں کیوں نہ کر لے۔ عراق ایک لڑائی جھگڑے کی فطرت سے بھرپور علاقہ ہے اور اس میں خود بخود ٹھیک ہونے کی کوئی علامت نہیں۔ اگر ہم نے اپنی افواج واپس بلوائیں اور یہ بیان دے دیا کہ ہمارا مقصد ناکام و نامراد ہوا تو امریکہ دنیا کے نقشے پر ایک اہم ملک ہونے کی حیثیت کھو دیگا۔ عراق سے واپسی شاید ہمیں یہ سبق بھی دے کہ کسی قوم کی تعمیر کیلئے اس پر قابو پانا ایک خطرناک کھیل ہے۔ لیکن عراق سے آج کی واپسی آنے والے کل کی نسبت کچھ کم دردناک ہوگی۔ اب جب کہ وقت، پیسوں اور جانوں کے ضیاع نے ہمیں بہت کچھ سمجھا دیا ہے۔

بہتر ہو گا کہ اپنا اسلحہ واپس بیگ میں رکھیں اور اپنی افواج کو آج ہی واپس بلوائیں۔ اس سے پہلے کہ جنگ کا یہ عرصہ اور نقصان ویت نام کی جنگ کے عرصہ سے بھی آگے گزر جائے اور ویت نام کی جنگ کے سنگ میل سے دوبارہ کوئی امریکی نہیں گزرنا چاہتا
!